وَيَوْمَىِٕذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان والے اس دن خوش ہونگے! – عید الفطر ۱۴۴۰ھ کے موقع پر اُمت ِمسلمہ کے نام پیغام – از: مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ

شارك هذا الموضوع:

وَيَوْمَىِٕذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان والے اس دن خوش ہونگے!

عید الفطر ۱۴۴۰ھ کے موقع پر اُمت ِمسلمہ کے نام پیغام – از: مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ

 

التحميل

التحميل

ادارہ السّحاب برِّ صغیر
1440 ھ | 2019ء

الحمد للہ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علیٰ من لا نبیّ بعدہ! أما بعد.
فأعوذ بالله من الشيطٰن الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم.
{ وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَاأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا } [الأحزاب: 13]
{وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا} [الأحزاب: 22]
۱۴۴۰؁ھ مطابق ۲۰۱۹ ءکی یہ عید اللہ تعالیٰ تمام امت کو مبارک فرمائے کہ امارتِ اسلامیہ کی فتوحات اس کے ہمراہ ہیں۔ اللہ اس عید کومظلوموں،اسیروں،مہاجروں اورمجاہدین کے دلوں کی ٹھنڈک بنائے۔ امارتِ اسلامیہ کی فتوحات کواللہ تمام امت کے لئے عزت وسربلندی کاذریعہ بنائے۔ ہم اہلِ برصغیر کی جانب سے اس عیدِ سعیداور ان فتوحات کی مبارک باددیتے ہیں …امیرالمؤمنین شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ، شیخ ایمن الظواہری حفظہم اللہ اور تمام ساحاتِ جہاد میں موجود قائدین و مجاہدین کو…شہداء و اسیرین کے گھرانوں کواللہ یہ عید و فتوحات مبارک کرے کہ آپ کے جگر کے ٹکڑوں ہی کی قربانیوں سے یہ امت آج یہ دن دیکھ رہی ہے۔
۱۱ستمبر۲۰۰۱ کے حملوں کے بعد فرعونِ وقت امریکہ کے صدر بش نے امتِ مسلمہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ گھمنڈ میں ڈوبے یہودی غلام نے کہا کہ ہم اس جنگ میں نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ لڑکھڑائیں گے اور نہ شکست کھائیں گے۔
دنیا کے مادی اسباب پر ایمان لانے والے اس کی اس بات پر یقین کر بیٹھے، اور منافقینِ مدینہ کی طرح اہلِ ایمان کو ڈرانے لگے [ يَاأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا] کہ اب تو جہادیوں کے لئے کوئی جائےپناہ نہ ہوگی،ڈنڈے کے زورپرقائم ہونے والی شریعت کااب کیا ہوگا…اب امریکہ خود میدان میں آرہاہےسو امریکہ کامقابلہ بھلاکون کرسکتاہے،اس لئے اب نہ جہاد رہے گااور نہ جہاد کے نعرے لگانے والے۔
لیکن جن کے دل اپنے رب پر ایمان سے بھرے تھے وہ امریکی بمباری کے سائے میں اعلان کررہے تھے؛ [هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا] …امریکہ کاافغانستان میں آنا یہ اللہ کے ان وعدوں میں سے ہے کہ اللہ کمزوروبے سروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں، طاقتوروں کوذلت سے دوچارکرتاہے۔
آج جنگ کے اٹھارہ سال گذرنے کے بعداللہ کاوعدہ کمزورمسلمانوں کو پیغام دے رہاہے کہ :
فضائے بدرپیداکرفرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطاراندرقطاراب بھی
۲۰۰۱ ءسے ۲۰۱۹ ءصرف اٹھارہ سال میں خدائی کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کو کیاہواکہ اتنی تیزی سے زوال کے دہانے پر پہنچ چکاہے… جنگ کی دھمکیاں دینے والاآج خود جنگ بندی کی منتیں کررہاہے…سوال ہے کہ کیاامریکہ کے وہ بحری بیڑے غرق ہوگئے جو سات سمندروں کاسینہ چاک کرتے پاکستان پہنچے تھے؟!! کیا امریکہ کے ڈرون اندھے ہو گئے جو زمین پہ رینگتی چیونٹی کودیکھنے کادعویٰ کرتے تھے؟! کیا امریکی بی باون وبی ٹو زنگ آلود ہوگئے جو موت و زندگی بانٹنے کے نعرے لگایا کرتےتھے…؟!!!مسلمانوں کی بستیوں کو تورابورابنانےکادعویٰ کرنے والی ٹیکنالوجی کوکیاہواکہ اپنا تورابورابنواکربھاگنے کی جلدی ہے…سب کچھ موجود ہے لیکن میرے رب کی سنت اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی جاری وساری ہے…وہ جب متکبرین کو پکڑتاہے توان کے عروج کے وقت میں ہی پکڑتاہے، جب وہ اپنی طاقت کے نشے میں دھت انا ربکم الاعلیٰ کا اعلان کرتے ہیں…تومحمدﷺ کارب بھی پکڑنے کے بعد اعلان کرتاہے؛[فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ] [القصص: 81]
وہ جب ظالموں کو پکڑتا ہے تو ان کی کوئی طاقت، کوئی سیاست، کوئی تدبیر مالک الملک سے انہیں بچا نہیں پاتی۔ اللہ نے جتنے متکبرین کو پکڑا ان کے عروج کے وقت میں پکڑا…[فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا . وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا]… وہ انجام سے بھی نہیں ڈرتا…وہ کسی کی طاقت کے انجام سے نہیں ڈرتا، پھر نہ ان کی کوئی فوج کام آئی نہ ان کی دولت انہیں اللہ کی پکڑ سے بچا سکی۔
امارتِ اسلامیہ کی فتح امتِ مسلمہ کے لئے بشارت ہے کہ اللہ نے اس کے سب سے بڑے دشمن کو ان جہادی ضربوں سے ایسا بے حال کیا ہے کہ سپر پاور کی فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔ ورنہ کیا، یہود کے پاس پیسہ ختم ہو گیا…؟ کہ انہوں نے امریکہ کو پیسہ دینا بند کر دیا…اگر امریکی فوجی لڑنے پر تیار ہوتے تو یہودی آج بھی ان کو پیسہ دے سکتے تھے۔ یہودی اپنی ٹیکنالوجی، اپنی فیکٹریاں اور کارخانے امریکہ سے لا کر چین منتقل نہ کرتے …اگر امریکی اپنی اولاد کو اس جنگ کا ایندھن بنانے پر تیار رہتے، لیکن امریکی فوج نے لڑنے سے انکار کر دیا۔
۲۰۰۱ ء کے امریکہ کو دیکھئے…اس وقت کے اخبارات، کالم اور ٹی و ی پر جھاگ اگلتے لفاظوں کو یاد کیجئے … پھر ان اٹھارہ سالوں میں اس جنگ کی تاریخ کا مطالعہ کیجئے تو اپنے اللہ کی طاقت پر ایمان مضبوط ہو جائے گا کہ وہ جہاد کے میدانوں میں کمزوروں سے طاقتوروں کو پٹوانے پر آج بھی قادر ہے۔
امریکہ کے خلاف یہ جہاد اس حال میں شروع کیا گیا جبکہ امارتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے دعوے کر دیے گئے تھے، طالبان کی کل جمع پونجی لوٹی جاچکی تھی، اکثر قیادت قید یا شہید ہو چکی تھی…لیکن اللہ کے وعدوں پر یقین تھا کہ لٹے پٹے قافلوں کو بے سرو سامان ہی امریکہ سے ٹکرانے پر ابھار رہا تھا۔ چنانچہ کتنے ہی گروپ تو ایسے تھے کہ ان کے پاس کلاشنیں بھی پوری نہ تھیں بلکہ کسی کے ہاتھ میں کلہاڑی تو کسی کے پاس پرانے دور کی تلوار تھی…ابتدائی جنگوں میں مجاہدین کی کلاشن کی گولیاں امریکی مورچوں سے ٹکرا کر ہی ٹھنڈی ہو جاتی تھیں…دیکھنے والے کہہ سکتے تھے، تجزیہ نگار کہہ سکتے تھے کہ ’ان کلاشنوں سے امریکہ کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘ لیکن اللہ کے حکم کو پورا کرنے والے انجام سے بے پروا اپنے فرض کو ادا کیا کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے دو انعاموں میں سے ایک ضرور رکھا ہے…سو چٹانوں سے سر ٹکرانے کا یہ جنون بڑھتا گیا…محمد ﷺ کے فرزند اپنی امت کو بچانے کی خاطر طوفانی موجوں سے ٹکراتے، ڈوبتے، ابھرتے اور نکلتے رہے…چشمِ فلک نے غیرت مندوں کی اس سرزمین پر ایک اور تاریخ رقم ہوتے دیکھی…ایک مجاہد مائن لگانے سڑک پر گیا، ڈرون نے میزائل سے اسے شہید کر دیا…اس کے چیتھڑے اڑے…یہ دیکھ کر دوسرا مجاہد مائن لے کر اسی جگہ گیا، دوسرا میزائل آیا فضا میں خوشبوئیں بکھریں…تیسرا مجاہد آنکھوں دیکھی موت کی طرف تیسری مائن لے کر لپکا ڈرون نے اسے بھی اس کے مقام تک پہنچا دیا …تین شہادتیں یکے بعد دیگرے…اپنے ساتھیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے اڑتا دیکھتے مجاہدین اپنا مشن چھوڑ کر نہیں بھاگ گئے… جہاد سے توبہ تائب نہ ہوئے… واپس جا کر اپنی قوم کو جہاد سے متنفر نہ کرنے لگے کہ ’امریکہ سے ٹکرانے کا کیا فائدہ؟ امریکی ٹیکنالوجی کا کیا مقابلہ؟ ہم کہاں اور وہ کہاں؟!! ‘…بلکہ چوتھا مجاہد چوتھی مائن لے کر اسی جگہ بڑھا… ڈرون موجود ہے…اس کا چلانے والا سویا نہیں ہے…سب کچھ ہے…ساری ٹیکنالوجی موجود ہے…مجاہد سڑک پر مائن لے کر گیا گڑھا کھودا، مائن لگائی اور واپس آ کر اپنی جگہ پر امریکیوں کے کانوائے کا انتظار کرنے لگا…اپنی زمینی و فضائی نگرانی میں امریکی کانوائے آگے بڑھا۔ اور مائن پر آنے والا ٹینک فضاؤں میں اڑ گیا۔
یہ جہاد ان بے مثال قربانیوں سے آگے بڑھا ہے…ایک کے بعد ایک قربانی، ایک ایک مائن لگانے کے لیے تین تین مجاہدوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ یہ یاد رکھی جانے والی داستانیں ہیں…ایک تنہا مجاہد زڑکئی (پیکا مشین گن۔ PK Machine Gun)لے کر امریکی کانوائے کے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے…سڑک پر سیدھا کھڑا، اس کانوائے کو روکے رکھتا ہے تاکہ اس کے ساتھی محفوظ نکل جائیں۔ ٹینک، طیارے، بکتر بند …سب کے سامنے ایک اللہ کا سپاہی تنہا کھڑا ہے لیکن کسی امریکی کی مجال نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے… بلکہ کانوائے پیچھے کی طرف بھاگ جاتا ہے۔ یہ رعب ہے جو اللہ کافروں پر ڈال دیا کرتا ہے، لیکن اس وقت جب اس کے سپاہی… اس کے چاہنے والے، میدان میں ڈٹ جایا کرتے ہیں اور صبر کا مظاہرہ کیا کرتے ہیں۔ ایک مجاہد ہے، پرانے دور کی رائفل پر ٹوٹی دور بین لگائے رومال سے اس کو جوڑا ہے… ایک ایک ہفتے جنگل میں بیٹھ کر شریعت کے دشمنوں کو چن چن کر مارتا ہے اور ہفتے بھر سوکھے ٹکڑوں اور قہوے پر گزارا کرتا ہے… چوبیس چوبیس امریکی ایک بندے نے مردار کی… ایک پرانے زمانے کی گن اور ٹوٹی دور بین کے ساتھ، جس کو اس نے اپنے رومال سے جوڑا تھا … ! یہ جدید دور کی داستانیں ہیں…! چالیس ممالک کی فوجیں یوں ہی میدان چھوڑ کر نہیں بھاگ گئیں…آپ کون سا تجزیہ کریں گے؟! عسکری تجزیہ نگاروں سے پوچھیے یہ کیا مقابلہ ہے؟ جہاں ڈرون ہے… جہاں سیٹالائیٹ ہے… جہاں کانوائے کی حفاظت کے لیے، آگے پیچھے ہیلی کاپٹر ہیں … لیکن مجاہدین پھر بھی ان کو مارتے رہے۔ انہیں ڈرونوں کے سامنے، اسی سیٹالائیٹ کے سامنے، ان کے طیاروں کے سامنے… ایک دو دن کا واقعہ ہوتا تو کہہ سکتے تھے کہ ’ڈرون چلانے والا سو گیا تھا یا نشے میں دھت تھا ‘… یہ تو سترہ اٹھارہ سال کی داستان ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی محمدﷺ کے غلاموں کو ڈرا نہ سکی شہادتوں پر شہادتیں امت کی ماؤں کو پیچھے نہ ہٹا سکیں…بلکہ اپنے نبی کی لائی شریعت پر مائیں اپنے جگر کے ٹکڑے اس جنگ میں پیش کرتی رہیں۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ مغربی تہذیب اپنے بیٹے اس جنگ میں بھیجنے سے عاجز آ گئی لیکن امتِ محمدیہ ﷺ کی مائیں ایک کے بعد ایک اپنے فرزندوں کو میدانِ جنگ میں سجا کر روانہ کرتی رہیں۔
اللہ نے ان قربانیوں کی بدولت اپنی نصرت نازل فرمائی پھر وہ وقت آیا کہ ایک ایک کمین(گھات) کے اندر آٹھ آٹھ… دس دس امریکی ٹینک اڑنے لگے…آپ ذرا عسکری تجزیہ نگاروں کو بتائیے کہ ’صرف ایک ضلعے میں آٹھ سو امریکی ٹینک اڑائے گئے ہیں‘…ان کی عقلیں ماؤف ہو جائیں !! کہاں سے تجزیہ کریں گے…؟!!
اللہ کی سنت جاری ہے…[إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ]اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا… اللہ ایسے مدد کرے گا کہ دنیا دنگ رہ جائے گی۔ آج بھی اللہ کی سنت جاری ہے، اس دور میں بھی وہی واحد الاحد الصمد ہے…لا إلہ إلا اللہ . لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ إنِ الملک إلا للہ… آج بھی اس روئے زمین پر اُسی کی بادشاہت ہے … آج بھی کائنات کا چپہ چپہ … کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کے حکم کے تابع ہے … اللہ نے اپنی خدائی کو امریکی ٹیکنالوجی کے حوالے نہیں کر دیا… کوئی اس کی بادشاہت میں شریک نہیں۔ اس کی کتاب کی یہ آیات ایمان والوں اور یقین والوں کے لیے آج بھی تر و تازہ ہیں… [ فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ] وہ اپنے دین کے دشمنوں کوجب زمین میں دھنساتاہے تو کوئی فوج ولشکر اسے بچانہیں سکتا… کوئی اتحادی اس کی مدد کو نہیں آ سکتا… اس کا تروتازہ کلام اس ’جدید‘ کی روشن خیالیوں کو بتارہاہے؛ [لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ . بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ]
کہ اے قلت و کثرت کے بکھیڑوں میں پڑنے والو! اے جہاد سے امت کو مایوس کرنے والو! اے جاہلی تہذیب کی رنگینیوں میں مدارسِ اسلامیہ کو ڈبونے والو!
امریکہ سے پہلے بھی تمام فیصلے اللہ ہی کے ہاتھ میں تھے اور امریکی زوال کے بعد بھی تمام معاملات اسی کے ہاتھ میں رہیں گے، امریکہ کے گر جانے کے بعد یہ اختیارات چین یا بھارت منتقل نہیں ہو جائیں گے… لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ یہ کیسی عمدہ آیت ہے جو اس دور میں طاقت کے پجاریوں کو کیا کچھ سمجھا رہی ہے…کہ مادی طاقتوں کو معبود ماننے والو! پہلے تم نے برطانیہ کی طاقت کی عبادت کی، وہ گرا تو تم امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے…اور اب جب تم دیکھ رہے ہو کہ امریکی بت جہادی ضربوں سے زمیں بوس ہونے لگا ہے تو چین کی طرف دوڑے چلے جاتے ہو۔ اللہ کو چھوڑ کر، اللہ کے دین کو چھوڑ کر…محمد ﷺ کی امت کو چھوڑ کر…اور کروڑوں چینی ترکستانی مسلمانوں کو چھوڑ کر تم چینیوں کے سامنے جھکے چلے جاتے ہو، ان کی تعریفیں کرتے ہو اور ان کے گُن گاتے ہو!!اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول جاتے ہو؟!!
یہی آیت اللہ والوں کو یقین دلا رہی ہے کہ امریکہ کے بعد کسی اور کو طاقت پکڑتا دیکھ کر پریشان نہ ہونا…جس اللہ کی شریعت کی خاطر تم نے سارے کفر سے جنگ کی ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی تمام امور اسی رب کے ہاتھ میں ہیں…وہ امریکہ کے خلاف تمہاری مدد کر سکتا ہے تو اِس کے بعد والے دشمن کے خلاف اُس کی طاقت کمزور نہیں ہو جائے گی، اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں آ جائے گی… جہاد تر و تازہ رہے گا، اگر تم جہاد کرتے رہو گے تو اللہ تمہاری مدد کرتا رہے گا … لَا يَزَالُ الْجِهَادُ حُلْوًا أَخْضَرَ اس کے کرنے والے، اس پر نثار ہونے والے اسی طرح اسے تر و تازہ رکھیں گے، جیسے آج ہی یہ شروع ہوا ہو… چالیس سال گزرنے کے باوجود بھی یہ نہ تھکیں گے نہ کمزور پڑیں گے۔
اے میرے مسلمان بھائیو!
افغانستان میں امریکی شکست اور امارتِ اسلامیہ کی فتح، یہ ساری امت کی فتح ہے…مظلوموں، کمزوروں کے لئے یہ ایک نئی صبح کی نوید ہے …یہ کمزور مسلمانوں کو یاد دہانی ہے اللہ کی آیات… كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً …کہ بار ہا ایسا ہوا کہ کمزور جماعت طاقتور جماعت پر غالب آ گئی… یہ اللہ نے پہلے وعدے والوں سے وعدے کیے اور آج والوں کے لیے بھی اللہ کے یہ وعدے ہیں۔
افغانستان میں امریکی شکست اور امارتِ اسلامیہ کی فتح، یہ علماء و طلباء کو تحریکِ بالا کوٹ، شاملی و تحریکِ ریشمی رومال یاد دلا رہی ہے کہ علمِ دین کے حامل اس دین کے نفاذ کے لئے کسی طاقت و قوت کے سامنے نہ جھکیں… جس طرح امیر المؤمنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ کسی کے سامنے نہ جھکے بلکہ تن تنہا ایک مسلمان کو بچانے کے لیے، اسلام کی غیرت، اسلام کی عزت کو بچانے کے لیے سارے عالمِ کفر سے اعلان جنگ کر دیا، چنانچہ علماء اور طلباء کفریہ قوتوں کے کہنے پر اپنے نصاب اور اپنے دین میں کسی تبدیلی کو قبول نہ کریں خواہ ایک سنت و مستحب ہی کی کیوں نہ ہو…اپنے مدارس کی روح کو بچانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ ہر قیمت پر ان مدارس کو جاہلی تہذیب کی رنگینیوں اور لارڈ میکالے کے طلسم سے بچانے کی جدوجہد کریں خواہ علماء و طلباء کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے…جان کی مال کی یا گھر بار کی۔ لیکن اپنے مدارس کی روح پر آنچ نہ آنے دیں، کیونکہ اگر مدارس سے روح نکل گئی تو پھر بچانے کے لئے کیا بچے گا کہ جس کے کھونے کے ڈر سے جہاد سے رکا رہا جائے۔
امارتِ اسلامیہ کی فتوحات دنیا بھر کے مجاہدین کے لئے نمونہ ہیں کہ جہاد کی کامیابی اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے…اگر اتحاد نہ ہو تو پھر عراق و شام کی طرح جیتی جتائی جنگ کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جا سکتا ہے، جہادی گروہوں کے ذریعہ ہی جہادی ثمرات کو ضائع کیا جا سکتا ہے اور جہادی صفوں میں اتحاد ہو تو ساری سازشیں ناکام بنائی جا سکتی ہیں۔ ورنہ خلافت اور جہاد کے نام پر خلافت کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔
امارتِ اسلامیہ کی فتوحات میں بڑی عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو جہاد کے نام پر داعش کے شکنجے میں جا پھنسے اور آج عالمی قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ جہاد و خلافت کے نام پر عالمی جہاد کو کمزور کر رہے ہیں…انہیں سمجھنا چاہیے کہ ا ب عالمی قوتیں امارت کے خلاف عراق و شام والا فارمولا تیار کیے بیٹھی ہیں…داعش کا خنجر امتِ مسلمہ کی پیٹھ میں گھونپنے کے لئے ننگرہار کا میدان سجایا جا رہا ہے…خلافت کے نام پر خلافت کو ذبح کرنے کی تیاری ہو چکی ہے…شام سے داعش کے نام پر طیاروں میں لوگ ہرات لائے گئے ہیں اور ہرات سے امریکی ہیلی کاپٹروں میں ننگرہار پہنچائے جا رہے ہیں…داعش کی صفوں میں جو لوگ خود کو مخلص سمجھتے ہیں انہیں عراق و شام کے بعد اب افغانستان میں کی جانے والی اس سازش میں غور کرنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اب افغانستان میں امریکہ کے شکست کھانے کے بعد داعش کا جہاد کس کے خلاف ہو گا؟ امریکہ کے نکلنے کے بعد داعش کو ننگرہار میں کیوں مضبوط کیا جا رہا ہے؟ امریکی ہیلی کاپٹروں میں بھر بھر کر لوگ کیوں وہاں پہنچائے جا رہے ہیں؟ دن رات اسلحہ انہیں کیوں فراہم کیا جا رہا ہے؟ افغانستان میں اب کون سا کفر باقی ہے؟ کیا امارت کے خلاف یہ ساری تیاری کرائی جا رہی ہے…؟!! کیا امارت کے خلاف…؟!! جیسا کہ شام میں ان کا سارا جہاد مجاہدین کے خلاف ہوا؟ مجاہدین نصیریوں سے علاقے فتح کرتے جاتے اور پیچھے سے داعش ان سے وہ علاقے چھینتی جاتی؟ آج انجام کیا ہوا سب کے سامنے ہے… کیا ایسا ہی جہاد افغانستان میں کروایا جائے گا؟ امت کی اس جیتی ہوئی جنگ کو دوبارہ عالمی کفریہ طاقتوں کے ہاتھوں نیلام کر دیا جائے گا؟
اللہ تعالیٰ امارتِ اسلامیہ کو حق پر استقامت دے اور داعشی فتنے سے اس کی حفاظت فرمائے۔ اگرچہ محنت و کوششیں پانچ سال سے جاری ہیں لیکن اب تک الحمد للہ، ہر کوشش ناکام ہوئی ہے…اللہ عراق و شام کی طرح کفار کو یہاں ہنسنے کا موقع نہ دے…بلکہ عراق و شام میں بھی اللہ اہلِ سنت والجماعت کو کامیاب فرمائے اور اس داعشی فتنے کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ فرمائے جس نے جہاد اور خلافت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے…یقیناً جہاد و مجاہدین کے لئے اس چالیس سالہ جہاد کا یہ سب سے بڑا اور مہلک فتنہ ہے…جہاد کے چہرے کو اتنا قادیانی نے بھی مسخ نہ کیا تھا جتنا کہ اس فتنے نے کر کے رکھ دیا ہے۔
میرے مجاہد بھائیو! کامیابی انہیں کے لئے ہے جو اہلِ سنت والجماعت کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے جہاد کو جاری و ساری رکھیں گے… ورنہ یہ فتنوں کا دور ہے بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ…یہ وہ وقت ہے کہ جب انسان فتنوں میں اپنا سب کچھ ہار بیٹھے گا۔ فتنے ہیں کہ منہ کھولے تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس لیے اپنے جہاد کو بچا لیجیے اور دیکھیے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، کس کے ساتھ جہاد کر رہے ہیں ؟ ہر چیز کو قران و سنت پر پرکھیے، اپنے بڑوں کی بات مانیے، ان کی اطاعت کیجیے۔
اللہ تعالیٰ اس امت کو تمام ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ اور اس عید کو بشارتوں و خوشخبریوں کا ذریعہ ہی بنائے۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

 

التحميل

 

الترجمة العربية

ويومئذ يفرح المؤمنون

رسالة الى الأمة الإسلامية – بمناسبة عيد الفطر 1440 هجري

مولانا عاصم عمر

1440 هجري/ 2019 ميلادي

الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده! أما بعد.

فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الحيم.

“وإن قالت طائفة منهم يا أهل يثرب لا مُقام لكم فارجعو ويستئذن فريق منهم النبى يقولون إن بيوتنا عورة وماهي بعورة إن يريدون إلا فرارا” (الأحزاب: 13)

“ولما رءا المؤمنون الأحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله ورسوله وصدق الله ورسوله وما زادهم الا ايمانا وتسليما” (الأحزاب: 22)

جعل الله هذا العيد لسنة 1440 هجريا  (2019) مباركا للأمة الإسلامية, والتي تحمل معها انتصارات الإمارة الإسلامية في أفغانستان. نسأل أن يكون عيدا سعيدا للمضطهدين، والسجناء، والمهاجرين، والمجاهدين. نسأل الله أن يجعل إنتصارات الإمارة الإسلامية في أفغانستان مصدرا لإسترجاع شرف وكرامة اللأمة. نحن نيابة عن شبه الجزيرة نتمنى هذا العيد ونعطي التبريكات لهذه الإنتصارات الى أمير المؤمنين، الشيخ هبة الله أخوانزادا، الشيخ أيمن الظواهري، وقادة المجاهدين والمجاهدين المتواجدين على جبهات الجهاد في جميع أنحاء العالم.

نسأل الله أن يكون عيدا مباركا لأهالي الشهداء, لأنه بسبب التضحيات التي قدمها أحبتهم, بإمكان الأمة أن تشاهد هذا اليوم.

بعد هجمات 11 أيلول البطولية, فرعون عصره الرئيس الأمريكي بوش (جورج بوش) أعلن الحرب على الأمة الإسلامية. المتغطرس, عبد اليهود قال لن نتعب ولن نتعثر ولن نفشل. هولاء الذين يؤمنون بالأشياء الدنيوية صدقوا هاذا على الفور، لاعبا دور منافقي المدينة محاولا أن يضايق المؤمنين؛ ” يا أهل يثرب (المدينة)، لا مُقام لكم؛ فارجعو.” انه لم يعد هناك مكان للجهاد وما هو مصير الشريعة، “التي أنشأت بالسيف”. اليوم أمريكا نفسها تدخل الحرب. من يقدر أن يقاوم؟ هذا يعني، الجهاد والدعوة للجهاد سيموتان. ولكن هؤلاء الذين قلوبهم مليئة بالأيمان كانوا يعلنون وهم تحت القصف الأمريكي: هذا ما وعده الله ورسوله لنا، وقد أخبرنا الله ورسوله بالحق. هذا فقط جعلهم أكثر إيمانا وخضوعا. الغزو الأمريكي لأفغانستان كان أحد وعود الله، أنه قادر على إذلال القوي على أيدي المسلمين الضعفاء خلييْ الوفاض. اليوم و بعد 18 عاما، وعد الله يخبر المسلمين الضعفاء أنه:                                                                     

أخلقوا جو بدر, الملائكة ستساعد، يمكن أن تنزل صفوفا من السماء. من 2001 الى 2019، مالذي أدّى  أمريكا الى النقطة التي تتجه نحو إنحدارها بسرعة كبيرة؟ التي كانت تعطي التهديدات بالحرب (في الماضي) تتوسل اليوم لوقفٍ لأطلاق النار. السؤال هو, هل الفرقاطات البحرية التي جائت تشق المحيطات الى الباكستان قد غرقت؟ هل الطائرات التي بدون طيار، والتي يدَّعى بأنها تستطيع أن ترى حتى النملة التي تزحف على الأرض، أصبحت عُمياء؟ هل ال B52 و B2 والذي يدّعى بأنها تأخذ وتعطي الأرواح، أكلها الصدأ؟!! ماذا حدث للتكنولوجيا التي كانت تصرح بأنها ستحول مستوطنات المسلمين الى تورا بورا، اليوم مالذي جعلها تصبح “تورا بورا” هي نفسها وتهرب بعيدا على عجل؟ كل شيء موجود! ولكن سنَّة الله لا تتغيرحتى في عصر التكنولوجيا هذا. عندما يعاقب الله المتغطرس, يفعل ذلك في ذروة تقدمهم وهم سكارى في فخر تفوقهم يعلنون أنهم إله.                                                                                

وبالتالي وبعد إدراكه ( للمتغطرس)، محمد صلى الله عليه وسلم والله يعلن: إذا، لا يوجد جماعة  له تستطيع أن تساعده ضد الله, ولم يكن أيضا من الذين يستطيعون ان يدافعوا عن أنفسهم. عندما يدرك الظَلَمَة أن قوتهم ودبلوماسيتهم أو أي إستراتيجية لن تساعدهم في رد غضب الله سبحانه وتعالى عليهم. أي كان يعاقبه الله مع المتغطرس، يعاقبهم الله وهم في علويِّهم. فلذلك قام الههم ببعثِ عذاب يقضي عليهم بسبب خطيتهم, وجعلها متساوية للجميع. وليس لديه أي خوف من العاقبة. ليس لديه خوف من التداعيات. لا يقلقه إنهاء أي قوة، الذي أصبح جيشهم لا فائدة منه ولا مالهم ممكن أن ينقذهم من عقاب الله.              

نصر الإمارة الإسلامية في أفغانستان هي أخبار سعيدة للأمة الإسلامية، حيث أن الله سبحانه وتعالى أنهك أكبر عدو من خلال الهجمات الجهادية الى حد أن جيش دولة عظمى يرفض القتال بعد الآن. غير ذلك، هل نفذت أموال اليهود، بحيث أنهم أوقفوا إعطاء المال لأمريكا..؟ إذا كان الجنود الأمريكيون مستعدين للإستمرار في القتال لقام اليهود بإعطائهم المال. لم يكن لليهود أن ينقلوا التكنولوجيا الخاصة بهم، مصانعهم وصناعاتهم من أمريكا الى الصين في حال مازال الأمريكيون يقدمون أبنائهم كوقود للحرب. ولكن الجيش الأمريكي رفض القتال. لاحظ أمريكا في 2001.. تذكر كلمات الغضب الآتية من الصحف، المقالات، وأجهزة التلفاز…وبعدها أدرس تاريخ الثمانية عشرة سنة من هذه الحرب. ستشعر بأن إيمانك بسلطة الله قد قويَ، وحتى في هذا اليوم في ساحات الجهاد هو قادر على تدمير القوي بأيدي الضعفاء. هذا الجهاد ضد أمريكا بدأ في حالة عندما كان هناك إدعائات أنه قد تم القضاء على الإمارة الإسلامية في أفغانستان.

 جميع ممتلكات طالبان قد نهبت، معظم قياداتها إما في السجن أو إستشهدوا…ولكن الإيمان الجلي بوعود الله كان يحث القافلة المعدمة على النضال ضد أمريكا. لذلك كان هناك الكثير من المجمومات التي كانت لا تملك حتى الكلاشينكوفات، بدلا من هذا، كان مع بعضهم الفؤوس وبعض (الأيدي) كانت تحمل السيوف…في باديء المعارك، لم تحدث رصاصات الكلاشينكوف أي أذا للثكنات الأمريكية. المتفرجون والخبراء كان بإمكانهم القول، كيف لتلك الكلاشينكوفات أن تتنافس مع أمريكا؟ ولكن حافظ أتباع الله على أداء واجبهم دون النظر الى العواقب وبقوا متأكدين من أن الله حفظ لهم إحدى الحسنيين. لذلك كانت الرغبة في مجابهة الجبال في إزدياد. أبناء محمد صلى الله عليه وسلم أستمروا في مجابهة المد والجزر، للحفاض على أمتهم، أستمروا في الغرق والصعود والإستمرار في الخروج. السماء رأت التاريخ وهو يكتب في أرض الناس الشرفاء. عندما كان مجاهدا يذهب لوضع لغم على الطريق. كان هناك صاروخ من طائرة بدون طيار يرديه شهيدا. جسده تفتت في الهواء. بعد المشاهدة هذه، قام مجاهد آخر بأخذ اللغم وذهب الى نفس المكان. صاروخ آخر سقط وأصبح الجو ممتلئا برائحة جميلة. مجاهد ثالث أخذ اللغم الثالث وقفز في الموت الواضح. الطائرة بدون طيار قامت بإصابته هو الآخر. ثلاثة شهداء على التوالي. شاهدوا زميلهم يتمزق إربا. لم يتوقفوا عن أداء مهمتهم. لم يتركوا الجهاد. لم يعودوا ليخيبوا أمل شعبهم في الجهاد بقولهم، ماهي فائدة القتال ضد أمريكا؟!! كيف تنافس التكنولوجيا الأمريكية؟ لا يوجد مقارنة بيننا وبينهم؟ بدلا من ذلك، مجاهد رابع أخذ مكانه. الطائرة من دون طيار ما زالت هناك. الطيار لم يكن نائما. كل شيء كان هناك. التكنولوجيا كانت هناك. حفر المجاهد الأرض، وضع اللغم وعاد الى مكانه منتظرا قافلة أمريكية. مع مراقبتهم من الجو والأرض، تتقدم القافلة. والدبابة التي مرت فوق اللغم تفجرت.

هذا الجهاد إستمر بسبب التضحيات الرائعة. تضحية تلو الأخري! ثلاثة مجاهدين ضحوا بحياتهم من أجل وضع لغم. هذه هي أساطير لا تنسى. مجاهد وحيد وقف أمام قافلة للأمريكان ومعه فقط سلاح ب ك آلي. واقفا لوحده، قام بإقاف القافلة ليعطي المجال لزملائه بالهرب لمكان آمن. دبابات! طائرات! عربات مصفحة! جندي الله وحيد يقف أمامهم جميعا، ولم يتجرأ الأمريكيون على مجابهته. بدلا من ذلك، قامت القافلة بالهرب الى الخلف. الله جعل الرعب في قلوب الكفار ولكن فقط عندما يكون جنوده، محبيه، ثابتين في ساحات المعارك وصابرين.                                                                                

هناك مجاهد ومعه بندقية قديمة لها منظار مكسور مربوط بمحرمة. لمدة أسبوع يجلس في الغابة يستهدف ويقتل أعداء الشريعة, يعيش فقط على الخبز اليابس والشاي الأخضر لمدة أسبوع كامل. 24 أمريكي قتلوا على يد رجل واحد ببندقية قديمة وبمنظار مكسور مربوط بمحرمة! هذه قصص العصر الحديث…!      

جيوش أربعين دولة لم يهربوا من دون سبب. ماذا يمكنك أن تحلل؟ إسأل محللين عسكريين…. ما هي المقارنة هذه؟ أين الطائرات بدون طيار، الأقمار الإصطناعية…أين الطائرات العمودية في مقدمة وخلف القافلة لحمايتها، ومع ذلك قام المجاهدين بقتلهم أمام الطائرات بدون طيار، الأقمار الإصطناعية والطائرات. إذا كانت مسألة يوم أو يومين، من الممكن القول أن متحكم الطائرة كان ثملا أو ذهب الى النوم. هذه هي قصة السابعة الثامنة عشرة. تلك التكنولوجيا الحديثة لم تخيف خدام محمد صلى الله عليه وسلم. شهداء تلو الشهداء لم تجعل أمهات هذه الأمه تتراجع. بدلا من ذلك، إستمروا بتقديم أولادهم الأحباء في هذه الحرب للشريعة التي جلبها محمد صلى الله عليه وسلم. التاريخ سوف يذكر أن الحضارة الغربية لا تستطيع أن ترسل أبنائها الى الحرب بعد الآن. بينما أمهات أمة محمد صلى الله عليه وسلم، ما زالوا يرسلون أولادهم الى ساحة المعركة واحدا تلو الآخر. بسبب تلك التضحيات، الله بعث المساعدة في وقت كان يدمَّر فيه من ثمانية الى عشرة دبابات في الهجوم الواحد. فقط أخبر محللينك العسكريين أن ثماني مئة من الدبابات دمرت في مقاطعة واحدة؟ مفكريهم سوف يخيبون أملهم! من أين سوف يحللون؟                                                                           

سنة الله سوف تستمر “إن تنصروا (الدين المكتوب علينا من) الله، ينصرك ويثبت أقدامك” إذا أعنت دين الله، الله سوف يعينك. الله سوف يعينك بطريقة يجعل فيها العالم مندهشا. حتى يومنا هذا، سنة الله مستمرة. حتى في هذه الأيام هو واحد (ليس غيره) أحد (الوحيد) الصمد (الذي يُلتجأ إليه من دون غيره).            

لا إله إلا الله.  لا إله إلا الله وحده لا شريك له إن الملك إلا لله. 

 حتى هذا اليوم، هو له سلطان على الأرض. كل صغيرة وكبيرة تحت سيطرته. الله لم يسلم سلطانه الى التكنولوجية الأمريكية. لا أحد يشاركه في مملكته. آيات الكتاب هذه مازالت منعشة للمؤمنين.

“فخسفنا به وبداره الأرض فما كان له من فئة ينصرونه من دون الله وما كان من المنتصرين” عندما يسحق أعداء دينه، لا يوجد جيش يمكن أن يخلصهم. ليس من حليف ينقذهم. آياته المحكمة تخبرنا عن ثقافة هذا العصر. “لله الأمر من قبل و (له ينتمي) من بعد ويومئذٍ يفرح المؤمنون.” أولائك الذين يقلقون أنفسهم لكثرة أو قلة الأرقام! أولئك الذين يجعلون الأمة تيأس من الجهاد! أولئك الذين يغرقون المدارس الإسلامية في غلو هذه الحضارة الجاهلة! قبل أن تأتي أمريكا، كانت كل القرارات بيد الله وستبقى بيده بعد سقوط أمريكا. هذه السلطات لن تنقل للصين أو الهند بعد سقوط أمريكا. “لله الأمر من قبل و (له ينتمي) من بعد.” كم هي عظيمة هذه الآية والتي تعلم الكثير لهؤلاء الذين يطيعون القويّ. أولئك، الذين يعبدون القوى الدنيوية! أولا عبدتم قوة بريطانيا. وعندما سقطت، إنحنيتم أمام أمريكا والآن عندما ترون أن الطاغوت أمريكا على وشك السقوط بسبب الهجمات الجهادية، ذهبتم مسرعين للصين تاركين دين الله، متخلين عن أمة محمد صلى الله عليه وسلم، تاركين ملايين المسلمين في تركستان لينحنوا أمام الصينيين ويمدحوهم. لقد نسيتم إخوانكم المسلمين؟!!!

هذه الآية ذاتها تؤكد أيضا للمؤمنين بعدم القلق إذا رأوا شخصا آخر يزداد قوة بعد أمريكا… . الله الذي حاربتم شريعته، لله الأمر من قبل ومن بعد. عندما يساعدكم على أمريكا، لن يخسر من قوته ليحارب أعداء لم يأتوا بعد. لن يكون تغيير في قوته الخارقة. سيبقى الجهاد دائما. طالما أنت تجاهد فالله سوف يعينك. “طعم الجهاد يبقى حلوٌ ومنعش”

 هؤلاء الذين يؤدون الجهاد ويضحون بأنفسهم سيبقونه حيا كما وكأنه قد بدأ اليوم وحتى ولو بعد أربعين عاما, هم أيضا لن يكلّوا ولن يتعثروا.                                                                            

أيها الأخوة المسلمون! 

هزيمة أمريكا ونصر الإمارة الإسلامية في أفغانستان هو نصر للأمة جمعاء. للضعفاء والمضطهدين بمثابة أخبار سعيدة عن بداية جديدة. إنه تذكير لضعفاء المسلمين بالآية “كم من فئة قليلة غلبت فئة كبيرة بإذن الله” هذا كثيرا ما يحدث وهو أن يتغلب الضعيف على القوي. هذا كان وعد الله للذين من قبلنا  ووعد الله لنا أيضا اليوم.

هزيمة أمريكا ونصر الإمارة الإسلامية في أفغانستان يذكر العلماء وطلبة العلم حركة البلاكوت, ساحة معركة شملي و حركة الرسالة الحريرية وهو أن الذين لهم معرفة بالإسلام يجب عليهم أن لا يحنوا رؤوسهم أمام أي قويٍّ وذلك لكي يطبَّق الدين. كأمير المؤمنين الملّا محمد عمر، لم ينحني لأحدا وبدلا من هذا، شن لوحده الحرب على قوى الكفر لإنقاذ مسلم واحد، لينقذ شرف الإسلام وكرامته. فلذلك، يجب على العلماء وطلبة العلم أن لا يقبلوا أي تغيير في منهاجهم ودينهم تحت ضغوط قوى الكفر حتى لو كان واحدا سنيا أو محتسب. وهبوا للدفاع عن روح مدارسنا. وبأي ثمن، أحمهم من وقاحة هذا العصر ومن شعوذة اللورد مككاولي. بأي ثمن العلماء والطلبة سيدفعون، سواء كان حياة، مال أو بيت. ويجب انقاذ روح هذه المدارس، لانه إذا ضاعت روح هذه المدارس, مالذي سيبقى وهو اننا سوف نبقى بعيدين من الجهاد خوفا من أن نخسره.                                                                                                     

إنتصارات الإمارة الإسلامية أصبح مثلا للمجاهدين وهو أن نجاح  الجهاد هو جزا لا يتجزأ من الوحدة والتحالف. إن لم يكن هناك وحدة فالمعركة التي كسبتها من الممكن أن تطعن من الخلف كما حصل في العراق والشام. من خلال المجموعات الجهادية، ثمار الجهاد من الممكن أن تضيع إذا لم يكن هناك وحدة بين صفوف الجهاديين وبعدها كل المؤامرات ستفشل….وإلا الخليفة من الممكن أن يقتل بإسم الجهاد والخلافة.                                                                                                        

هناك دروس عظيمة في إنتصارات الإمارة الإسلامية للعالقين مع داعش بإسم الجهاد وهم اليوم عبارة عن دمية بأيادي القوى الدولية. هم يضعفون الجهاد العالمي بإسم الجهاد والخلافة. عليهم أن يفهموا أن هذه القوى عازمة على أستخدام نفس الوصفة التي إستخدمت في العراق والشام…لطعن الأمة في ظهرها بخنجر داعش. الساحة تعد في محافظة نانجارهار. الإستعدادات تمت ليذبح خليفة بإسم الخلافة. أشخاص يُجلبون بالطائرات من سوريا الى محافظة هيرات بإسم داعش حيث ينقلون من هيرات الى محافظة نانجارهار بطائرات عمودية أمريكية. هؤلاء الذين في صفوف داعش والذين يعتبرون أنفسهم مخلصين ومتفانين, عليهم التفكير في المؤامرة في أفغانستان بعد العراق والشام. السؤال هو، على من سوف يشن داعش الجهاد في أفغانستان بعد هزيمة أمريكا؟ بعد إنسحاب أمريكا، لماذا يتم تقوية داعش في نانجارهار؟ لماذا ينقل أشخاصا الى هناك بطائرات أمريكية؟ لماذا يُجَهزون بالأسلحة ليلاً نهاراً؟ هل هم يُجَهزون ضد الإمارة الأسلامية؟ كما كان في سوريا، كل جهادهم كان ضد المجاهدين. المجاهدون كانوا ينتزعون الأرض من النصيريين وداعش كان يخطفها منهم (المجاهدين). اليوم النتيجة أمام الجميع. هل سيكون هذا النوع من الجهاد في أفغانستان؟ هل سيتم بيع حرب الأمة المنتصرة الى قوى الكفر الدولية مرة أخرى؟

نسأل الله أن يعطي الإمارة الإسلامية الثبات على الحق ويحميهم من فتنة داعش. على الرغم من الجهود التي بذلت في السنوات الخمس الماضية ولكن حتى هذه اللحظة كل المؤامرات فشلت. نسأل الله أن لا يعطي الكفار الفرصة لكي يضحكوا كما فعلوا في العراق والشام، بدلا من هذا، نسأل الله أن ينصر أهل السنة والجماعة في العراق والشام وأن ينهي فتنة داعش الى الأبد التي طعنت الجهاد والخلافة في الظهر. بالتأكيد هذه هي أصعب فتنة وأكثرها قتلاً للجهاد والمجاهدين خلال هذه الأربعين عاما من الجهاد. حتى أن قادياني لم يفسد وجه الإسلام بقدر ما فعلت هذه الفتنة.

                                                                    إخوتي المجاهدون!                                                                                                 

النصر للذين يواصلون الجهاد على طريق أهل السنة والجماعة، غير ذلك فهذا زمن الفتنة. 

كن سريعا في فعل الخير (قبل أن تتغلب عليك) الإضطرابات التي ستكون بمثابة جزء من الليل المظلم. 

هذه أوقات عندما يخسر الرجل كل شيء على أيدي الفتنة. هناك الكثير من الفتن بالإنتظار. لذلك، حافظوا على الجهاد وأنظر الى ما تفعله! مع من تمارس الجهاد؟ إفحص كل شيء في ضوء القرآن والسنة. إصغي الى رؤسائك (في الجهاد) وأطيعهم!                                                                              

نسأل الله أن يحمي هذه الأمة  من كل الفتن الواضحة منها والمخفية، وإجعل هذا العيد مصدرا للسعادة والأخبار السّارة.                                                                                                 

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.