تحریک جہاد برصغیر…حقیقت و حقانیت! – الحوار الخاص مع استاد اسامه محمود حفظه الله

شارك هذا الموضوع:

تحریک جہاد برصغیر…حقیقت و حقانیت! – الحوار الخاص مع استاد اسامه محمود حفظه الله

تحریک جہاد برصغیر…حقیقت و حقانیت

یہ انٹرویو   ویڈیو صورت میں   ربیع الاول ۱۴۳۹ھ میں نشر ہوا تھا۔ بعض وجوہات کی بنا پر اس کا  متن  نشر نہیں ہوسکا تھا    اس لیے اس کا مکمل  متن  اب پیش کیا جا رہاہے۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک جہاد برصغیر ، حقیقت  و حقانیت

(پہلی نشست )

ہم کیا چاہتے ہیں؟ 

السحاب:  بسم اللہ الرحمن الرحیم… قارئین! آج ہم جماعت قاعدة الجہاد برصغیر کے ایک  مرکزی قائد استاذ اسامہ محمود حفظہ اللہ سے  گفتگو کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ طویل عرصے سے اس انٹرویو کے لیے کوششیں جاری تھیں لیکن کچھ نامساعد حالات کی بنا پر ہم اس خواہش کو پایہء تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ القاعدہ برصغیر کے قیام کے بعد چونکہ یہ پہلا انٹرویو ہے اس لیے سوالات کی کثرت کے پیش نظر اسے متعدد نشستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آج اس سلسلے کی پہلی نشست ہے۔

السحاب:محترم استاذ! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

استاذ اسامہ محمود  :وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

السحاب: السحاب برصغیر کی جانب سے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

استاذ اسامہ محمود :جزاکم اللہ خیراً، اللہ آپ بھائیوں کو جزائے خیر دے،

السحاب: القاعدہ برصغیر کے ترجمان کی حیثیت سے بہت سے ایسے امور ہیں جن پر آپ سے گفتگو کی خواہش تھی۔ تحریک جہاد پوری دنیا  کے ساتھ ساتھ برصغیر میں بھی آج ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں بہت سے سوالات ہیں جو عوام الناس اور خود اس تحریک سے وابستہ افراد کے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں ۔  امید ہے آپ کے ساتھ  مختلف نشستوں میں جو گفتگو کا موقع ملے گا اس میں  ان شاء اللہ ان سوالات پر سیر حاصل گفتگو ہو سکے گی۔

استاذ اسامہ محمود :  آپ بھائیوں کا میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس ملاقات کا موقع دیا۔ اللہ تعالیٰ ان نشستوں کو ہم سب کے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لیے خیر اور نفع  کا  باعث بنائے۔

السحاب: آمین۔ جزاکم اللہ خیرًا

استاذ اسامہ محمود : آپ کی وساطت سے میں اس موقع پرعالی قدر   امیرالمؤمنین شیخ الحدیث ،شیخ ہبۃ اللہ حفظہ اللہ اور  امیر محترم شیخ أیمن الظواہری حفظہ اللہ سمیت دنیا بھرکے جہادی قائدین، مجاہدین اور مسلمان  بھائیوں  کی خدمت میں اپنی  طرف سے ، امیر محترم   مولنا عاصم عمر حفظہ اللہ اور اپنی جماعت کی طرف سے  سلام پیش کرتا ہوں ۔ السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ

السحاب: ایک بنیادی سوال سے آغاز کرتے ہیں، القاعدہ برصغیر  کی اساسی دعوت کیا ہے اور کن مقاصد کے حصول کے لیے اسے تشکیل دیا گیا ہے؟

استاذ اسامہ محمود :ہم ظلم ،فتنہ اور  فساد ختم کرنے ، اللہ کا دین غالب کرنے اور اللہ سبحانہ و تعالی،  اپنے رب کو راضی کرنے نکلے ہیں ،  پھر  اللہ کی  رضا مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی سے مشروط ہے،  لہذا آپ اس کو  یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ  ہمارا مقصد مسلمان عوام  کی ہدایت ہے ، ان کی حفاظت اور ان کے ساتھ خیر خواہی ہے  ۔ پھر حقیقت یہ ہے کہ آج اس زمین پر ظلم ، فتنہ اور فساد نے جو  ڈیرے  ڈال رکھے   ہیں، اس کا خاتمہ اللہ سبحانہ و تعالی نے  جہاد میں رکھا ہے، جہاد ہو گا تو یہ قابو ہو گا ، جہاد ہو گا تو یہ ختم ہو گا اور جہاد اگر نہیں ہو گا تو اس  میں  اضافہ در اضافہ  ہو گا اور تباہی و بربادی  ہو گی۔ اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان مبارک ہے : ﴿وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ﴾’’اگر اللہ  بعض کو بعض کے ذریعے نہ روکتے تو زمین  میں فساد پھیلتا‘‘۔ علامہ ابن ابی  حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:[لَوْلا الْقِتَالُ وَالْجِهَادُ.لَفَسَدَتِ الأَرْضُ]’’اگر  قتال اور جہاد نہ ہو تا تو زمین میں فساد  پھیلتا‘‘۔ گویا  اس فتنہ و فساد کا رد ،  ظلم و جبر  کے ان اندھیروں  کا علاج اللہ نے اُس  جہاد اور اس قتال میں رکھا ہے جو شریعت کے مطابق ہو    ، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ   خیر خواہی   اور ان کی ہدایت چاہنے کا جو    دعوی  ہم کرتے ہیں یہ  دعوی  سچا نہیں ہو سکتا ہے   جب تک تلوار لیکر ایسے  ظالموں کے ساتھ ٹکرایا نہ جائے ،ان کا زور نہ توڑا جائے جو اللہ  کے دین اور اس کے بندوں کے بیچ رکاوٹ  ہیں، جنہوں نے اللہ کی مخلوق کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے  اور جو  اللہ کے باغی ہیں   ۔  آج انہیں ظالموں کی وجہ سے انسانیت گمراہ ہو رہی ہے اور انہی کے سبب یہ تباہی و بربادی کے دھانے پر پہنچی ہے۔ تو اللہ نے ایسے متکبر  ظالموں  کے مقابل ہمیں محض  دعوت یا  منت سماجت کا  راستہ   نہیں بتایا ہے ، اللہ نے کتاب کے ساتھ تلوار بھیجی ہے ، دعوت کے ساتھ قتال   بھی  فرض کیا ہے ، اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ﴿فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (اللہ کے راستے میں لڑو) ﴿لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ﴾ (اگر کوئی اور لڑتا ہے یا نہیں لڑتا ، آپ  اپنے آپ کے ذمہ دار ہیں ، آپ لڑئیے،آپ سے آپ کے بارے میں پوچھ جائے گا  ) ﴿وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (اور مومنین کو اس قتال پر  تحریض دیجئے، ان کو دعوت دیجئے اس قتال کی ، انہیں اس قتال پر ابھارئیے) ﴿عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ (اللہ کفر کا زور توڑیں گے ۔یہ جو نظام جبر، نظام ظلم اور نظام کفر ہے ،اس کی قوت ،اس کا دبدبہ ،  اس کی شان شوکت اللہ توڑیں گے ) ﴿وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا﴾ (اللہ سخت قوت  والا اور سخت انتقام والا ہے)،لہٰذا   ہم کیا چاہتے ہیں ؟ ہم ظلم فتنہ اور فساد  کا خاتمہ چاہتے ہیں ، ہم  اللہ کے دین کو غالب کرنے کی صورت میں  اقامت دین  چاہتے ہیں ، ہم مسلمان عوام کی  ہدایت ، ان کی حفاظت اور خیر خواہی  چاہتے ہیں ،پھر  ان تمام مقاصد کے حصول کا شرعی راستہ جو اللہ رب العزت نےمقرر کیا ہے وہ  دعوت و جہاد  یا دعوت و قتال ہے ، یہ دونوں  ،یعنی  دعوت اور قتال  ہم  ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں ،  یہ  ہمارا منہج ہے ، اس کی طرف ہم اپنی امت کو بلاتے ہیں  اور اسی سے ان شاء اللہ  مظلوموں کی مدد ہو گی، محروموں  کو اسی سے اللہ تعالی ان کے  حقوق دلائیں گے ، اسی سے  یہاں کی دبی ہوئی ، پسی ہوئی مظلوم عوام کے لیے  دنیا و آخرت کی  سرخروئی کے رستے اللہ  سبحانہ  تعالی ان شاء اللہ کھولیں گے  اور یہی دعوت اور قتال کا راستہ برصغیر کے اندر ظلم ، فتنہ اور فساد کی اس تاریک رات کو عدل و انصاف ، امن اور برکتوں والی مبارک صبح میں تبدیلی کا باعث ان شاء اللہ بنے گا ۔

السحاب: برصغیر میں تحریک جہاد ایک عرصے سے جاری ہے۔ آپ   کی نظر میں تحریک جہاد برصغیر  کے  اغراض و مقاصد کیا  ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :اپنی جماعت کا نکتہ نظر آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ ہم بطور جماعت تحریک جہاد برصغیر  کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔یہ تحریک  جہاں  پاکستان، کشمیر، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت پورے برصغیر کو اسلامی برصغیر  میں تبدیل کرنے کی تحریک ہے وہیں  یہ عالمی تحریک جہاد کا بھی حصہ  ہے، یعنی اُس جہادی  تحریک  کا یہ حصہ ہے جو عالمی سطح پر صلیبی صیہونی ، ملحد، مشرک اور لادین  اتحاد کے خلاف  لڑ رہی ہے ۔پھر یہ تحریک ہمارے نزدیک  امارت اسلامی افغانستان کی  جو  مبارک مہم ہے اس  کا تسلسل  ہے ۔

یعنی ہم بحیثیت جماعت ، ’جماعت القاعدہ ‘امارت اسلامی افغانستان کے  لشکروں میں سے ایک لشکر ہیں۔ ہمار ے نزدیک ، ترجیحات میں سے ایک  بڑی ترجیح، امارت اسلامی افغانستان کا دفاع اور تقویت ہے، افغانستان کے اندر بھی  امارت  اسلامی کے  جھنڈے تلے الحمد للہ  ہمارے ساتھی لڑ رہے ہیں اور ہم بطور جماعت پاکستان کے مسلمانوں کو،  برصغیر کے مسلمانوں کو دعوت بھی دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور امارت کے جھنڈے تلے ، امریکی اتحاد کے خلاف شریعت کے نفاذ کے  اس مبارک  جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں ۔پھر    افغانستان سے باہر …برصغیر کے اندر   بھی امارت اسلامی کے دشمنوں کے سامنے  بند باندھنا  اور  ان  کے مقابل  عوامی سطح پر   جہادی تحریک کھڑی کرنا بھی اس تحریک  جہاد برصغیر کا ہم     مقصد  سمجھتے ہیں!

اسی طرح دوسرا یہ کہ   عالمی شیاطین  کی چیر پھاڑ، لوٹ کھسوٹ  اور فساد کا  برصغیر  میں راستہ روکنا اور ان کے مظالم سے پاکستان ، کشمیر ،بنگلہ دیش، بھارت ،  اور برما   کے مسلمانوں   کا دفاع کرنا  ہمارے  نزدیک اس تحریک کا  مطمع نظر ہے !

اسی طرح اہم اور ایک   بڑا مقصد  برصغیر کے مسلمانوں  کو ان کے  حقوق دلوا نے   ہیں  ،  وہ حقوق جو   ان سے چھینے گئے ہیں  اور  ان حقوق میں سے اہم  ترین حق  اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ پاک  شریعت  ہے۔ یعنی یہاں کے لوگ جاہلیت کے تحت رہنے پر مجبور نہ ہوں  ،بلکہ شریعت  کے سایہ  تلے اپنی زندگی گزاریں، اس طرح ایک حق  آزادی   ہے ،  مسلمانوں کی جان ، مال ، عزت  اور آبرو کی  حفاظت  ہے۔ یہ سارے حقوق    مسلمانانِ برصغیر کو دلوانا  ہم تحریکِ جہاد برصغیر  کا ہدف   سمجھتے ہیں …!

السحاب: برصغیر میں جاری  اس جہادی تحریک میں القاعدہ برصغیر کیا کردار ادا کر رہی ہے؟

استاذ اسامہ محمود :الحمد للہ ہماری جماعت ،جماعت قاعدۃ الجہاد برصغیر ، جس کو ہم مختصراً القاعدہ برصغیر بھی کہتے ہیں ، تو ہماری جماعت  تحریک جہاد برصغیر کی ایک بڑی  داعی ہے! اللہ کے فضل سے   افغانستان  ،پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں یہ   جماعت  سرگرم عمل ہے ۔ ہمارے مجاہد بھائی  دعوت اور  قتال  دونوں  میدانوں میں     تحریک جہاد برصغیر کے مقاصد کو سامنے رکھ کر  الحمد للہ آگے بڑھ رہے ہیں  ، دونوں میدانوں  میں الحمد للہ اللہ کی مدد و نصرت شامل حال ہے، شہادتوں ، قید و بند اور دربدر یوں      کا بھی سامنا  ہے ،  مگر اللہ کا فضل ہے کہ  قندھار سے اسلام آباد، ڈھاکہ اور دہلی تک   غزوہ ہند کی اس مبارک دعوت میں یہ قافلہ    اپنے خون سے رنگ بھر رہا ہے  اور اللہ سے امید ہے کہ ان آزمائشوں سے   نہ صرف ہماری جماعت بلکہ پوری تحریک جہاد برصغیر سرخرو اور قوی بن کر نکلے   گی، ان شاء اللہ ۔

السحاب: برصغیر کے اندر آپ کے اہم دشمن اور ترجیحی اہداف کیا ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :سب سے پہلا ہدف ’ غنڈوں کا سر غنہ  ‘ امریکہ ہے ، اس لیے کہ امریکہ اسلام اور اہل اسلام کا سب سے بڑا  دشمن ہے ، اس کے ہاتھ  امت مسلمہ کے  خون سے رنگین ہیں ،دنیا بھر میں اسلام  کے خلاف  ظالموں کا یہی  پشتی بان ہے  اور یہی اس عالمی نظام ظلم کا  سب سے بڑا محافظ اور سردار  ہے۔ لہذا برصغیر کی اس  زمین کو امریکی خباثت کے لیے علاقہ  ممنوعہ بنانا  ، اس کی سازشوں اور اس کے ظلم سے یہ خطہ صاف  کرنا اور اسے یہاں اپنے مفادات کے تحفظ میں ناکام کرنا ہماری  اولین  ترجیح ہے ۔

دوسرا  ہدف   بھارت ہے ،وہ بھارت جو  مشرک ، غاصب اور ظالم ہے  ، جس نے کشمیر  پر قبضہ کیا ہوا ہے اور جو آئے روز  ہماری  کشمیری ماؤں ، بہنوں اور  بھائیوں  پر مظالم ڈھا تا ہے ۔ اسی بھارتی ریاست کی سرپرستی میں  بنگال سے آسام و گجرات تک ہمارے مسلمان بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ پھر یہ بھارت آج اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل سمیت تمام  عالمی شیاطین کا حلیف ہے۔ تو بنگلہ دیش، بھارت  اور پاکستان  بلکہ  پورے برصغیر میں  بھارتی ریاست کے مفادات کو نشانہ بنانا  ہمارا دوسرا بڑا    ہدف ہے۔

تیسرے نمبر پر وہ قوتیں ہمارا   ہدف  ہیں جو تحریک جہاد کی دشمن ہیں ،  اس کے خلاف  لڑ رہی ہیں اور اس پر عالم کفر سے   رقم بٹور  رہی ہیں  ۔ پاکستان پر قابض جرنیل ، ان کے مسلح کارندے اور  حکمران طبقہ  ان کی واضح مثال ہیں ،یہی وہ ناسور ہیں  کہ  جن کا  کاروبار  تحریک جہاد کو جڑوں سے اکھاڑنا ہے۔ جب اس میں انہیں کامیابی نہیں  مل سکتی ہو تو اسے بے اختیار  کرنا ، عالمی غنڈوں  کے تابع کرنا   اور اس  کے  مبارک ثمرات  کو ان کافروں کی گود  میں رکھنا یہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں  ۔تو  یہ ظالم، تحریک جہاد اور اسلامی بیداری  کے خلاف ہر ملحد اور  ہر  کافر    کے دست و بازو رہے  ہیں اور ابھی بھی ہیں، انہی کے سبب آج پاکستان  دنیا بھر کی    مجرم    ایجنسیوں   کی  آماج گاہ بن گیا ہے اور  آج انہی  کے سبب یہ خطہ اللہ کی شریعت سے ، اللہ کی رحمت سے محروم ہے اور  یہاں  ظلم و فساد کا راج ہے ۔

یہاں ، چونکہ اہداف کی بات ہوئی اس لیے میں عرض کروں کہ  القاعدہ برصغیر کا  لائحہ  الحمد للہ  نشر ہو چکا ہے ،  اس میں ہمارے مقاصد و طریقہ کار سمیت  ہمارے   جہادی  اہداف اور اصول و ضوابط بھی   درج ہیں !  تو تمام مسلمانوں کو ،بالخصوص مجاہدین کو،   اپنی جماعت سے جو متعلق بھائی ہیں  ان کو، اور جماعت سے باہر دیگر برادر جہادی جماعتوں میں جو ہمارے عزیز  بھائی ہیں، ان سب کی خدمت میں   یہ لائحہ پڑھنے کی میں گزارش کرتا ہوں۔

السحاب: امریکہ ، بھارت اور   ساتھ پاکستانی فوج   کو بھی بیک وقت دشمن قرار دینا اور ان کے خلاف  لڑنا کیا  جنگی حکمت عملی کے لحاظ سے مناسب ہے ؟

استاذ اسامہ محمود :حقیقت یہ ہے کہ ہم پاکستانی فوج کو دشمن کہیں یا نہ کہیں  یہ دشمن ہے  اور یہ شریعت کے خلاف ،اہل دین کے خلاف، تحریک جہاد ا ور مجاہدین کے خلاف  لڑ رہی  ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ دشمنوں  کی تعداد کم کرنا  جنگ میں اولین ترجیح ہوتی ہے   ، مگر اپنے خلاف لڑنے والے دشمن سے آنکھیں بند کرنا اپنی  دعوت ، اپنے جہاد ار اپنی تحریک کو خود اپنے ہاتھو ں تباہ کرنے کے مترادف ہے، آج پاکستانی فوج اور ظالمانہ نظام،  شریعت اور جہاد کے راستے میں    مکمل طور پر  حائل ہیں ،ایسے میں  ہم لامحالہ   اس دشمن کے خلاف  میدان میں اترنے پر مجبور ہیں ۔  یہاں میں یہ بھی   عرض کر دوں کہ پاکستانی فوج کی اسلام دشمنی کی تاریخ دیکھ کر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ  غلبہ دین کی تحریکیں جب تک  اپنی دعوت کے دفاع کے لیے اس فوج کے خلاف میدان عمل میں نہیں   اترتیں  ،تب تک  یہ تحریکیں ایک قدم بھی  آ گے نہیں بڑھا سکتیں  اور تب تک برصغیر میں کسی بھی ظالم کا  راستہ  نہیں روکا جا سکتا ۔

السحاب: بنگلہ دیش کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ آپ بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ اور یہاں کے مجاہدین کے لیے آپ کی کیا ترجیحات ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :بنگلہ دیش کے مسلمان آج  ایک انتہائی  نازک دور سے گزر رہے ہیں اور اس جگہ تک پہنچانے میں پاکستانی فوج  کا کردار  ، اس ظالم ، شریعت کی دشمن اور امت کی اس خائن  فوج کا حصہ بھارتی ریاست سے کسی بھی طور پر  کم نہیں  ہے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستانی فوج  کے شرمناک  مظالم یہ غیور قوم  آج  تک نہیں بھول سکی  ،  یہ قوم اسلام کی خاطر  پاکستان کا حصہ بنی تھی مگر  اسلام دشمن پاکستانی فوج کے کرتوتوں  اور مظالم نے انہیں پاکستان سے  جدا کر دیا ۔  بھارت نے  اس    سے فائدہ اٹھانا تھا اور خوب اٹھا یا۔  نتیجتاً  بنگلہ دیش کی ریاست مکمل طور پر   بھارت  کی غلام   بن گئی ہے، یہاں کی  فوج ، پولیس ، عدلیہ اور میڈیا  سب  آج بھارتی زبان بولتے  ہیں اور اس کے احکامات پر عمل کرتے نظر آتے ہیں  ۔ جہاں تک عوا م کا تعلق ہے  تو الحمد للہ یہاں  توحید کے فرزندوں اور شمع رسالت کے پروانوں کی  کبھی  کمی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ  ایسے  اہل ایمان پر زمین انتہائی  تنگ کی گئی ،بتوں اور گائے کے ان  پجاریوں کا  ہدف اس مسلمان  عوام  کو  ان کے  قیمتی ترین اثاثہ ایمان سے محروم  کرنا    اور اپنا مکمل طور پر غلام بنانا ہے ، افسوس کہ آج بنگلہ دیش میں  چور ، لٹیرے ، بد طینت  لا دینوں اور ملحدین  کوتو عزت و  اکرام دیا  جا رہا ہے  جبکہ اہل دین  کو قوم ، ملک بلکہ انسانیت تک  کا دشمن  بتا کر ان پر ظلم کیا جاتا ہے  اور ان کی تضحیک کی جتی ہے۔۲۰۱۳ ء میں   ڈھاکہ کے اندر ایک دینی  اجتماع پر   شب خون مارنا اور محض ایک رات  میں خاموشی کے ساتھ  ہزار سے زیادہ  مسلمانوں    کو شہید کرنا ،پھر بھارت کے ساتھ لگے  سرحدی علاقے  سات کھرا  ضلع کے اندر بھارتی  فوج کا  خود  بنگلہ دیش کے اندر گھسنا اور بنگالی فوج کے ساتھ  مل کر پچاس سے زیادہ مسلمانوں کو تیہ تیغ کرنا اور ان کے گھربار تباہ کرنا… کاش یہ وارداتیں آخری  ثابت ہوتیں مگر ایسا نہیں ہے ، اور آج   بہت افسوس کی بات ہے کہ  ایک طرف اہل ایمان کی پھانسیوں  ، قتل  در قتل  اور قید و بند  کا سلسلہ  زوروں پر ہے  تو دوسری طرف  دین دشمن ملحدین اور گستا خان رسول ﷺ  جیسی رذیل ترین مخلوق کو مکمل پشت پناہی  حاصل  ہے۔ غرض  طویل عرصہ سے  بنگلہ دیش  کے مسلمانوں پر ایک  جنگ مسلط ہے جو در حقیقت سیکولرازم  کے روپ  میں مشرک ہندوں اور ان کے آلہ کاروں کی    اسلام  اور مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے ،ایسے    میں  بنگلہ دیش  کے  مسلمان   جانتے ہیں کہ ان پر جہاد فرض ہو چکا ہے ۔ یہ جہاد بنگلہ دیش میں بھارتی دین دشمنی کے خلاف  دفاع کے عنوان سے  ہو یا کشمیر ی اور بھارتی مسلمانوں کی نصرت کے نام سے    ، ہر صورت  میں  بھارتی ریاست کے خلاف  اٹھنا آج فرض   عین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کے نزدیک بھی   بنگلہ دیش بلکہ پورے برصغیر  میں بھارتی ریاست  اہم اور   بڑا ہدف ہے  ۔

السحاب: آپ یہاں بنگلہ دیش میں موجود جماعت سے منسلک مجاہدین کے نام    کوئی پیغام دینا   چاہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود :میں بنگلہ دیش کے  اپنے انتہائی عزیز   بہادر اور  مجاہد بھائیوں  سے  گزارش کروں گا کہ    بنگلہ دیش  کے مسلمانوں کو جہاد کی  اس عبادت کی طرف بلانے  اور غزوہ ہند کی اس عظیم  تحریک کو یہاں  کھڑا کرنے کے لیے اللہ نے آپ کا انتخاب کیا ہے ، بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے دین اور دنیا کی حفاظت آپ پر فرض ہے  ۔لہذا آپ  اس فرض کی ادائیگی میں   اپنی قوم کو  انتہائی دل سوزی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا کیجئے  ، اس  میں آپ کامیاب ہوئے تو بنگلہ دیش میں بھی آپ اسلام  اور اہل اسلام  کی مدد کر سکیں گے اور  کشمیر سے برما تک کے  مظلوموں  کے سینے بھی  آپ ٹھنڈے  کر دیں گے۔  آپ   اپنے ہتھیاروں  کا رخ مشرک ، نجس اور ظالم  بھارتی ریاست  کی طرف  رکھئے جو ڈھاکہ اور  سات کھرا سے لیکر    کشمیر و احمد آباد بلکہ  پورے برصغیر کے اہل ایمان کا دشمن اور مجرم  ہے  ،  اس مشرک اور خسیس دشمن کے خلاف  آپ آگے بڑھئے …اگر آپ کے اس  راستے میں کوئی رکاوٹ بنتا ہے   تو پھر آپ بھی  انہیں  اپنے عمل سے یہ پیغام  دیجئے  کہ  آپ اپنے جہاد ، اپنی  تحریک اور اپنی  دعوت  کا دفاع    بھی   خوب  جانتے ہیں ۔اللہ آپ کی نصرت فرمائے اور آپ کے ذریعے برصغیر میں توحید و جہاد کا یہ  مبارک  علم بلند کر دے ، آمین۔

السحاب: ۔آپ  موجودہ تحریک جہاد   برصغیر کو برصغیر کی  اسلامی اور جہادی تاریخ کے ساتھ کس طرح جوڑتے ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :انگریز نے  جب برصغیر  کے اکثر علاقوں سے  شریعت  ختم کردی، تو اس وقت   شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے   1806 میں  ایک فتویٰ دیا  تھاکہ برصغیر  دار الاسلام نہیں رہا ، یہ  دار الحرب   ہے  ۔ اسی تاریخی  فتویٰ کی روشنی میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید رحمہما للہ کی  تحریک، تحریک  مجاہدین  بپا ہوئی  ، اسی طرح  1857 میں یہاں کے مسلمانوں نے علمائے کرام کی قیادت میں جو جنگ آزادی   لڑی ،اس میں بھی اس فتوے کا بڑا عمل دخل تھا،اسی طرح تحریک شیخ الہند رحمہ اللہ جیسی  دیگر جہادی تحریکیں  بھی اس فتوے کی روشنی میں  وجود میں آئیں ۔

تو شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ جو  برصغیر کے دار  الحرب ہونے کا  فتوی  دیا تھا یہ فتوی آج بھی قائم ہے ، اس لیے کہ اس کے اسباب آج پورے برصغیر میں بدرجہ اتم موجود ہیں ،آج   پورے برصغیر میں کہیں پر بھی  شریعت نافذ نہیں ہے… بلکہ برصغیر کے چپہ چپہ  پر شریعت کے  دشمنوں کا راج ہے  ، برصغیر پر مشرکین یا ملحدین اور صلیبی کافروں کے لادین غلاموں  کی حکومت ہے۔ لہذا شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ کا  فتوی آج بھی اسی  طرح  واجب العمل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ  سید احمد شہید رحمہ اللہ  نے جس مہم اور تحریک کا آغاز کیا تھا، یعنی وہ تحریک جس کی خاطر ہزاروں علماء دہلی میں پھانسیاں چڑھ گئے  اور جس تحریک کی شیخ الہند رحمہ اللہ نے بھی توثیق کی تھی  تو یہ تحریک  برصغیر میں کبھی ختم نہیں ہوئی ،بلکہ یہ اس پوری تاریخ میں جاری رہی ۔ بنگال (بنگلہ دیش)  میں حاجی شریعت اللہ اور تیتومیر کے جانشین تو پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں فقیر ایپی ، حاجی ترنگزئی  اور ملاپاوندہ  رحمہم اللہ   جیسے مشہور نام اسی  تحریک مجاہدین  سے تعلق رکھتے  تھے، قیام پاکستان کے بعد بھی یہ تحریک یہاں قبائل میں جاری رہی ، نفاذ شریعت کا وعدہ جب یہاں کے حکمرانوں نے ایفا نہیں کیا، تو فقیر ایپی رحمہ اللہ نفاذ شریعت  کا  مطالبے   لیکر  دوبارہ میدان میں اترے ور آپ نے تحریک کا دوبارہ آغاز کیا ، اور اسی جرم میں پاکستانی   ائر فورس نے  اپنے انگریز سربراہ وائس ایئر مارشل  ایلن کی سربراہی میں اپنی پہلی بمباری اسی تحریک کے ایک اجتماع پرکی  ۔ غرض یہ تحریک جاری رہی ،     نشیب و فراز ضرور اس پر   آئے ، اور تحریکوں پر اس طرح  نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، یہاں تک  کہ کوئی واقعہ، یا حالات  اسی تحریک  کو اس کی  پرانی بنیاد  پر  نئے عزم کے ساتھ دوبارہ اٹھا دیں ! امریکہ  جب یہاں آیا اور پاکستانی فوج نے  تحریک جہاد اور اسلام  کے خلاف علانیہ  جنگ شروع  کی ،اور جب  اس کا اصل روپ سب پر واضح ہوا  تو یہاں  تحریک  مجاہدین بھی  نئے عزم کے ساتھ انہی بنیادوں پر…انہی مقاصد  کو سامنے رکھ کر دوبارہ کھڑی ہو گئی، یعنی وہ بنیادیں ، وہ مقاصد جو سید احمد شہید رحمہ اللہ  نے اپنی  تحریک مجاہدین کے لیے رکھے تھے …  یوں  یہاں سے تحریک جہاد برصغیر کا  نیا باب شروع ہوا    تو گویا ہم مجاہدین  برصغیر میں ، سید أحمد شہید رحمہ اللہ کی تحریک  ہی کا تسلسل ہیں  ۔اللہ ہمیں صحیح معنوں میں سید رحمہ اللہ کے ورثاء ثابت فرمائے ،  سید أحمد شہید رحمہ اللہ کا مقصد و ہدف کہ  برصغیر کو اسلام  کے  دشمنوں  سے آزادی دلائی جائے  اور شریعت کا نفاذ یہاں ہو  ، یہی ہمارا  بھی مقصد ہے، اسی طرح آپ رحمہ اللہ کا طریقہ کار دعوت اور جہاد تھا اور یہی ہمارا  بھی راستہ  اور ہمارا بھی منہج ہے، اس لیے ہم برصغیر کے اندر سید احمد شہید کی تحریک ،  تحریکِ مجاہدین ہی کا ان شاء اللہ تسلسل  ہیں   ،  اللہ اس  تحریک کا حق ادا کرنے  کی ہمیں  توفیق دے اور اللہ یہاں کے مسلمانوں کے لیے  ہماری  اس تحریک کو بھی سید کی تحریک کی طرح  بابرکت ثابت فرمائے، آمین

السحاب: برصغیر سے ذرا عالمی منظر نامے کی جانب رخ کرتے ہیں۔ آپ نے ذکر کیا القاعدہ  برصغیر کا اہم ہدف امارت اسلامیہ افغانستان  کی تقویت ہے ، امریکہ کی افغانستان میں جنگ کا آغاز ہوئے سترہ سال ہو چلے ہیں؟ آپ کے خیال میں آج سترہ سال بعد آپ کی نظر میں امارت اسلامیہ افغانستان کہاں کھڑی ہے؟

استاذ اسامہ محمود :آج الحمد للہ امارت اسلامی افغانستان کا قافلہ کامیابی کے  ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، امریکی اتحاد  کا حملہ ہوئے  سترہ سال بیت گئے، اس عرصہ میں وقت کے اس فرعون نے ہر قوت آزمائی ،  ایٹم بم کے علاوہ اس کے ترکش میں جو کچھ  تھا اس نے  یہاں خالی کر دیا ، ڈالر بھی خوب پھینکے گئے  ، ضمیروں کی دکانیں  اس نے سجائیں  ،  جو کچھ اس کے بس میں تھا سب اس نے آزمایا مگر الحمد للہ سب  بے سود ثابت ہوا ۔  اللہ نے امیر المؤمنین ملا  محمد عمر رحمہ اللہ  کا اپنے رب پر وہ گمان سچا کر دکھایا جب آپ نے فرمایا کہ بش ہمارے ساتھ  شکست  کا   وعدہ کرتا ہے جبکہ اللہ ہم سے فتح کا وعدہ کر تا ہے ،دیکھتے ہیں کس کا وعدہ سچا ہے۔ الحمد للہ امریکہ کا وعدہ جھوٹا تھا…اور  اللہ کا وعدہ سچا تھا اور سچا ہے ،بس اللہ ہمیں اپنے رب کے ساتھ اپنے وعدوں میں سچا کر دکھائے اور اللہ ہمیں جہاد کے اس  راستے پر استقامت دے ،تو امارت اسلامی کے قافلے کو ،  امت مسلمہ کے مجاہدین اور مسلمانوں کو اللہ نے  فتح دے دی  اور امریکہ کو شکست ہوئی اور   اس  شکست  کوآج پوری دنیا  دیکھ رہی  ہے۔

السحاب: آپ موجودہ صورتحال کو  کن بنیادوں پر امریکہ کی شکست کے مترادف سمجھتے ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :دیکھیے، امریکہ کچھ  اہداف سامنے رکھ کر یہاں آیا تھا ، اس کے آنے کے کچھ  مقاصد تھے ،اب   کیا وہ اہداف  اور مقاصد حاصل ہوئے ؟  ان کی تکمیل ہوئی  اور آج وہ کوئی نئی بات کر رہا ہے یا آج بھی وہ وہاں کھڑا ہے،  جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اہداف کے حصول میں مکمل طور پر  ناکام رہا  ۔

السحاب:   یہ  اہداف کیا تھے ؟اور اگر امریکہ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہا ہے تو اس ناکامی کے کیا اثرات ہیں؟

استاذ اسامہ محمود : دیکھیے، پہلا ہدف تحریک جہاد کو ختم کرنا تھا  اور ان میں سر فہرست امارت اسلامی اور  القاعدہ کو ختم کرنا تھا، اب   کیا  تحریکِ جہاد  ختم ہوئی؟ الحمد للہ ، افغانستان میں یہ تحریک  آج بھی قائم ہے  ،  مجاہدین امیر المؤمنین شیخ ھبۃ اللہ حفظہ اللہ کی امارت میں متحد  و متفق  ہیں ۔قافلہ جہاد قوی  سے قوی تر ہے، آدھے سے زیادہ افغانستان پر الحمدللہ  مجاہدین کا قبضہ ہے ، فتوحات در فتوحات  ہو رہی  ہیں  ، مجاہدین کے زیر اثر علاقوں میں امریکی فوج اور چور لٹیروں پر مشتمل اس کے  جو مقامی آلہ کار ہیں ، ملی فوج ، وہ  قدم نہیں رکھ سکتی  ہے  ، آخری   چارہ آج ان کے پاس  بمباری رہ گیا ہے مگر بمباریوں سے زمینیں قبضہ نہیں کی جاتیں۔ بمباریوں سے حکومتیں نہیں کی جاتیں  ،  حکومت کرنے کے لیے زمین پر اترنا ہوتا ہے اور  الحمد للہ یہ ان کے بس میں نہیں ہے۔ پھر یہ بھی دیکھیے کہ جس تحریک جہاد کو قندھار اور تورا بورا میں دفنانے ابرہہ کا یہ لشکر آیا تھا ، الحمد للہ  وہ مبارک تحریک پوری دنیا میں پھیل گئی اور سایہ دار درخت بن کر شرق و غرب میں  کئی خطوں کے اندر  اہل ایمان کے  سینوں اور آنکھوں کی ٹھنڈک  بن گئی  ہے ۔آج امریکہ  کے سامنے صرف افغانستان نہیں ہے ،  بلکہ یمن ، صومالیہ  ، لیبیا، شام ، تیونس ،الجزائر  ،مالی اور برصغیر  سمیت پوری دنیا  ہے جہاں الحمد للہ نظام کفر کے مقابل یہ جہادی تحریک کھڑی ہے اور اللہ کے فضل سے  وسیع و عریض علاقوں پر آج  توحید کا پرچم لہرا رہا  ہے۔

دوسرا ہدف  جس کے لیے یہاں  امریکی اتحاد آیا تھا وہ شریعت کا خاتمہ تھا …پہلی بات یہ ہے  ، شریعت سے ان کی دشمنی کیا ہے؟ شریعت سے ان کی چڑ کیوں ہے؟تو حقیقت یہ ہے کہ جہاں شریعت ہو گی وہاں اللہ کے غلام پیدا ہونگے ، وہاں ظلم سے نفرت اور عدل سے محبت ہوگی اور  وہاں ان کے جاہلانہ نظام اور فسادی تہذیب سے نفرت جنم لے گی ۔اس لیے انہیں دنیا کے کسی بھی گوشے میں شریعت  برداشت  نہیں   ہے  ۔تو یہاں آنے کا مقصد بھی شریعت کا خاتمہ تھا۔ اب  سوال یہ ہے کہ کیا  وہ شریعت ختم ہو گئی جس کے لیے یہ آئے تھے ؟ ان کی   وہ گند ی اور شیطانی  تہذیب کیا یہاں پر رائج ہو گئی؟ آج بھی جن علاقوں میں  یہاں مجاہدین  کا تسلط ہے ، الحمد للہ وہاں شریعت  پر عمل ہے کفر کا فسادی نظام  ، وہ جو   ان کی مغربی تہذیب  ہے جو  گندا جو ہڑ ہے ، اس کا نام و نشان بھی آپ کو نہیں ملے گا۔  ۔یہ صرف یہاں افغانستان کا حال  نہیں ہے، بلکہ  جہاں جہاں دنیا کے دیگر خطوں میں  مجاہدین کو  مفتوحہ علاقے  اللہ نے دئیے ، وہاں  شریعت کا خواب عملاً  شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے ۔

امریکی حملے کا تیسرا ہدف   یہاں کی عوام کو غلام بنانا تھا …کہ جس چیز کو امریکہ خیر کہے ، یہاں کی عوام بھی اسے خیر سمجھے اور جسے امریکہ شر بتائے ،یہاں کی  عوام بھی اس کے شر ہونے کا یقین رکھے۔ تو کیا یہاں کی عوام نے یہ  غلامی قبول کی؟ الحمد للہ آج یہاں کی  عوام  امریکہ کی دشمن ہے ، یہاں کی عوام مجاہدین پر جان دیتی ہے  ، یہ مجاہدین کو اپنی جان و مال اور دین کا محافظ سمجھتی ہے اور ہر وہ قوت جو ان کے دین اور مقدسات کی دشمن ہو اسے اس مجاہد غیور عوام کی عداوت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

چوتھا ہدف  ان ظالموں نے اپنے آپ کو محفوظ بنانا تھا، یعنی یہ ظالم ظلم سے تو اپنا ہاتھ نہیں  روک رہے ہیں  ،  افغانستان سے فلسطین ،شام و یمن تک  ہماری ماؤں ،بہنوں ،  بھائی اور بچوں کو تو  قتل کر رہا ہے مگر اس کے باوجود یہ اپنی حفاظت کا خواب دیکھتے ہیں   ۔تو آج الحمد للہ امریکہ  اور اس کے اتحادی پہلے سے کہیں زیادہ  غیر محفوظ ہیں ، سترہ سال گزر گئے اور اس کے باوجود بھی  آج ان کے سامنے بڑا چیلنج اپنا تحفظ ہے ،اپنے بجٹ کا ایک خطیر حصہ  اپنے  اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ پر  خرچ کر رہا ہے مگر اس  کے  باوجود  بھی ان کا  نیویارک ، مانچسٹر اور پیرس    اس آگ کی تپش  اور چنگاریوں سے  محفوظ نہیں ہو سکا جو خود انہوں نے   ہمارے گھروں میں لگائی تھی۔

تو یہ ناکامیاں ہی ناکامیاں  ہیں ،  جن  کو دیکھ کر امریکی قوم دم بخود   حیران اور پریشان کھڑی ہے، اس کے پاس  آج کوئی ایسا پتا نہیں رہا جو اس نے استعمال نہیں کیا ہو، ایک احمق آدمی کا امریکی صدر بن جانا اس  کیفیت کی بہترین   عکاسی کرتا ہے ۔ دیکھیے…  کہاں وہ امریکہ جس کا صدر جہاں جائے ، دودھ اور شہد کی نہریں بہانے  کی امیدیں اس سے وابستہ کی جاتی تھیں  اور کہاں آج کا دن کہ امریکی صدر  اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایک ایک پائی کے حساب  کی باتیں کرتا ہے ، قومی بجٹ میں  کمی   لاتا ہے   اور سب سے پہلے  امریکہ کا نعرہ  لگاتا ہے ۔کل امریکہ کو عالمی سیاست میں روس کی مداخلت برداشت نہیں ہوتی تھی جبکہ آج  کفر و اسلام کی جنگ میں اُس  سے در پردہ  بلکہ  علانیہ   مدد لی جاتی ہے ۔

یہ سب ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اب وہ  امریکہ نہیں رہا ، اس کی شکست واضح ہے   اور الحمد للہ  امریکہ کی یہ شکست اب صرف مجاہدین کا دعویٰ نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بیچ سے  یہ  اعتراف سنائی دیتا ہے۔

السحاب: تو اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے   کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ امریکہ عنقریب  امت مسلمہ کے خلاف جرائم سے بازآ جائے گا؟

استاذ اسامہ محمود : دیکھیے امریکی مظالم کی فہرست بہت طویل ہے ، اب وہ ہٹنا چاہے بھی تو اس کے کرتوت اس کا پیچھا کریں گے ۔امریکہ کو اپنی تباہی  نظر آ رہی ہے ، اس لیے اس کی بدحواسی میں آج اضافہ ہوا ہے ،  ایک احمق کو صدر بنانے کے بعد جس طرح   اس نے    یمن ، شام اور افغانستان میں عام شہریوں پر بمباریاں کیں، یہ اس  کی بدحواسی کی  نشانی ہے ۔اور عین ممکن ہے کہ اپنی اس بد حواسی میں یہ مزید ایسے اقدامات اٹھا لے جو مستقبل قریب میں  اسے بھگتنا پڑیں۔

ہاں پہلے اور اب کی اس کی جنگ میں فرق ہے ۔ پہلے عالم اسلام کو فتح کرنے کے لیے  امریکہ لڑ رہا تھا جبکہ آج یہ ختم ہونے کے خوف سے ،اپنے بچاؤ کے لیے لڑ رہا ہے ، پہلے اپنی قوت اور سب کچھ کر گزرنے کا اسے   زعم تھا مگر آج اسے اپنی قوت کے محدود ہونے کا اور اپنی شکست کا احساس ہے  …اسے گرتی ہوئی ساکھ کی فکر ہے۔تو  اللہ سے امید ہے کہ امریکہ  کی قسمت میں عافیت  اور بچاؤ نہیں ہے ، یہ امت مسلمہ کی قربانیوں اور اس  کے جہادی ضربوں  تلے ان شاء اللہ دب کر ختم ہو گا ۔

السحاب: امریکہ کی اس شکست اور پس قدمی سے امت مسلمہ پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :حقیقت یہ ہے کہ آج امت مسلمہ  تحریک جہاد کی صورت میں  عزت ، عروج اور  فتح کے جس سفر پر گامزن ہے ، یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، یہ ایک غیر معمولی دور ہے ، اس کا احساس ہر مسلمان کو ہونا انتہائی ضروری ہے ۔ادوار کا تقابل ذرا دیکھیے ، ایک وہ دور تھا جہاں شریعت کے نفاذ کی ساری امیدیں دم توڑ رہی تھیں ، ہر طرف ظلم و فساد کا راج تھا ، ان شیاطین  کی  لوٹ کھسوٹ عروج پر تھی   ،ارض قدس اور دیگر اسلامی مقبوضات کی   آزادی کے لیے کوئی  ایسی بڑی قوت  امت  کی سطح پر موجود نہیں تھی ، عالمی نظام ظلم مکمل طور پر امت کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوا تھا ،جہاں بھی نظریں  دوڑاتے   مغرب کا  پروردہ  حکمران طبقہ اور ان ہی  کی  محافظ اور غلام   افواج  دکھائی  دیتی تھیں  ،مسلمانوں  کے دین اور دنیا کو ان ظالموں کے   حملوں سے بچانے والی کوئی طاقت نہیں تھی ، تو ایک یہ دور تھا  جو     مایوسی کا دور تھا ،  زوال کا دور تھا  ، انتہائی پریشانی کا دور تھا اور ایک آج کا یہ دور ہے کہ  جس میں امت الحمد للہ بحیثیت  امت اپنے دشمن کے  سامنے کھڑی ہے ،ڈٹی ہوئی ہے  اور وہ بھی  اس کے ، مغرب کے ، کفار کے عطا  کردہ پسندیدہ  میدان میں نہیں!!بلکہ اس  میدان  میں کھڑی ہے  جس سے  دنیا کے ان غلاموں  کی جان جاتی ہے! وہ میدان جس سے بچنے کے لیے عالم کفر نے کتنے وسائل لگائے ، امت مسلمہ کے اندر کتنی اور کیسی  کیسی  شخصیات، افکار او ر تحریکیں  اس نے  متعارف کروائیں تاکہ مسلمانوں کو میدان قتال  میں اترنے  سے پہلے روک سکے  مگر  یہ سارے مکر ،ساری  سازشیں اور  سب محنتیں رائیگاں ثابت ہوئیں   ۔ آج  اس سب کچھ کے باوجود امت میدان  جہاد میں کھڑی ہے ،  پھر یہ بھی دیکھیے کہ  اس میدان میں  بھی ان ظالموں کے مقابل امت کی طرف سے   کون کھڑے ہیں ؟ وہ  افواج نہیں  کھڑی ہیں جو تنخواہ پلاٹ اور ترقی  اپنا مقصد حیات سمجھتی  ہیں  ، وہ تو سب کی سب آج   ان کی  غلام بن کر  مسلمانوں کے خلاف لڑ رہی  ہیں  ، ان کے مقابل   آج وہ  ابطال کھڑے ہیں جو امت  کو نہیں لوٹ رہے  ہیں بلکہ امت کی خیر خواہی کے لیے اپنا سب کچھ اس امت پر لٹا   رہے ہیں  … تو الحمد للہ نفاذ شریعت ، آزادی اور عزت و  اسلام کے عروج کا خواب آج محض خواب نہیں رہا ، بلکہ الحمد للہ عالمی تحریک جہاد کی صورت میں یہ سب خواب آج پورے ہوتے نظر آرہے ہیں ۔

السحاب: عالمی کفر کے مقابلے میں امت مسلمہ کو ملنے والی اس کامیابی کے آپ کی نظر میں کیا اسباب ہیں؟

استاذ اسامہ محمود :اللہ پر توکل  اور تمام غیر شرعی راستوں کو چھوڑ کر کتاب اللہ کا عطا کردہ شرعی   راستہ اپنانا اس کامیابی کا پہلا سبب رہا۔ آج  حقوق لینے کے جو ’’قانونی‘‘ اور ’’ جمہوری‘‘ راستے  بتائے جاتے ہیں یہ   سب کفر کے تراشیدہ    شیطانی  راستے ہیں ، ان  پر چل کر   نہ پہلے کبھی مسلمانوں کو  ان کے اسلامی حقوق ملے ہیں اور نہ آئندہ کبھی ملیں گے ،دینی جماعتوں  کے ہمارے  بھائی جب اور جہاں بھی ان راستوں پر چلے ہیں تو وہ خود بھول بھلیوں میں بھٹک  گئے،  یعنی ہم جب یہ بات کرتے  ہیں تو واللہ  ان سے ہمدردی اور خیرخواہ کی بنیا د پر کرتے ہیں  ۔ہمیں  افسوس ہے  کہ یہ  جماعتیں ان  راستوں پر چل کر خود بھی دین سے دور ہو گئیں  ۔ یعنی آج حال یہ ہے کہ نفاذ شریعت  کے لیے سنجیدہ کوشش تو  بہت دور کی بات ہے محض نفاذ شریعت کا  مطالبہ   کرنا  بھی ان  کے نصیب میں  جمہوریت نے  نہیں چھوڑا ۔ یعنی جہاں ماضی میں پہلے نفاذ  شریعت  کے نام پر ملک گیر تحریکیں چلائی جاتی  تھیں  اور منکرات روکنے   کے لیے  عوامی مزاحمت  کی قیادت کی جاتی تھی آج ان کی جگہ   جمہوری حقوق  ،   انسانی حقوق یا نام نہاد ملکی اور قومی مفاد جیسی مبہم اور باطل  اصطلاحات کا شور و غوغا تو ضرور  ہے  مگر   جاہلیت کے خلاف  اسلام کو جو مزاحمت مطلوب ہے اُس کا عشر عشیر بھی   آپ کو نہیں ملے گی۔   حقیقت یہ ہے کہ  جس راستے پر   امر بالمعروف و نہی عن المنکر … اللہ کے لیے دوستی  اور اللہ کے لیے  دشمنی   جیسے فرائض بھی اس  راستے کے اصولوں سے متصادم قرار دئیے جاتے ہوں  ، تو ایسے  راستے  سے کونسی خیر برآمد ہو سکتی ہے ؟  غرض روس کی شکست ہو ، امارت اسلامی افغانستان کا قیام ا ور  اس کے مبارک قافلے کا تسلسل اور فتوحات ہوں ، اس طرح دنیا کے دیگر خطوں میں تحریک جہاد کا پھیلنا اور اس  کی کامیابیاں ،پھر شریعت کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر دکھائی دینا، ان سب   کامرانیوں کا  پہلا سبب ان غیر شرعی راستوں کو چھوڑنا اور نبوی منج، شرعی راستہ ،   دعوت و جہاد کے منہج کو دانتوں سے پکڑنا ثابت ہوا ہے۔

دوسرا سبب   عالم  اسلام پر قابض ریاستی افواج  کی غلامی سے تحریک جہاد کا اپنے آپ کو  آزاد کرنا  ہے ۔یہ افواج ،ظاہر ہے  خود عالم کفر کی غلام اور شریعت کی  سب سے پہلی دشمن ہیں ، ان کا جینا مرنا  اول تا آخر  اپنے مفادات  کی خاطر ہوتا ہے ، لہذا ان کے تسلط سے تحریک جہاد کی آزادی  انتہائی  ضروری تھی ، ماضی کے تجارب نے  یہ حقیقت سمجھا دی تھی  کہ ان افواج کے ہاتھوں میں اپنی باگ ڈور برداشت کرنا جہا دکی ناکامی کے مترادف ہے ،  برصغیر سے عالم عرب تک کی تاریخ یہی سبق دیتی ہے ،اس لیے اس دفعہ تحریک جہاد نے ان افواج کو اپنی مجبوری نہیں بنایا اور زمام کار کو اپنے ہی ہاتھ میں رکھا  ۔

تیسرا سبب ، عالم کفر کے سر امریکہ پر ضرب لگانا اور اسے میدان جنگ میں گھسیٹنا ثابت ہوا ، پہلے وہ محفوظ تھا یہ سفاک ، یہ ظالم اور یہ  خونخوار دشمن  دور بیٹھ کر اپنے آلہ کاروں کے ذریعہ   سے  امت مسلمہ پر مظالم ڈھاتا تھا  ،  اسے کوئی قیمت چکانی نہیں پڑتی تھی مگر اب کی بار اسے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے اپنا ہی خون اور اپنے ہی وسائل جنگ کی اس  آگ میں جھونکنے پڑے۔

تو گیارہ ستمبر  کے مبارک حملے ظالموں اور جابروں کے مقابل  مظلوموں کی   جنگ کا  ایک  کامیاب اسلوب   اور ایک مؤثر دعوت ثابت ہوئے   ،  اس   دعوت پر لبیک کہتے ہوئے  الحمد للہ  امت کھڑی ہوئی ، جس سے امریکہ کو اپنا کھوکھلا پن چھپانا مشکل ہو گیا ہے ۔  الحمد للہ  ،خدائی کا   دعویدار امریکہ آج خدا  کے مجاہد بندوں  کے سامنے خوداپنے آپ کو  کو بالکل عاجز دیکھ رہا ہے  ۔اللہ سے امید ہے ، ان شاء اللہ کہ  امریکہ مزید کچھ عرصہ جہادی  ضربوں تلے رہا اور ان شاء اللہ ضرور رہے گا، تو یہ  تھک کر گر جائے گا۔

اس طرح  یہ  پہلو بھی اپ کے سامنے ہو کہ پہلے امریکہ عالم اسلام میں پیچھے بیٹھ کر اپنے آلہ کاروں سے کام لیتا تھا…تویہ آلہ کار دھوکہ اور فریب سے  اپنی غلامی اور اپنی خباثت   پر پردہ ڈالتے تھے  …اپنے آپ کو امت کے ہیرو( قومی نجات دہندہ) دکھاتے تھے ،مگر اب امریکہ  پر ضربوں کے باعث جب وہ کھل کر سامنے آگیا  تو یوں  ان غلام  افواج  اور  ا ن کے پروردہ حکام کو علی الاعلان کفر اور اسلام میں سے کسی ایک خیمے کا انتخاب کرنا پڑا ،     تو یوں مسلمان عوام کو  دوست و دشمن کی  پہچان  آسان  ہو گئی !

 چوتھا  سبب یہ رہا ، کہ آج کی تحریک جہاد الحمد للہ  علماء حق سے رہنمائی لیتی ہے اور ساتھ ہی یہ  سابقہ اسلامی تحریکات کا بھی  اپنے آپ کو تسلسل سمجھتی ہے  ،ان کے   تجارب سے  جہاں اس نے اپنوں کے ساتھ  تعامل   سیکھا   وہاں دشمن کی چالوں   اور سازشوں کو بھی اس نے   سمجھا اور الحمد للہ ، اس  صفت   سے اللہ نے اسے وہ پختگی عطا کی   ، جس سے امت میں اس کی جڑیں مضبوط  ہوں   اور  یہ فتنوں کا مقابلہ  بھی  کر سکے، آج   داعش کا فتنہ  ہمارے سامنے ہے کہ کیسے تحریک جہاد  نے اس  گمراہ کن فکر اور فاسد طوفان کا مقابلہ کیا اور جہاد کو تباہی سے   بچایا۔

تو الحمد للہ ثم الحمد للہ    ! یہ چار بڑے اسباب رہے ، اگر چہ سب سے بڑا،  اول اور اصل سبب اللہ پر توکل ہے   ، شریعت کا اتباع ہے ، نصرت کے لیے صرف  اللہ کی طرف دیکھنا اور پھر  اللہ  کی غیبی تائید ہے ، تو الحمد للہ ،ان اسباب  کو استعمال کر تے ہوئے امت مسلمہ اُس مرحلے سے نکل آئی  جہاں وہ  غلامی میں دھنستی جا رہی تھی  اور اب  الحمد للہ کامیابی کی طرف ، نفاذ شریعت کی طرف ،آزادی ، عزت اور عروج کی طرف ان شاء اللہ العزیز اس کا سفر جاری ہے! اور اس پر ہمیں اول و آخر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، اس راستے کی طرف رہنمائی  پر ہمیں اپنے رب کا شک ریہ ادا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالی  نے ہماری رہنمائی کی ،امت کی رہنمائی کی ، مجاہدین کی اس راستے کی طرف رہنمائی کی ۔   الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ اللہ تعالی ہمیں اور پوری امت کو اپنی رضا کے اس راستے پر استقامت   دے ، آمین یا رب العالمین۔

السحاب: جزاکم اللہ خیراً ، قارئین اگلی نشست ، ان شاء اللہ ، جہاد کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر سے متعلق ہو گی۔ اس نشست میں جماعت  قاعدۃ الجہاد کے جہاد کشمیر سے متعلق موقف و لائحہ عمل پر گفتگو ہو گی  ان شاء اللہ، تب تک اجازت  چاہتے ہیں ، جزاکم اللہ خیراً ، والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 

تحریک جہاد برصغیر… حقیقت  و حقانیت!

دوسری نشست

جہاد کشمیر…راستہ و منزل

ایک پکار کشمیری  بھائیوں کے نام!

السحاب: محترم استاذ!  آج ان شاء اللہ آپ کے ساتھ انٹرویو کی دوسری نشست ہو گی۔ اس نشست میں ان شاء اللہ کشمیر، تحریک آزادی ِ کشمیر اور جہاد کشمیر کے موضوعات پر گفتگو ہو گی۔  کشمیر میں پچھلے  عرصہ میں  اتنی تیزی سے حالات نے رخ بدلا ہے ۔اس عرصے میں جہاں بھارتی فوج نے کشمیری مسلمانوں پر  مظالم کے پہاڑ توڑے وہیں کشمیری مسلمانوں نے بھی  جرأت بہادری اور غیرت ایمانی کی عظیم مثالیں رقم کیں۔ اس بنا پر  کشمیر کا موضوع اب پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ آپ کے ساتھ آج کی گفتگو میں کشمیر کے اس نئے منظر نامے سے متعلق القاعدہ  کا موقف جاننے  کا موقع ملے گا۔

استاذ اسامہ محمود: سب سے پہلے تو میں اپنے کشمیری  بھائیوں ،بزرگوں ، ماؤں اور بہنوں  کی خدمت میں یہاں خراسان کے تمام مجاہدین اور اپنی جماعت کی طرف سے  سلام پیش کرتا ہوں ،السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،اللہ تعالی  اس غیور قوم کو استقامت اور ثابت قدمی دے ، ان کے حسنات اپنے دربار میں قبول فرمائے ،ان کی لازوال قربانیوں کو اوروں کے لیے مثال بنائےاور اللہ شیطان اور  اس کے لشکروں سے اس قوم کی اور اس کے جہاد کی حفاظت فرمائے۔

 واللہ !آپ  انتہائی  عظیم قوم ہیں ، پورے برصغیر کے لیے آپ   نمونۂ عمل  ہیں، اس دین کے لیے آپ نے لاکھوں شہداءاور بے شمار قربانیاں پیش کیں  ،ہندو مشرکوں کے خلاف آپ کے   ڈٹنے اور جمنے کی  یہ تاریخ   غزوہ ہند  کا  ایک ایسا سنہرا باب ہے  جسے  پڑھ کر دلوں میں ہمیشہ   اسلام کی محبت اور آزادی  کی تڑپ  پیدا ہو گی ۔ اس موقع پر  کشمیر کے اندر موجود  تمام مجاہد بھائیوں  کی خدمت میں  بھی ہم سلام پیش کرتے ہیں  ،بتوں اور گائے  کے پجاری ہندوں  کے خلاف میدان قتال میں کھڑا ہونے کی جو   سعادت اللہ نے آپ کو بخشی   ہے ، یہ  آپ کو مبارک ہو، اس پر  اللہ آپ  کو استقامت دے ، ہر موڑ اور ہر قدم پر آپ کی  مدد فرمائے   اور آپ کا جہاد، پورے  برصغیر میں اسلام کی فتح اور کفر  کی شکست کی تمہید  ثابت ہو ، کشمیر میں  ہمارے جن  عزیز اور محبوب مجاہد بھائیوں نے ’شریعت یا شہادت ‘ کا عظیم نعرہ بلند کیا ہے ،ان سے  بھی میں مخاطب ہوتا ہوں  کہ واللہ آپ  ہمارے دلوں میں بستے اور ہماری  دعاؤں میں رہتے ہیں   ،  اللہ آپ کی رہنمائی  فرمائے ، ہر قدم پر اپنی نصرت و تائید سے آپ کو نوازے اور اللہ آپ کو کشمیر کے تمام مجاہدین کے لیے …… اور اس مظلوم قوم  کے لیے رحمت اور برکت کا باعث  بھی ثابت فرمائے  ۔

السحاب: آمین۔  کہا جاتا ہے کشمیر کا معاملہ پاکستان اور بھارت کا آپس کا مسئلہ ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے  کہ دو فریقی یا سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے اس مسئلے کا سیاسی حل نکالا جانا چاہئے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

استاذ اسامہ محمود: مسئلہ کشمیر  کو سیاسی  کہنے سے اگر   دینی اور شرعی   فرائض  سے  فرار  کا راستہ ڈھونڈا جا رہا ہو تو   ان معنوں میں یہ  کسی بھی طور پر سیاسی نہیں ہے۔ یہ ایک دینی اور شرعی قضیہ ہے، ظاہر ہے ہندو اور مسلمان کے درمیان تمیز  ملک ،  زبان ، خون یا  نسل  کی  بنیاد پر   نہیں ہے   ، یہ عقیدہ اور دین ہی  ہے جو مسلمان اور  ہندو  میں تفریق کرتا ہے ۔ پھر جہاں تک یہ سوال ہے کہ یہ دو ممالک کے درمیان  مسئلہ ہے  اور وہی اس کے مختار ہیں  کہ وہ جس  طرح  چاہیں اسے   حل کر دیں   تو    ایسا بھی قطعاً  نہیں ہے ۔ یہ   مسئلہ  دو  ملکوں کے بیچ نہیں ، یہ دو  امتوں اور  دو ملتوں ، ملت اسلام اور ملت کفر کے درمیان  ہے ، کشمیری قوم امت مسلمہ  کی طرف سے ہر اول دستہ  ضرور ہے  اور اس  لحاظ سے انہیں  باقی امت پر  سبقت بھی  حاصل  ہے  کہ یہ ہندوں کے مقابل ڈٹی ہوئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ برصغیر بلکہ پوری امت کے مسلمان اس قضئے میں  ان کے ساتھ شرعا ًشریک ہیں   ۔یہ  ہراس  شخص  کا مسئلہ ہے جو کلمہ توحید پڑھتا ہے اور جو  اپنے آپ کو اس امت کا فرد سمجھتا ہے ،اب  کسی مسلمان کو  احساس ہو یا نہ ہو مگر قرآن کی آیات  اس سے مخاطب ہیں اور اللہ  سبحانہ و تعالی کے ہاں  مسلمانان کشمیر کی نصرت کا ہر مسلمان سے پوچھا جا سکتا ہے ۔ حقیقت   یہ ہے کہ کشمیر کا زخم    مسلمانان برصغیر کے لیے ایک امتحان اور آزمائش ہے  ۔ کشمیری قوم تو خوش قسمت ہے کہ اللہ نے اسے  اس مبارک محاذ   کے لیے چنا ہے مگر سچ  یہ ہے کہ اس عظیم قوم کے  ذریعے سے برصغیر کے تمام  مسلمانوں کا  آج  امتحان لیا جار ہا ہے۔ اسے   لہولہان  اور بے یارو مدد گار  دیکھ کر ہم سب مسلمانوں  پر آج  حجت قائم ہو رہی  ہے۔

پھر یہ بھی اللہ کی  نشانی ہے کہ شرعی اور تکوینی دونوں  پہلوؤں  سے  آج واضح ہے کہ اس  آزمائش  میں ہم صرف اس وقت سرخرو ہو سکتے ہیں جب اس کے ساتھ  ہمارا تعامل شریعت کے مطابق ہو ۔اللہ نے نتائج خاص اسبا ب کے ساتھ  نتھی کیے ہیں ،  آزادی اور  کامیابی  اگر ہمیں  مطلوب ہے  ، ظلم روکنا اگر   مقصود ہے تو اللہ نے اسے  شریعت  کی اتباع  کے ساتھ مشروط کیا ہے۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ ’’اور  پریشان و غم زدہ نہ ہو ،تم ہی غالب ہو گے اگر تم (حقیقی )مومن ہو‘‘۔اسی طرح اللہ سبحانہ تعالی  کا فرمان ہے :  ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘  ﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ﴾ ’’اگر تم اللہ  کی مدد کرو گے‘‘ یعنی اگر تم اللہ کی اطاعت کروگے، اللہ کی شریعت کی اتباع کروگے  ’’تو اللہ تمہاری بھی مدد کریں گے‘‘ ﴿وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾’’اور تمہارے قدموں کو جمائیں گے‘‘ گویا ایمان اور عمل صالح ہو گا ،  شرعی مقاصد کے ساتھ  شریعت کے مطابق   سفر   ہو گا تو   منزل    ملے گی، یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی ۔ شریعت  کشمیر  کی آزادی کا راستہ  جہاد فی سبیل اللہ بتاتی  ہے  اور جہاد فی سبیل اللہ وہ ہے جو  کلمۃ اللہ کی سربلندی  یعنی شریعت کی حاکمیت اور  مظلوموں کی مدد کے لیے کیا جائے۔ لیکن اگر ہم مصلحت پسندی  کے نام پر نفس پرستی   سے کام لیں ،   اس قضیے  کی دینی  حقیقت سے ہی  منکر ہو جائیں اور     سیاسی ،وطنی ،قومی یا کوئی  بھی اور نام اسے دیدیں، پھر غیر شرعی   نعروں کے ساتھ  غیر شرعی راستوں پر چلنا   شروع کر دیں      تو کیا    اس سے اللہ کے پیمانے بھی   تبدیل ہو جائیں  گے ؟ اس سے حقیقت  بدل جائے گی؟ مظالم کا رستہ رک جائے گا اور کشمیر آزاد ہو جائے گا؟  قطعاً نہیں ، ایسا نہیں ہو گا، اللہ کی سنت یہ نہیں ہے   ، کفر مد  مقابل کھڑا ہو اور ہم  من پسند غیر شرعی  راستوں پر چل کر یہ  گمان رکھیں  کہ ہم   کامیاب ہو جائیں گے تو اس کا یہی  مطلب ہے کہ ہم  حقائق سے آنکھیں بند  کرتے ہیں، قرآنی  آیات ،  گزری   امتوں کی تاریخ اور موجودہ  دور کی تکوینی نشانیاں، ان سب  میں  گویا نعوذ  باللہ ہمارے لیے کوئی سبق نہیں ہے  ، ان سے ہم کوئی سبق نہیں لیتے۔

السحاب: آپ کہتے  ہیں کہ آزادی کشمیر کا راستہ جہاد ہے تو کیا   اس  جہاد کے لیے  پاکستانی فوج کی طرف دیکھنا چاہئے؟ کیا پاکستانی فوج مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتی ہے؟

استاذ اسامہ محمود: دیکھیے،پاکستانی  فوج  حل نہیں ہے  بلکہ یہ اس  مسئلے کا سبب   ہے ۔یہ خود شریعت کی دشمن اور عالم کفر کی غلام فوج ہے ، اس کا ماضی  اور حال دیکھنے کے  باوجود بھی  اس  کی طرف دیکھنا خود فریبی  اور   حقائق سے آنکھیں بند کرنا ہے  ۔ظاہر ہے کہ جو فوج اپنا مفاد    دیکھ کر آگے بڑھتی  ہو اور اپنا معمولی سا  نقصان  یا    عالمی غنڈوں    کا صرف اشارہ  دیکھ کر مفتوحہ علاقوں سے واپس  بھاگ آتی  ہو وہ مظلوموں کی مدد کے لیے کفر کے آگے ڈٹ جائے ؟…  یہ ناممکن ہے۔ ہمارے سامنے ہے کہ کیسے 2003_4 میں بھارتی  دباؤ دیکھ کر اس فوج نے  کشمیری مجاہدین  کو دہشت گرد قرار دیا  ،  کشمیری مہاجرین کو مانسہرہ اور مظفر آباد کے کیمپوں میں نظر بند کر دیا،   کشمیری مسلمانوں  کوبیچ میدان جنگ میں  ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑا   اور یوں جہاد کشمیر کی پیٹھ میں اس نے چھرا گھونپا۔ پھر  یہ کوئی پہلا واقعہ  بھی نہیں ،65، 71 اور کارگل میں بھی اس فوج کا یہی  طرز رہا ۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی فوج تنخواہ ، ترقی اور  پلاٹ  کے  لیے لڑتی ہے ۔خود غرضی اور مفاد پرستی  کا نام فوج کی نوکری ہے ،یہی فوج  ہے  جو   امریکی ڈالر کے عوض  مجاہدین امت اور اپنی مسلمان عوام  کا خون  بہاتی  ہے  ، جن قبائل نے ہندوؤں سے کشمیر لیکر  پاکستان کے حوالے کیا تھا انہی قبائل  پر امریکی غلامی میں  اس نے آگ و بارود کی بارشیں برسائیں ، آج اس کے جنگی ڈاکٹرائن میں بھارت ، امریکہ اسرائیل یا کوئی اور  کافر ملک   دشمن نہیں ہے بلکہ    اہل دین  دشمن ہیں ، یہ   مجاہدین کو دشمن کہتی ہے، پس جس فوج سے  نہ مدارس و مساجد محفوظ ہوں اور نہ مسلمانوں کی  چادر اور  چار دیواری    ، ایسی فوج ہندوؤں کے مقابل    کیسے  ڈٹ سکتی ہے ؟

پھر ہمارا موقف ہے کہ  تحریک جہاد کو ان طواغیت کی گرفت سے آزاد کیے بغیر  جہاد کبھی  بھی کامیاب نہیں ہو سکتا ہے ۔آج اگر امارت اسلامی افغانستان سے  یمن، صومالیہ  اور مالی و الجزائر تک  میں  تحریک جہاد کی کامیابیاں ہیں ،جہاں  بے سرو سامانی کے باوجود اللہ نے مجاہدین کو فتوحات دی  ہیں اور تحریک جہاد منزل مقصود کی طرف آگے بڑھ رہی ہے تو اس کا ایک بڑا سبب  طاغوتی افواج کے اثر سے اپنے آپ کو آزاد کرنا  ہے ۔

السحاب: ہمارے بعض حلقے آج بھی کشمیر کے معاملے میں  اقوام متحدہ   کی طرف دیکھتے ہیں ، آپ  کے خیال میں کیا اقوام متحدہ  مسئلہ کشمیر کو حل کر سکتی ہے ؟

استاذ اسامہ محمود: دیکھیے، اقوام متحدہ ظالموں ، جابروں  اور کافروں کی عالمی حکومت کا نام ہے ،  اس  کی تاریخ  اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جرائم سے بھری پڑی ہے، یہاں  فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی توثیق ہے ، عراق و افغانستان جنگ میں امریکہ کی تائید  ہے ، کشمیر سے فلسطین اور شام تک بہنے والے خونِ مسلم پر  ظالموں کی پشت پناہی ہے، اس کی تاریخ میں کہیں ایک مثال بھی ایسی نہیں  ملتی  جہاں  کسی کافر اور ظالم کے مقابل  مسلمانوں کو  اس نے اسلامی  حقوق دلائے ہوں۔[1]

یہ مجرمین اور ظالموں کا ایسا  اتحاد ہے جہاں طاقت اور ظلم کی بنیاد پر  ہر ایک کو اختیار حاصل ہے ۔ جن پانچ ویٹو پاورز  کی یہاں آمریت اور  حکمرانی ہے، ان میں سے ہر ایک کے قبضہ میں  اپنا اپنا کشمیر ہے اور ہر ایک کے ہاتھ  مسلمانوں  کے خون سے رنگین ہیں ، روس   شیشان پر قابض ہے اور اس  کی  شیشانی  مسلمانوں کے خلاف مظالم کی ایک طویل داستان  ہے  ۔  چین کا اسلامی ترکستان پر قبضہ ہے ، یہاں کے مسلمان چین سے آزادی مانگتے ہیں  اور چین ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، ابھی اسی سال کی رپورٹ ہے کہ ترکستانی مسلمان اسلامی نام نہیں رکھ سکتے ہیں ، نقاب پر پابندی  ہے ، داڑھیاں ممنوع ہیں، رمضان میں روزوں تک   پر پابندی ہے ۔اسی طرح فرانس کے جبڑوں سے بھی  مغرب اسلامی اور افریقہ    کے مسلمانوں کا خون  ٹپک رہا ہے ۔ لہذا اگر اقوام متحدہ  سے کوئی امید رکھنی ہے تو وہ یہی کہ   اگر اس کو مداخلت کا راستہ دیا گیا  تو  کشمیر کی زمین  ہندو کے ساتھ ساتھ ان  عالمی مجرمین کی بھی آماجگاہ بنے گی۔

السحاب: آپ کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی طرف نہیں دیکھا جا سکتا۔  پاکستانی فوج سے بھی کسی خیر کی امید نہیں رکھی جا سکتی ہے ۔ تو پھر کشمیر کے مسئلے کا عملی حل کیا ہے؟

استاذ اسامہ محمود: دیکھیے،  حل سے مراد  اگر کوئی ایسا فارمولا ہے کہ جس سے   بغیر کسی  تکلیف ، مشقت اور  قربانی کے  بس سال  دو کے اندر مطلوب نتائج مل جائیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ  ایسا کوئی حل نہیں ہے ، بلکہ سچ یہ ہے  کہ بطور امت آج تک     ہمارے  تمام مسائل کا سبب  بھی  یہ رہا ہے کہ  ہمیں  ایسے    کسی  حل کی تلاش رہی ہے  کہ جس میں خون پسینہ نہ بہے ، ہجرت و جہاد  کی سختیوں سے نہ گزرا جائے ، معمول کی زندگی  تک  میں  بھی کوئی  خلل نہ پڑے  اور  بس پرامن جز وقتی   کوشش سے  منزل  مقصود مل جائے۔   ظاہر ہے  ایسے حل   کی چاہت   ہی     دراصل    غلامی کا سبب ہے ۔

پھر  حقیقت یہ ہے کہ  آزادی ،   نصرت اور  فتح اللہ کے ہاتھ میں ہے ،  جبکہ  ہم،  تو ہم اللہ کے عطا کردہ راستہ  ،یعنی  شریعت پر چلنے کے مکلف ہیں  ، شریعت پر عمل کے پابند ہیں ،  اسی کا  اللہ کے ہاں پوچھا جائے گا، اس راستہ پر چل کر  فتح ملی تو  اللہ کی نعمت ہے، اللہ کا شکر  ہے اور اگر فتح میں تاخیر ہوتی ہے تو اس میں  بھی اللہ کی  حکمت  اور خیر  ہی ہو گی ، ایسے میں  اُس وقت بھی  ہم   کامیاب ہوں گے ،اس لیے کہ  اللہ کی اطاعت کے سبب   اللہ کے ہاں عزت اور  سرخروئی ملے گی  جو  اصل   مطلوب ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارا یقین ہے کہ جب بھی ہم بطور امت سیدھے  راستے کو پکڑیں گے  تو ان شاء اللہ  نتائج مثبت ہی  آئیں گے۔

لہذا پہلا نکتہ یہ  ہے کہ ہم شریعت کے تابع ہو جائیں ، شریعت  غلبہ کفر سے  نجات کا راستہ جہاد فی سبیل اللہ بتاتی ہے ، لہذا   ہم   انفرادی اور اجتماعی طور پر جہاد کو دانتوں سے پکڑیں ،ہندو فوج اور حکومت کے ساتھ ہم صرف تلوار کی زبان بولیں  ۔پھرجمہوری ، سیکولر ،یا ’ کچھ لو کچھ دو‘   سمیت ہر ایسے  راستے   اور ’’حل ‘‘ کو ہم  اپنے اوپر حرام رکھیں جو غیر شرعی ہو اور  جس میں کفریہ نظام کی  بالا دستی  قبول کرنے یا اس کے ساتھ  تعاون کا شائبہ ہو ۔

دوسرا نکتہ یہ   کہ اس جہاد کے مقاصد  ہم سب کے سامنے  ہوں ، شریعت کی حاکمیت اور مظلوموں کی نصرت  اِس جہاد فی سبیل اللہ کے اساسی مقاصد  ہیں۔ لہذا  ان مقاصد کو مد نظر  رکھ کر ہم آگے بڑھیں  ۔ یعنی   شریعت  کی حاکمیت ہماری منزل ہو اور اتباع شریعت ہمارا راستہ ہو، گویاہر قدم اور ہر موڑ پر شریعت کی ہم پیروی کریں ۔[2]

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج  جیسے خائنین امت   اور دیگر طواغیت کے اثر سے اپنی تحریک جہاد  کو ہم آزاد رکھیں ۔

چوتھا نکتہ یہ کہ کشمیری  قوم  اکیلے یہ معرکہ سر نہیں کر سکتی، جب یہ سب مسلمانوں کا  مسئلہ ہے ، سب پر یہ جہاد فرض عین ہے تو پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان  سمیت پورے برصغیر کے مسلمان    اس جہاد   میں اپنے حصے کا فرض ادا کریں۔  یعنی بھارت کے خلاف پورے برصغیر  میں تحریک جہاد کھڑی کرنا لازم ہے  ۔ کشمیری قوم  کی نصرت تب ہی ہو سکتی ہے جب یہ تحریکِ جہاد،  برصغیر کی سطح پر  قوی ہو اور پورے بر صغیر میں  مسلمان  عوام کشمیری قوم کے  پیچھے کھڑی  ہو ۔   برصغیر کی سطح پر  پھر اس تحریک جہاد کے  پھر تین کام ہوں ، کشمیری مسلمانوں کی مدد اور  نصرت  پہلا کام    ، پھر پاکستانی فوج سمیت سب طواغیت کی سازشوں اور جارحیت کے مقابل  تحریک جہاد کا ڈٹ کر  دفاع  کرنا  دوسرا کام  اور تیسرا یہ کہ  بھارتی فوج اور ہندو حکومت کے خلاف  جنگ کا دائرہ  پورے برصغیر میں وسیع  کرنا   … دیکھیے کشمیر کے چھوٹے سے علاقے میں بھارت  نے چھ لاکھ فوج  تعینات کر کے اپنے آپ کو محفوظ کیا  ہوا ہے ،   اسے  کلکتہ ، بنگلور اور دہلی سمیت پورے برصغیر میں   ہدف بنائیں  گے  تو اس کے ہوش ٹھکانے آئیں  گے  ، اس کا ظلم قابو ہو گا اور  کشمیر پر اس کی گرفت اللہ کے اذن سے  کمزور ہو گی   ۔

پانچواں  نکتہ جو اہمیت کے لحاظ سے پہلا نکتہ ہے ، وہ یہ کہ مذکورہ تمام نکات  پر برصغیر کے مسلمانوں کو لانا، یعنی انہیں دعوت و جہاد کے نبوی منہج  پر کھڑا کرنا   اور اس سے  بھی پہلے  فکر آخرت ، تقوی  اور  للّٰہیت جیسے اصل  زاد راہ   سے ان کو  مزین  کرنا…

یہ پانچ نکات   وہ  راستہ ہیں جو ہماری نظر میں اللہ کے اذن سے کشمیر سمیت اس پورے برصغیر میں ظلم  اور  کفر کا جو غلبہ ہے ، اس کے خاتمے کا ان شاء اللہ باعث  بن سکتے ہیں   ، واللہ اعلم بالصواب۔

السحاب: عملاً جہاد کشمیر میں القاعدہ کس طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے؟

استاذ اسامہ محمود : چند باتیں   اس حوالے سے اپنے کشمیری بھائیوں کے سامنے   ابتداء  میں رکھنا چاہتا ہوں ؛  یہاں خراسان میں ، ہمارے اس قافلے میں  مقبوضہ کشمیر  سے تعلق رکھنے والے  کئی  مجاہد و مہاجر بھائی  موجود  تھے اور ابھی بھی  الحمد للہ موجود  ہیں   ،یہ وہ بھائی ہیں جنہوں   نے  جہاد  کے لیے پاکستان ہجرت کی تھی ، مگر جب پاکستانی فوج نے اپنی  پالیسی تبدل کی تو انہیں اس  فوج اور اس کی  ایجنسیوں   نے جہاد ترک  کرنے اور پاکستان میں ملازمتیں  شروع کرنے پر مجبور کیا، اللہ کے ان شیروں نے ، الحمد للہ ، اس ذلت سے انکار کیا ، اور یہاں خراسان آ کر القاعدہ میں شمولیت اختیار کی ، پھر یہاں یہ  کشمیری بھائی    امریکی اتحاد کے خلاف  معرکوں  میں شریک رہے اور ابھی بھی الحمد للہ شریک ہیں…ساتھ ہی ساتھ  وادی کشمیر  سے بھی ان کی نظریں  نہیں ہٹیں اور یہ  بھارت کے خلاف   بھی تیاری کر تے رہے   ،  ان میں سے  کئی  بھائی ایسے بھی ہیں جو  امریکی حملوں میں یہاں شہید  ہوئے ہیں ۔رحمہم اللہ…

اس فہرست میں مجاہدین بھی شامل ہیں اور قائدین بھی، مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بھی اور پاکستانی کشمیر سے تعلق والے بھی  ، شیخ احسن عزیز رحمہ اللہ ، ہمارے مربی اور استاد تھے ،بذات خود میں اس کا شاہد ہوں کہ کشمیر کے اندر یہاں خراسان سے کام اٹھانے  کے لیے انہوں  نے  بہت  محنت کی اور کئی  کشمیری مہاجر بھائیوں  کو انہوں   یہاں تیار کیا۔  اسی طرح   شیخ الیاس کشمیری رحمہ اللہ(کمانڈر الیاس کشمیری رحمہ اللہ) جہاد کشمیر کے مشہور قائد تھے۔ آپ کشمیر میں لڑے ،  لڑتے رہے ، مگر پالیسی کی تبدیلی  کے بعد  آپ  کو بھی  فوج نے روکنا چاہا ، آپ نہیں مانے  تو آپ کو عقوبت خانے میں ڈالا ، تشدد کیا آپ پر ، رہا ہوئے تو  آپ نے سیدھا خراسان  کا رخ کیا، یہاں   القاعدہ میں آپ  شامل ہوئے  اور پھر  القاعدہ کے تحت آپ ؒ نے دونوں  محاذوں پر توجہ  رکھی امریکی اتحاد کے خلاف بھی لڑے، اللہ نے آپ  سے  بہت سارے  کام لیے ،  شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے ایبٹ آباد والے  خطوط میں بھی آپ کا تذکرہ ہے ،  ساتھ ہی ساتھ  دوسرے محاذ جہاد کشمیر کے لیے بھی  یہاں آپ نے یہاں تیاری  جاری رکھی… اور یہاں خراسان سے  آپ نے بھارت میں کئی کامیاب کا روائیاں     بھی الحمدللہ  کرائیں۔

تو مقصد یہ ہے کہ  ہم یہاں خراسان میں   ،  میدان جہاد میں ہو کر بھی  جہاد کشمیر میں حصہ ڈالنا اپنا  فرض سمجھتے ہیں  … ہمارے   قافلے کے ہر مجاہد کا دل ، چاہے وہ کشمیر سے تعلق رکھتا ہو  ، یا پاکستان ،  بنگلہ دیش اور بھارت   سے  ، ہر ایک کا  دل  اپنے کشمیری  بھائیوں کی  نصرت کے لیے تڑپتا ہے ،    کشمیر کے اندر بھی ،اللہ ہمارے لیے راستے کھولے ، اللہ ہمیں توفیق دے ،تو ان شاء اللہ جلد اپنے  کشمیر ی بھائیوں کے ساتھ  ہم  مورچوں میں ہوں گے، پھر کشمیر سے باہر   پوری دنیا میں… بھارتی ریاست کے مفادات اور اس کا ہندو  حکمران طبقہ  ہدف  بنانا ہماری کوشش ہے ، اس کی طرف ہم دعوت بھی  دیتے ہیں ،   اللہ ان کوششوں  اور اس دعوت میں برکت ڈالے  ،پھر ((جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ)) ’’مشرکین کے خلاف اپنی زبانوں اور جانوں سے جہاد کرو‘‘حدیث  سامنے رکھتے ہوئے،  قولاً بھی ہم سے جتنا  ہو سکے ، تو ہم  اس میں  عار نہیں سمجھیں گے بلکہ اپنے بھائیوں کی خیر خواہی کے لیے یہاں  اس میدان جہاد سے اُس میدان  پکاریں گے  ، دلوں  سے دلوں    کو دستک دیں گے  اور اپنے بھائیوں کی نصرت میں ہندو مشرکوں کے خلاف جتنا ہم سے ہو سکے   اس جہاد میں ان شاء اللہ حصہ ڈالیں گے!

السحاب: کیا کشمیر میں القاعدہ کے داخلے سے کشمیر کاز کو نقصان  نہیں پہنچے گا؟ بعض حلقوں کا کہنا   ہے کہ اس سے  امریکی   مداخلت کو جواز مل جائے گا؟

استاذ اسامہ محمود : پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلمانان کشمیر  کے خون سے امریکی دامن  صاف کب ہے  کہ آج اس کی مداخلت سے ڈرایا جار ہا ہے ؟ امریکی کردار اپنے ظلم اور جبر کے ساتھ  ہمیشہ  سے یہاں موجود   رہا ہے ۔سوال ہے کہ ایک طرف  جب  جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور  کے عیسائی مسلمانوں سے آزادی حاصل کرنے جب  کھڑے ہوجاتے ہیں  تو امریکہ   فوراً حرکت میں آتا ہے اور انہیں آزادی دلا کر ہی چین سے بیٹھتا ہے   مگر دوسری طرف  پچھلے ستر سالوں  سے  یہاں  کشمیری مسلمان آگ  میں جل رہے ہیں ، امریکہ  ٹس سے مس نہیں ہوتا ، بلکہ الٹا بھارت کو، مسلمانوں کے اس  قاتل کو    وہ ہمیشہ    مضبوط کرتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے گئے   ایک ایک  ظلم  کے پیچھے  امریکہ  کی تائید اور    پشت پناہی  موجود ہے  ۔

پھر امریکہ کی طرف سے بھارت  کی یہ تائید و مدد کوئی  آج  یا کل کی بات نہیں ہے   کہ اسے کشمیر میں  کسی جماعت کے جہاد سے جوڑا جائے،  …  امریکہ   بھارت  ایٹمی ڈیل ، فوجی بیسز کے استعمال کا معاہدہ ، خلائی  مہمات میں  غیر معمولی تعاون   ، دہشت گردی کے خلاف تعاون کے نام پر اسلام  کے  خلاف جنگ     اور اس طرح کے دیگر میدانوں میں مدد  ،یہ سب کچھ القاعدہ کا ذکر تک آنے سے پہلے ہو تا رہا… پھر اسرائیل کی  بھارت کے ساتھ قربت ،عسکری مدد  ،   اربوں ڈالر کا تعاون   اور دفاعی انڈسٹری تک کو بھارت منتقل کرنا ، یہ تعاون بھی  کسی خاص جماعت  کے خلاف یا اس کے سبب نہیں ہے ، یہ امت مسلمہ کے خلاف ہے! اس طرح  پاکستانی فوج نے ۲۰۰۲ میں   امریکی  حکم  پر جن  کشمیری جماعتوں پر پابندی لگائی تھی  تو وہ  تنظیمیں    القاعدہ   نہیں تھیں ! …پچھلے دنوں المائیڈہ نامی صحافی  نے  پاکستانی حکام اور جرنیلوں کے درمیان ایک میٹنگ کا انکشاف کیا تھا  ، کہ امریکہ کو  دکھانے  کے لیے پاکستان میں مقیم کشمیری رہنماؤں  کے قتل پر مشورہ ہوا  ،تو یہ  کشمیری  رہنماء بھی  القاعدہ کے   نہیں ہیں!  مقصد یہ ہے کہ امریکہ اور  بھارت  پہلے بھی ایک تھے اور آئندہ بھی اسلام کے خلاف ایک رہیں گے  ، الکفر ملۃ واحدۃ ،    اسلام اور مسلمانوں کے مقابل  محاذ ہو تو کردار چاہے جو بھی ہو، در حقیقت  سب کا  مقصد و ہدف اسلام دشمنی ہوتا ہے۔

یہ بھی  میں عرض کروں کہ  دنیائے عالم کے سب ظالم اور سب کافر  مسلمانوں کے خلاف   متفق و متحد ہیں تو پھر کشمیری   مسلمانوں پر مظالم کے سامنے  امت مسلمہ  صرف تماشائی کیوں بنے اور اس کے مجاہد فرزند  اپنے بھائیوں کی پکار پر لبیک کیوں نہ کہیں  ؟ حقیقت یہ ہے کہ  دنیا بھر کے مسلمان  ایک امت  ہیں ، ایک جسم کی مانند ہیں  ، جبکہ ان کافروں اور ان کے آلہ کاروں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو   انہی کی کھینچی  گئی لکیروں کے اندر محصور  کریں،   اللہ کی عبادت کی جگہ وطن اور ملک  کے بتوں کے سامنے انہیں  جھکا ئے  تاکہ ظلم  اور کفر کی رات قائم   رہے ۔مگر الحمد للہ   ، اللہ کی نعمت ہے  اور تحریک  جہاد کی برکت ہے کہ آج  دنیا بھر کے  مسلمان امت بن کر ممالک ، ریاستوں   اور ان کے سرحدات کے یہ  بت  پاؤں تلے روندتے ہوئے الحمد للہ   کفر کے سامنے   کھڑے  ہیں ۔

السحاب: آج جہاد کشمیر جو رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے یہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتا ہے؟

استاذ اسامہ محمود: امریکہ اور اس کے حواریوں کو یقیناً  تکلیف ہے اور ہونی بھی چاہئے ، اس  تکلیف کا سبب    کشمیری عوام کا ایسے جہاد کی طرف بڑھنا ہے جو  پاکستانی ایجنسیوں سے آزاد ہے اور جس کا مقصد  شریعت کی حاکمیت ہے  ۔ایسے جہاد کو نہ امریکہ پسند کرتا ہے ، نہ پاکستان  اور نہ ہی بھارت  ، یعنی بھارت    بھی جب جہاد ختم نہیں کر سکتا ہو  تو اس کے لیے آخری چارہ پھر  کنٹرولڈ جہاد ہے ، تاکہ جب چاہے امریکہ پاکستان کے ذریعے سے اس کو قابو کر سکے ۔

سچ یہ ہے کہ مظلوموں کی نصرت اور  شریعت کی حاکمیت کے لیے جہاد القاعدہ  یا کسی بھی نام سے ہو ،  ایسا  جہاد  چونکہ مسلمانوں کو  آزادی ، عزت اور حفاظت  دلاتا ہے   اس لیے  یہ سب شیاطین  متحد ہو  کر  اس کے راستے میں روڑے  اٹکائیں گے  …مگر  الحمد للہ   کشمیری مسلمان آج  دوست اور دشمن  پہچان گئے ہیں، انہوں نے آزادی کا راستہ اب  جان لیا ہے   اور  اب  وہ   شریعت یا شہادت سے ہٹ کر کسی  بھی دوسری منزل پر ان شاء اللہ نہیں رکیں گے ۔

یہاں میں امریکہ سے ڈرانے والوں  سے بھی  پوچھتا ہوں کہ  امریکہ نے  کونسا تیر مارا ، کونسا دنیا   میں جہاد ختم کر دیا کہ  وہ اب کشمیری مسلمانوں کو بھی خاموش کر  نے آئے   گا  ؟ امریکہ جہاں بھی آیا  ، امت کے مجاہدین   الحمد للہ شرق اور غرب  سے اس کے تعاقب میں پہنچے   اور  پھر  الحمد للہ مجاہدین تو موجود رہے   مگر امریکہ  بھاگتا رہا  ،اللہ کے فضل سے  آج امت  اور اس کے مجاہدین فتح یاب ہیں  جبکہ  امریکہ اور  امریکہ سے ڈرانے  والے مایوس اور  پریشان  کھڑے   ہیں ۔

السحاب :یہاں کشمیری  مجاہدین  کے نام آپ خصوصی پیغام دینا چاہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود : کشمیر کے میرے  مجاہد بھائیو! واللہ ، آپ میں سے ہر مجاہد بھائی ہمارا محبوب اور عزیز بھائی ہے ، جماعتوں اور تنظیموں کے رشتوں سے ایمان اور  اسلام کا رشتہ  زیادہ قوی  اور زیادہ  اہم  ہے…اسی قوی اور اہم تر رشتے کے  سبب آج  ہم آپ کے سامنے مخاطب ہو رہے  ہیں!

ہماری یہ گزارشات کشمیر کے ہر قائد و غیر قائد  ،ہر مجاہد بھائی اور ہر  بزرگ   سے مخاطب ہیں، ان گزارشات کو   آپ خراسان سے  اپنے مجاہد  بھائیوں کی  پکار سمجھئے! یہ    اُن کشمیری شہداء کی طرف سے    امانت بھی   سمجھئے جو آزادی کشمیر کی خواہش لیے  یہاں خراسان میں  دفن ہیں۔

پہلی گزارش یہ ہے کہ  …مشرک ہندوؤں کے خلاف  یہ قتال   عظیم عبادت ہے ! یہ عظیم عبادت   اور یہ عظیم  سعادت آپ کو مبارک ہو! درخواست ہے کہ ہم اس مبارک جہاد  میں  شریعت کو دانتوں سے تھام  کر آگے بڑھیں۔ ہمارے جہاد کا مقصد ،  ہدف اور  طریقہ کار ،یعنی سفر اور منزل، اول تا آخر،    سب شریعت  کے  مطابق ہوں ۔شریعت ، اللہ کا راستہ ہے ،اللہ کے اس رستے پر ہم چلیں  اور  اللہ کی اس  شریعت کو حاکم بنانے   کے لیے   ہم  لڑیں  …یہی جہاد فی سبیل اللہ ہے! آپ ﷺ نے فرمایا ہے : ((مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))’جو  اللہ کے کلمہ کو سربلند کرنے  کے لیے لڑا تو اس کا لڑنا   جہاد فی سبیل اللہ ہے‘اسی سے ہر   ظلم کا خاتمہ ہو گا ، ظلم کا خاتمہ ظلم سے نہیں ہو گا، بلکہ  ظالم کا خاتمہ عدل  سے ہو گا   اور عدل شریعت ہے، جبکہ  شریعت کے مقابل   ہر عدل ظلم  ہے !غرض شریعت کی حاکمیت کے لیے لڑ ئیے! اس نظام ظلم کے مقابل قیام خلافت   کا مبارک  مقصد اپنے سامنے رکھئے! اسی سے اللہ  کی نصرت آئے گی ، اسی سے مظلوموں کی مدد ہوگی!الحمد للہ   یہی  ہمارے  محبوب مجاہد برہان وانی رحمہ اللہ کا راستہ  تھا اور یہی اس عالمی تحریک جہاد کی بھی   دعوت   اور  منہج  ہے![3]

دوسرا نکتہ یہ ہے  کہ الحمد للہ،   اللہ کی نعمت ہے ، کہ تحریک آزادی کشمیر  آج خود اپنے پاؤں پر  کھڑی ہو رہی ہے  ، آج یہ  جہادی تحریک   پڑوس کی  ایجنسی اور فوج کے ہاتھ میں ان شاء اللہ نہیں  ہے !  ایجنسی اور فوج  کی خیانت کے  آپ  ڈسے ہوئے  ہیں اور   ہمیں آپ کی ایمانی فراست   پر یقین ہے کہ  ان شاء اللہ آئندہ بھی آپ اپنے اس مبارک  جہاد کو  ان  خائنوں کا کبھی محتاج  اور تابع نہیں کریں گے، آپ ﷺ  کا فرمان مبارک ہے: ((لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ)) ’’مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ  نہیں ڈسا جاتا‘‘[4]۔

یہ    افواج اور یہ ایجنسیاں کشمیر   میں ہمارے اس  مبارک  جہاد کو اپنا غلام دیکھنا چاہیں گی مگر آپ  اپنے اس قافلے کو  اللہ اور صرف اللہ  کا غلام   رکھئے! آپ کا جہاد ، آپ کے اخلاص پر مبنی یہ عظیم تحریک ، اور آپ کی قربانیوں کی یہ طویل تاریخ  ان کے لیے کھیل ہے ، یہ ان کی سیاست   اور گندی تجارت ہے! یہ سب اپنے مفادات کے  اسیر ہیں ، یہ لالچی،  غرض اور مطلب کے    بندے ہیں ،واللہ !یہ  آپ کی قربانیوں کو  اپنے مفادات اور اغراض کی بھینٹ تو چڑھا سکتے ہیں ،  یہ بدمعاشوں کے ہاتھ آپ کی  قربانیاں بیچ   سکتے ہیں ، مگر ان  ظالموں   کے مقابل ، یہ آپ کے دفاع میں   کھڑے ہو جائیں؟ یہ ناممکن ہے!

لہذا ہماری درخواست ہے کہ اللہ کے بعد صرف  اللہ کے مومن بندوں کو   آپ اپنے انصار سمجھیے… انہی کو اپنا ہم راز رکھیے! وہ  مومن بندے  جو  تنخواہ، ترقی ، پلاٹ ، اور کسی دنیاوی غرض  کی خاطر نہیں لڑتے ہوں، بلکہ جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہوں ، اللہ کے لیے نفرت کرتے ہوں ،  ، جو اللہ کے لیے دوستی رکھتے ہوں ، اللہ کے لیے دشمنی رکھتے ہیں اور جو اللہ کے سامنے ہی جوابدہی کے خوف سے  اپنی کشمیری   ماں، بہن اور بھائی کی مدد  اپنی ذمہ داری سمجھتے  ہوں  ۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ …﴾ ’’مومن  مر د اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے پشتی بان و مدد گار ہیں…‘‘ جبکہ اس کا الٹ دیکھیے ! ﴿وَإِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ…﴾ اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے مدد گار ہیں ،  جبکہ ا للہ  متقین کا  دوست اور مدد گار ہے… مومن  کشمیر کے ا ندر ہو ، پاکستان ، ہندوستان  یا افغانستان   کے اندر ہوں ، وہ آپ کے دوست ہیں، وہ آپ کا درد سمجھتے  ہیں…ا ور ظالم   ہندوستان کے اندر ہو ، یا پاکستان و افغانستان کے اندر ، وہ ظالم ہے ، وہ آپ کا درد نہیں سمجھے گا…وہ خود غرض ہوتا ہے ، وہ   کبھی بھی ، کسی  بھی وقت آپ کو چیختا ، چلاتا، کراھتا ہوا چھوڑ کر واپس  ہو سکتا ہے ، وہ آپ کی  پیٹھ  میں چھرا گھونپ سکتا ہے ، وہ  کل کسی بھی موقع  پر آپ کے تمام راز اپنی دنیا کی خاطر آپ کے دشمن کے حوالے کر سکتا ہے …بلکہ کسی وقت وہ خود آپ کا اعلانیہ دشمن بن سکتا ہے!

پھر  یہاں یہ بھی میں عرض کر دوں ،اللہ کے  مومن بندے خراسان،  پاکستان ، بنگلہ دیش اور ہندوستان اس  پورے خطے  میں الحمد للہ    بے شمار ہیں  ، یہی ان شاء اللہ ظالم بھارت کا  ہاتھ کاٹیں گے  اور اُنہی کے ساتھ آپ کا رابطہ  بننا اور آپ کی نصرت کے لیے انہیں کھڑا کرنا اور کھڑا رکھنا ۔۔۔ہم  …القاعدہ برصغیر میں آپ کے بھائی  … اپنی       ذمہ داری سمجھتے ہیں …اللہ ہمیں اس کی توفیق دے اور اللہ ہمیں حق کے لیے ایک دوسرے کا دوست اور مدد گار بنائے!!

دیکھیے میرے  مجاہد  بھائیو! تحریک جہاد کو اسی  نہج پر  کھڑا کرنا مشکل   ضرور ہے، مگر ناممکن قطعاً نہیں ، دیکھیے یہ  حقیقت ہے کہ   اگر تحریک جہاد کے لیے ہم یہ راستہ نہیں اپنا ئیں گے ، اسے  پاکستانی فوج جیسے ظالموں اور دین دشمنوں سے محفوظ نہیں کر یں گے ،تو    یہ سیاہ رات  ختم نہیں ہوگی، ہم گول دائرے  میں گھومتے رہیں گے ، منجدھار کے بیچ پھنسے رہیں گے ،یہ معصوم  خون بہتا رہے گا مگر منزل اور کامیابی… تو  وہ   دور دور تک بھی نظر نہیں آئے گی  ، اس لیے اللہ پر توکل کی ضرورت ہے ،اللہ سبحانہ وتعالی   کے فرمان  مبارک ہیں: ﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا﴾’’ ا ور اللہ پر توکل کرو اور اللہ ہی مدد کے لیے کافی ہے‘‘ اور اس طرح  اللہ رب العزت کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ ’’اور جس نے اللہ پر توکل کیا ‘‘ ﴿فَهُوَ حَسْبُهُ﴾ ’’تو اللہ اس کے لیے کافی ہے‘‘۔

اسی طرح اللہ ہمیں مخاطب ہیں:﴿وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا﴾ ’’اور تیرا رب  ہدایت کے لیے کافی ہے  ،ا سٹریٹیجی سمجھانے، راستہ بتانے کے لیے کافی ہے ، ﴿وَنَصِيرًا ﴾ اور مدد کے لیے کافی ہے‘‘۔

لہذا ہم  اللہ پر توکل کریں ، تحریک جہاد کی  آزادی ، اس کی خود کفالت اور شرعی راستے پر اسے   قائم رکھنے کے لیے ہم آگے بڑھیں ، یقیناً اللہ رب العزت مدد فرمائیں گے۔[5]

السحاب: جزاکم اللہ خیر، تحریک آزادی کشمیر میں  عوام کے   کردار آج سب کے سامنے ہے ،کیا اس  حوالے سے آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود: کشمیر ی عوام کا کردار  پوری امت کے لیے لائق تقلید ہے ، آج ان کا اس مبارک جہاد میں بھر پور حصہ ہے ، میں  انہیں عرض کرتا ہوں کہ آپ کا مجاہدین کی حمایت میں    احتجاج  کرنا ، لاٹھیاں ، پتھر اور گولیاں تک کھانا ، پھر اپنے  جسموں کو ڈھال بنا کر  مجاہدین کا دفاع کرنا ، فوج پر    سنگ باری کرنا، اسی طرح  مجاہدین کو کھانا کھلانا،  پناہ دینا اور دعا ئیں  دینا یہ سب  نصرت  جہاد  ہے ، عظیم  عبادت ہے ، پس   اس راستے پر قائم رہیے ،آج آپ جو مشقت  بھی اٹھاتے ہیں ، جو قربانی بھی  دیتے ہیں ، اس کا اجر اپنے رب کے پاس پائیں گے ، یہاں میں   مجاہدین کو بھی درخواست کروں گا  کہ اس عظیم  عوام  کی حفاظت  اور خیر خواہی ہمارے اوپر فرض ہے ، اس لیے ان کی حفاظت کو  ہم  یقینی بنائیں ، ان  کی تائید  میں اضافہ کرنے  کے لیے  ہر   جائز راستے  ہم اپنائیں  اور ایسے  تمام اقدامات سے ہم حتی الاستطاعت گریز کریں  جن کے سبب عوام کا نقصان ہو ، مسلمان عوام کی  حمایت  انتہائی بڑی نعمت ہے ،اس کے بغیر کوئی بھی جہادی تحریک نہیں چل سکتی  ،اس لیے  اس  پر جہاں اللہ سبحانہ و تعالی کا   شکر ہم ادا  کریں  ،   وہاں عوام کے بھی  مستقل  طور پر ہم  مشکور  رہیں، اللہ آپ اور آپ کی اس مجاہد عوام  کے درمیان محبت اور اعتماد کا یہ  رشتہ ہمیشہ قائم رکھے ۔

السحاب: کشمیر میں جن مجاہد بھائیوں نے شریعت یا شہادت کا نعرہ لگایا ہے آپ خاص ان  مجاہدین کے نام کوئی خصوصی پیغام دینا چاہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود :جہادی کشمیر کے عظیم   رہنماء شہید  افضل گورو رحمہ اللہ اور   نوجوان قائد   شہید برہان وانی رحمہ اللہ      کے یہ جانشین  واللہ ہمارے ،      دلوں کی دھڑکن اور امیدوں  کے  مرکز ہیں ، اللہ ان کی مدد فرمائے  ،ان کے دل  اپنے نو ر سے منور کرے   اور انہیں صبر و استقامت  سے نوازے(آمین) ۔میں اپنے ان  عزیز بھائیوں کے سامنے عرض کرتا ہوں کہ آپ جیسے عظیم بھائیوں  کے سامنے میں اپنے آپ کو نصیحت کرنے کا قطعاً اہل نہیں سمجھتا مگر چونکہ  باہمی خیر خواہی واجب ہے ، اس لیے یہاں آپ بھائیوں کے سامنے نصیحت کی جگہ  تذکیراً چند گزارشات   پیش کرنا چاہتا ہوں :

عزیز بھائیو! برصغیر بلکہ پوری امت کے  مجاہدین  اور مظلوم مسلمانوں کی نظر یں آپ پر  ، آپ کے جہاد  پر اور  آپ کے  اس مبارک نعرے ’ شریعت یا شہادت‘   پر   ہیں !  اس نعرے کو بلند کرنا  جہاں بہت  بڑی  سعادت  ہے ، وہاں  یہ اتنی ہی بھاری مسؤلیت بھی   ہے ۔اس لیے کہ یہ  راستہ اتباع شریعت  سے شروع ہوتا ہے اور اتباع شریعت  ہی  کے ساتھ چلتا  چلتا   پھر نفاذ شریعت یا  پھر  دوسری صورت میں شہادت  پر ختم ہوتا ہے  ، اللہ تعالی ہمیں اس  نعرے کا حق ادا کرنے  کی توفیق دے، تو انتہائی  عزیز بھائیو! کشمیر کے اندر ہم  مومنین  کی اس صفت کا مصداق بن جائیں(أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ(رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ) یعنی وہ کفار کے لیے انتہائی سخت ہوتے ہیں  جبکہ آپس میں وہ انتہائی  نرم ہوتے ہیں۔ بھارتی  فوج  کے ساتھ آخری حد تک سختی  اور اس کے خلاف قتال   فرض  ہے  جبکہ مسلمانوں کے ساتھ نرمی    اور    شفقت  کا بر تاؤ انتہائی ضروری اور    لازم  ہے…    آج  آپ کے سامنے دو محاذ ہیں ، ایک مشرک ہندوؤں کے خلاف  جنگ اور قتال  کا محاذ    جبکہ  دوسرا کشمیر میں موجود دیگر مجاہدین اور سب کشمیری مسلمانوں کو’ شریعت یا شہادت ‘ کے اس   عظیم منہج  کی طرف بلانے اور انہیں اس  پر کھڑا کرنے کا محاذ ، اپنوں کے ساتھ  تعامل کا یہ  محاذ دعوت کا محاذ ہے اور یہ  نرمی ، محبت ، خیر خواہی اور بہت  ہی زیادہ صبر مانگتا ہے۔ ہمیں آپ سے   امید ہے کہ آپ قتال اور دعوت کے ان دو مختلف  محاذوں کی جو  بالکل مختلف  ضروریات  ہیں  ان  کا خیال رکھیں گے ، آپ  کشمیر میں موجود ہر مجاہد ،  ہر عالم اور ہر ایسے  قائد کو  احترام دیں گے جن کی آزادی کشمیر  کی اس  مبارک جدو جہد  میں حصہ ہے  ۔   کشمیری مسلمان  سب ہمارے  بھائی ہیں  ، ان میں سے  چاہے کسی کا تعلق آپ کی جماعت سے ہو یا کسی اور دینی جماعت سے ، رائے میں آپ کے ساتھ موافق ہو یا غیر موافق ، ہر حال میں یہ   ہمارے   ہی بھائی  ہیں  ،پس  انہیں  ہم  اپنی کسی عجلت ، تیزی یا لغزش کے سبب اپنے آپ  سے دور نہ کر  دیں  ۔آج قریب اور بعید سب  دشمنوں  کی بھر پور سازش ہو گی کہ وہ آپ  کو مسلمان عوام  اور دیگر مجاہد بھائیوں سے دور  کر دیں تاکہ  آپ کی یہ مبارک آواز، یہ  مبارک منہج  ابتداء ہی میں دب کر ختم ہو جائے  مگر آپ  سے امید ہے کہ آپ ہر ایسی  سازش کو اپنے عمل سے ان شاء للہ   ناکام بنائیں گے   ۔آپ جانتے ہیں کہ ہم ہندوؤں کے خلاف  جہاد اور  نفاذ شریعت  کی اس جدو جہد میں صرف اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں  جب  تنظیموں اور جماعتوں  سے بالاتر ہو کر سب کشمیری  مجاہدین اور سب مسلمانوں کے ساتھ  اخوت اور محبت  کا تعامل   رکھیں ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے : ﴿وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ…﴾ ’’اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو …‘‘ یعنی شریعت کی اتباع کرو۔ ﴿وَلَا تَنَازَعُوا﴾ ’’اور آپس میں مت جھگڑو‘‘ ﴿فَتَفْشَلُوا ﴾ ’’ورنہ شکست کھاؤ گے… ‘‘ ﴿وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ﴾’’اور  تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ‘‘ ﴿وَاصْبِرُوا﴾ ’’اور صبر کرو‘‘ ثابت قدمی دکھاؤ… کس چیز پر ثابت قدمی ؟ اللہ و رسول کی اطاعت پر ثابت قدمی  ،  شریعت کی اتباع  پر ثابت قدمی ،کفر اور ظلم کے خلاف جہاد پر ثابت قدمی ،اور  آپس میں  جھگڑا نہ کرنے  پر ثابت قدمی،اور جب یہ ثابت قدمی دکھاؤگے ، جب یہ صبر کروگے تو ! ﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾،’’بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘ ۔لہذا اگر ان سارے امور کی ہم پابندی کر سکیں  تو   اللہ راضی ہو گا ،اللہ  کی نصرت  ا ترے گی اور اپنی  مظلوم  کشمیری قوم  کے دکھوں اور  غموں کا مداوا بھی ان شاء اللہ      ہو سکے گا، اللہ  رہنمائی  فرمائے  اور   اپنی مدد ا ور نصرت سے  آپ کو نوازے  ! آمین یا رب العالمین ، أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم… جزاکم اللہ خیراً۔

السحاب: آمین ثم آمین … ناظرین ،اس نشست کا اختتام کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ اگلی نشست میں جہاد پاکستان کے موضوع پر گفتگو ہو گی۔ اس نشست میں کوشش ہو گی کہ جہاد پاکستان کی حقانیت پر بھی بات ہو اور اس کے اہم حقائق بھی سامنے لائے جائیں۔ تب تک کے لیے اجازت دیجئے۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

 

تحریک جہاد برصغیر ، حقیقت  و حقانیت

(تیسری نشست)

جہاد پاکستان…پس منظر ، حقانیت اور حقائق

السحاب: تحریک جہاد پاکستان اس وقت ایک کٹھن مرحلے سے گزر ہی ہے۔ بعض طبقات اور ان میں سے سر فہرست پاکستانی فوج  ان حالات کو اس تحریک کے اختتام کا مقدمہ قرار دے رہے ہیں، کیا  آپ اس بات سے اتفاق کریں گے؟

استاذ اسامہ محمود:  جہاد پاکستان  کے حوالے سے مطمئن رہئے ، یہ قافلہ دشمن  کی سازشوں اور رکاوٹوں کو    ان شاء اللہ  اپنے   ساتھ بہا کر آگے  بڑھے گا ، یہ غزوہ ہند کا قافلہ ہے …اور  اللہ سے امید ہے کہ  مجاہدین پاکستان ،پاکستان  ہی نہیں کشمیر اور  برما تک  پورے برصغیر کے مظلوموں کے لیے ان شاء اللہ    امید  بن کر  رحمت اور نعمت ثابت ہوں گے ۔  عالم  کفر کے یہ  غلام  اہل دین اور مجاہدین کو لاکھ دبائے ، یہ ظلم ،دھوکہ اور فریب  کے ہتھیار سے حق کی راہ میں  لاکھ رکاوٹیں کھڑی کر دے ،پھر  امریکیوں کے ساتھ ساتھ اپنے  ملحد آقاؤں   سے بھی مدد   لیں ،مؤمنین  مجاہدین   کی کامیابی اللہ کا امر ہے ، اللہ ہمیں، مجاہدین پاکستان کو  صحیح معنوں میں اہل ایمان ثابت فرمائے ،  تو یہ قافلہ رکنے والا نہیں ہے ، یہ شہادتوں اور قربانیوں کا امین قافلہ ہے ، اس کی منزل ظلم کا خاتمہ اور شریعت کا نفاذ ہے ،  اسی  کی طرف سفر جاری ہے اور ان شاء اللہ بہرصورت  جاری رہے گا ۔ زمینوں کا چھن جانا ، شہادتیں  اور قید و بند جہادی تحریکوں کی کامیابی و ناکامی     کی کسوٹی     قطعاً نہیں ہے،  آج تک کونسی ایسی  تحریک رہی ہے کہ جس نے جہاد کا  جھنڈا اٹھایا   ہو   اور وقتی ہزیمت اور آزمائشوں سے  دو چار ہوئے بغیر فتوحات در  فتوحات حاصل کیے ہوں ، ایسا تو  سوچنا بھی سادگی ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالی حق کی  تحریکوں،جہادی تحریکوں   کو  آزمائشوں سے گزار تا ہے، شہادتوں ، قید و بند اور زمینوں کے چھن جانے سے ان کی قوت و ایمان میں اضافہ  کرتا ہے  ، ان آزمائشوں کا ایک اہم  مقصد  فتح کے لیے تیاری ہے، اس لیے کہ اسی سے یہ تحریکیں خود احتسابی  سے گزرتی ہیں ،  یہ چند قدم پیچھے ہو کر اپنی  خامیاں اور کمزوریاں    دور کرتی ہیں اور پھر دشمن کی صفوں کو چیرتے  ہوئی آگے  بڑھتی ہیں  ، یہی جہاد پاکستان   ہے اور یہی ان شاء اللہ اس  غزوہ ہند کا مستقبل ہے   ، بس جہاد پاکستان میں شامل ہم سب مجاہدین ،  سب گروہ   جس قدر جلدی  اپنے صفوں کو درست کر سکیں  ،منظم کر سکیں ، جس قدر جلدی اپنی اصلاح ہم کرسکیں  ، اتنی ہی جلدی ان شاء اللہ  یہ قافلہ کامیاب اور کامران بن کر  آگے بڑھے گا۔

السحاب: آگے بڑھنے سے پہلے مناسب ہوگا اگر آپ یہ بتادیں کہ  جہاد پاکستان  اور پاکستان میں تحریک جہاد کا آغاز کیسے ؟

استاذ اسامہ محمود:پچھلی نشستوں میں اس پر بات ہوئی تھی کہ ہم  مجاہدین پاکستان  میں ،برصغیر میں …اللہ کے اذن سے  سید احمد شہید   کی تحریک کا تسلسل ہیں ، اس کے    علم بردار ہیں ،اللہ ہم سب کو اس  تحریک  کا حق ادا کرنے کی توفیق دے، اس طرح یہ بھی   عرض کیا تھا  کہ برصغیر میں   نفاذ شریعت کی  یہ تحریک ، تحریک مجاہدین کسی نہ کسی طرح جاری  رہی  اور یہ  بھی عرض کیا کہ پاکستان کے اندر یہ تحریک دوبارہ اس وقت نئے سرے سے اٹھی جب  امریکہ نے  یہاں 2001  میں امارت اسلامی افغانستان پر حملہ کیا۔   چنانچہ  جب امریکہ 2001 میں یہاں آیا  ،  تب پاکستانی جرنیلوں نے امریکی  جنگ  اپنے سر لی اور  انہوں نے امریکہ کی غلامی میں افغانستان سے کشمیر تک جہاد اور اسلام مٹانے کی قسم کھائی ۔ ان خائنوں نے  امریکہ کا ساتھ دے کر امارت اسلامی اس وقت ختم کرائی  اور  پھر ان کی کوشش تھی کہ مجاہدین کو کسی ایسی جگہ پاؤں جمانے کا موقع نہ دیا جائے جہاں سے  وہ دوبارہ امریکہ  اور عالمی کفر کے خلاف   تحریک کھڑی کر سکیں ۔اسی حال میں عرب اور  عجم کے مہاجر اور قبائلی مجاہدین، پاکستانی قبائل کے اندر  جمع ہوئے ، قبائلی عوام نے مجاہدین کی صالح سیرتوں  اور کردار  کو دیکھ کر ان  کا ساتھ دیا ، ان کے لیے  دل کھولے اور    یہ دل  بھی  ایسے کھولے کہ آگے  پھر اپنا سب کچھ ان کی خاطر قربان کیا …اللہ دنیا اور آخرت میں اس مجاہد عوام کو  اور ان کی آئندہ نسلوں تک کو اس  کا بہترین بدلہ دے ۔

السحاب: اس اجتماع کے  پیش نظر بنیادی مقاصد کیا تھے؟

استاذ اسامہ محمود:اہم اور اساسی مقصد تو امارت اسلامی کا دفاع اور امریکہ کو باہر نکالنا ، اس کو  شکست دینا تھا ،اسی طرح     شریعت کا غلبہ، مسلمانوں کی حفاظت اور   تحریک جہادکا دفاع  ، یہ  اہم مقاصد تھے جو اس اجتماع کے  مد نظر تھے  ۔پاکستانی فوج نے امریکی غلامی  میں  اس مبارک تحریک  کو ختم کرنے کے لیے بھرپور قوت کا استعمال شروع کیا اور مجاہدین پر ایک جنگ مسلط  کر دی…یہاں میں واضح کر دوں  کہ کافی عرصہ تک مجاہدین کا اساسی  ہدف   افغانستان میں امریکہ تھا اور  وہ کسی طور پر بھی پاکستانی فوج کے  ساتھ اس مرحلے میں محاذ  نہیں  کھولنا چاہتے تھے ، مگر اس فوج نے انہیں مجبور کیا اور انہیں  دو راستوں میں سے  کسی ایک  کو اختیار کرنا پڑا  ،پہلا راستہ فوج کے خلاف نہ لڑنے کا تھا اور اس  کا نتیجہ پھر یہ نکلنا تھا کہ تحریک جہاد ختم ہو اور یہاں امریکہ کا مکمل طور پر  تسلط ہو، دوسرا راستہ  فوج کے خلاف لڑنے کا تھا اور اس صورت میں تحریک جہاد  کا دفاع ہوسکتا تھا، نفاذ شریعت اور غلبہ اسلام کی تحریک کی حفاطت ہو سکتی تھی ، لہذا  دوسرا راستہ اپنایا گیا ،  مجاہدین  دفاع کی خاطر میدان میں اترے ۔ اللہ نے  الحمد للہ معجزات دکھائے،  اللہ کی نصرتیں اور مجاہدین کی  کرامات  یہاں قبائیلی   عوام کو نظر آئیں  ، اس کے سبب  مجاہدین کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا ،الحمد للہ   فوج کو  خوب مار پڑ ی  اور  یوں بالآخر یہ فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی۔ مجاہدین  اور قبائلی   مسلمانوں کی یہ قربانیاں رنگ لائیں  اور الحمد للہ  جہاد کو پناہ گاہ حاصل ہوئی۔ یہ پناہ گاہ …  2005-6 میں ہاتھ آئی، اور جیسے ہی یہ ہاتھ آئی  تو افغانستان کے اندر   اس کے سبب الحمد للہ  تحریک میں جان پڑ گئی  ۔اُس وقت تک افغانستان میں  امریکیوں کے خلاف  تحریک بہت کمزور تھی۔ گویا جہاد پاکستان کی  پہلی کامیابی  افغانستان کے اندر امریکیوں کے خلاف جہاد کا منظم ہونا ہے  اور ظاہر ہے  یہ زیادہ تر  اسی  پناہ گاہ کے نتیجے میں ہوا ۔ یہی وجہ رہی کہ پھر دس سال تک یہ پناہ گاہ فوجی آپریشنوں اور امریکی بمباریوں کی زد میں رہی…

السحاب: یہ تو قبائل کے اندر جہاد پاکستان  کی بات ہوئی ، پاکستان کے اندر اعلان جہاد کب اور کیوں ہوا؟

استاذ اسامہ محمود :دیکھیے ،  عین اسی وقت یعنی  جب قبائل  میں  یہ فوج  مجاہدین کے خلاف لڑ رہی تھی ، پاکستان کے اندر بھی یہاں جرنیلوں نے دو قسم کی جنگیں مسلط کی تھیں، ایک جنگ مجاہدین اور اہل دین  کی پکڑ دھکڑ اور  انہیں شہید کرنے    کی صورت میں تھی ،  پورے پاکستان کو انہوں نے میدان جنگ بنایا ہوا تھا، امریکی  ایف بی آئی کے افسر اوپر  سے نگرانی کرتے تھے اور یہ پاکستانی آئی ایس آئی   کے  افسر اور اہلکار سپاہی اور غلام بن کر ان کے  احکامات کی  تعمیل کرتے تھے ، ایک ایک مجاہد کی گرفتاری یا شہید کرنے پر یہ سب  پیسے وصول کرتے تھے  ، تو ایک یہ جنگ تھی ! دوسری جنگ  اسلام کے خلاف  تھی ، مساجد و مدارس، علماء اور اہل دین پر انہوں  زمین تنگ کی تھی ،اسلام کی نئی تشریحات متعارف کرانے اور نصاب میں تبدیلی لانے کے لیے بھی  دباؤ ڈالا جا رہا تھا، اس ساری جنگ کا مقصد  اسلام کی روح  کو ختم کرنا تھا! ایسا امریکی اسلام یہاں پروان چڑھانا تھا جس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو اور جو جہاد فی سبیل اللہ سے عاری ہو ،یعنی ایسا اسلام جو امریکی  شیاطین ، بھارتی ہندوؤں ، چینی ملحدوں  اور اسرائیلی  غاصبوں سمیت  پورے عالم کفر کے  ظالموں   کو  تحفظ دے  اور جو مسلمان کو مکمل طور پر کافروں کا غلام بنا ئے   ۔ آج  بھی میڈیا کو دیکھیے ،ٹی وی چینلز کے پروگرام اور اخبارات کے کالم …  ہر جگہ وہی   امریکی اسلام  رائج کرنے کی   جنگ آپ کو  نظر   آئے گی ۔

علماء کرام نے اس شیطانی مہم کے سامنے الحمد للہ بھرپور مزاحمت کی  …یہی وہ دور ہے  کہ جس کے آس پاس نظام الدین شامزئی ،مفتی جمیل الرحمان اور  مولنا یوسف لدھیانوی ، اللہ ان سب پر رحمتیں نازل فرمائے، ان جیسے کبار  علماء  کرام کو  حق بولنے کی پاداش میں پاکستانی    ایجنسیوں نے شہید کیا ، علماء کرام الحمد للہ اس کے باوجود بھی  پیچھے نہیں ہٹے بلکہ کئی نے کھل کر پاکستانی فوج  اور امریکیوں کے ان جرائم کے  خلاف فتاوی دئیے اور عوام کو حق و باطل کی پہچان کرائی !

اسی  دوران لال مسجد کا سانحہ ہوا ۔اللہ عبدالرشید غازی  رحمہ اللہ اور ان کے ساتھ شہید تمام خوش نصیبوں کو جنت الفردوس دے اور پاکستان کے اندر یہ قربانیاں حق کی نصرت کا ہمیشہ  باعث رکھے۔یہاں یہ ذہن میں رہے کہ لال مسجد کا واقعہ  جہاد پاکستان کا سبب نہیں تھا ، بلکہ یہ عظیم واقعہ جہاد پاکستان کے اسباب سمجھانے والا ہ ثابت ہوا ، اس نے حق اور باطل ، عدل اور ظلم کے مابین تمیز  واضح کر دی اور پاکستانی عوام کو یہ سمجھانے میں کوئی دیر نہیں لگی کہ یہ فوج اسلام دشمن ، عوام دشمن اور عالم کفر کی محافظ فوج ہے اور اس کے خلاف اگر جہاد نہیں ہوا تو امریکیوں کے خلاف بھی جہاد  نہیں ہو سکتا ، اس کے خلاف جہاد نہیں ہوگا تو اسلام ، اسلام رہ کر نہیں بچے گا، اس طرح امارت اسلامی  دوبارہ قائم نہیں ہو سکے گی اور ہندوؤں کے خلاف  بھی  جہاد بمعنی جہاد کبھی نہیں ہو گا۔

یوں شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے بھی اسی وقت  اعلان جہاد کیا ۔گویا پاکستان میں یہ دفاعی  جہاد پہلے سے جاری تھا مگر شیخ نے اب کی بار عام عوام کو بھی اس میں شرکت کی اپیل کی، اس لیے کہ اب عوام سمجھ گئی تھی ، لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے پاکیزہ خون نے دوست اور دشمن کی تمیز کرا دی تھی ۔بس صرف اشارے  کی دیر تھی اور شیخ رحمہ اللہ  نے بھی  الحمد للہ  یہ ا شارہ دے دیا۔

السحاب:   بعض احباب  اس سے نتیجہ اخذ کر تے ہیں ،شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے اس موقع پر   عالم کفر کے سر امریکہ کو مارنے کے منہج میں  ترمیم کی ، کیا یہ بات درست ہے؟

استاذ اسامہ محمود : نہیں ، ایسا نہیں ہے ،  شیخ اسامہ  کا یہ منہج ، یعنی کفر کے  سر امریکہ کو مارنا القاعدہ کا منہج تھا اور  الحمد للہ آج بھی ہے ، اس میں  کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔  شیخ اسامہ ؒ  نے کیوں پاکستانی فوج کے خلاف بھی اعلان جہاد کیا؟ اس لیے کہ آپ نے  عملی زندگی میں جہاد کی قیادت کرنی تھی ۔ اور یہ اس منہج کے عین  موافق تھا کہ امریکہ کی محافظ اس فوج کے خلاف بھی   جہاد ہو! ترجیح اور تحریض کفر کے اسی سر امریکہ  پر ہو …………مگر جو بازو اس سر کو بچا رہے ہوں ، ان کے ساتھ نمٹنا ظاہر ہے اس جنگ کا حصہ ہوتا ہے ۔مثلاً ہمارے سامنے  دشمن ہے ،وہ آمنے سامنے لڑ رہا ہے ، اس کا سر مارنا ہی ہماری ترجیح ہے مگر اس کے بازو  میرے گلے اور گردن کو دبوچ رہے ہوں ، ایسے میں کوئی  یہ مطالبہ کریں  کہ ان بازوں کو بالکل کچھ مت کہو … بازوں کو دشمن کے بھی مت سمجھو… بس سر کو  مارو! ایسے میں افکار اور تصورات میں تو جہاد ہو سکتا ہے عملاً اسلام اور مسلمانوں کا دفاع  ممکن نہیں ہے ۔

پھر یہاں  یہ بھی عرض کر دوں  کہ جہاد روس ، شیخ عبداللہ عزام رحمہ اللہ کے دور  کے جہاد ، اور اب کے امریکہ کے خلاف  جہاد میں زمین آسمان کا فرق ہے ، روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کی امامت میں یہ تمام افواج اور سب  حکومتیں  روس کے خلاف  مجاہدین کو راستہ دیتی تھیں اور آج یہ  ساری افواج مجاہدین کے خلاف روس تک  کو راستہ دیتی ہیں اور  سب مسلمانوں کے خلاف  عالم کفر  کی غلام  ہیں ، گویا یہ قیاس مع الفارق ہے [6]،غرض  پاکستان میں جہاد کا فیصلہ ایک  درست فیصلہ تھا ، اس کی برکت سے افغانستان  میں جہاد قوی ہو گیا ، جہاد  افغانستان کا دفاع ہو سکا اور اسی کے سبب پاکستان  امریکہ کی اسی طرح کالونی  نہیں بن سکا ، جس طرح پاکستانی فوج   نے اسے  امریکیوں کی کالونی بنانا چاہا ۔یہ جہاد نہ ہوتا تو آج بگرام ائر بیس اسلام آباد میں ہوتا اور یہاں  افغانستان و پاکستان کا   نقشہ ہی  بالکل مختلف ہوتا…یہاں شیخ اسامہ رحمہ اللہ  کے توکل کی طرف  بھی  توجہ دلاؤں  کہ آپ پاکستان میں  تھے ، یہاں میدان جہاد گرم ہونے کی صورت میں آپ کو خطرہ ہو سکتا تھا مگر اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر آپ  نے اس کے باوجود ظالم جرنیلوں کے خلاف جہاد  کی تائید کی  اور اس پر پاکستانی مسلمانوں کو تحریض دی ، خود آپ کی قیادت میں آپ کی جماعت نے بھرپور حصہ ڈالا۔ آپ ؒنے فرمایا کہ جہاد فرض عین ہے اور کفر کی محافظ اس فوج کے خلاف ہمارے پاس دو  ہی راستے ہیں ، قتال کا راستہ اور اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر اعداد میں اپنا آپ کھپایا جائے ۔اس کے علاوہ تیسرا راستہ …کہ یہ اپنی فوج ہے ، اسلام اور  مسلمانوں کی محافظ فوج ہے  ، اس باطل بات کی  یہاں اب  کوئی گنجائش نہیں ہے !

السحاب: اگر چہ یہ بات ٹھیک ہےکہ پاکستانی فوج  کے خلاف  جہاد امریکہ اور عالم کفر  کے خلاف جہاد  کا حصہ ہے ،  لیکن  اس جہاد کی عمومی دعوت اور عام اعلان  سے پہلے کیا یہ  ضروری نہیں تھا کہ  عوامی سطح پر یہ دعوت مقبول بھی ہوتی ؟

استاذ اسامہ محمود:الحمد للہ !شرعی دلائل کا میدان ہو یا عوام میں مقبولیت کا میدان  دونوں میدانوں میں جہاد پاکستان کی دعوت غالب رہی …شرعی میدان میں دیکھیں تو ،امریکہ کے آتے ہی الحمد للہ نظام الدین شامزئی اور مفتی جمیل  رحمہما اللہ  جیسے کئی کبار علماء کرام  نے جہاد پر لوگوں کو ابھارا اور  پاکستانی فوج کی خیانت کا راستہ روکنے  کے لیے جہاد کی  تحریض دلائی[7]  ، پھر آغاز میں یعنی … ۲۰۰۴ میں چوٹی کے ۳۰۰ علماء نے پاکستانی فوج کے  خلاف اور قبائل میں تحریک جہاد کے حق میں فتوی دیا ، یہ فتوی دارالحکومت اسلام آباد سے  نشر ہوا۔ پاکستان کے بڑے علماء میں سے کسی ایک عالم نے بھی اس وقت  اس فتوے کی مخالفت نہیں کی ، گویا اسے ایک متفقہ فتوی کہا جا سکتا ہے [8]۔ لال مسجد سانحہ کے بعد جہادی تحریک میں تیزی آ گئی تو بے شمار علماء نے تحریک جہاد میں شمولیت اختیار کی ۔ بہت بڑی تعداد نے  تحریک جہاد کی حمایت کی اور  کئی  علاقوں میں تو مساجد و مدارس سے  ہی تحریک جہاد کا آغاز ہوا ،سوات اور باجوڑ کی مثال آپ کے سامنے ہیں جہاں  جہادی تحریک علماء نے اٹھائی اور آج  بھی الحمد للہ علماء  کے  ہاتھ میں ہے ،اسی طرح  محسود سے سوات  تک پھر  پورے قبائل اور قریبی اضلاع میں یہ علماء کرام  ہی تھے جنہوں نے مجاہدین کی اس تحریک کو عوامی تحریک  بنایا اور ان کی کاوشوں  سے قوموں کی قومیں تحریک جہاد کا حصہ بنیں۔

پھر دیکھیے  علی اعلان   تحریک جہاد کی حمایت علماء کے لیے ایک اعلی  عزیمت ہے   مگر تحریک جہاد کی خفیہ نصرت اور خفیہ   حمایت بھی کوئی کم جہاد نہیں۔ الحمدللہ خفیہ طور پر پاکستان کے علماء میں سے  ایک بہت بڑی تعداد نے    تحریک جہاد کی حمایت اور نصرت کی ، یہ نصرت فتاوی اور رہنمائی کی صورت میں بھی ہے اور عملی صورت میں بھی !

یہاں عرض کر دوں کہ جس دور میں علماء کرام کی شہادتوں کے سلسلے میں تیزی آئی ، مفتی عتیق الرحمان رحمہ اللہ جیسے علماء حق  کو ایجنسیوں نے جس   دور میں شہید کیا، اُس وقت   ان   سب مظالم کے باوجود   چوٹی کے علماء میں سے کئی  علماء قبائل آ ئے ،  شیخ ابو یحیی ، شیخ عطیۃ اللہ، شیخ مصطفی ابولیزید ،  بیت اللہ  محسود امیر صاحب  ، استاد احمد فاروق رحمہم اللہ   ،   سمیت  وزیرستان سے سوات تک دیگر جو  جہادی قائدین ہیں، ان  کے ساتھ آ کر انہوں نے  ملاقاتیں کی ۔ مشورے و  تجاویز دئیے اور اپنے اپنے حلقوں میں  الحمد للہ  مجاہدین کی طرف سے پھر  یہ داعی بن کر واپس لوٹے ۔ پاکستان کے اندر  بندوستی علاقوں میں علماء نے بہت بڑی تعداد میں جب کھل کر  جہاد کی حمایت کی  تو  ایجنسیوں نے  اس جرم میں بے شمار  علماء کو   جیلوں میں ڈالا، انہیں عقوبت خانوں میں شہید  کیا  اور آج ان شہداء کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے ،مگر اس کے باوجود بھی الحمدللہ علماء نے جہاد کی حمایت نہیں چھوڑی۔

السحاب: علماء کے موضوع پر دوبارہ آتے ہیں ان شاء اللہ ،یہ بتائیے کہ یہ تو شرعاً  دعوت جہاد  کے غالب ہونے پر بات ہوئی ، عوامی  سطح پر  کیسے آپ کہتے ہیں کہ اس دعوت کو مقبولیت و  پذیرائی ملی ؟

استاذ اسامہ محمود:  اس تحریک نے قبائل سے لےکر کراچی اور لاہور تک بے شمار مسلمانوں کے دل اور ذہن فتح کیے۔ حقیقت یہ ہے کہ  یہ حق کی    دعوت تھی اور ایک  ایسی دعوت تھی کہ جس کے مقابل مخالفین کے پاس کوئی عقلی یا شرعی دلیل  نہیں تھی ،کوئی ایسی دلیل نہیں تھی جو اس تحریک کی طرف لپکنے والے بے شمار لوگوں کو روک سکے ۔اس حقیقت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے  کہ پاکستان میں  نفاذ  شریعت   کی یہ تحریک  ،یہ تحریک جہاد ، ایک عوامی جہادی  تحریک ہے جو  قومی سطح کی ملک گیر  اور  تاریخی تحریک  رہی ، دیکھیے ہر طبقہ ہر پس منظر اور ہر مکتب فکر کے  لوگ  اس میں  شامل ہوئے ، طلباء  کو دیکھیے …  دونوں قسم کے طلباء ، وہ جو مدارس کے طلباء  ہیں اور وہ جو کالج و یونیورسٹیوں کے طلباء   ہیں ،  ان سب کا اس میں   حصہ رہا ۔ علماء …علماء بھی الحمد للہ ، ہر مکتبہ فکر کے علماء نے اس کا ساتھ دیا  ، تحریک جہاد ہی کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے  ان کے درمیان اختلاف کی وہ خلیج  ختم کر دی  جسے  پاکستانی ایجنسیوں نے ہمیشہ ہوا دی ہے۔ پھر پروفیسر ، ڈاکٹر ز، اساتذہ ،مزدور ، تاجر …شہری اور دیہاتی، خواندہ نا خواندہ  ہر پس منظر کے لوگ…اس مبارک تحریک میں شامل رہے ۔پھر فوج کے اندر  جوانوں اور افسروں تک میں ایک خاصی تعداد موافق رہی، کئی افسروں اور سپاہیوں نے  تو فوج چھوڑ دی یا فوج کے اندر رہتے ہوئے    جہاد کی نصرت کی …کئی    افسروں نے تو میڈیا پر آ کر مجاہدین کے موقف کی حمایت  بھی کی[9]۔ اسی طرح سیاسی دینی جماعتوں سے خاصی تعداد میں  لوگ شامل ہوئے ،انہوں نے جہاد کی  نصرت کی ،بلکہ ان کے تو بعض نڈر قائدین نے علی الاعلان  میڈیا میں  مجاہدین کے موقف کی توثیق  بھی  کی …اس پر ہم ان قائدین  کے مشکور بھی  ہیں ، اللہ انہیں اس حق گوئی پر دنیا ا ور آخرت  کی عزت اور  کامیابی سے نوازے[10]۔ غرض  مقصد یہ ہے کہ  قومی سطح پر ایک بہت بڑی تعداد  نے اپنی جرأت، حوصلے اور جذبے کے بقدر اس مبارک جہاد میں  کسی نہ کسی طرح شرکت کی ۔

اب اگر کوئی کہتا ہے کہ  یہ  قومی سطح کی  تحریک نہیں ہے ، تو میں عرض کرتا ہوں کہ یہ قومی سطح کی تحریک نہ ہوتی تو دشمن کو قومی ایکشن پلان نہ  بنانا پڑتا…جو الحمد للہ ناکام ہے،پھر عرض یہ ہے کہ میدان جہاد کے مجاہدین کو ایک طرف رکھئے  ،شہداء اور قیدیوں کی فہرست    بھی  اگر  سامنے لائی  جائے  تو  یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ  پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ظلم و جبر  اور نظام کفر کے خلاف  یہ قومی  سطح کی  ایک   ملک گیر جہادی تحریک اٹھی ہے !

یہاں میں    ایک اور نکتے کی طرف بھی توجہ دلاؤں کہ مال و مفاد کے لیے کے لیے  تو لوگ کسی کے پیچھے بھی چلنا شروع کرتے ہیں، پاکستان میں دیکھیے! اکثر  یہاں چور لٹیرے ڈاکووں کے پیچھے لوگ  گئے ہیں  مگر قربانی  دینے کے لیے ، جسم ٹکڑے کروانے ، گھر بستی کھنڈر کروانے ، مال و دولت داؤ پر لگانے ، قید ا ور  تشدد قبول کرنے کے لیے کیا کوئی ویسے ہی سوچے سمجھے بغیر نکلتے ہیں ؟ نہیں ،ایسا  قطعاً نہیں   ہے …ایمان و  اخلاص  نہ ہو ،سچائی نہ ہو تو ان قربانیوں کے لیے کوئی بھی  تیار نہیں ہوتا…

لہذا یہ ہمارا دعوی نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ جہاد پاکستان اور نفاذ شریعت کی یہ تحریک  نہ صرف یہ ایک ملک گیر تحریک ہے ،بلکہ یہ ایک ایسی تحریک بھی  ہے جس  میں اخلاص ، سچائی اور  قربانی کے ایک لازوال جذبے کی بنیاد پر لوگ شامل ہوئے! پھر ہمارا سوال ہے ، پاکستان کی تاریخ میں کس  سیاسی یا غیر سیاسی تحریک نے قربانیوں  کی یہ عظیم تاریخ رقم کی ہے؟ کس نے اپنے گھر بار، قصبے،  گاؤں    ایک خاص نصب العین  اور مقصد  کی خاطر  کھنڈر کروائے ہیں ؟ کس سیاسی جماعت کے کارکنوں کی  اتنی بڑی  تعداد  میں گرفتاریاں ہوئیں اور پھر ان  پر رونگٹے کھڑے کرنے  والے مظالم ڈھائے گئے  ؟ کس  پارٹی کے کارکنوں کی اتنی بڑی تعداد  کو شہید کیا گیا؟ اور پھر کونسی ایسی  تحریک  ہے کہ جس کے  پیچھے چلنے والے اس قدر  مظالم کے باوجود  بھی اپنے  نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے ہوں  بلکہ ظلم و جبر کی انتہاء کے باوجود   بھی انہوں نے ڈٹنے اور جمنے کی یہ   عظیم تاریخ  رقم کی  ہو؟ پاکستان   کے اندر یہ صرف  اس تحریک جہاد کا کارنامہ ہے، یہ برصغیر کی ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے ،اور  عدل یہ ہے کہ اس میں اس ملک کے تمام اہل دین کا ان شاء اللہ حصہ ہے ، یہ تحریک جہاد ملک کے ہر دیندار کے لیے  فخر کا باعث ہونی چاہئے ، کہ اس دین کی خاطر اس ملک میں ایسی عظیم قربانیاں دی گئیں جو کسی سیکولر اور  نام نہاد محب وطن نے  اس پوری تاریخ میں کبھی   نہیں دی ہیں ۔

السحاب: علماء کی حمایت و مخالفت  کے موضوع کی طرف لوٹتے ہیں ، آج  علماء  کرم میں سے  بعض   علماء جہاد کی علی الاعلان مخالفت  کر رہے ہیں ، اس پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

 استاذ اسامہ محمود :دیکھیے ہماری رائے ہے کہ  ۲۰۱۳  تک  علماء حق میں سے کسی نے بھی الحمد للہ تحریک جہاد  کی مخالفت نہیں کی  ہے ۔    یہ بھی ہم بتائیں کہ  ہمارے ہاں علماء حق   کا دائرہ    تنگ نہیں ہے  کہ جو  ہتھیار لیکر ہمارے ساتھ صف میں جو کھڑ ے ہوں  صرف انہیں کو ہم  علماء حق  کہتے ہیں ،ایسا نہیں ہے ،   اللہ کا فضل ہے کہ ایسے علماء  کی تعداد پاکستان میں   کم نہیں  ہے  جن کا مقصد علم دین  سے  دنیا کمانا نہیں   ہے بلکہ آخرت  سنوارنا ہے    اور جو   حکمرانوں    کے اثر سے   دور رہ کر اخلاص کے ساتھ   دین کی خدمت کرتے ہیں ،  ہماری نظر میں یہ علماء حق ہیں ،   تو ایسے علماء  میں سے کسی نے بھی  2013 تک جہاد  پاکستان    کی مخالفت نہیں کی ہے  ،  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس عرصے میں  تمام مکاتب فکر کے  ایسے علماء نے جہاد کی کسی نہ کسی صورت میں حمایت کی ہے ، کسی نے کم کی  تو کسی  نے زیادہ   ، کسی  نےا علانیہ  کی تو کسی نے خفیہ مگر مخالفت… تو وہ علماء حق  کی طرف سے الحمد للہ  کہیں بھی نظر نہیں آئی ۔

جہاں تک 2013کے بعد کی مخالفت ہے    اور   آج بھی  جو  بعض شخصیات   مخالفت کر ر  ہی ہیں تو ایک یہی وجہ سمجھ آر ہی ہے کہ یہ دراصل جہاد سے منسوب جہاد کو بدنام کرنے والے اُن عناصر اور ان کے افعال کی مخالفت ہے جن کی مخالفت الحمد للہ مجاہدین کے   اندر  بھی کوئی کم نہیں ہے … مثلاً دیکھیے،کہ  نقد کرنے وا لوں میں سے ایک معروف عالم اور ہمارے لیے انتہائی محترم مفتی صاحب کے پاس 2009 میں وزیر داخلہ گیا اور جہاد پاکستان کے خلاف فتوی مانگا، تو  اس وقت حضرت مفتی صاحب نے بڑا منہ توڑ جواب دیا کہ امریکیوں کے صف میں شامل ہوتے وقت تو تم نے فتوی  نہیں مانگا ، اب کیوں مانگنے آئے ہو؟ اللہ ان مفتی صاحب کو اور ان جیسے دیگر علماء  کرام کو جزائے خیر دے اور اللہ انہیں حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔

السحاب: حال  ہی میں اکتیس علماء کرام نے   ایک ورقہ نشر کیا ہے  ، اس میں جہاد کو پاکستانی حکومت کی اجازت سے مشروط کیا  ہے ،اس پر آپ حضرات کا کیا موقف ہے ؟

استاذ اسامہ محمود :سوال سے ہٹ کر سب سے پہلے  آپ کے سامنے یہاں  چند اصولی باتیں   رکھنا چاہتا ہوں    اور وہ یہ کہ علماء کرام ہمارے سروں کے تاج ہیں ، ہم خود اپنے تمام  جہادی امور اہل علم   کی  سرپرستی میں انجام دیتے ہیں ، وہی ہمارے قائد ین اور  وہی ہمارے امراء  ہیں۔اس طرح  ہمارے جہاد کا ایک اہم ہدف  علماء  کرام کو ان  کا اصل مقام …یعنی  معاشرے کی قیادت اور سیادت   واپس دلانی  ہے ، انہیں  وہ ماحول عطا کرنا ہمارے جہاد کا مقصد  ہے جہاں  جبر اور دباؤ   کی حکمرانی نہ ہو  بلکہ  جہاں آزادی کے ساتھ تقوی ، علم اور ضمیر    کے مطابق   وہ عوام کی رہنمائی کر سکیں  ۔

اگلی بات یہ ہے کہ  آج  چونکہ باطل  کا جبر اور دجل و فریب   اپنے عروج پر ہے اس لیے   علم سے منسوب سرکار کے نوکروں کے ساتھ ساتھ بعض   ایسی شخصیات  سے بھی  جہاد  مخالف باتیں کرائی جاتی ہیں جن سے ہمیں  خیر کی امید ہے  ،اس لیے   اس حال میں    جہاد کے خلاف بولنے  والے ان  سب  حضرات  کا معاملہ   ہم اللہ کے سپر د کرتے ہیں  اور اپنے مجاہدین کو بھی  ایسی شخصیات  کے    حوالے سے  زبان   نہ کھولنے   کی  نصیحت    جہاں ہم  کرتے ہیں   ، وہاں  یہ  درخواست  بھی ان کی خدمت میں کر تے  ہیں کہ ایسے پراپیگنڈے کا  جب  رد ضروری ہو تو اپنے آپ  کو صرف علماء جہاد کے  نشر شدہ جوابات تک  ہی محدود رکھئے ۔اسی میں ان شاء اللہ  خیر ہوگی۔

پھر   جہاں تک ان   فتاوی   کی صحت کا  تعلق ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ،  ان کا رد    کتب فقہ  میں  پہلے سے موجود   ہے …اور  آج بھی الحمدللہ  ، میدان جہاد  کے اندر اور میدان سے   باہر  امت میں  ایسے علماء کی کمی نہیں ہے    جو علم  کو اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور اس قسم کے حکومتی  پراپیگنڈوں   کا توڑ  اپنی ذمہ داری خیال کرتے  ہیں، یہی وہ  انبیاء کے  وارث  ہیں  جن  میں سے   کتنوں کو شہید کیا گیا، متعدد کی  چھلنی لاشیں عقوبت خانوں سے باہر نکلیں  مگر   انہوں نے باطل کو کبھی حق نہیں کہا اور  اپنی سیرت سے انہوں نے    امام ابو حنیفہ ؒاور امام احمد  بن حنبلؒ کی سنت تازہ کر دی     ۔ آج پوری دنیا کے اندر الحمد للہ  تحریک جہاد ایسے ہی  علماء حق   کی رہنمائی میں جاری ہے۔

پھرقابل افسوس بات یہ  ہے  کہ  جس فتوے کا آپ نے ذکر کیا، اس میں   جہاد کو      اسلامی ریاست کی اجازت سے  مشروط کیا گیا  ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں   ظاہر ہے دفاعی جہاد ہے جو فرض عین ہے    ۔دوسرا یہ کہ  آپ جانتے ہیں   کہ آج امت مسلمہ  پر قابض سب حکمران اپنے  اپنے ممالک کو  اسلامی ریاست کہتے ہیں  ۔  گزشتہ سال  اسی طرح کا فتوی  اشرف غنی نے افغانی علماء  سے دلوایا  اور  اس میں بھی جہاد کو  حکومت افغانستان کی اجازت کے ساتھ   مشروط کیا ، گویا اس   قسم کے فتاوی   کے مطابق پھر پاکستان ہی میں نہیں ،   افغانستان اور کشمیر سے لیکر فلسطین تک  دنیا بھرکے جہاد میں شریک ہونا  غیر شرعی ہے، اس لیے کہ کسی ایک جہاد کا اعلان بھی ان حکمرانوں نے نہیں کیا ہے ، بلکہ سب جگہوں پر یہ حکمران جہاد سے  روکتے ہیں، ہر جگہ یہ رکاوٹ ہیں  ۔ان فتواوی سے پھر  یہ بھی پھر ثابت ہوتا ہے کہ آج تک جتنا جہاد ان کفار کے خلاف ہوا ہے وہ نعوذ باللہ غلط تھا ، اس طرح   کافروں اور  ظالموں  کی اطاعت گویا ایسے  فتاوی کے مطابق  عین شرعی ہے۔ اب  اس پر کیا کہا جاسکتا ہے ؟ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ۔انگریز کے دور میں  بھی یہاں  ایسے فتوی  تقسیم ہوتے تھے جن میں جہاد کو تاج برطانیہ کی اجازت کے ساتھ مشروط کیا جاتا تھا۔

الحمد للہ پاکستان میں کئی بڑے علماء کرام نے  آپ کے ذکر کردہ اس فتوے کو غیر شرعی کہا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس سے امریکہ اور مغرب کو  فائدہ ہوگا ، ہم  ایسے  علماء کا شکریہ ادا کرتے ہیں  اور ان کے لیے اللہ سے دعا  بھی کرتے ہیں  کہ اللہ انہیں حق پر  قائم رکھے۔

السحاب:  آمین ،لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہاں جہاد کے نام پر ایسے بہت سے   غلط افعال ہوئے  ہیں ، جنہوں نے مجاہدین کے حوالے سے سوالیہ نشان پیدا کیے  اور ان کے  سبب جہاد کی بدنامی ہوئی ،   اس پر آپ کیا کہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود:  دیکھیے ، جہاد کے نام پر ایسی کارروائیاں ہوئیں ،ضرور ہوئی ہیں  اور ان کارروائیوں کا سب سے زیادہ نقصان تحریک جہاد ہی   کو ہوا ہے ،پھر یہ سب نہیں مگر کئی ایسی کارروائیاں  جہاد سے منسوب افراد نے  بھی کروائی ہیں  ، اس سے بھی  انکار نہیں ، یہ ہمارا موضوع ہے ، اس پر ان شاء اللہ بات کریں گے ، مگر اس سے پہلے  پس منظر جاننا ضروری ہے  تاکہ  اسباب سمجھنا آسان ہو جائیں  ، حقیقت یہ ہے کہ  پاکستان کے اندر جہاد کی یہ مبارک تحریک ، عوامی جہادی تحریک تھی ، ایسا نہیں تھا کہ پورے میدان میں کسی ایک جماعت ، ایک تحریک یا ایک شخصیت کے ہاتھ میں سارا نظم و نسق رہا ہو، شخصیات کے اثر سے انکار نہیں ہے ، گروہوں کی شکل میں لوگ شخصیات ہی کے گرد جمع ہوئے  مگر پورے میدان جہاد میں اختیار اور قیادت  کسی ایک شخصیت، ایک قوت  کے ہاتھ میں رہی ہو! ایسا کبھی نہیں ہوا، لوگوں نے  کفر کا حملہ دیکھا ، پاکستانی فوج کا ظلم  انہیں نظر آیا اور یوں  جہاد کی پکار پر  خود سے گروہوں ، قبیلوں اور حلقوں کی صورت میں یہ سب  کھڑے ہوئے ، مقصد سب کا ایک تھا، اسلام کا غلبہ  … مسلمانوں کی نصرت اور  امریکہ اور کفر کی محافظ اس   پاکستانی  فوج کے  خلاف  اسلام اور مسلمانوں کا دفاع …تو سب لوگ ایک عوامی انداز میں کھڑے ہوئے ،پھر  قبائل سے سوات تک یہ جو بکھری جہاد ی  قوتیں تھیں وہ کسی حد تک منظم ہوئیں  جس میں بہت سے اہل خیر کا حصہ ہے۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے اور ان کی مدد بھی فرمائے ،لیکن اس کے بعد بھی یہ تمام  قبائل اور مجموعے کسی ایسے تنظیمی اور   جماعتی ربط میں منظم طور پر داخل نہیں ہو سکے  جہاں اقوال اور افعال کا مکمل طور پر محاسبہ ہو ، ایسا نہیں ہے  کہ یہاں کبھی ایک نظم اور ایک امیر کے تحت کام چلا ہو، بلکہ    اس کے برعکس ہر مجموعہ ،قبیلہ اور حلقہ اپنے اندر اپنے نظم میں مکمل طور پر خود مختار تھا …پھر دیکھیے  اس طرح چلنا جہاد کے خاص اس مرحلے میں کوئی غیر شرعی اور بالکل معیوب بھی نہیں تھا ، اس مرحلے میں ہر جگہ اور تاریخ کے  ہر دور میں  ایسا ہی  ہواہے ۔صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے دور میں صلیبیوں کے خلاف جنگیں آغاز میں  اسی طرح  ہوئیں ، یہاں تک کہ آگے جا کر  صلاح الدین رحمہ اللہ نے ایک خاص مرحلے پر اُن بکھر ی قوتوں کو یکجا کیا… دنیا بھر میں جہاں بھی عوام کے اندر جہادی تحریکیں اٹھی  ہیں ، ایک عرصہ تک وہ اس انداز میں چلیں اور آگے چل کر پھر مراحل کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ   وہ خاص   اصولوں کی  پابند ہوئیں اور ان کی تحریکی ساخت میں پھر  تبدیلی آئی ۔

اب یہ پورا   نکتہ بیان کرنے  کا مقصد یہ ہے کہ  جب اس حد تک یہ جہادی  قوتیں عوام  کی تھیں  ، ایسے میں کسی ایک شخص یا چند اشخاص کی خرابی کسی بھی طور پر   جہاد پاکستان  میں موجود تمام مجاہدین اور تمام گروہوں  کی خامی نہیں ہو سکتی ہے  ۔  عدل  یہ نہیں ہے ،یہ انصاف نہیں کہ محض  چند افراد کے سبب اسلام اور مسلمانوں کی خاطر جانیں دینے والی  اتنی بڑی صالح اکثریت کو  مورد الزام ٹھہرایا جائے۔

السحاب: تو کیا  اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں تحریک جہاد  کے اندر   غیر صالح افراد بھی رہے؟

استاذ اسامہ محمود:  دیکھیے ، میں اپنی بات کو  دہراتا ہوں کہ     جہادی قوتیں بکھری اور غیر منظم تھیں، داخلی قوتِ نافذہ   کسی   کو حاصل نہیں تھی،  پھر  یہ بھی بتایا کہ  عوامی جہادی تحریکوں میں آغاز اسی طرح ہوتا ہے ،یہ مکمل طور ر پر معیوب  بھی نہیں ہے ، مگر اس  مرحلے سے فائدہ اٹھا  یا  گیا  ، غیر صالح    افراد کو موقع ملا، یہ  افراد اگر چہ اقلیت میں تھے مگر یہ   موجود رہے ، اور انہی کے افعال کے سبب تحریک جہاد کی  بدنامی  ہوئی …

یہاں یہ بھی عرض کروں !کہ غیر صالح افراد کا   وجود کوئی انہونی بات نہیں ہے  !ایسا ٹولہ تاریخ کے  ہر دور میں رہا ہے ، کبھی اقلیت میں  تو کبھی قدرے  اکثریت میں ، کبھی دبا ہوا ، تو کبھی    کھل کر اسے  فتنہ پھیلانے  کا  موقع ملا  …لہذا  تاریخ کے ہر دور میں ایسے افراد رہے ہیں… اور  اسی  میں  آزمائش  ہوتی ہے!!اللہ رب العزت کا فرمان ہے:﴿…وجعلنا بعضکم لبعض فتنة﴾ ’’اور ہم نے تم میں بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا  ہوا ہے ‘‘ ﴿أتصبرون﴾کہ تم  حق کے لیے ڈٹتے ہو کہ نہیں ڈٹتے ہو ، ’’تم صبر کرتے ہو کہ نہیں کرتے ہو!‘‘۔   مجاہدین کی آزمائش  ہوتی ہے  کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  جیسا اہم فرض ادا کرتے ہیں یا اس میں کوتاہی کرتے ہیں  ، اس طرح  وہ جہاد پر ڈٹتے ہیں یا   چند افراد کی  گندگی دیکھ کر فرض عین جہاد تک کو  چھوڑ  کر  اللہ کی ناراضگی مول لیتے ہیں ۔ ظاہر ہے جہاد اللہ کی طرف سے فرض  ہے… ظلم اور کفر کے خلاف ہتھیار لیکر لڑ نا   اللہ کی کتاب نے فرض کیا ہے… ہر مسلمان سے اس فرض کے حوالے سے پوچھا جا ئے  گا، ایسے میں چند افراد کی خرابی کا بہانا بنا کر فرض کو نہیں چھوڑا جا سکتا !یہی آزمائش ہے مجاہدین کے لیے ، اور مسلمان عوام کے لیے بھی !

پھر دیکھیے   وہ کون سا میدان ہے، دین کا کون سا شعبہ ہے  کہ   جس میں سب کے سب  لوگ اچھے ہوں؟ ! ظاہر ہے ایسا  کوئی  میدان نہیں ہے! ہر میدان میں اہل خیر بھی ہوتے ہیں اور شر والے بھی! اور پھر وہاں اہل خیر کا ساتھ دے کر شر والوں کے سامنے بند باندھنا   مطلوب  ہوتا ہے !؟ یہی امتحان ہے ۔اس طرح یہاں یہ بھی عرض کروں کہ دو پیمانے کیوں ہیں ؟! یعنی تمام دوسرے میدانوں میں برے لوگوں کی موجود گی کے باوجود  میدان   نہیں چھوڑا  جاتا، میدان کو برا  نہیں کہا جاتا مگر میدان جہاد میں چند افراد  کا دشمن کی گود میں گرنے کے سبب پوری  تحریک جہاد  پر انگلیاں اٹھائی جائیں  ۔یہ کہاں کا  انصاف ہے؟ کہاں کا عدل ہے ؟! جمہوریت کا میدان  دیکھیے ، اس میں  شر ہی شر غالب  ہے۔ یہاں  برے سے برے، ڈاکو ؤں اور قاتلوں کی موجودگی میں  بھی  جمہوری  نظام  کو برا نہیں کہا جاتا  ،بلکہ بروں کی موجودگی کو جمہوریت کا حسن  کہتے ہیں ۔لیکن میدان جہاد کے لیے بالکل ہی الگ کسوٹی ہے ، یہاں صالحین اور مخلصین کی اکثریت ہے ،الحمد للہ ۔ اس اکثریت کے بیچ اگر چند افراد  غیر شرعی  افعال کا ارتکاب کریں تو پوری تحریک جہاد کے خلاف بولنا پھر جائز سمجھا جاتا ہے! یہ عدل نہیں ہے ، یہ علم کا تقاضہ نہیں ہے… یہ رسول اللہ ﷺ کا اسوہ نہیں ہے!

سوال: تو ایسے غیر شرعی  افعال روکنے کے لیے  یہاں تحریک جہاد میں   کچھ کوشش بھی    ہوئی  یا ان کے مقابل مکمل خاموشی رہی  ؟

استاذ اسامہ محمود:دیکھیے ،پہلے اپنی جماعت کا ذکر کروں، غلط اور غیر شرعی   کاموں کے  ہم  اور ہماری جماعت روز اول سے  مخالف رہے، … مگر صرف  ہم مخالف نہیں رہے … عدل یہ ہے ، حقیقت یہ ہے کہ  اپنی جماعت سے باہر بھی الحمدللہ    محسود سے سوات اور باجوڑ تک تحریک جہاد میں  جو صالحین اور مخلصین   کی  اکثریت ہے،  اس صالح اکثریت نے بھی   ان غیر شرعی عناصر کو کبھی پسند نہیں کیا … یہاں میں چاہتا ہوں کہ اس  اکثریت کے حوالے سے  پہلے  تھوڑی سی تفصیل آپ کے سامنے رکھ دوں ۔ دیکھیے محسود سے سوات اور باجوڑ تک  اس صالح اکثریت نے تاریخی قربانیاں دی ہیں ، ان میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جنہوں نے شریعت کی محبت اور امت کی نصرت کی خاطر  اپنا گھر بار ، بستیاں اور علاقے سب کچھ کھنڈر کروائے ہیں۔  آ ج یہ مظلوموں کی نصرت کے  جرم میں  دربدر ہیں، ان کی جائیدادیں ، کاروبار ، جمع پونجی سب کچھ لٹ گیا ہے ۔ایک ایک قبیلے ، حلقے اور خاندان کی شہادتوں ، آزمائشوں اور قربانیوں کی یہاں  ایک عظیم  داستاں ہے ۔پھر یہ سب قربانیاں بغیر کسی دنیاوی  صلہ کے ہیں  ، یہ  صرف اللہ سے اجر کی امید رکھتے ہیں ، پاکستانی فوج کا سپاہی مرتا ہے تو اس کے خاندان کو پیسے اور پلاٹ ملتے ہیں، جبکہ یہاں سب کچھ بلا معاوضہ  خالص اللہ کے دین اور اس  امت کی خاطر لٹ گیا ہے ۔

لہذا یہ جو صالح اکثریت ہے یہی تحریک جہاد پاکستان  کی  اصل ہے  اور حقیقت یہ  ہے  کہ جب بھی جہاد کو بدنام کرنے کا فعل ہوا ، جب بھی تحریک جہاد کے اندر غیر شرعی فعل یا  فکر نے جگہ لینا چاہی تو یہاں موجود مصلحین نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور مجاہدین کی  اس صالح اکثریت میں  بھی ایسے افعال یا افراد کے خلاف  الحمد للہ نفرت نظر آئی ۔

پھر یہ بھی ہمارے سامنے ہو کہ  القاعدہ کے مشائخ اور قائدین سمیت ………جہاد پاکستان میں محسود سے لیکر سوات اور باجوڑ تک  موجود دیگر مصلحین  نے  بھی  تحریک جہاد کو مسلمانوں کی ہدایت ، حفاظت  اور خیر خواہی جیسے شرعی مقاصد پر قائم رکھنے  کے لیے  بھر پور کوششیں کی ہے  اور اس کے نتائج ان شاء اللہ  ضرور نظر آئیں گے ۔

السحاب: آمین، مصلحین جہاد  کی ان  کوششوں  کی  کچھ تفصیل بتائیں گے؟

استاذ اسامہ محمود: جب پاکستان کے اندر بعض دھماکوں  میں مسلمان عوام کا نقصان ہوا تو شیخ اسامہ ؒ،  شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ اور شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ سے لےکر استاد احمد فاروق  رحمہ اللہ اور امیر محترم مولنا عاصم عمر حفظہ اللہ سمیت سب قائدین اس پر بے چین ہوئے اور یہ سب اصلاح جہاد کے میدان میں کود پڑے ۔ اس طرح  مفتی ولی الرحمان اور اعظم طارق رحمہما اللہ سے لیکر سوات و باجوڑ تک میں  جو  دیگر مصلحین  جہاد ہیں … اللہ ان کی مدد فرمائے ، تو مشائخ نے ان سب  کے ساتھ مل کر سیاسی طور پر بھی ایسے غیر شرعی عناصر کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی…اس موضوع پر بیانات و فتاوی  دئیے ،  جہادی قائدین کو خطوط لکھے ، ملاقاتیں کیں  اور خود اپنے عمل سے بھی  اصلاح جہاد  کی کوششیں کی  ۔شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے گھر  سے امریکیوں کو جو دستاویزات  ہاتھ لگی ہیں اور جو اب نشر بھی ہو چکی ہیں ، یہ مواد بھی ان قائدین کا درد بتا تا ہے  اور ان کے ظاہر اور باطن کے ایک ہونے پر یہ مواد شاہد ہیں، ان دستاویزات سے مشائخ جہاد کی  اللہ کے سامنے جواب دہی کی فکر ، ان کی اس امت کے ساتھ محبت اور مسلمان عوام کے ساتھ خیر خواہی کی انتہاء واضح نظر آتی  ہے۔ان میں سے ایک خط میں شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے پنڈی کی ایک کارروائی پر نقد کی ہے ، اس کا روائی میں حالانکہ  بڑی تعداد میں فوجی افسر  ہدف بنے تھے ، فوج   کا ایک بڑا مجرم جو وائس چیف تک رہا ہے ، جرنل یوسف  اس کارروائی میں زخمی ہوا تھا ، مگر اس حد تک اہم کارروائی کو بھی شیخ نے خطا کہا ہے ، اس لیے کہ یہ کارروائی مسجد میں ہوئی تھی ، شیخ نے نصیحت کی ہے کہ  مساجد اللہ کے  گھر ہیں ، ان   میں لوگ نماز کے لیے آتے ہیں ، لہذا کوئی بڑا سے بڑا مجرم بھی   مسجد میں ہو تو  اس  کو نشانہ نہ بنایا جائے، شیخ نے اس خط میں عوامی مقامات  یعنی ایسی جگہیں جہاں عام مسلمان  موجو د ہوں  …جیسے بازار ، پارک ، کچہری  اور اس طرح کی دیگر جگہیں تو ایسے  مقامات میں شیخ نے مسلمان عوام کی حفاظت کی خاطر  بڑے بڑے  مجرمین تک کو بھی  مارنے سے منع کیا ہے ۔

یہاں  میں شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ  کے   اس حوالے سے دلی درد کی ایک مثال اور واقعہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ، غالباً 2010  کا واقعہ ہے ،   اسٹیڈیم اور جنازے میں دھماکے ہوئے ، ہدف مجرمین ہی تھے مگر  ساتھ ساتھ  عام مسلمان بھی شہید ہوئے ، یہ وہ وقت تھا جب وزیرستان میں مشائخ کی شہادتوں میں تیزی آئی تھی  اور  ہر چند روز بعد ڈرون بمباریوں میں القاعدہ کا کوئی ذمہ دار شہید ہو جاتا۔ شیخ مصطفی ابو یزید شہید ہوئے تھے اور شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ امریکیوں کی لسٹ   پر تھے ۔اس دوران  شیخ کا ایک بیان نشر ہوا ، جو کافی سنا گیا ہے اور آج  بھی یہ بیان عالمی تحریک جہاد میں مصلحین جہاد کے لیے انتہائی اہمیت  رکھتا ہے، اس بیان کے مندرجات تو سب جانتے ہیں ، مگر یہ بیان کن حالات اور کس درد اور  اخلاص کے ساتھ ریکارڈ ہوا ہے، یقیناً بہت کم لوگوں کو  اس کا علم ہے ، آپ رحمہ اللہ شمالی وزیرستان کے ایک علاقے میں  آئے تھے ، دو دنوں سے چار چار ڈرون اس گھر پر منڈلا رہے تھے ، واضح نظر آرہا تھا کہ یہ شیخ کی تلاش میں ہیں ، شیخ نے ضروری کام کا کہہ کر فاصلے پر موجود ایک گھر کی طرف جانا چاہا، گاڑی چلانے والے  بھائی کے ساتھ شیخ اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے ، گاڑی جب گھر کے قریب پہنچی تو ایک اوٹ سے گزرتی ہوئی آہستہ ہوئی …تاکہ شیخ اس انداز میں  اتریں کہ  ڈرون کو نظر نہ  آئے ،شیخ اتر کر گھر میں داخل ہوئے اور  گاڑی کوئی پندرہ میٹر آگے گئی تھی کہ ڈرون نے اس پر دو میزائل داغے ،گاڑی تباہ ہوئی اور ساتھی شہید ہو گیا، پھر  جس گھر سے شیخ نکلے تھے ، وہاں سے ایک بھائی شیخ کے احوال جاننے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر نکلے ،جیسے ہی موٹر سائیکل اس گھر کے قریب آئی ، اس پر بھی میزائل لگا اور یہ بھائی بھی ٹکڑوں میں بٹ کر شہید ہوئے ،اب دیکھیے ، دائیں بھی بمباری  ہوئی اور بائیں بھی بمباری ہوئی ، ذرا سوچئے کہ اس وقت شیخ  کا کیا حال ہو گا ، شیخ اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے ؟مگر اس حال میں ،…… میزبان کے مطابق ، وہ جوصاحب بیت تھے ان کے مطابق ، جیسے ہی شیخ   نے  تھوڑی سی سانس لی تو کہا کہ کیمرا کھولو، میں نے بیان ریکارڈ کرانا ہے ، کیمرا آن ہوا اور شیخ نے یہ تاریخی الفاظ  ریکارڈ کر وائےکہ :

’’ ہماری تنظیمیں ختم ہو جائیں ، ہمارے منصوبے سب خاک میں مل جائیں مگر خبردار کہ ہمارے ہاتھ کسی ایک مسلمان کا بھی ناحق خون بہے …‘‘[11]یہ  وہ اللہ کے مجاہد بندہ  ہیں جو ایک طرف  امریکہ اور اس کے محافظ  پاکستانی جرنیلوں کے خلاف  خود لڑتے تھے  اور انہیں مارنے پر  تحریض دلاتے ہیں تو دوسری طرف انہیں پشاور ، لاہور اور کراچی کے  مسلمان عوام  کی حفاظت  اور ان کی ہدایت کی  اس قدر   فکر اور تڑپ تھی ، اللہ انہیں اجر دے ، جہاد پاکستان، غزوہ ہند کی تقویت اور اصلاح میں   محسود سے سوات و باجوڑ بلکہ پورے پاکستان میں ایسے مصلحین جہاد کی کمی نہیں  رہی ہے  …اور اللہ سے امید ہے کہ یہ قافلہ  ان  مخلصین اور مصلحین کی کوششوں   ،قربانیوں اور دعاؤں کی بدولت   ان شاء اللہ مسلمان عوام  کے لیے رحمت  اور نعمت ثابت ہو گا۔

السحاب: ان شاء اللہ…… ناظرین یہاں پر نشست کا  تیسرا حصہ ختم ہو رہا ہے، اسی موضوع کو اگلے حصے میں جو آخری بھی ہے آگے بڑھائیں گے ، ان شاء للہ ، تب تک کے لیے اللہ حافظ۔۔جزاکم اللہ خیرا

 

تحریک جہاد برصغیر ، حقیقت  و حقانیت!

(چوتھی  و آخری  نشست   )

جہاد پاکستان … فکری صف بندی، تیاری  اور پیش قدمی

السحاب: سابقہ نشست میں ہم نے جہاد پاکستان کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی، آپ کی باتوں سے یہ واضح  ہے کہ پاکستان میں مصلحین  جہاد ایک کشمکش سے گزر رہے ہیں  ۔ایسے میں خود تحریک جہاد پر اس کشمکش کے کیا اثرات واقع ہوئے  ہیں؟

استاذ اسامہ محمود: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي  يَفْقَھُوا قَوْلِي، دیکھیے،پچھلی نشست میں اس پر بات ہوئی  کہ  غیر صالح  عناصر  ہر دورمیں رہے ہیں    ،اسی میں آزمائش ہوتی   ہے !  یہاں   بھی رہے، اقلیت میں رہے   اور مجاہدین کی صالح اکثریت کی ان کے سبب بدنامی ہوئی ۔

اس طرح  اس پر بھی بات   ہوئی کہ  اس  اقلیت کے شر سے تحریک جہاد  کو محفوظ کرنے  کے لیے   محسود سے سوات اور باجوڑ تک مصلحین  جہاد اور پھر القاعدہ کے مشائخ و قائدین     روز اول سے مصروف رہے  اور آج بھی الحمد للہ یہ کار خیر رکا نہیں  ہے …

یہاں عرض کردوں کہ  اللہ رب العزت اپنے بندوں کوجب  آزماتاہے اور یہ بندےبہرصورت  حق کی مددا ور نصرت کرتے ہیں تو اللہ بھی اپنے بندوں کو بغیرنصرت    کے نہیں چھوڑتا…  ، صالحین اور مصلحین اگر حوصلہ نہ ہاریں ،  اپنے فرائض اد ا کرتے رہیں ، تو اللہ کی مدد اور نصرت ضرور آتی ہے  ، ظلم و   کفر کے مقابل جہاد اور قتال    فرض ہے  جبکہ داخلی صفوں میں  امربالمعروف اور نہی عن المنکر  بھی فرض  ہے ، یہ دونوں فرائض ہیں ، ان دونوں فرائض پر مجاہدین ڈٹے رہیں  کسی ایک میں بھی  کوتاہی  اگر نہ دکھائیں ، تو اللہ  مدد فرماتا ہے   … مختلف  صورتوں میں   یہ مد د آتی ہے ،جس میں سے ایک  اہم  صورت چھا نٹی   ہے۔ یہاں 2013 کے بعد   اللہ   کی طرف سے چھانٹی کا عمل شروع ہوا،اور   یہ  تا حال جاری ہے ،اللہ ہماری اصلاح فرمائے اور ہمیں صالح اور مصلح  بننے کی توفیق دے ۔تو دو طرح کی چھانٹی  قابل ذکر ہے ، پہلی چھانٹی داعش کے  فتنے  کی صورت میں ہوئی ، جو لوگ جہاد کی  بدنامی کے باعث رہے ،داعش   کے اس فتنے نے   ان کے لیے مقناطیس  کا کردار ادا کیا  ، جیسے ہی  شام وعراق میں  اس فتنے نے سر اٹھایا، تو پوری دنیا سے ، جہاں کہیں  بھی  جہاد کو بدنام کرنے والے عناصر تھے ، کیاپاکستان و خراسان اور کیا نائیجریا کے بوکوحرا م  والے ، ان سب کی طرف سے بیعت آنا شروع ہوئیں! جو  بھی بیعت  آتی ، تو ہم دیکھتے  تھے کہ اللہ معاف فرمائے یہ تو  وہی  ہے جو  جہاد  کی بدنامی کا باعث رہا  ، وہی ہے جو خون مسلم میں احتیاط نہیں کرتا تھا اور جو دیگر اہل  دین کے ساتھ معاملات میں عدل  پر نہیں رہتاتھا، تو یہاں   خراسان و پاکستان  سے  بھی  اکثر ایسے  جہاد کو بدنام کرنے والوں نے   ہی   داعش  کا رخ کیا  اور الحمد للہ جہادی صف ایک حد تک صاف ہو گئی۔

دوسری چھانٹی آزمائش کی صورت میں جاری ہے ، اللہ استقامت دے ہم سب کو ، اس آزمائش کے نتیجے میں   جہاد کو  بدنام کرنے والوں کی ایک   قابل ذکرتعداد  جہادی صفوں سے نکل کر    فوج کے سامنے تسلیم ہو ئی  ۔ دیکھیےعبرت  کا  مقام ہے کہ فوج کے سامنے وہی افراد تسلیم ہوئے  جو  میدان جہاد میں   ظلم کرتے تھے اور  جو جہاد  کی  بدنامی  کاباعث تھے ، گویا ایسے لوگوں نے  میدان جہاد میں بھی رہ کر ہمیشہ  دشمن کو فائدہ دیا  ۔حقیقت ہے کہ جو شخص اپنوں کےساتھ ، مسلمانوں کے ساتھ نرم نہیں  ہو  ،وہ مسلمانوں کے حقوق ادا  نہیں کرتا  ہو وہ کفار کے لیے سخت نہیں ہو سکتا ہے ،اور کسی خاص موقع پر اس کی یہ حقیقت   بھی کھل جاتی ہے ،اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔

تیسرا  اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اب  الحمد للہ پورے میدان جہاد میں اصلاح کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں اور ایسے   مصلحینِ جہاد میں  اضافہ ہوا ہے  جو داخلی صف کی اصلاح کے لیے کمر بستہ ہیں ، الحمد للہ جہاد پاکستان میں صالحین اور مصلحین کی پہلے بھی کمی نہیں تھی مگر اہم مفاہیم  اور مسائل سمجھنے میں پہلے جو ابہام تھا ، وہ ان آزمائشوں نے صاف کر  دیا ہے اور الحمد للہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  پر عمل کی برکت ہے کہ  پوری تحریک جہاد  کی آج  اصلاح ہو رہی ہے۔ آج ایک  بڑی خیر جو  برآمد ہوتی نظر آ رہی ہے وہ مجاہدین کی ایک  فکری اور عملی صف بندی ہے  ،  اخلاص ، قربانیوں اور عزائم   کی پہلے بھی کمی نہیں تھی ،اس دفعہ ان  کے ساتھ ساتھ  الحمد للہ تجارب اور اسباق  بھی  ہیں ، نتیجتاً  یہ قافلہ  ان شاء اللہ پاکستان کے لیے ہی  نہیں بلکہ پورے برصغیر کے لیے ایک عظیم نعمت اور عظیم خیر  ثابت ہوگا۔ اللہ  تعالیٰ کی مشیئت یہی سمجھ آتی ہے کہ چونکہ   اس قافلے کو پاکستان کے قبائل سے لیکر سری نگر اور دہلی تک   میں  ظلم اور کفر  کے اندھیروں کو ختم کرنا ہے اور چونکہ یہ ایک  انتہائی ثقیل  ذمہ داری ہے ، اس  لیے اس قافلے کو پاک  کرنا اور اس کو تربیت  سے گزارنا   ضروری تھا، اس کی خاطر ان شاء اللہ  یہ  آزمائش  سے گزارا گیا اور گزرا  جا رہا ہے ۔ اللہ سے  امید ہے کہ  بہت جلد ان شاء اللہ یہ  تحریک جہاد  غزوہ ہند کے  اس مبارک میدان میں عملاً پیش قدمی کرتے ہوئے آگے بڑھے گی۔

السحاب: آج دشمن مجاہدین کو گرانے کے لیے  بعض گروہوں پر ایجنسیوں کے ساتھ تعلق کا  الزام لگاتا ہے ۔ ایجنسیوں کے ساتھ تعلق کے  بارے میں  خود  القاعدہ  کا کیا موقف کیا ہے؟

استاذ اسامہ محمود :ایجنسیوں کے حوالے سے پہلے اصولی بات  ذکر کر دوں، ہماری جماعت ، القاعدہ کے دعوتی موضوعات میں سے ایک اہم موضوع جہاد کو طواغیت کے اثر سے مکمل طور پر آزاد کرنا ہے ، ہمارا موقف ہے کہ جہاد اپنے شرعی مقاصد حاصل نہیں کر سکتا ہے جب تک یہ ایجنسیوں میں سے کسی کا بھی  یہ تابع  اور غلام رہے ۔امارت اسلامی افغانستان پر بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ ایجنسی کے تحت رہی ہے ، یہ تہمت ہے ، اگر امارت اسلامی کسی ایجنسی کی غلام ہوتی تو امریکہ اور نیٹو اپنے سپاہی مروانے لاؤ لشکر سمیت یہاں نہ آتے  ،اس لیے کہ جس ایجنسی کی بات کی جاتی ہے  اس کے جرنیل    اپنے ایٹم بم سمیت صرف ایک فون پر اس وقت ڈھیر ہو گئے تھے  ،پرویز مشرف کی کتاب In The Line Of Fire بھی اس گواہی کے لیے کافی ہے ، …وہ خود کہتا ہے کہ طالبان ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی تک کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے  تھے اور علماء کے وفد کے ساتھ جنرل محمود گیا تو علماء کوملا عمر نےیعنی امیر المؤمنین نے کمرے میں بلوایا جبکہ جنرل محمود کے ساتھ ملنے تک سے انکار کیا اور اسے برآمدے میں رکنا پڑا  ، غرض یہ ہماری جماعت کا موقف ، دعوت اور طرز عمل ہے ، کہ جہاد ایجنسیوں کے تابع ہو کر کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ شیخ اسامہ رحمہ اللہ  کا یہ قافلہ پچھلے تیس سال سے امریکہ اور عالم کفر کے خلاف میدان جہاد میں کھڑا ہے، دنیا کی تمام ایجنسیاں اور حکومتیں اس قافلے کے خلاف مکمل طور پر متحد ہوکر  تعاون کے ساتھ لڑ رہی ہیں ، اس عرصے میں جماعت کے چوٹی کے قائدین گرفتار ہوئے ، شیخ اسامہ کے گھر ایبٹ آباد سے القاعدہ کا بہت سارا مواد پکڑا گیا ، مگر آج تک کوئی ایک دشمن اور ایک ایجنسی بھی اس جماعت پر الحمد للہ  یہ الزام تک نہیں لگا سکی کہ اس کا دنیا کے کسی  ایجنسی سے تعلق ہے! اس پر ہم اللہ تعالی کی تعریف کرتے ہیں ، ساری تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں! اللہ ہمیں اس منہج پر ثابت قدمی دے ،

پھر ہم یہ بھی بتائیں کہ آئی ایس آئی اور ’را ‘دونوں برابر کے  شریعت اور جہاد کی دشمن ہیں اور دونوں کے لیے دل میں نفرت اور دشمنی رکھنالازم  ہے مگر یہ دونوں ہندوستان اور پاکستان کے عام مسلمانوں کی نظر میں قطعاً برابر نہیں ہیں ۔آئی ایس آئی کی خباثت بتانی پڑتی ہے ، اس کی تاریخ ، اسلام دشمنی کے معرکے اور کفر کے دفاع میں مسلمانوں  کے خلاف اس نے جو فتح کے جھنڈے  گاڑے ہیں وہ  گنوانے پڑتے ہیں جبکہ را سے نفرت ہر خاص و عام کے دل و ذہن میں الحمد للہ راسخ ہے  اور ماشاء اللہ  یہاں ہم مجاہدین کے رگ  و خون میں  راء کی دشمنی  رچی بسی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امیر محترم مولنا عاصم عمر صاحب حفظہ اللہ  ایک دفعہ ساتھیوں کو ایجنسیوں کی باہمی چپقلش سمجھا رہے تھے ، کہ باطل قوتوں کی بھی آپس میں جنگ اور دشمنی ہوتی ہے فرمایا کہ آئی ایس آئی اور فوج آج مجاہدین کے خلاف  لڑ رہی ہیں، ایسے میں اگر ’را ‘ یعنی بھارتی ایجنسی ، فوج  ہماری اس آزمائش سے فائدہ اٹھانا چاہے ، وہ  ہمیں طیارہ شکن میزائیل دینے کی پیشکش کرے  تو ہمیں لینا چاہئے یا نہیں  ؟ ! امیر محترم نے فرمایا ’ سب ساتھی شہید ہو جائیں ، یہ  کوئی نقصان نہیں ہے، اس سے ان شاء اللہ تحریک جہاد کو فائدہ ہوگا  مگر را کے ساتھ ایسے تعاون کی خاطر  اگر صرف رابطہ  بھی  ہم نے  کر لیا تو  اس پوری جہادی تحریک کے لیے  یہ موت ہے!‘‘

السحاب: جو لوگ پاکستانی فوج  کو تسلیم ہوئے ہیں ،  وہ   جہاد پاکستان  کے بعض گروہوں اور افراد  پر الزامات لگائے ہیں، اس کے حوالے سے آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟

استاذ اسامہ محمود: اس حوالہ سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے افراد کی کسی  بھی بات کا اعتبار  نہیں ،اس لیے کہ یا تو  قیدی ہیں  اور جب قیدی ہیں تو  اس حال میں یہ مجبور ہیں  یا  دوسری صورت میں یہ خود گئے ہیں  ، تسلیم ہوئے ہیں ،  تو جب یہ خود  گئے ہیں تو بہت کچھ چھوڑ کر گئے  ہیں ، ایسے میں   ان کی یہ باتیں شرعاً  اور عقلاً کسی بھی لحاظ سے قابل اعتبار نہیں  ہیں۔پھر   شریعت  کی دشمن آئی ایس آئی کی گود میں بیٹھ کر کسی پر دوسری اسلام  دشمن ایجنسی را سے تعلق  کا الزام لگانا  کیا وزن رکھتا ہے؟ ،  جہادی جماعتوں کو اگر جاننا اور سمجھنا ہو تو ان بے اختیار لوگوں کی زبان سے مت سمجھئے ،اس کے لیے ان جماعتوں کے خود اپنے اقوال اور افعال کافی ہیں ، ان سے ان کو پہچانیے  ۔

دوسری بات …یہ ہے کہ  ان  افراد سے پہلے سوات کے مسلم خان ، باجوڑ کے مولوی عمر اور مولوی فقیر محمد ، اللہ تعالیٰ ان  سب کو ثابت قدمی دے، رہائی دے  اور دشمن کے شر سے ان کی حفاظت فرمائے، یہ سب  بھی گرفتار ہوئے ہیں ۔ محسود کے محترم مفتی ولی الرحمان  اور اعظم طارق شہید رحمہم اللہ کے بھی بہت سارے مجاہدین  قیدی بنے ہیں، تحریک جہاد کی  دیگر جماعتوں  کی بھی خاصی   تعداد  جیل میں ہے ، ان سب پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ، کئی تو  عقوبت خانوں کے اندر شہید ہوئے اور ان کی چھلنی لاشیں باہر نکلی ہیں ، ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ ’’انکشافات  ‘‘نہیں کیے ہیں جو یہ افراد کر رہے ہیں ؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ پوری  جہادی تحریک کا  نہیں ہے … اگر ان  افراد کی چند باتوں کو   صحیح بھی مانا جائے  ، تو وہ بس اتنا ہی   ہے کہ    مسئلہ  ان افرا د  کا  اور ان  کے  چند  ہم نواؤں کا  تھا… اس پوری جہادی تحریک کا قطعاً نہیں ہے !

تیسری بات …یہ ہے ،کہ فرض کرتے ہیں یہ افراد خود مخلص تھے   اور انہیں  میدان   میں جہاد کو بدنام کرنے والے چند افراد نظر آئے   ۔تو سوال ہے کہ   ایسے   افراد کے مقابل صالحین کا یہ جم غفیر کیوں ان کی نظروں سے غائب رہا ؟ محسود سے سوات اور باجوڑ تک   بلکہ پورے پاکستان کی اس صالح اکثریت کی  یہ عظیم قربانیاں  کیوں ان کی نظروں سے اوجھل رہیں؟ یہاں  بے شمار مجاہدین  اور گروہ ایسے ہیں جو تمام خفیہ ایجنسیوں کے خلاف میدان کھڑے  ہیں ، ان  مجاہدین پر ان کی نظر کیوں نہیں پڑی ؟ گنے چنے چند مفسدین کے مقابل مصلحین کو    انھوں نے تقویت کیوں نہیں دی ؟پھر سوال ہے کہ   غیر صالح اقلیت ، چھوٹے سے ٹولے ، چند افراد کے مقابل   انہیں کون  صالح نظر آیا ؟؟ وہ جن  سے انہوں نے معافی مانگی ؟ یہ  قاتل ، یہ  ظالم اور روپے پیسے کی غلام فوج اور ایجنسی والے؟

دیکھیے ، دو سال پہلے  اعظم طارق  محسود رحمہ اللہ سے ملنے میں ان کے گھر گیا، گھر کیا تھا ، چھوٹے چھوٹے چند خیمے تھے  ، سخت سردی تھی ،خیمے میں ہم نے ایک رات ساتھ گزاری مگر اعظم طارق رحمہ اللہ  بچوں سمیت  پچھلے آٹھ مہینوں   سے برف باری کے وقت بھی انہیں خیموں میں  رہے  اور اسی خیمے کے آس پاس آپ اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ شہید ہوئے ۔اب سوال ہے ؟؟ راء کے ایجنٹ ایسے ہوتے ہیں ، ایسے رہتے ہیں ؟ کیا  راء اور آئی ایس آئی کے ایجنٹ اپنے گھربار اور بچوں کی قربانی  دیتے ہیں؟؟راء اور آئی ایس آئی  والے  تو روپے پیسے  اور اپنی راحت و عافیت کے لیے  دوسروں کے  گھر  تو تباہ  کرتے ہیں، اپنے گھر بار اور اپنے بچوں  کی کبھی  وہ قربانی نہیں دیتے ہیں۔

پھر افسوس ہے کہ یہ جو الزامات لگا نے والے ہیں ، جب یہ خود میدان جہاد میں تھے توجہاد  ان کے افعال کے سبب  بدنام ہوا، دعوتِ جہاد کو دفن کرنے اور مجاہدین سے لوگوں کو ، اپنی اس قوم کو ، متنفر کرنے میں اس ٹولے  نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔

السحاب: عوام کے اندر دھماکوں کے حوالہ سے آپ کی کیا رائے ہے،  یہ کون کراتے ہیں اور کیا مقاصد ہیں؟

استاذ اسامہ محمود: دیکھیے  ،    ہم بار بار اس موقف کا اظہار کر چکے ہیں اور ابھی دوبارہ یہ اصولی موقف آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ،  وہ یہ کہ   بھارتی فوج  ہو یا  پاکستانی  فوج   یہ  سب افواج  مسلمانوں کی قاتل ، شریعت کی دشمن اور ظالم   افواج ہیں  ، ان کے ساتھ دشمنی      جبکہ   ساتھ ہی ساتھ مسلمان عوا م کی حفاظت  اور ان کی خیر خواہی   ، یہ دونوں  واجب ہیں اور  یہ    جہاد کی کسوٹی ہے ،اس  کسوٹی پر جو پورا  اتر تا ہے  ، وہ مجاہد ہے  اور جو  پورا نہیں اترتا  ، جو مسلمان عوام کو قتل کرتا ہے،   وہ قاتل  ہے  ، وہ ظالم ہے  ،وہ  مجاہد نہیں  ہے   ۔

پھر عرض کروں کہ مسلمان عوام کا  یہ قتل ایک انتہائی قبیح فعل ہے ، اس  سے  پاکستان ہی نہیں ، افغانستان  اور بھارت سمیت اس پورے خطے میں جہاد اور  تمام اہل خیر مجاہدین بدنام ہوتے ہیں، اب خطے میں مخلص مجاہدین کوبدنا م کرنے  کا یہ ہدف  کسی ایک  فوج اور ایجنسی کا  نہیں ہے  ، راء ، سی آئی اے اور آئی ایس آئی سمیت ان    سب  شیاطین کا یہ مشترکہ   ہدف ہے ۔لہذا  اس قسم کی کاروائیوں سے یہ سب شیاطین مستفید ہوتے ہیں جبکہ نقصان…  تو وہ صرف جہاد،  مجاہدین اور مسلمان عوام کا ہوتاہے ۔

مجاہدین پر ایجنسیوں کے ایجنٹ  ہونے کا الزام  عموماً لگایا جاتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ  ایسے میں کھرے اور کھوٹے کی تمیز کیسے کی جائے ؟

استاذ اسامہ محمود:آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے یہاں  چند نکات رکھنا ضروری سمجھتاہوں ،دیکھیے پہلا  نکتہ یہ ہے کہ تہمتیں   باطل کا پرانا ہتھیار ہے ، یہ ہتھیار اتنا ہی پرانا ہے جتنی حق اور باطل کے درمیان جنگ پرانی ہے   ،یہاں اس خطے میں سید أحمد شہید رحمہ اللہ  جیسی عظیم ہستی کی جہادی تحریک بھی گزری ہے ، آپ رحمہ اللہ پر  بھی انگریزوں کے ایجنٹ  کا الزام  لگا تھا۔ غرض یہ اس راستے کے  لوازمات ہیں ،اور  اسی میں امتحان ہے ، مجاہدین کے لیے   بھی یہ امتحان ہے  اور مسلمان عوام کا بھی اس میں آزمائش ہے۔

دوسرانکتہ  یہ ہے کہ  آج   پہلے سے کہیں زیادہ  جھوٹ ، دجل اور فریب کا غلبہ ہے  ،   نت نئے آلات اور اسلوب  سے  سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کیا جاتا ہے  ،   حدیث میں  اس  دور  کو دھوکے کا  زمانہ کہا گیا ہے اور صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا ،خائن کو دیانت دار اور دیانت دار کو خائن بتایا جائے گا۔  تو یہ تو اس دور کی خاص صفت ہے مگر اس کے  ہوتے ہوئے  بھی  اللہ نے  ہم سب کو  مکلف بنایا ہے کہ  دجل اور  فریب  کے اس غلبے  کے باوجود   بھی  ہم حق  کو پہچانیں او رپھر باطل کےمقابل حق کی نصرت کے لیے کھڑے ہوجائیں اور اللہ کے ہاں بھی اسی کا پوچھا جائےگا۔

تیسری بات یہ ہے کہ خفیہ ایجنسی والے لاکھ چالیں چلیں اور لاکھ منصوبے بنائیں ، اہل ایمان کے مقابل یہ  ساری چالیں اور سارے منصوبے  ناکام و نامراد ثابت ہوں گے،  ہمارا یقین ہے کہ آج نہیں تو کل ا  ان شاء اللہ ایسا ہوگا  ۔حقیقت یہ ہے کہ خفیہ ایجنسی والے دجل وفریب ، جھوٹ اور میڈیا کے زور سے جتنا بھی اپنے آپ کو کوئی بڑی ’شے‘ مشہور کرائیں، چونکہ یہ اللہ کے  دین کے خلاف لڑ رہے  ہیں، یہ اللہ کے خلاف جنگ کر رہے ہیں   اسلیے  ان سے زیادہ بے وقوف اور أحمق کوئی نہیں ہیں ، یہ اس لیے بھی انتہائی  بدترین اور گری ہوئی  مخلوق ہے کہ حق اور باطل کی اس جنگ میں عام لوگوں   کی نسبت یہ  زیادہ حق کو  جانتے ہیں ، اہل جہاد کے ساتھ  ان کا واسطہ دوسروں کی نسبت  زیادہ  ہوتاہے ،جیلوں اور عقوبت خانوں  میں   انہوں نے    مجاہدین کے صالح کردار دیکھے  ہوتے ہیں  اور اس کے ذریعے سے  اللہ  ان پر حجت قائم  کرتا ہے ، ایسے میں اس کے باوجود بھی جب  یہ پیٹ     کی خاطر  اللہ کے ان اولیاء کے خلاف  لڑ تے  ہیں تو اللہ بھی ان سے پھر عقل ا ورفہم چھین لیتاہے، ان  کی تمام تر    چالیں   بالآخر انہی کے اوپر پلٹادیتاہے، دنیا میں بھی  ان کو ذلیل کرتاہے  ، اپنے اور پرائے  سب کو پھر ان کی یہ  رسوائی   نظر آجاتی ہے اور آخرت تو آخر ت کی  طرف ہم سب نے لوٹ کے جانا ہے  ،اس کے لیے آج ہی  سب نے  اپنا اپنا فیصلہ کیا ہوا ہے کہ کون کس کے ساتھ اٹھے گا، کون بش ،اوبامہ  اورٹرمپ   جیسے ظالموں  کے ساتھ اٹھے گا اور کون  اللہ کے اولیاء مہاجرین اور مجاہدین کے ساتھ اٹھے گا۔ لہذا  ہماری مسلمان عوام  یہ حقیقت ہر وقت اپنے سامنے رکھے کہ  شریعت اور جہاد کے دشمن یہ  خفیہ ایجنسیوں والے   انتہائی کمزور  اور انتہا درجہ کے   احمق  مخلوق  ہیں ، اس احمق  دشمن کو اگر کہیں کوئی کامیابی ملتی ہے تو وہ درحقیقت  اللہ ان کو ڈھیل دیتاہے ، یہ اللہ کی حکمت ہے   اور اسی سے ان کو تباہ کرتاہے ، اور      اس میں  ان کی  اپنی کسی خوبی کا کوئی عمل دخل   نہیں ہوتا ۔

اب آپ کے سوال کی طرف آتاہوں ، دیکھیےمیدان جہاد میں  مسائل کی جڑ شریعت کی عدم اتباع ہے  ،خفیہ ایجنسی   مسئلہ  ضرور ہے مگر یہ اصل  مسئلہ  نہیں ہے  ،اصل مسئلہ شریعت سے آزادی ہے ۔  اگر کوئی جماعت شریعت سے آزاد ہے ، کیا جائز اور کیا ناجائز، کس کا خون مباح ہے اور کس کا غیر مباح ؟  اگر  ان امور میں وہ شریعت کی پیروی نہیں  کرتی  تو وہ  کسی خفیہ ایجنسی کے تابع ہو یا نہ ہو ، چونکہ اس کا اپنا منہج خراب ہے ،اپنا راستہ خراب ہے ، اس لیے یہ فساد در فساد پھیلائے گی ،جہاد اور امت کو یہ نقصان پہنچائےگی  ۔پھر ایسی جماعت کے لیے کسی ایجنسی کا آلہ کار بننے میں  بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے  ، اس لیے کہ اس نے اپنے لیے سارے جائز وناجائز راستے کھولے ہوتے ہیں  ۔اس طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ جو جماعت کسی ایجنسی کی تابع بنتی ہے ، تو وہ شریعت کی   تابع نہیں رہ سکتی ہے ، ایجنسی یا تو مقاصد جہاد پر اس سے سمجھوتہ کرواتی ہے  ، نفاذ شریعت، شریعت کی حاکمیت کی جگہ وطنیت اوردیگر   عصبیت پر مبنی جنگ   میں اسے دھکیلتی ہے  اور  اگر یہ ناممکن یا نامناسب  ہو  تو پھر دوسری صورت میں  قتل  ناحق یا دیگرغیر شرعی افعال کراکر اس سے  جہاد کو بدنام کرواتی ہے۔ اب  ان تمام  امور میں اصل  سبب کیاہے ؟  اصل شریعت کی عدم اتباع ہے ، خفیہ ایجنسی کاآلہ کار بننا    نتیجہ ہے ،اور  سبب  شریعت سے آزادی ہے ۔لہذا ہمارے سامنے   شریعت کی اتباع ہدف  ہو ، شریعت پر عمل ہوگا  تو ایجنسی کے لیے   آلہ کاری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا  اور یہی شریعت کی اتباع دوسروں کو جانچنے کی کسوٹی بھی ہے۔  دوسرے گروہوں کے حوالے سے  پردوں کے پیچھے ، رازوں کے پیچھےہم     نہ پڑیں ، ظاہری قول اورعمل  کو دیکھیں    ، ایک گروہ خود اپنا کیا تعارف کراتا ہے ،  کن  کارروائیوں کی  یہ ذمہ داری قبول کرتاہے ،  اگر  تو یہ سب  کچھ شریعت کے موافق  ہیں تو کوئی    لاکھ اسے  خفیہ ایجنسی  کا ایجنٹ کہے ، یہ سب تہمتیں  ہیں ، جھوٹ ہیں ، اور اکثر اس قسم کی  تہمتیں خود ایجنسیو ں کے جھوٹے فریبکار  لگاتے ہیں  ، اس لیے  اگر کسی جماعت کا ظاہری عمل شریعت کے مطابق ہے تو پھر   ایسی جماعت کی تائید لازم ہے  ، اب  آپ  اس جماعت میں خود ہوں یا نہ ہو مگر اس جماعت کے خلاف  جھوٹے پراپیگنڈوں کا رد  پھر  آپ پر  بھی لازم ہے ۔

اس کے برعکس اگر کوئی گروہ غیر شرعی  فعل  کر رہا ہو تو انفرادی اور اجتماعی طور پرحسب استطاعت سب مجاہدین پر اس کا تدارک   فرض بنتا ہے ۔دیکھیے نہی عن المنکر   فرض ہے اور اس فرض میں کوتاہی  انتہائی بڑا گناہ ہے،اسی کے سبب اللہ کی نصرت اٹھتی ہے اور سب مجاہدین پر اللہ کا غضب اتر سکتا ہے ، اللہ سب کو عافیت میں رکھے ، لہذا  اگر کہیں کسی گروہ یاچند  افراد سے جہاد کے نام پر  غیر شرعی کارروائی کا ارتکاب  ہوجاتا ہے  تو  اس غیر شرعی فعل   سے خالق اور مخلوق دونوں کے سامنے  براءت کرنا پھر لازم   ہوتاہے ، …آپ ﷺ نے  حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ  تک کی خطا سے براءت کی،جب ایک جنگ میں آپ سے خطا میں قتل ہوئے ،توآپﷺنے فرمایا ((اللهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ))’’یا اللہ! جو خالد(رضی اللہ عنہ ) نے کیا اس سے میں تیرے سامنے براءت کرتاہوں‘‘۔

پھر یہ براءت  آغاز میں افعال سے ہو افراد اور اس  گروہ سے نہ ہو ، …اس سے یہ امید بھی کی جا سکتی ہے  کہ وہ  افراد  خطا کی طرف متوجہ ہوں اور آئندہ پھر احتیاط  کریں  ……لیکن  اگر براءت نہیں کریں گے ، یعنی  سب مجاہدین اگرخاموشی اختیار کریں گے   تو عام مسلمان  اس  غیر شرعی اور برے  فعل کو عین جہاد سمجھیں گے یا اس ظلم کو اہل جہاد کی طرف  منسوب  سمجھیں گے ، یوں لوگ اس مبارک   جہاد سے متنفر ہوجائیں گے ،اور اس طرح  اس کا نقصان  جہاں  پورے جہاد کو ہوگا، وہاں  اللہ کے ہاں بھی اس خاموشی پر پکڑ ہوسکتی ہے ،ا سلیے  خاص اُس فعل سے براءت لازمی ہوجاتاہے ۔  ہاں  باربار تو جہ دلانے کے باوجود   بھی  اصلاح  اگر نہیں ہو رہی ہے تو پھر  کسی صالح گروہ کے ساتھ  خود اپنا  جہاد  جاری رکھتے ہوئے، ایسے گروہ   سے دور ہوجانا  اور  لوگوں کوبھی حسب استطاعت  دور کرنا  پھر   علماء نے لازم قرار دیا ہے ، دیکھیےامر بالمعروف اور نہی عن المنکر  وغیرہ کی ضرورت اور  فرضیت  ،اس کے  آداب او ر شرائط علماء نے اپنی  کتابوں میں  بیان کیے ہیں  ، ان کی طرف ہمیں   ضرور رجوع کرنا  چاہئے۔

السحاب :دولۃ  والے بھی  اپنے زعم میں  شریعت کی بات کرتے ہیں ،  وہ بھی جن کو  قتل کرتے  ہیں ،انہیں  وہ مسلمان سمجھ کر نہیں مارتے ہیں، پھر یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کون شریعت کی اتباع کرتا ہے اور کون نہیں ؟

استاذ اسامہ محمود: یہاں میں چند  باتیں عرض  کرنا چاہوں گا، پہلی بات یہ  ہےکہ  غلو  اور غیر شرعی افعال کی یہ صفت ہم صرف   داعش  سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ خاص نہ کریں  ،   نفرت ان  خاص    افکار  ،  افعال اور  اخلاق  سے ہو جن  کی وجہ سے   یہ جماعت   امت کے لیے  فتنہ  بنی ہے   ۔ اگر  ہم  اپنے آپ کو القاعدہ ، یا کوئی  بھی دوسرا نام دیں ، دولۃ(داعش) اپنے آپ کو نہ کہیں مگر  ہمارے افکار ،اعمال اور اخلاق  دولۃ سے مختلف نہ ہوں ، تو اپنے آپ پر  القاعدہ  کا لیبل لگا کر  بھی ہم جہاد اور امت کی جڑیں کاٹیں گے  ۔دیکھیے  جماعتی تعصب ، صرف اپنے آپ کو حق پر سمجھنا، ناحق تکفیر، مسلمانوں کا خون حیلے بہانوں سے   مباح  کرنا  اور اس طرح کے  دیگر غلط  امور ، یہ ایسے امور   ہیں جن کے سبب اس جماعت نے جہاد اور امت کو نقصا ن  پہنچایاہے ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ  داعش کا فتنہ   ماضی کا قصہ ان شاء للہ بن جائے گا ، مگر ہم  مجاہدین کو اپنی اصلاح  اور نجات کے لیے  داعش     کی صفات کبھی  نہیں بھولنی  چاہئے اور    خود اپنی اور ساتھیوں کی تربیت میں اُن  فاسد افکار ا وربرے   اخلاق کا رد شامل کر نا چاہئے  جن کی وجہ سے  اس  گروہ نے فتنہ و فساد کھڑا کیا  اور  یہ جہاد کی بدنامی کا   باعث بنا۔ امام  ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان  ہے کہ  خیر پر عمل کرنے کے لیے شر کا جاننا  بھی ضروری ہے ، ورنہ شر کی پہچان نہ ہو تو شر کو خیر سمجھ کر اس پر عمل ہوگا۔

دوسری بات  یہ ہے کہ  آپ کی بات صحیح ہے ایسے غلو   والے   جب بھی کسی مسلمان کو مارتے ہیں تو اسے باغی یا اکثر حالتوں میں کافر سمجھ کر مارتے ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ یہ لوگ   دوسروں سے  زیادہ مسلمانوں کی حفاظت اور دفاع  کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں  ، مگر سوال یہ ہے کہ تکفیر اور پھرخون مباح کر نے  کے یہ جو اصول ہیں کیا   یہ ماضی اور حال کے علماء حق سے اخذ کرتے ہیں یا خود  وضع  کرتے ہیں ؟  اگر تو قتل و قتال ، تکفیر اور تفسیق کے یہ اصول وہ  علماء حق  کی اتباع میں اہل السنۃ و الجماعۃ سے نہیں لیتے ، قریب و بعید کے علماء جہاد   کی طرف رجوع نہیں کرتے ہیں  بلکہ خود ساختہ تشریحات اور  اصول استعمال کرتے ہیں تو علماء نے  یہی  ان کی گمراہی کا سبب   بتایا ہے ۔

السحاب: اس نکتے کی ذرا ضاحت کرلیں ، کیوں کہ سب غلو  کے شکار افراد بھی  اپنے آپ کو اہل السنہ والجماعۃ کا حصہ سمجھتے ہیں  ، وہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ ہم اہل سنتہ والجماعۃ کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں ؟

استاذ اسامہ محمود:  دیکھیے  یہاں میں عرض کروں کہ اہل السنۃ و الجماعۃ  کے اصول کوئی ایسے مبہم نہیں  ہیں کہ ہر ایک ان سے اپنا اپنا مقصد لے ،الحمد  للہ  ،ماضی قریب اور ماضی بعید  ہر دور میں ایسے علماء اور فقہاء موجود  رہے ہیں  ،جنہوں نے  یہ  اصول سامنے رکھ کر   جہادی مسائل  مرتب کیے ہیں ۔پھر یہ بھی عرض کردوں کہ   مرتدین اور نظام کفر کے خلاف  ہم    کوئی پہلی دفعہ جہاد نہیں کر رہے ہیں ، یہ جہاد پہلے بھی ہوا ہے ،جن نوازل  اور نئے مسائل کا ہمیں سامنا ہے یہ  صرف ہمارے سامنے نہیں آئے  ،دنیا بھر کے دیگر خطوں میں ، جہاں کہیں  بھی ماضی قریب میں جہاد ہوا ہے وہاں  ان مسائل  کا سامنا رہا  ہے  ، الجزائر ، شام ، شیشان ، مصر ،افغانستان  اور دیگر خطوں میں  تحریک جہاد اور  علماء جہاد  انتہائی  کھٹن تجارب سے گزرے ہیں ،چھوٹی چھوٹی غلطیوں نے  انتہائی  بھیانک نتائج دکھائے ہیں ۔یہ سب تجارب آج بھی  الحمد للہ محفوظ صورت میں  موجو دہیں اور  انہی کی روشنی میں اُس وقت اور بعد کے علماء جہاد نے   فتاوی  دئیے ہیں ،   ایسے اصول   مرتب کیے ہیں جنہیں  آج دنیا بھر کے جہادی  حلقوں  میں  الحمدللہ قبولیت حاصل  ہے ۔

غرض حقیقت یہ ہے  کہ   تحریک جہاد کی تاریخ   آج ایک ہی سبق سمجھاتی  ہے کہ   دو امور  گمراہی سے بچانے والے ہیں  ، پہلاامر  ماضی اور حال کے علماء  حق   کی اتباع اور  دوسرا امر جہادی تحریکوں  کے تجارب    سے استفادہ ،   ہم مجاہدین ان دو امور کا اہتمام کریں گے تو ان شاء للہ  جہاد اور امت کا  بھی فائدہ ہوگا اور خود ہم بھی گمراہی  سے بچیں گے۔

مثلاً    امارت اسلامی افغانستان  کی مثال  آپ کے سامنے ہے ،  امارت نے افغانستان پر حکومت کی ہے  ، آج بھی پورے افغانستان میں یہ لڑ رہی ہے   ،  مسلح دشمن پر یہ ترکیز رکھتی ہے جبکہ جانبی لڑائیوں سے بچتی ہے ، اس طرح مسلمان عوام کی حفاظت کرتی ہے ، اس  کا یہ طرز عمل   الحمد للہ دین و جہاد  کی  تقویت  کا سبب ہے ،یہی وجہ ہے کہ یہاں کی عوام امارت کواپنی  نجات دہندہ سمجھتی  ہے، اب اس طرح    صومالیہ ، یمن ، الجزائر اور مالی  جیسے دور کے خطوں میں   بھی جہادی تحریکیں ہیں ،  یہ خطے فرق ہیں ، زبان  مختلف  ہے ، مسلک  بھی بعض علاقوں میں مختلف ہے مگر یہاں  بھی آپ کو    الحمد اللہ امارت اسلامی  والی  حکمت عملی نظر آئے  گی  اور اس  کے فوائدبھی یہ  مجاہدین سمیٹ رہے ہیں   … گویا یہ  بات ثابت کرتی ہے کہ   زبان ، مکان اور فقہی تنوع  کے باوجود بھی   ان خطوں کے مجاہدین نے  جہاں امارت اسلامی اور دیگر جہادی تحریکوں  سے بہت کچھ  سیکھا ہے ، وہاں علماء جہاد کے  بھی یہ اپنے آپ کو پابند کرتے ہیں ، جبکہ دوسری طرف دولۃ(داعش)  والوں سمیت تمام غلو والوں کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ  اس حوالے سے اپنی  نظر کو  اپنے گروہ کے اندر محدود کرتے ہیں ،اپنے گروہ  سے باہر  علماء جہاد   کے فتاوی اور  تحریک جہاد کے تجارب سے اپنے آپ کو کاٹ دیتے ہیں اور یوں  اپنی ضرورت و خواہش کے مطابق جب یہ   خود ساختہ اصول وضع کرتے ہیں تو ان سے جہاد اور امت کو پھر  نقصان ہوتا ہے ۔

سوال: اس نشست کے اختتام پر  آپ مجاہدین  اور پاکستانی مسلمانوں  کے نام کوئی پیغام  دینا چاہیں گے ؟

استاذ اسامہ محمود: پاکستان   کے  انتہائی عزیز مسلمان بھائیوں کے سامنے میں عرض کرتاہوں    کہ آج  اس خطے میں  حق اور باطل کی جنگ    ہے ، یہ  عدل اور ظلم کے مابین معرکہ  ہے ، اسلام اورکفر کی اس  جنگ  میں ہم بطور مسلمان لاتعلق یا تماشائی  نہیں رہ سکتے ہیں ، اس جہاد میں اپنا حصہ ڈالنا   ہر مسلمان پر فرض ہے    ، پھرا س  عظیم فرض  کو آپ کی نظروں سے اوجھل کرنے  کے لیے  اور حق اور باطل  کی پہچان کو  مشکل بنانے کے لیےیہاں بے شمار رکاوٹیں بھی کھڑی کی  گئی ہیں ،دوست اور دشمن  ،  خیر و شر کی یہ پہچان مشکل بنادی  گئی ہے ،یہی  آزمائش اور امتحان  ہے ، ایسے میں حق پہچاننااور اس کی نصرت  کرنا دینی فریضہ ہے ، جہاد اور مجاہدین کا ساتھ دینا آج پہلے سے کہیں زیادہ وقت کی ضرورت ہے  ، اور یقین جانئیےکہ  یہ جنگ آپ کی آزادی ،آ پ کی کامیابی اور آپ کی حفاظت کی جنگ ہے ۔اس میں حق کا ساتھ دینا آپ کی دنیا وآخرت  دونوں کی سرخروئی کا ان شاء اللہ باعث ہوگا، اللہ آپ کے لیے حق کی یہ نصرت اور تائید آسان بنائے۔ اسی طرح برصغیر اور بالخصوص پاکستان کے تمام اہل خیر مجاہدین کو عرض کرتا ہوں کہ   جھوٹوں اور فریب کا روں  کی  تہمتیں  اور یہ   سازشیں  ہوں ،یا ان کا  لاؤ لشکر اور ظلم و جبر ،دو شروط  پر ہم عمل کریں تو واللہ ، یہ سب  ہمارا  کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ،اللہ رب العزت کا فرمان ہے :﴿وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا﴾ ’’اگر تم صبر سے کام لو اور تقوی اختیار کرو‘‘﴿لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا﴾ ’’تو ان کےمکر(ان کی سازشیں) تمہیں کوئی نقصان نہیں دیں گے‘‘۔لہذا شریعت کی اتباع پر  صبرا ور تقوی    …یہ  اس معرکے کے ہتھیار ہیں ،اس ہتھیار  سے  ہم اپنے آپ کو  اگر مسلح رکھیں   تو ان کی  یہ سب چالیں ان  ہی کے اوپر پلٹیں  گی ، ان شاء اللہ… یہ ساری قوت و شوکت ان کی تباہی و بربادی کا باعث   ان شاء اللہ ثابت ہوگی۔    غزوہ ہند کے اس مبارک جہاد کے لیے اللہ نے آپ کو چنا ہے ،آپ کے ہاتھوں سے اللہ نے پاکستان ہی نہیں ،پورے  برصغیر کے مسلمانوں کی دنیا اور آخرت سنوارنی  ہے ، ظالموں  اور جابروں کو اللہ  نے آپ  کے ذریعے  سے ان شاء اللہ اس  دین کے سامنے جھکانا ہے   اور آپ ہی کی اس مبارک عبادت ، مبارک جہاد کی بدولت   مظلوموں کی   ان شاء اللہ نصرت ہوگی، ۔ پس آگے بڑھئے ، اس مبارک جہاد کی   صف  منظم کیجئے، ہر اس راستے پر ہم پہرے بٹھائیں جہاں سے ہمارے اس مبارک جہاد کےثمرات کو ضائع کرنے  کے لیے کوئی ڈاکہ ڈال سکتاہو ،کفر کے چوکیداروں پر آپ اللہ کا غضب بن کر ٹوٹیں جبکہ مسلمان عوام کے لیےآپ  رحمت اور شفقت  کا پیغام ہوں  ۔اللہ ہی راستہ دکھانے والا  اور نصرت کرنے  والا ہے ۔اللہ ہم سب کی مدد  اور رہنمائی فرمائے،جزاکم اللہ خیراً، اللہ آپ کا حامی اور ناصر ہو!

السحاب:قارئین! اس کے ساتھ ہی ہماری ان نشستوں کا اختتام ہوتا ہے۔ محترم استاذ! السحاب  برصغیر کی جانب  سے  ہم آپ کے مشکور  ہیں کہ ان تفصیلی نشستوں کے لیے آپ نے  اتنا وقت نکالا۔

استاذ اسامہ محمود:میں بھی آپ حضرات کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ آپ نے یہ موقع دیا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ  دعوت الی اللہ کے فروغ کے لیے ان تمام کاوشوں کو اپنے دربار  میں قبول فرمائے،جزاکم اللہ خیراً…

السحاب : قارئین! یہاں اس انٹرویو کا اختتام کرتے ہیں ، ہمیں اور تمام مجاہدین  کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

[1] شہید شیخ افضل گورو رحمہ اللہ  جہاد کشمیر کے عظیم قائد و رہنما تھے ،  آپ  کشمیر میں ایک  جہادی جماعت سے وابستہ رہے ، پھر انڈین   پارلیمنٹ پر حملے کے کیس  میں گرفتار ہوئے اور  شہید کر دئیے گئے۔ آپ نے اپنے ایام اسیری  میں  ’’آئینہ ‘‘ کے نام سے کتاب تحریر کی جو  آپ کی شہادت کے بعد  اللہ کے فضل سے شائع ہوئی ۔  جہاد کشمیر کو شرعی بنیادوں پر استوار کرنا اور ہر اس نہج   سے بچانا آپ کی  خواہش تھی جس سے اس جہاد کو نقصان ہو سکتا ہو اور جو عظیم کشمیر ی قوم کی قربانیاں رائیگاں جانے کا سبب بن سکتا ہو۔ یہاں  ہم ان کی  اس کتاب  میں سے چند اقتباسات نقل کریں گے ۔ اس سے ہمارا مدعا یہ ہے کہ    جس راستے اور منہج کی طرف  مجاہدین اپنے بھائیوں   کو بلاتے ہیں یہ کوئی اجنبی اور نیا راستہ  نہیں ہے ،  یہ ہر اس  مجاہد  کی  دلی آواز ہے جو جہادی تحریک  کو با مقصد  ،کامیاب اور اہل جہاد کے ہاتھوں میں  دیکھنا چاہتا ہو۔ شہید  افضل گورو رحمہ اللہ   وادی  کشمیر  ہی  کے فرزند ہیں ، آپ یہاں  پلے بڑھے ،   اپنی قوم  کا درد  محسوس کیا اور  اپنی زندگی کا مقصد  پھر ان  زخموں  کا علاج  ہی رکھا۔ اس مقصد  کے ساتھ اخلاص پر جہاں آپ کا خون گواہی دیتا ہے ، وہاں  ان کی کتاب کی  ہر سطر  مسلمانان کشمیر کے زخموں کا ایسا  علاج  تجویز کرتی ہے جو شرعاً، عقلاً اور تاریخی شواہد  ہر لحاظ سے واقعی علاج ہے اور جس  کوکسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’آئینہ ‘‘ میں لکھتے ہیں :’’اقوام متحدہ ، امریکہ اور اس کے خریدے ہوئے غلام ادارے، یہ سب جہاد اور اللہ کے دشمن ہیں… جب ہمارا رخ اللہ کے دشمن کی طرف ہو تو اللہ کی مدد شامل حال کیسے ہو گی؟ معاملہ اس کے برعکس ہو گا، ہم خدانخواستہ اللہ  کے غضب  غصے اور عذاب کے حق دار نہ بن جائی…عراق سے لیکر افغانستان تک لاکھوں مسلمانوں کا قاتل کشمیری مسلمانوں کا مسیحا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سمجھنے ، سوچنے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، حقائق سے منہ موڑ نے سے ہم اور زیادہ غلامی  و گمراہی کے دلدل میں پھنس جائیں گے‘‘۔

[2] قائد شیخ افضل گورو رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’ ہماری غلامی اور ذلت والی زندگی سے نجات صرف خالص   جہاد میں ہے۔ ایسا جہاد جس کے احکام ، اصول ، قوانین ، حکمت عملی ، مقصد و ہدف کو صرف قرآن ، سنت رسول ﷺ اور خلفائے راشدین کے سر چشمہ حیات  سے اخذ کیا جائے۔ ایسا نام نہاد جہاد جس کا رخ دجال اقوام متحدہ  ی  یا امریکہ کی طرف ہوگا، ایسا جہاد ، نہاد نہیں بلکہ جہاد کی توہین اور تذلیل ہے۔ جہاد کا آئین قرآن و سنت ہوتا ہے، جہاد کے لیے مومنانہ قائد وقیادت ہونی چاہئے۔ جہاد کے لیے مومن مجاہد ہونے چاہئے۔‘‘

[3] شہید برہان وانی رحمہ اللہ  ایک ویڈیو بیان میں  اپنے جہاد کا مقصد کچھ یوں بیان کرتے ہیں’’اپنے گھر بار چھوڑ کر ، اپنی ماں بہنوں اور عزیزوں کو چھوڑ کر، دنیا کی ساری عیش و آرام اور اپنے فیوچر کو قربان کرکے اس میدان عمل میں اس لیے ہیں کہ ہماری قوم کی ماں بہن کی عزت و آبرو سلامت رہے ۔اپنے اس  کشمیر میں خلافت کا نظام قائم ہو اور ہم کشمیر میں تو  کیا پوری دنیا میں  خلافت کا نظام قائم کرکے دم لیں گے‘‘۔

[4]  شہید شیخ افضل گورو رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:’’ آئی ایس آئی اور پاکستانی حکمران جو عملی طور پر امریکہ کے غلام ہیں ، ان پر تحریک مزاحمت (جہاد کشمیر) کا انحصار توہین جہاد ہے ۔ جہاد اس کے تقاضوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جہاد کے اپنے اصول ، شرائط ، قوانین ، حکمت عملی ہوتی ہے  جن کا سر  چشمہ دین الہی ہے، ان پر عمل کرنے سے ہی جہاد مطلوبہ نتائج و ثمرات دیتا ہے۔ جہاد کا انکار گناہ عظیم ہے لیکن توہین  جہاد اور جہاد کی بے حرمتی کرنا اس سے بڑا گناہ ہے… ہمیں اللہ پاک سے جو غفور اور رحیم ہے مغفرت طلب کرنی چاہئے‘‘(آئینہ ، ص 100)

[5] شہید افضل گورو رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’جہاد کشمیر کو اب ایسے تما م اسباب ، ذرائع، افکار ، طور طریقے، حکمت عمل وغیرہ سے الگ کرنا ہو گا   جو اس مقدس فریضے کا شایان شان نہ ہو۔ ناپاک غیر اسلامی  و غیر فطری اسباب  ، ذرائع اور طریقوں سے نہ صرف جہاد کے اثرات و نتائج  ضائع اور ختم ہوتے ہیں بلکہ یہ جہاد و دین کی   توہین  و تذلیل ہے جو ایک عظیم گناہ ہے ،اس سے امت بھی ذلیل ہوتی ہے یہ بات پہنچتے پہنچتے جناب آنحضرت ﷺ تک پہنچتی ہے ، یہ رسالت و نبوت اور قرآن کی توہین ہے، اندازہ لگانا چاہئے کہ دین و جہاد کے جھنڈے اٹھانے والوں پر کتنی بڑی اور نازک  ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، دین کی قدرو قیمت ، دین کی شان و عظمت ، دین کی حفاظت کرنا…اور اس کی  سربلندی علماء حق ، اہل تقوی  اہل دانش اور  مرد مجاہد ہی جان سکتے ہیں…یہ کام امریکہ دجال کے حواری اور اس کے اجرتی ملازم  یعنی ایجنسیوں والے نہیں جان سکتے ، پاکستانی مجاہدوں کا اخلاص و ایثار اور قربانی اور…… پاکستانی ۱۱ہزار سے زیادہ شہداء کا مقدس لہو جس نے کشمیر کی ٹھنڈی سرزمین کو ایک روحانی انقلاب سے گرما دیا ہے۔ اس مقدس لہو کے ساتھ وفا داری صرف اس صورت میں ہو   سکتی کہ جہاد کشمیر کو ایجنسیوں اور حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے الگ ہونا ہو گا ‘‘۔

[6] جنرل ناصر جنجوعہ نے ایک غیرملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے  اس امریکی جنگ میں پاکستانی فوج کے کردار کو کچھ اس طرح بیان کیا’’میں آپ کو بیان نہیں کرسکتا کہ ایک فوجی جرنیل کے لیے یہ بات کس قدر پریشان کن ہے کہ جب ہم قربانیاں پیش کرتے ہیں تو لوگ بے اعتنائی کے ساتھ نظریں چرا لیتے ہیں ۔دیکھئے سوتیلے بھائی کا تصور تو ملتا ہے  لیکن آپ نے  کبھی نہیں سنا ہوگا کہ دوستی میں بھی آدھی پونی کی جاتی ہے ، دوست بھی سوتیلا ہوتا ہے ،ہم ایک اتحاد کا حصہ ہیں اور ہم  اکھٹے مل کر عالمی دہشت گردی کے خلاف   لڑ رہے ہیں، ہم اپنا سب کچھ پیش کرچکے ہیں ، ہم  سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں، ہم سب سے زیادہ گرفتاریاں کر چکے ہیں ۔ہم سب سے  زیادہ قتل کر چکے ہیں ، کسی اور سے بھی بڑھ کر…اور یہ سب قربانیاں ہم دنیا کی خاطر پیش کر رہے ہیں ‘‘

[7] اسی موقع پر مفتی  نظام الدین شامزئی رحمہ اللہ نے فتوی دیا تھا کہ ’’ اگر کسی فوجی کو ایک مسلمان کے قتل اور’’ پھانسی یا کورٹ مارشل ‘‘ کے درمیان فیصلہ   کرنا پڑ جائےتو اللہ تعالی کے قانون میں اس کے لیے اخروی لحاظ سے آسن ، سہولت دہ  اور جائز یہی ہے کہ وہ اپنے لیے ’’کورٹ مارشل ‘‘ اور ’’تختہ دار ‘‘ کا راستہ اختیار کرلے‘‘ ۔

[8] لال مسجد کے علماء حق نےا س وقت اسلاف امت کی یاد تازہ کر تے ہوئے ایک فتوی شائع کیا  جس میں قرآن وسنت کی روشنی میں یہ  وضاحت کی گئی  تھی کہ  ایک مسلمان  فوجی پر لازم ہے  کہ  وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونے سے انکار کردے ورنہ وہ بھی مسلمانوں کے قتل میں برابر کا شریک ہوگا ، کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا باغی قرار پائے گااور اس کا مرنا حرام موت مرنا ہےا ور وہ ہر گز شہید نہیں کہلائے گا۔ایسے لوگوں کی نماز جنازہ میں کوئی شریک نہ ہو اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کوئی آگے بڑھے ۔اس فتوے کو پاکستان کے سینکڑوں علماء کرام اور دارالافتاء سے تائید و توثیق حاصل ہوئی اور دینی حلقوں میں اس کی خوب تریج و اشاعت کی گئی ۔

[9] سابق چیف آف جنرل سٹاف جنرل (ر) شاہد عزیز نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا’’افغانستان میں امریکہ کا ناجائز قبضہ ہے ،مسلمانوں کے ملک پر وہ مسلط ہوکر بیٹھے ہوئے ہیں ،اور ہم اس قبضے میں شامل ہیں ،ہم افغانستان میں اینٹی ٹررسٹ وار لڑ رہے ہیں ، ہمیں اس میں کنفیوز ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، پاکستان اور پاکستان فوج  آج افغانستان میں افغانیوں کے امریکہ کے ہاتھوں قتل میں اتنے  ہی شامل ہیں جتنی امریکہ شامل ہے ………جب آپ افغانستان میں امریکہ کے اتحادی ہیں  اور افغانستان میں مسلمانوں کے قتل میں شامل ہیں  تو ان مسلمانوں کا جو افغانستان   میں امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں  ، ان کا ٹرائیبل ایریا کے ساتھ بہت قریبی ناطہ ہے ، یہ ناطہ بہت  مضبوط ہے ، اس لیے کہ جب  بھی مسلمان کسی  دباؤ میں آتا ہے ،کسی جگہ اس کو لگنے کی ضرورت ہو ، چاہے خالص نیشنلسٹ وجوہات کی بنا  پر  لڑ رہاہو ، دین  ضرور اس میں آتا ہے ۔ کیونکہ اس کو ساری ماٹیویشن دین سے ملتی ہے ، بدقسمتی سے  ہم  اس ملک میں دین کا نام لینے کو جاہلیت سمجھنے لگے ہیں ، کیونکہ یہ بھی پراپیگنڈے کا اثر ہے جیسے کہ وہ پراپیگنڈا کیا گیا کہ پاکستان اپنی لڑائی لڑ رہا ہے اور اس کو افغانستان سے علیحدہ کرکے چھوٹی تصویر دکھائی گئی ۔اس طرح آج پاکستان میں یہ پراپیگنڈا  کیا جا رہاہے کہ جو دین  کانام لے گا وہ انتہا پسند  ہے ، اس کی بات سننے کی لائق نہیں ہے ‘‘ …صحافی نے پوچھا کیا’’ کیا یہ ہماری لڑائی ہے یا نہیں ہے ؟‘‘شاہد عزیز صاحب نے کہا’’ سرے سے ہماری لڑائی نہیں ہے ، ہماری لڑائی بنائی گئی ہے ‘‘۔

[10] محترم سید منور حسن (زاد اللہ قدرہ )      کے ٹی وی  انٹرویو کا ایک مکالمہ  بطور مثال پیش خدمت ہے:

صحافی :’’افغان حکومت کے خلاف جہاد  جائز ہے ؟‘‘

سید منور حسن صاحب :کس کا جہاد ؟

صحافی :  افغانی   طالبان ، جن  کے آپ حامی ہیں، وہ اگر افغان حکومت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں تو کیا جائز ہے؟

سید منور حسن صاحب : اگر امریکہ کے خلاف جہاد جائز ہے  تو جو بھی  امریکہ کا ساتھ دے رہاہے ، اس کے خلاف جہاد جائز کیسے نہیں ہوگا،ورنہ پھر تو امریکیوں  کو بھی شہید کہنا چاہئے جو مرتے ہیں۔

صحافی :تو معذرت کے ساتھ منور حسن صاحب  پھر پاکستانی حکومت کے خلاف جہاد جائز ہے یانہیں؟

سید منورحسن صاحب:میرے خیال میں اس پر لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔

صحافی: جہاد جائز ہے؟

سید منور حسن صاحب: اگر پاکستان کی حکومت امریکہ کے ساتھ ہے اور اگر امریکہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی حکومت کو تہس نہس کر دیااور لاکھوں لوگوں کو آگ و خون کے دریا سے گزار دیا ہے، علماء کو اس پر فتوی دینا چاہئے۔میں اپنی بات کو دہراتاہوں ، جہاں سے بات شروع ہوئی تھی  کہ جو امریکہ کا ساتھ دے گا ، اس کے لیے بھی وہی حکم ہے جو امریکہ کے لیے ہے ، حکم بدل نہیں جاتا۔

[11] شیخ عطیۃ اللہ رحمہ اللہ کے  مذکورہ بیان سے چند اقتباسات:

’’چاہے ہمارا وجود فنا ہوجائے،ہماری جماعتیں مٹ جائیں اور چاہے ہمارے سب منصوبے خاک میں مل جائیں ،مگر ہمارے ہاتھوں سے ناحق کسی مسلمان کا خون نہ بہنے پائے۔بیشک یہ نہایت واضح اور قطعی مسئلہ ہے…‘‘

’’اپنا درست منہج کو واضح کرنے کے لئے ، اللہ تعالی کے ہاں اپنا عذر پیش کرنے کے لیے  اور اس لیے کہ یہ پاکیزہ جہادی تحریک شرعی ضوابط کی مکمل پابندی ختیار کرے،ہم تاکیداً ایسے تمام حملوں سے ،جن میں مسلمانوں کو ہدف بنایا جاتاہے، مکمل براءت کا اظہار  کرتے ہیں ،خواہ یہ حملے مسلمانوں کی مساجد میں ہوں ، ان کے بازاروں میں ہوں یا دیگر پر ہجوم جگہوں پر، تنظیم القاعدہ  ور اس کی قیادت اپنے بیانات و پیغامات میں اس امر کی بارہا تاکید کرتی رہی ہے  اور ہم اپنی دعوت کے ذریعے سے اوراپنے منہج و طریقہ کار پر عمل سے اس معاملے کو بالکل بین اور واضح کر چکے ہیں‘‘

’’پس ہم اس قسم کے ہر عمل سے بری ہیں ، قطعہ نظر اس سے کہ ایسا کہاں ہو رہاہے اورکرنے والا کون ہے۔چاہے یہ کام دشمن کے مجرم  جھتے کریں،یا چاہے امن کے نام پر قائم کیے گئے کافروں کے قاتل گروہ (خفیہ ایجنسیاں  وغیرہ )۔اللہ تعالی ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لے اور چاہے مسلمان یا مجاہدین میں سے ہی کوئی یہ کام کرےاور وہ اس معاملے کو ہلکا سمجھ کرکسی کوتاہی کا مرتکب ہو۔ہم یہ بات نہایت صراحت سے کہتے ہیں کہ یہ تمام اعمال فساد فی الارض میں شمار ہوتے ہیں جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ ’’اللہ تعالی فساد کو پسند نہیں کرتے ہیں ‘‘ ﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ﴾اور نہ ہی اللہ فسادیوں کو پسند کرتے ہیں ۔ہمارے مبارک شرعی جہاد کےاہداف ومقاصد نہایت بلند و ارفع ہیں ۔رحمت،عدل اور نیکی  و احسان کا فروغ ،عزت و شرف کی زندگی کا حصول ، اصلاح احوال  اوردنیا وآخرت کی فوز و فلاح ،ور پھر ان تمام کا مقصود اصلی اللہ تعالی کی رضا اور معیت حاصل کرنااور اللہ عزو جل کے انصار کی صف میں شامل ہوجانا،تاکہ ہم اللہ تعالی کے کلمے کو بلند کریں ، اس کے دین کی نصرت و حفاظت کریں ، حق کو حق ثابت کر دکھلائیں،ظلم و عدوان کا خاتمہ کریں، انسانوں کو غیر اللہ کی ندگی سے آزاد کرائیں،زمین کو کفر وشرک کی آلودگی سے نجات دلائیں، اہل زمین کو نفع پہنچائیں… ‘‘

التحميل

الترجمة العربية:

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها و أحقيتها!

ترجمة التفريغ الكامل  للحوار الخاص مع الأستاذ أسامة محمود

 

يوضّح الحوار مقاصد القاعدة  في شبه القارة الهندية و أهدافها و خطتها العملية و يلقي  الضوء على حركة الجهاد في أفغانستان و العالم على العموم وعلى حركة الجهاد في باكستان على الخصوص _ ماضيها و حاضرها و تحدياتها_ 

جمادي الثاني 1440ھ

 

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها و أحقيتها!

الحوار نُشرَ مرئياً في عام 1439ھ لكن تفريغه كاملا لم يصدر آنذاك لبعض الأسباب. فالآن يسرنا أن نقدمه للقرآء.  

 

  • الحلقة الأولى:                          

   ماذا نريد؟

 

  • الحلقة الثانية:

    جهاد كشمير… لماذا و كيف؟

 

  • الحلقة الثالثة:

     الجهاد في باكستان: الخلفية، الحقانية والواقع

 

  • الحلقة الرابعة والأخيرة:

   الجهاد في باكستان:التوحد الفكري،الاستعدادوالانطلاق

 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها وحقانيتها!

الحلقة الأولى: ماذا نريد؟

السحاب: مشاهدينا الكرام، نتشرف اليوم بالتحدث إلى قائد مركزي لجماعة القاعدة في شبه القارة الهندية، الأستاذ أسامة محمود حفظه الله. كنا نسعى لإجراء هذا اللقاء منذ مدة طويلة ولكن لم نستطع إنجاز ما نصبو إليه بسبب ظروف خارجة عن إرادتنا. وبما أنه اللقاء الأول بعد تأسيس جماعة القاعدة في شبه القارة لذا قسمناه إلى حلقات نظرا لكثرة الأسئلة. واليوم هي الحلقة الأولى لهذه السلسلة. أستاذنا المحترم، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

الأستاذ أسامة محمود : وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

السحاب: نرحب بكم من جانب مؤسسة السحاب- شبه القارة.

الأستاذ أسامة محمود : جزاكم الله خيرا، وجميع الإخوة العاملين فيها.

السحاب: نود التحدث إليكم عن أمور كثيرة لكونك المتحدث الرسمي للقاعدة في شبه القارة.  فالحركة الجهادية في شبه القارة، كما هو الحال في الدنيا بأسرها، تمر بمرحلة مهمة. ولذا فهناك أسئلة كثيرة تدور في أذهان الناس وحتى في أذهان المنتمين لهذه الحركة كذلك. فنسأل الله أن تتيسر لنا فرصة سماع حديثكم المسهب عنها عبر هذه الحلقات.

الأستاذ أسامة محمود : أنا أشكر الإخوة في مؤسسة السحاب لشبه القارة لإتاحة الفرصة لي. ونسأل الله أن تكون هذه الجلسات من دواعي الخير والنفع لنا وللأمة الإسلامية جمعاء.

السحاب: آمين، وجزاكم الله خيرا

الأستاذ أسامة محمود : بهذه المناسبة أتقدم بتحياتي الخالصة وتحيات أميرنا المحترم، الشيخ عاصم عمر حفظه الله وكل المنتمين إلى جماعتنا إلى مقام أمير المؤمنين، شيخ الحديث، الشيخ هبة الله حفظه الله، وأمير القاعدة الشيخ أيمن الظواهري حفظه الله، وجميع قادة المجاهدين وأفرادهم في الدنيا بأسرها وجميع الإخوة المسلمين، وأحييهم بتحية الإسلام، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

السحاب: نبدأ بسؤال أساسي، جماعة القاعدة في شبه القارة، إلى أي شيء تدعو أساسا وما هي الأهداف التي دعت إلى تأسيسها؟

الأستاذ أسامة محمود : نحن خرجنا للقضاء على الظلم والفتن والفساد، ولإعلاء كلمة الله، ولإرضاء ربنا سبحانه وتعالى أولا وأخيرا. وبما أن رضا الله مشروط بالنصح للمسلمين وإرادة الخير لهم، لذا يمكنك أن تقول أن هدفنا هو فلاح المسلمين أجمعهم والدفاع عنهم.

والحقيقة أن الله سبحانه وتعالى أراد أن يُقضى على الظلم والفساد اللذين ملآ الأرض اليوم بالجهاد في سبيله. فلا يمكن السيطرة على هذه الأوضاع بدون الجهاد، ولا يمكن القضاء عليها بدون الجهاد. بل بدون الجهاد ستزداد الأوضاع سوءا يوما بيوم، وسيعم الدمار والهلاك. يقول الحق تبارك وتعالى: “وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ”، ويقول العلامة ابن أبي حاتم رحمه الله عند تفسيرها: لَوْلا الْقِتَالُ وَالْجِهَادُ لَفَسَدَتِ الأَرْضُ. فكأن الله جعل نهاية ليالي الفتن والفساد، وانقشاع غيوم الظلم والاضطهاد؛ في الجهاد والقتال الموافق لشرعه الحكيم.

ومن الحقائق كذلك أنه لا يمكن أن نكون صادقين في ادعائنا النصح للمسلمين وإرادة الخير والفلاح لهم إذا لم نقارع الظلمة بالسيوف ونكسر شوكتهم. أولئك الذين يحولون بين دين الله وعباده، الذين جعلوا عباد الله عبيدا لهم، الذين بغوا على رب العالمين. فما زالت الإنسانية اليوم تغرق في بحر الضلال بسبب هؤلاء الظلمة، وبسببهم وصل الناس إلى حافة الدمار والهلاك. فالله تعالى لم يأمرنا بالدعوة فحسب، أو الرجاء والتوسل، لمواجهة هؤلاء الظلمة المتكبرين، بل قد أنزل السيف مع الكتاب، وفرض القتال بجانب الدعوة، فقال سبحانه: “فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا”.

فلذا، ماذا نريد؟ نريد القضاء على الظلم والفتن والفساد، نريد إقامة الدين لله، نريد الهداية للمسلمين، والنصح لهم والدفاع عنهم. والطريق الشرعي للوصول إلى هذه المقاصد هو طريق الدعوة والقتال، كليهما. نعتقد أنه كلا من الدعوة والجهاد يتطلب الآخر.  هذا هو منهجنا، والذي ندعو أمتنا إليه، وبه بحول الله سننصر المستضعفين، وبه سيعيد الله تعالى حقوق المحرومين إليهم، وبه سيفتح الله الطريق أمام الشعب المضطهد البائس لعز الدنيا والآخرة. وطريق الدعوة والقتال هذا سيبيد ليالي الظلم والفتن والفساد الحالكة ليأتي صبح العدل والإنصاف والأمن والبركات الزاهر بإذن الله تعالى.

السحاب: حركة الجهاد مستمرة في شبه القارة منذ مدة. من وجهة نظر قاعدة شبه القارة ما هي أغراض ومقاصد الحركة الجهادية؟

الأستاذ أسامة محمود : أضع أمامك وجهة نظر جماعتي، كيف ترى جماعتنا الحركة الجهادية. نرى أن الحركة الجهادية إن كانت من جانب تسعى لتحويل شبه القارة بأكملها بما فيها باكستان وكشمير والهند وبنغلاديش إلى شبه قارة إسلامية، ففي نفس الوقت هي جزء من حركة الجهاد العالمية، أي جزء من الحركة الجهادية التي تقارع الصليبيين والصهاينة والملحدين والمشركين والعلمانيين على المستوى العالمي.

وفي نفس الوقت نرى أن هذه الحركة هي امتداد لقافلة إمارة أفغانستان الإسلامية المباركة. ونحن كجماعة، جند من أجناد الإمارة الإسلامية في أفغانستان. ونرى أن من أولى أولوياتنا هو الدفاع عن إمارة أفغانستان الإسلامية ودعمها. فإخواننا يقاتلون في أفغانستان تحت راية الإمارة الإسلامية ولله الحمد. ونحن كجماعة ندعو مسلمي باكستان وشبه القارة أن يأتوا ويشاركوا، تحت راية الإمارة، في الجهاد المبارك لتطبيق الشريعة ضد التحالف الأمريكي. وخارج أفغانستان – في شبه القارة – نعتقد أن من أهم مقاصد الحركة الجهادية هو الوقوف أمام أعداء الإمارة الإسلامية، وإقامة حركة جهادية ضدهم على المستوى الشعبي.

ثانيا، نرى أن من نصب عين الحركة الجهادية قطع الطريق أمام نهب وغصب وفساد شياطين العالم في شبه القارة، والدفاع عن مسلمي باكستان وكشمير وبنغلاديش والهند وبورما ضد ظلمهم.

كذلك من أهم المقاصد وأكبرها هو استرجاع حقوق مسلمي شبه القارة إليهم، تلك الحقوق التي سُلِبوها، وأهم هذه الحقوق هو حقهم في أن يتبعوا شرعهم المطهر الذي وهبه الله لهم. فلا يجبر الناس للعيش تحت حكم الجاهلية، بل يمضوا حياتهم في ظل الشريعة. ومن تلك الحقوق كذلك الحرية، والحفاظ على أرواح المسلمين وأموالهم وأعراضهم. فنرى أن استرجاع كل هذه الحقوق السليبة من أهداف الحركة الجهادية في شبه القارة.

السحاب: ما هو دور قاعدة شبه القارة في هذه الحركة الجهادية المستمرة في شبه القارة؟

الأستاذ أسامة محمود : الحمد لله، جماعتنا، جماعة القاعدة في شبه القارة، والتي نسميها قاعدة شبه القارة باختصار، هي من أكبر دعاة الحركة الجهادية في شبه القارة. وبفضل الله فإن الجماعة نشطة في أفغانستان وباكستان وبنغلاديش والهند. ويمضي إخواننا المجاهدون قدما في ميداني الدعوة والقتال واضعين نصب أعينهم مقاصد الحركة الجهادية في شبه القارة. ولقد لمسنا عون الله ومدده في كلا الميدانين ولله الحمد على الرغم من كل ما يواجهنا من قتل وأسر وتشريد. وبفضل الله فلا يزال حداء هذه القافلة يعلو بدعوة غزوات الهند المباركة من قندهار إلى إسلام آباد وحتى الهند. ونأمل من الله أن لا تخرج جماعتنا فحسب بل الحركة الجهادية كلها في شبه القارة من بوتقة الابتلاءات قوية شامخة.

السحاب: من هم ألد أعدائكم في شبه القارة وما هي أولى أهدافكم فيها؟

الأستاذ أسامة محمود : الهدف الأول هي زعيمة عصابة الإجرام أمريكا، حيث أن أمريكا هي ألد أعداء الإسلام وأهله، ويداها ملطختان بدماء الأمة المسلمة، وهي من تدعم الظلمة ضد الإسلام في الدنيا بأسرها، وهي أكبر حراس نظام الظلم العالمي. لذا فإن من أولى أولوياتنا أن نقي المنطقة من عبث الأمريكان وخبثهم، ونطهرها من مؤامراتهم وظلمهم، لكي تفشل أمريكا في الدفاع عن مصالحها في المنطقة.

الهدف الثاني هي حكومة الهند، المشركة المغتصبة الظالمة. التي احتلت كشمير والتي تذيق أمهاتنا وأخواتنا وإخواننا في كشمير العلقم كل يوم. وبرعايتها تراق دماء إخواننا المسلمين من بنغال إلى آسام وغجرات. ثم هي دولة الهند التي حالفت جميع شياطين العالم ضد الإسلام والمسلمين بما فيها أمريكا وإسرائيل. لذا فإن ضرب مصالح دولة الهند في بنغلاديش والهند وباكستان بل جميع شبه القارة هو ثاني أكبر أهدافنا.

وتأتى في المرتبة الثالثة من أهدافنا القوى التي تعادي الحركة الجهادية وتقاتل ضدها، وتحصل في مقابل ذلك على الدولارات من أسيادها في عالم الكفر. ومن أوضح الأمثلة على هذه القوى؛ الجنرالات المسيطرين على باكستان، وجيوشهم المسلحة، وطبقة حكامها. هي السرطانات  التي أنيطت بها مهمة اقتلاع الحركة الجهادية من جذورها. وإن لم تقدر على ذلك فإنها تحاول سلب قدرات الحركة الجهادية، وتذليلها للعصابات الدولية، ووضع ثمارها في سلة هؤلاء الكفرة. فهؤلاء الظلمة سواعد كل ملحد وكل كافر لضرب الحركة الجهادية والصحوة الإسلامية. وبسببهم أصبحت باكستان مرعى لاستخبارات العالم المجرمة. وبسببهم حرمت هذه المنطقة من الشريعة وشاع فيها الظلم والفساد.

وهنا عندما نتكلم عن الأهداف، أذكركم بأن لائحة عمل القاعدة في شبه القارة قد نُشرت ولله الحمد. وستجدون فيها مقاصدنا، ومنهجنا، وأهدافنا وغيرها من مبادئ وقواعد الجماعة. فأطلب من جميع المسلمين وخاصة المجاهدين، سواء كانوا من جماعتنا أو إخواننا في الجماعات الجهادية الشقيقة، أن يقرؤوا هذه اللائحة.

السحاب: هل كان من المناسب كخطة عمل (كاستراتيجية) حربية إعلان أن أمريكا والهند وبجانبهما الجيش الباكستاني كذلك أعداء، والقتال ضدهم في آن واحد؟

الأستاذ أسامة محمود : الحقيقة أن الجيش الباكستاني عدو سواء أعلنا أم لم نعلن. وهو يقاتل ضد الشريعة، ضد أهل الدين والحركة الجهادية والمجاهدين. نحن نعلم أن تقليل وتحييد الأعداء من أكبر الخطط الحربية، ولكن التغاضي عن العدو الذي يقاتلنا يعني القضاء على دعوتنا وجهادنا وحركتنا بأيدينا. فاليوم الجيش الباكستاني والنظام الغاشم يحول دون تطبيق الشريعة وأداء فريضة الجهاد بكل ما يملك. ففي هذه الظروف نحن مجبرون على منازلة مثل هذا العدو في جميع الميادين. وهنا أزيد فأقول أنه بعد إدراك تاريخ الجيش الباكستاني المعادي للإسلام لا يمكن لأحد أن ينكر الحقيقة بأن الحركات والجماعات التي تريد تطبيق الشريعة في باكستان لا يمكن أن تتقدم خطوة واحدة إلى الأمام إذا لم تنزل ضد الجيش في الميدان العملي دفاعا عن دعوتها، بل ويستحيل الوقوف أمام أي ظالم في شبه القارة بدون ذلك.

السحاب: أنتم تتابعون ما يحدث في بنغلاديش. فبأي زاوية ترون ما آل إليه الأمر هناك؟ وما هي أهدافكم الأساسية للمجاهدين هناك؟

الأستاذ أسامة محمود : يمر مسلمو بنغلاديش اليوم بمرحلة خطيرة جدا. ولا يقل دور الجيش الباكستاني الظالم المعادي للدين الخائن للأمة عن دور دولة الهند بأي صورة في إيصال مسلمي بنغلاديش إلى ما هم فيه الآن. فمظالم الجيش الباكستاني التي يندى لها الجبين عام 1971 على هذا الشعب البنغالي لا يمكن أن يتناساها ذلك الشعب الغيور. هذا الشعب اختار أن يكون جزءا من باكستان لأجل الدين، ولكن أفاعيل الجيش الباكستاني المعادية للإنسانية ألجأتهم إلى الانفصال عن باكستان. وطبعا الهند كانت ستستفيد من هذا، واستفادت أيما استفادة. وكنتيجة لذلك أصبحت دولة بنغلاديش ألعوبة في يد الهند تماما. فجيش بنغلاديش اليوم، وشرطتها وقضائها ووسائل أعلامها كلها تتكلم بلسان الهند وتعمل وفقا لأوامرها. أما ما يتعلق بعامة الناس، فالحمد لله لا ينقص البلد أسود التوحيد وعشاق الرسالة. ولهذا السبب ضُيِّقَت الأرض على مثل أهل الإيمان هؤلاء. فهدف عباد الأصنام والأبقار أن يحرموا المسلمين من أعز ما يملكون وهو الإيمان وأن يستعبدوهم. وللأسف فاليوم يُكرم السراق المغتصبون والعلمانيون الخبثاء والملاحدة الحاقدون في حين يضطهد أهل الدين بوصفهم أعداءً للشعب والوطن بل للإنسانية. فسفكت الدماء في مظاهرة دينية في دكا عام 2013 وقتل أكثر من ألف مسلم في ليلة واحدة بكل هدوء. ثم دخل الجيش الهندي بعدته وعتاده في بنغلاديش عبر الحدود المشتركة بين البلدين في محافظة (سات كرا) وقتل أكثر من 50 مسلما بالاشتراك مع الجيش البنغلاديشي ودمروا بيوتهم… وكنا نتمنى أن تكون هذه الجرائم هي الأخيرة، ولكن الأمر على عكس ذلك. فاليوم تشتد سلسلة شنق أهل الإيمان، وتقتيلهم، وأسرهم من جانب، ومن جانب آخر يجد الملاحدة أعداء الدين وشاتمي رسول الله صلى الله عليه وسلم أرذل خلق الله دعما كاملا من الحكومة. الشاهد أن مسلمو بنغلاديش يعانون من حرب شنت عليهم منذ زمن طويل. والتي في الحقيقة هي حرب من قبل الهندوس المشركين ضد الإسلام والمسلمين ولكن تحت شعار العلمانية. ففي مثل هذه الظروف يدرك مسلمو بنغلاديش أن الجهاد قد افترض عليهم. سواء كان هذا الجهاد تحت مسمى حماية الدين ضد الاستعداء الهندوسي، أو باسم نصرة مسلمي كشمير والهند، ففي كل حال أصبح الوقوف ضد دولة الهند فرض عين. وهذا من أسباب كون دولة الهند على رأس أهداف جماعتنا في بنغلاديش وفي شبه القارة كلها.

السحاب: هل من رسالة تريد أن توجهها إلى المجاهدين المرتبطين بالجماعة في بنغلاديش؟

الأستاذ أسامة محمود : أقول لإخواني مجاهدي بنغلاديش الأعزة الشجعان إن الله قد اصطفاكم لدعوة مسلمي بنغلاديش إلى عبادة الجهاد وللنهوض بحركة غزوة الهند العظيمة في منطقتكم، ويجب عليكم الحفاظ على دين مسلمي بنغلاديش ودنياهم. ولأداء هذا الواجب عليكم أن تستنهضوا شعبكم بمنتهى الحرقة والتوجع للوقوف معكم جنبا لجنب. إن نجحتم في ذلك فستتمكنون من نصرة الإسلام وأهله في بنغلاديش وإشفاء صدور المظلومين من كشمير إلى بورما. ولتكن أسلحتكم صوب دولة الهند المشركة النجسة الظالمة التي عادت أهل الإيمان في شبه القارة كلها من دكا وسات كرا إلى كشمير وأحمد آباد وأجرمت في حقهم. انهضوا إلى هذا العدو المشرك الخسيس… وإن أعاقكم أحد في هذا الطريق فأعلموه بأفعالكم حينئذ أنكم تعرفون جيدا كيف تدافعون عن الجهاد وحركتكم ودعوتكم. نصركم الله وأعلى بكم راية التوحيد والجهاد في شبه القارة. آمين.

السحاب: كيف تربط حركة الجهاد الحالية في شبه القارة بتاريخ شبه القارة الإسلامي والجهادي؟

الأستاذ أسامة محمود : عندما قضى الإنكليز على الشريعة من أكثر مناطق شبه القارة، أفتى الشيخ شاه عبد العزيز رحمه الله في عام 1806م بأن شبه القارة لم تعد دار إسلام، بل أصبحت دار حرب. وعلى ضوء هذه الفتوى قامت حركة المجاهدين بقيادة الشهيد السيد أحمد والشهيد الشيخ إسماعيل رحمهما الله في تلك المرحلة، ثم اندلعت عام 1857 حرب التحرير بقيادة العلماء الأفاضل، وقامت بعدها حركة شيخ الهند وغيرها من الحركات.

وفتوى شاه عبد العزيز رحمه الله بأن شبه القارة دار حرب ما زالت صالحة إلى الآن. لأن المعطيات التي انبنت عليها الفتوى ما زالت موجودة في جميع شبه القارة بدرجة أتم. فلا تجد منطقة تطبق فيها الشريعة، بل على العكس يسيطر أعداء الشريعة على موضع كل قدم في شبه القارة. فالحكومات في شبه القارة بيد المشركين أو الملحدين والعلمانيين وعملاء الصليبيين. لذا فإنه يجب العمل بمقتضى فتوى الشاه عبد العزيز اليوم كالأمس.

الأمر الآخر أن القضية التي أثارها السيد أحمد الشهيد والحركة التي أسسها – الحركة التي شُنق من أجلها آلاف العلماء في دلهي، والتي أيدها شيخ الهند رحمه الله كذلك – لم تنته أبدا في شبه القارة، بل استمرت على مدى التاريخ. فإن كان أتباع المشاهير كـ”الحاج شريعة الله” و “تِيتُو مِير”  ينتمون لهذه الحركة في البنغال (بنغلاديش أقصى الشرق) ففي المناطق القبلية (في باكستان أقصى الغرب) كان ينتمي لها “فقيرُ أَيْبِي” و”الحاج تَرَنْجْزَيْ” و”الملّا بَاوِنْدَه”. وحتى بعد قيام باكستان ظلت هذه الحركة مستمرة في القبائل. فعندما لم يف حكام البلاد بما وعدوه من تطبيق الشريعة فإن فقير أيبي رحمه الله أحيا الحركة مرة أخرى وهو يطالب بتطبيق الشريعة. وبسبب هذه “الجريمة” قصفت قوات باكستان الجوية – التي كان يرأسها فريق أول طيار “أَيْلِن” البريطاني – أول قصف لها منذ نشأتها مظاهرة لهذه الحركة. المهم، أن الحركة ظلت مستمرة، وتعرضت لمد وجزر – وهذا شأن جميع الحركات – إلى أن تحدث حادثة أو يطرأ ظرف يثير الحركة على مبادئها الأولى بعزم جديد.

فعندما أتت أمريكا لهذه المنطقة وانخرط الجيش الباكستاني علناً في حرب ضد الجهاد والإسلام، وعندما تبين وجهه الحقيقي من وراء القناع، قامت حركة المجاهدين هنا مرة أخرى بعزم جديد على نفس المبادئ… مبادئ حركة مجاهدي السيد أحمد رحمه الله. .. وهكذا بدأ باب جديد من حركة الجهاد في شبه القارة. فكأننا المجاهدين في شبه القارة لسنا إلا امتدادا لحركة السيد أحمد الشهيد. جعلنا الله من ورثة السيد رحمه الله بحق. وكان هدف ومقصد السيد أحمد الشهيد رحمه الله أن تتحرر شبه القارة من أعداء الإسلام وأن تطبق الشريعة، وهو هدفنا كذلك. وكما أن منهجه كان منهج الدعوة والجهاد فكذلك هو منهجنا. وبذلك بإذن الله نحن امتداد لحركة المجاهدين التي بدأها السيد أحمد الشهيد في شبه القارة. وفقنا الله لأداء حق هذه الحركة. وجعل الله حركتنا موجب بركة لمسلمي هذه المناطق كما كانت حركة السيد مباركة. آمين.

السحاب: لننتقل من شبه القارة الهندية إلى الساحة العالمية. لقد ذكرت أن من أهم أهداف القاعدة في شبه القارة هو دعم الإمارة الإسلامية في أفغانستان. ولقد أطلت علينا السنة السابعة عشرة الآن منذ بدء حرب أمريكا على أفغانستان. فأين تقف اليوم في رأيك الإمارة الإسلامية في أفغانستان؟

الأستاذ أسامة محمود : بحمد الله نحن نرى قافلة الإمارة الإسلامية في أفغانستان تمضي في سفرها قدما. فقد مرت سبع عشرة سنة على حملة التحالف الأمريكي جرب خلالها فرعون زماننا جميع أنواع القوى، وأفرغ ما في جعبته ما عدا القنبلة الذرية، ووزع ملايين الدولارات، وعقد المهرجانات لشراء ضمائر الناس، أي أنه جرب كل ما كان في وسعه ولكن بحمد لله ذهب كل ذلك أدراج الرياح. وصدّق الله ظن أمير المؤمنين الملا عمر رحمه الله بربه. عندما قال كلمته المشهورة بأن بوش يعدنا الهزيمة والله يعدنا النصر، فلنرى من يصدق في وعده. وثبت أن وعد أمريكا كان كاذبا وصدق وعد الله. نسأل الله أن نكون صادقين كذلك في ما عاهدناه ربنا، ونسأله أن يثبتنا على درب الجهاد. الحاصل أن الله قد نصر الإمارة الإسلامية ومجاهدي الأمة الإسلامية. ولقد بات أمر هزيمة أمريكا مفضوحا أمام الدنيا بأسرها بكل جلاء.

السحاب: على أي أساس تعتقد أن الظروف الراهنة تعني هزيمة أمريكا؟

الأستاذ أسامة محمود : لقد أتت أمريكا هنا لتحقيق أهداف معينة وكان لمجيئها مقاصد ترجوها. فهل حصلت على أهدافها ومقاصدها؟ هل اكتملت؟ وهل تقول اليوم شيئا جديدا لم تدعيه بالأمس؟ أم أنها تقف اليوم في النقطة التي بدأت منها سيرها؟  الحقيقة أن أمريكا فشلت تماما في الحصول على أهدافها.

السحاب: ماذا كانت أهداف التحالف الأمريكي في أفغانستان؟ وإن كانت أمريكا قد فشلت في الحصول على أهدافها فما آثار هذا الفشل؟

الأستاذ أسامة محمود : الهدف الأول كان هو القضاء على الحركة الجهادية وعلى رأسها الإمارة الإسلامية والقاعدة، فهل انتهت الحركة الجهادية؟ كلا بل إنها ما تزال قائمة في أفغانستان حتى اليوم ولله الحمد. والمجاهدون متحدون ومتآلفون تحت إمارة أمير المؤمنين الشيخ هبة الله حفظه الله. بل إن قافلة الجهاد أقوى من ذي قبل. فالمجاهدون يسيطرون على أكثر من نصف أفغانستان. والانتصارات مستمرة الواحدة تلو الأخرى. والجيش الأمريكي وجيش “ملّي” الأفغاني عميلها المحلي المتكون من بعض السراق والنهاب لا يمكنهم أن يطؤوا المناطق التي يسيطر عليها المجاهدون. فلم يبق أمامهم إلا خيار القصف بالطائرات. ولكن لا يمكن السيطرة الميدانية بذلك القصف. فلكي تحكم عليك أن تنزل إلى الأرض وهذا ما ليس في وسعهم. ثم تدبَّر أن حركة الجهاد التي أتى جيش أبرهة لكي يدفنها في قندهار وتورا بورا قد انتشرت في جميع أنحاء الدنيا. وقد أصبحت شجرة يافعة يانعة في عدد من المناطق من المشرق إلى المغرب تثلج صدور أهل الإيمان وتقر عيونهم.

اليوم لا تواجه أمريكا أفغانستان فحسب، بل تواجه الدنيا كلها بما فيها اليمن والصومال وليبيا والشام وتونس والجزائر ومالي وشبه القارة. فالحركة الجهادية تواجه نظام الكفر في هذه المناطق ولله الحمد. وبفضل الله ترفرف راية التوحيد على مناطق شاسعة من العالم.

الهدف الثاني كان القضاء على الشريعة. ولماذا كانوا يريدون القضاء على الشريعة؟ ولماذا يعادون الشريعة؟ لأنه حيثما قامت الشريعة خرج أناس يعبدون الله، يبغضون الظلم ويحبون العدل، ويكرهون نظامهم الجاهلي وحضارتهم الفاسدة. لذا لا يتحملون أن تطبق الشريعة في أي ناحية من العالم. فكذلك أتوا هنا لكي يقضوا على الشريعة. فهل انتهت الشريعة الآن؟ وهل راجت حضارتهم الشيطانية هنا؟ بل على العكس فإن المجاهدين يعملون وفق الشريعة في المناطق التي يسيطرون عليها اليوم، لا بنظام الكفر المفسد؛ ولله الحمد. فلن تجد لمستنقع حضارتهم الغربية النتن أثر هناك. وهذه ليست حالة أفغانستان فحسب، بل نرى حلم الشريعة يتحقق عمليا في كل منطقة يهبها الله للمجاهدين.

وكان الهدف الثالث للحملة الأمريكية استعباد الشعوب.. أن يقول الناس خيرا لما تدعي أمريكا أنه خير وأن تقول شرا لما تدعي أنه شر. فهل قبل الشعب هنا عبودية أمريكا؟ الحمد لله لازال الناس اليوم يفدون المجاهدين بأرواحهم. ويعتبرون المجاهدين حراسا لهم ولأموالهم ولدينهم. وكل قوة تعادي الدين والمقدسات تضطر لمواجهة الشعب الغيور المجاهد قبل المجاهدين.

وكان الهدف الرابع لهؤلاء الظلمة أن يهنؤوا بحياة آمنة. على أن هؤلاء لا تتوقف أياديهم عن الظلم، وما زالوا يقتلون أمهاتنا وأخواتنا وأطفالنا في أفغانستان وفلسطين والشام واليمن، ثم يحلمون بالأمن. إلا أننا نرى اليوم أن أمن أمريكا وحلفائها في خطر أكبر من ذي قبل، ولله الحمد. فبعد سبع عشرة سنة مازال أكبر تحد يواجههم هو استتباب الأمن. وهم ينفقون مبالغ طائلة من ميزانيتهم للحفاظ على أمنهم وأمن حلفائهم وعلى الرغم من ذلك لم تأمن نيويورك ومانشستر وباريس من لهيب النيران التي أضرموها في ديارنا.

فهذا فشل بعد فشل يقف الشعب الأمريكي أمامه حيرانا هائما. فلم تبق لديهم حيلة لم يستخدموها. وجلوس رجل أحمق على كرسي الرئاسة عندهم يعكس أزمتهم في أدق صورة. أين بذاك الرئيس الذي كان الناس يظنون أنه سيمد لهم أنهارا من لبن وعسل حيثما حل؟! وكيف به اليوم يهدد حلفاءه فور توليه منصب الرئاسة بأنه سيحاسبهم على كل دولار، ويقلل ميزانية دولته في جميع التحالفات خاصة الناتو، ويعلي هتاف “أمريكا أولا”. وبالأمس ما كانت أمريكا تتحمل التدخل الروسي في السياسة الدولية، في حين أنها تلتمس اليوم تعاونها سرا وعلنا في حربها ضد الإسلام. كل هذا يثبت بأن أمريكا اليوم ليست بأمريكا الماضي. وأن هزيمتها قد أوشكت. وبحمد الله هذه ليست دعوى المجاهدين فحسب بل هو ما نسمعه من بين أوساط الشعوب في أمريكا وحلفائها أنفسهم.

السحاب: آخذين الحالة الراهنة بعين الاعتبار هل يمكن أن نأمل بأن أمريكا سترتدع عن جرائمها ضد الأمة المسلمة في القريب العاجل؟

الأستاذ أسامة محمود : لا، فقائمة مظالم أمريكا طويلة. واليوم وإن أرادت أن تبتعد – وهذا مستبعد – فإن أفاعيلها السابقة ستلاحقها. وأمريكا عندما ترى بنفسها أن زوالها قد حان فإن تخبطها يزداد يوما بيوم. فبعد أن انتخبت رئيسا أحمقا لها بدأت تقصف عامة الناس في اليمن والشام وأفغانستان. وهذا دليل على جنونها. ومن الممكن جدا أن تتخذ خطوات في تخطبها هذا قد تجعلها تدفع الثمن باهظا وتذوق وبال أمرها في المستقبل القريب.

ثمَّ إنَّ هناك فرق في حربها الآن عما سبق. ففيما قبل كانت أمريكا تحارب عالم الإسلام للسيطرة عليه واليوم تحارب خوفا من أن تهلك هي بنفسها، فتحارب حفاظا على نفسها. وفيما قبل كانت تفتخر بقوتها وتدَّعي فعل كل شيء؛ واليوم تشعر بأن قوتها قد أصبحت محدودة وتحس بهزيمتها.. وهي قلقلة بشأن سمعتها التي تتدنى يوما بيوم. نسأل الله ألا يكتب لأمريكا العافية والنجاة. ونسأله أن يقضي عليها بتضحيات أمة الإسلام وتحت وطأة ضرباتها الجهادية. إن شاء الله.

السحاب: ما الآثار المترتبة على الأمة المسلمة بهزيمة أمريكا وتدهورها؟

سم: الحقيقة أن طريق العز والمجد والنصر الذي تمضي فيه الأمة المسلمة في صورة حركة الجهاد ليس بظاهرة عابرة. بل هو عصر متميز جدا. ومن الضروري أن يستشعر ذلك كل مسلم. ولاحظوا الفرق بين العصور والفترات. فقد كانت هناك فترة تكاد آمال تطبيق الشريعة فيها أن تنقطع، وكان الظلم والفساد يسيطر على جميع الصُّعُدِ، وقد بلغ نهب وسلب هؤلاء الشياطين أشده، ولم تكن هناك بوادر أي قوة كبيرة على مستوى الأمة تحرر أرض المسرى وغيرها من الأراضي الإسلامية المسلوبة. أي أن نظام القهر العالمي كان قد أطبق حصاره حول الأمة تماما. فأينما أدرت بصرك ما كنت ترى إلا الفئة الحاكمة مرتزقة الغرب وجيوشها العميلة التي تحميها. ولم تكن هناك أي قوة لحماية دين المسلمين ودنياهم من هجمات هؤلاء الغاشمين. فكانت تلك الفترة، فترة اليأس، فترة الحضيض.

أما اليوم فترى الأمة من حيث كونها أمة تقف أمام عدوها، لا تتزعزع. وليس في الميدان المرغوب الذي خطط له العدو، لا بل هي صامدة في ميدان القتال الذي تتضجر منها أرواحهم. ذلك الميدان الذي أنفق عالم الكفر ما لا يحصى من ثرواته ليتجنبه. ووظف لذلك أنواعا شتى من الشخصيات والأفكار والحركات داخل الأمة الإسلامية لكي يستطيع الإمساك بالمسلمين قبل نزولهم إلى ميدان القتال. لكن كل هذا المكر، وهذه المؤامرات، وهذه الجهود أضحت هباء منثورا. فرغم كل ذلك نرى الأمة صامدة في ميدان الجهاد.

ثم من هم الذين يواجهون هؤلاء الظلمة في الميادين؟ ليست تلك الجيوش التي جعلت المرتبات والترقيات وقطع الأراضي مقصدا لحياتها. فهذه الجيوش إنما هي عميلة لهم تقاتل بنفسها ضد المسلمين. بل يقف أمامهم أبطال لا ينهبون الأمة بل يضحون بالغالي والنفيس من أجل صلاحها وفلاحها. والحمد لله، فحلم تطبيق الشريعة، والحرية، والعزة، ومجد الإسلام لم يبق مجرد حلم. بل ترى كل هذه الأحلام تتحقق اليوم في صورة حركة الجهاد العالمية بحمد الله.

السحاب: ما هي أسباب هذا التقدم الذي حققته الأمة المسلمة في مقابل عالم الكفر في رأيكم؟

الأستاذ أسامة محمود : أول سبب لذلك هو اختيار الطريق الشرعي الذي دل عليه كتاب الله وترك جميع الطرق سواه بالتوكل على الله. فكل الطرق “القانونية” و”الديموقراطية” التي يشار إليها اليوم للحصول على الحقوق إنما هي من صنع الكفر. فهي طرق شيطانية لم يستطع المسلمون باتباعها الحصول على حقوقهم فيما مضى؛ ولن يجنوا بها شيئا في المستقبل.

فإخواننا في ما يسمى بالجماعات الإسلامية كلما وحيثما اتبعوا تلك الطرق تاهوا بأنفسهم في المتاهات. وعندما نقول لهم هذا نقوله والله نصيحة لهم وحبا فيهم. ويؤلمنا أن هذه الجماعات قد ابتعدت عن الدين بالسير على هذه الطرق. والحال أن الديموقراطية لم تترك لهم المجال اليوم لمجرد أن يطالبوا بتطبيق الشريعة ناهيك عن العمل الجاد لتطبيقها. أعني أنهم حيث كانوا في الماضي يديرون حركات على مستوى الدولة تنادي بتطبيق الشريعة وكانوا يقودون مظاهرات شعبية لوقف المنكرات، لا نرى منهم اليوم إلا ضوضاء وأصواتا خافتة تحمل شعارات مائعة باطلة كالمطالبة بالحقوق الديموقراطية والإنسانية أو المصالح الوطنية، أما المقاومة الإسلامية المطلوبة ضد الجاهلية فلا نكاد نراها منها. وإذا كانت الطرق التي يُسلّم فيها بأنها من واجبات الدين كالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والحب لله والبغض لله تعارض مبادئ تلك الجماعات وأسسها، فإلى أي خير ستقودنا؟

المراد أنه سواء كانت هزيمة الروس، أو كان قيام الإمارة الإسلامية في أفغانستان، أو كان استمرار قوافلها وانتصاراتها المباركة، أو كان انتشار الحركة الجهادية في أنحاء الدنيا وفتوحاتها، أو كان التحقيق النسبي لحلم تطبيق الشريعة، فإن أول سبب لكل هذه الانجازات هو ترك الطرق المخالفة للشريعة وعض النواجذ على المنهج النبوي، والطريق الشرعي، طريق الدعوة والجهاد.

السبب الثاني هو تحرير الحركة الجهادية نفسها من تبعية الجيوش الوطنية المسيطرة على عالم الإسلام. فهذه الجيوش هي بنفسها عميلة لعالم الكفر وأشد عداوة للدين. وما محياها ولا مماتها من أولها إلى آخرها إلا من أجل مصالحها الذاتية. لذا كان من الضروري أن تتحرر الحركة الجهادية من هيمنتها. ولقد علمتنا التجارب في الماضي الحقيقة بأن ترك زمام الأمور في أيادي هذه الجيوش يعني فشل الجهاد. وتاريخ الإسلام من شبه القارة الهندية إلى العالم العربي شاهد على هذا الأمر. لذا فإن الحركة الجهادية لم تجعل نفسها رهينة لهذه الجيوش بل أمسكت زمام الأمور بأياديها.

أما السبب الثالث فكان ضرب رأس الكفر العالمي أمريكا وجرها إلى ميدان الحرب. فقد كانت أمريكا آمنة على نفسها فيما سبق. هذا العدو السفاح الظالم المتعطش للدماء كان يضطهد الأمة المسلمة بواسطة عملائه وهو جالس في بلاده بعيدا. فلم يكن مضطرا لدفع أي ثمن. ولكن هذه المرة اضطر لصب دمائه وثرواته بنفسه في نيران الحرب للحفاظ على أمنه.

وهكذا أصبحت هجمات الحادي عشر من سبتمبر المباركة أسلوبا ناجحا ودعوة مؤثرة في حرب المظلومين ضد الظلمة الجبابرة. ووقفت الأمة ملبية لهذه الدعوة. مما جعل من الصعب لأمريكا أن تتستر على هشاشتها وضعفها. فبحمد الله ترى اليوم أمريكا التي تدعي الألوهية تقف عاجزة تماما أمام عباد الله المجاهدين. نرجو من الله، أن تظل أمريكا تتلقى ضربات المجاهدين لمزيد من الزمن، وبحول الله ستظل تتلقى، كي تسقط منهكة بجراحها.

ومما لا يخفى عليكم أن أمريكا فيما سبق كانت تستخدم عملائها في العالم الإسلامي لإنجاز مهامها وهي جالسة في الخلف.. وهؤلاء العملاء كانوا يخفون عمالتهم وخبثهم بأساليب الخداع والمكر.. بل كانوا يظهرون أنفسهم على أنهم أبطال الأمة. ولكن ظهروا على حقيقتهم بعد الهجمات على أمريكا فاضطرت هذه الجيوش العميلة ومن يساندها من حكام لانتخاب الوقوف في فسطاط الكفر بدلا من فسطاط الإسلام علنا. وهكذا سهل على المسلمين التعرف على العدو من الصديق.

والسبب الرابع أن حركة الجهاد تتلقى توجيهاتها من علماء الحق. وتعتبر نفسها استمرارا للحركات الإسلامية السابقة. ففي حين استفادت من تجاربها في كيفية التعامل مع أنصارها تعلمت كذلك خطط أعدائها ومؤامراتهم ولله الحمد. وبهذا التميز رزقها الله نضوجا أمكنها من تعميق جذورها في الأمة ومواجهة الفتن. فنرى فتنة جماعة الدولة أمامنا اليوم كيف استطاعت الحركة الجهادية أن تواجه فكرها الضال المضل وطغيان فسادها وتحمي الجهاد من الفشل.

الحمد لله، كانت هذه أهم أربعة أسباب. وإن كان السبب الأول والأكبر والحقيقي هو التوكل على الله، واتباع الشريعة، والاعتماد على الله وحده للحصول على النصر، ثم يأتي مدد الله من خزائنه الخفية. فالحمد لله استطاعت الأمة المسلمة بواسطة هذه الأسباب أن تخرج من تلك المرحلة التي كانت تنزلق فيها في مستنقع الاستعباد والتبعية. في حين أنها الآن تمضي قدما في طريقها إلى النصر، وتطبيق الشريعة، والحرية، والعزة والمجد بإذن الله العزيز. ويجب علينا أن نشكر الله على ذلك أولا وأخيرا. ويجب علينا أن نشكر ربنا على الاهتداء لهذا الطريق. الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ. ثبتنا الله تعالى، والأمة جمعاء، على طريق رضاه. آمين يا رب العالمين.

السحاب: جزاكم الله خيرا.

أيها المشاهدون الكرام، بإذن الله، فإن الحلقة القادمة ستكون عن الجهاد في كشمير وحركة تحرير كشمير. سنتناول فيها رأي جماعة قاعدة الجهاد وخطتها عن الجهاد في كشمير. إلى ذلك الحين نستودعكم الله،

جزاكم الله خيرا، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

بسم الله الرحمن الرحيم

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها وحقانيتها!

الحلقة الثانية:

جهاد كشمير… لماذا و كيف؟

نداء من خراسان إلى إخواننا في كشمير

السحاب: أستاذنا المحترم، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الأستاذ أسامة محمود : وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

السحاب: اليوم بإذن الله هي الحلقة الثانية من اللقاء معكم. سنتحدث فيها إن شاء الله عما يتعلق بكشمير، وحركة تحريرها، والجهاد فيها. وكما تعلمون فقد تغيرت الظروف بسرعة كبيرة في كشمير مؤخرا. ففي حين أن الجيش الهندي ما زال يذيق مسلمي كشمير الويلات ففي نفس الوقت بدأت موجة جديدة من الانتفاضة سطر فيها مسلمو كشمير نماذج رائعة من الجرأة والشجاعة والغيرة. وإن كانت قضية كشمير من أهم قضايا شبه القارة حتى وقبل هذه الأحداث إلا أن أهميتها زادت أكثر بعدها. نأمل أننا سنستمع إلى موقف القاعدة عن الأحداث الراهنة في كشمير في حديثنا اليوم.

الأستاذ أسامة محمود : بادئ ذي بدء أقدم تحيات جميع المجاهدين في خراسان وتحيات جماعتنا إلى إخواننا ومشايخنا وأمهاتنا وأخواتنا في كشمير، السلام عليكم ورحمة الله وبركاته. رزق الله هذا الشعب الغيور المزيد من الصمود والثبات، وتقبل حسناته، وجعل تضحياتهم الخالدة نموذجا يقتدى، وحفظ الله هذا الشعب وجهاده من شر الشيطان وجنوده. وأخاطب هذا الشعب الكريم وأقول لهم:

ما أعظمكم من شعب، وأشهد الله على ذلك. وقد أصبحتم قدوة لشبه القارة كلها جديرة بأن يحتذى بها. فقد قدمتم للدين آلاف الشهداء وما لا يحصى من التضحيات. تاريخ صمودكم وثباتكم أمام الهندوس المشركين باب ناصع من أبواب غزوة الهند. تاريخ يزداد القلب حبا للإسلام بقراءته وتتوق النفس وتتلوع للحرية.

وبهذه المناسبة نسلم كذلك على جميع الإخوة المجاهدين داخل كشمير. هنيئا لكم شرف الصمود في ميادين القتال أمام الهندوس عباد الأصنام والأبقار. أنتم سعداء بأن الله يسر لكم أداء عبادة الجهاد العظيمة على جبهة كشمير التاريخية. ثبتكم الله، ونصركم في كل خطوة. وجعل الله جهادكم بداية لانتصار الإسلام وانهزام الكفر في شبه القارة كلها.

وأخاطب كذلك إخوتنا المجاهدين الأعزاء الأحباء الذين رفعوا شعار “إما الشريعة وإما الشهادة” العظيم، فأقول: والله أنتم تعيشون في قلوبنا، وتكمنون في دعواتنا. سدد الله خطاكم، ونصركم وأيدكم على كل خطوة، وجعلكم الله رحمة وبركة لجميع مجاهدي كشمير والشعب المضطهد. آمين.

السحاب: آمين. يقال أن كشمير قضية ثنائية بين باكستان والهند وحدهما. ويقال أنه يجب إيجاد حل سياسي لها عبر المفاوضات الثنائية أو حتى بإشراف طرف ثالث. ما هو موقفكم من هذا؟

الأستاذ أسامة محمود : إن كان قضية كشمير توصف بأنها بقضية سياسية فرارا من الواجب الشرعي والديني فهي ليست سياسية بهذا المعنى قطعا. وإنما هي قضية دينية وشرعية. من الواضح طبعا أن الفرق بين الهندوسي والمسلم ليس باعتبار الوطن أو اللسان أو العرق. بل هي العقيدة والدين ما يفرق بين المسلم والهندوسي.

 ومن يقول أن هذه القضية قضية ثنائية بين بلدين ولهما الحق بالبت فيها كيفما شاءوا، فهذا ليس كذلك قطعا. هي ليست قضية بين بلدين، بل بين أمتين وملتين. ملة الإسلام وملة الكفر. الشعب الكشميري هو طليعة  الأمة الإسلامية في هذا المضمار. قد سبقوا أمتهم حيث صمدوا أمام الهندوس الأنجاس. ولكن الأصل أن مسلمي شبه القارة، بل مسلمي الأمة بأسرها شركاء في قضيتهم شرعا. هي قضية كل شخص نطق بالشهادة، واعتقد أنه جزء من هذه الأمة. وسواء أدرك أحد منهم أم لا ولكن آية القرآن  تخاطبه. وسيسأل الله سبحانه وتعالى كل مسلم عن نصرة إخوانهم المسلمين في كشمير. فجرح كشمير امتحان و ابتلاء لجميع مسلمي شبه القارة. فشعب كشمير، هنيئا له بأن الله اختاره لمواجهة الهندوس في هذا الجهاد المبارك. ولكن الحقيقة أن جميع مسلمي شبه القارة يختبرون اليوم بهذا الشعب العظيم. وتقام الحجة علينا المسلمين جميعا برؤيتهم متلطخين بالدماء بدون ناصر ومعين.

ثم من آيات الله أنه قد أضحى جليا من الزاويتين الشرعية والتكوينية أنه لا يمكن أن ننجح في هذا الابتلاء إلا إذا تعاملنا معه وفق الشريعة. لقد ربط الله النتائج بالأسباب خاصة. فإن كنا نريد الحرية والانتصار، وإن كان الهدف القضاء على الظلم والاضطهاد، فإن الله قد اشترطه باتباع الشريعة. فقال الله تعالى: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ . ويقول: إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ. فإذا وجد الإيمان والعمل الصالح، وكان السفر لأهداف شرعية ووفق أحكام الشريعة، فسنصل إلى المنزل بإذن الله. هذه سنة الله وهي لا تتبدل. فشرع الله يدلنا على أن حل قضية كشمير هو الجهاد في سبيل الله. والجهاد في سبيل الله هو الذي يكون لإعلاء كلمة الله، وغلبة دينه، ونصرة المظلومين. ولكن إن عملنا وفق مصالحنا وأهوائنا وأنكرنا الأصل الديني لهذه القضية، واطلقنا عليها اسما آخر، قضية سياسية، قضية وطنية، قضية قومية أو أي اسم آخر، وأنكرنا كونها دينية، وعلاوة على رفع الشعارات المخالفة للشريعة بدأنا نسلك طرقا غير شرعية، فهل ستتبدل سنن الله؟ وهل ستتغير الحقيقة؟ وهل ستنتهي المظالم وتتحرر كشمير؟ كلا، لا يكون كذلك. هي ليست من سنة الله أن يكون الكفر في مواجهتنا وننتصر عليه ونحن نسلك طرقا غير مشروعة وفق أهوائنا. هذا يعني أننا نتجاهل الحقائق. ولا نريد أن نعتبر بآيات القرآن وتاريخ الأمم الغابرة والحقائق التكوينية في عصرنا.

هنا أضع أمماكم مثال فلسطين. انظروا، لقد ابتليت الأمم بفلسطين قبل هذا. أي أن فلسطين اليوم، التي هي اختبار لنا ولجميع الأمة، كانت في الماضي ابتلاء لأمة أخرى. كانت فلسطين محتلة في زمن موسى عليه السلام حيث كان يسيطر عليها العمالقة الكفرة. وكان ابتلاء بني إسرائيل يكمن في تحريرها منهم. وعندما أمرهم موسى عليه السلام بالدخول إلى فلسطين والجهاد ضد العمالقة امتنعوا. قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ. أي كانوا يريدون أن يحصلوا على فلسطين بطريقة أمنية بدون أن يتعرضوا للجهاد والقتال. ولم يستجب لأمر موسى عليه السلام من القوم كله إلا رجلين. أما باقي القوم فقالوا يَا مُوسَى إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ. وبسبب امتناعهم هذا سلط الله عليهم المذلة والخزي. ولم يسلموا منها إلا عندما أتى الجيل الذي تلاهم وجاهد في قيادة يوشع بن نون عليه السلام.

فسنة الله هي هي، لنا ولبني إسرائيل. فلكي نحرر فلسطين اليوم نحن مطالبون بالخضوع لحكم الله والنزول في الميدان بجهاد شرعي كما كانت بني إسرائيل مطالبة بذلك. وإن كنا نريد أن نحل قضية فلسطين بأهوائنا، فهل تظنون أن تكون النتائج مختلفة؟ قطعاً  لا. لماذا؟ لأنها ليست سنة الله. بسبب  سنة الله التي استحق بها اليهود المذلة والخزي والاستعباد، ومنحت السيطرة عليهم من قبل مشركي زمانهم، نفس سنة الله تجري في الأمة المسلمة اليوم. فلذا سواء كانت قضية كشمير أم فلسطين، فطريق تحرير جميع الأراضي الإسلامية هو الخضوع لحكم الله. أي الجهاد في سبيله. وإن كانت الحرب باسم القومية أو الوطنية أو العصبية، أو كنا نسلك متاهات “الطرق السلمية” فإن النتيجة في الدنيا هي الهزيمة والخسارة ومزيد من الاستعباد. أما في الآخرة والعياذ بالله، فلقد نبهنا الله بقوله فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ. انتظروا إلى أن تبعثوا يوم الحشر. وهناك سيحاسب الناس على كل آهة لكل مظلوم.

السحاب: فهل نتطلع للجهاد في كشمير إلى جيش باكستان؟ هل يمكن للجيش الباكستاني أن يحل قضية كشمير؟

الأستاذ أسامة محمود : الجيش الباكستاني ليس الحل، بل هو أس القضية. فهو بنفسه عدو للشريعة وعميل لعالم الكفر. والتطلع إليه لإيجاد حل على الرغم من معرفة ماضيه وحاله خداع للنفس وإغماض عن الحقائق. فطبعا الجيش الذي يتقدم إلى الأمام لمصالحه الذاتية ويتراجع عن مناطق  مفتوحة لأدنى ضرر يمسه أو بمحض إشارة من أوباش العالم هل من الممكن أن يصمد أمام الكفر لنصرة المظلومين؟ هذا مستحيل.. نحن رأينا بأنفسنا كيف أعلن الجيش تحت الضغوط الهندية عام 2002 أن مجاهدي كشمير إرهابيون. وفرض على المهاجرين الكشميريين في معسكرات مانسهرا ومظفر آباد الإقامة الجبرية. وترك مسلمي كشمير في وسط ميدان الحرب تحت رحمة وكرم الهندوس بدون معين ونصير. وهكذا طعن بالخنجر في ظهر جهاد كشمير. ثم لم تكن هذه أول مرة.  فقد ظل هذا أسلوبه في حرب 1965 و1971 وعملية كارغل.

الحقيقة أن الجيش الباكستاني يقاتل من أجل المرتبات وقطع الأراضي والترقيات. ووظيفة الجيش اسم للجشع والمصلحية. هو الجيش الذي ظل يمص دماء مجاهدي الأمة وشعبه المسلم بدل دولارات أمريكية. هو الذي طالما هطلت قذائفه تملقا للأمريكان بوابل من النيران على القبليين الذين حرروا منطقة كشمير من أيدي الهندوس وسلموها إلى باكستان. اليوم لم تصنف في مبادئه الحربية المعلنة رسميا دولة الهند أو أمريكا أو إسرائيل أو أي دولة كافرة كأعداء، وعلى العكس صنفوا أهل الدين الذين يؤدون فريضة الجهاد على أنهم الأعداء. الجيش الذي لم تسلم من بطشه المدارس والمساجد ولا أعراض وأموال المسلمين، هل يمكن أن يصمد في مواجهة الهندوس؟

لذلك نرى أن حركة الجهاد لا يمكن أن تنجح أبدا بدون التحرر من قبضة هؤلاء الطواغيت. اليوم إن كنا نرى انتصارات الحركة الجهادية من الإمارة الإسلامية في أفغانستان إلى اليمن والصومال وفي مالي والجزائر، حيث فتح الله على المجاهدين على الرغم من قلة الزاد والعتاد، وتمضي الحركة الجهادية هناك قدما إلى هدفها المنشود فمن أكبر الأسباب أنها حررت نفسها من سيطرة جيوش الطاغوت.

السحاب: بعض الجهات ما زالت تتطلع إلى الأمم المتحدة بشأن قضية كشمير. في نظركم هل يمكن للأمم المتحدة أن تحل قضية كشمير؟

الأستاذ أسامة محمود : انظر، الأمم المتحدة اسم للحكومات العالمية الظالمة، المتجبرة، الكافرة. تاريخها مليء بالإجرام ضد الإسلام وأهله. إقرار بجواز احتلال إسرائيل لفلسطين، وتأييد لأمريكا في حربها ضد عراق وأفغانستان،  وعون للظلمة على إرهاقهم دماء المسلمين من كمشير إلى فلسطين والشام. لا يوجد مثال واحد في التاريخ على أنها استردت للمسلمين حقوقهم الشرعية من كافر أو ظالم.

هو اتحاد للمجرمين الظلمة يمتلك فيه كل واحد منهم ما شاء على أساس القوة. الدول الخمسة التي تمتلك حق النقض، دول الاستبداد الخمسة هم من يملكون زمام الأمور. كل واحد منها تحتل “كشميرا” لها. وكل واحدة يداها ملطختان بدماء المسلمين. الروس تحتل الشيشان، ولها تاريخ طويل في الظلم والاضطهاد على شعب شيشان المسلم. وتحتل الصين تركستان الشرقية حيث يطالب المسلمون بالانفصال عن الصين. الصين هذه وضعت مسلمي تركستان الشرقية تحت وطأة جبال من الاضطهادات. فتقرير هذه السنة يقول بأن التركستانيين لا يسمح لهم التسمي بأسماء إسلامية، ويمنع الحجاب، ويحظر على اللحي، حتى يمنع الصوم في رمضان. ونرى دماء مسلمي المغرب الإسلامي تتساقط من أنياب فرنسا. فاليوم كل هؤلاء المجرمون يهرقون دماء المسلمين من أفغانستان إلى الشام واليمن. لذا فإن سُمح للأمم المتحدة التدخل فإنه لا يؤمل منها إلا أن تصبح أرض كشمير مرعى لهؤلاء المجرمين بالإضافة إلى الهندوس.

السحاب: إذن، ما هو الحل العملي لقضية كشمير في رأيكم؟

إن كان المراد بالحل صيغة نحصل بها على النتائج المرجوة في سنة أو سنتين من دون تضحيات وعناء ومشقة، فلا نعتقد أنه يوجد حل كهذا. بل الحقيقة أن سبب جميع قضايانا كأمة اليوم أننا نحاول أن نجد حلا لا تسقط فيه قطرة عرق فضلا عن الدماء، ولا يتطلب خوض مشاق الهجرة والجهاد، ولا يقع أدنى خلل في الحياة اليومية، وأن نصل إلى الهدف المنشود بطريقة سلمية لا تستغل أوقاتنا كلها. فاليوم محاولة إيجاد مثل هذه الحلول هو سبب هزيمة أمة الإسلام أصلا.

والحقيقة أن الحل في يد الله، والفوز والنصر بيد الله. أما نحن، فنحن مكلفون بالسير على الطريق الذي ارتضاه الله لنا أي وفق الشريعة، وهذا ما سنُسأل عنه يوم القيامة. إن نُصرنا بالسير على هذا الطريق فهو فضل من الله ونعمة. وإن تأخر النصر فلا بد أن لله فيه حكمة وسيكون خيرا إن شاء الله. وفي هذه الحالة كذلك نحن فائزون كأفراد وجماعة وشعب. لأننا سنجد الإكرام والعز عند الله بسبب إطاعته. وهو المطلوب أصلا. إلا أننا موقنون أنه كأمة كلما سلكنا الطريق الصحيح فإن النتائج ستكون إيجابية إن شاء الله.

لذا فإن أول خطوة أن نتقيد بالشريعة. والشريعة تخبرنا أن طريق التغلب على الكفر هو الجهاد في سبيل الله. لهذا يجب علينا أن نعض على الجهاد بالنواجذ أفرادا وجماعات. وأن نخاطب الجيش الهندوسي وحكومتهم بلسان السيف فقط. وأن نحرم على أنفسنا كل الطرق سواه بما فيها الديموقراطية والعلمانية ومفاوضات الأخذ والرد وأي طريق آخر يخالف الشريعة والذي تكون فيه اليد العليا لنظام الكفر أو تكون فيه أدنى شائبة للتعاون معه.

والأمر الثاني أن نضع مقاصد الجهاد نصب أعيننا كلنا. وتطبيق الشريعة ونصرة المظلومين هي المقاصد الأساسية للجهاد في سبيل الله. فيجب علينا أن نتقدم آخذين هذه المقاصد بعين الاعتبار. أي أن يكون تطبيق الشريعة منزلنا المنشود واتباع الشريعة طريقنا المسلوك.

والأمر الثالث: أن نحرر حركة جهادنا من نفوذ أي جيش واستخبارات طاغوتية بما فيه الجيش الباكستاني.

والأمر الرابع: لا يمكن للشعب الكشميري أن ينتصر في هذه المعركة بمفرده. وبما أنها قضية المسلمين جميعهم وهو فرض عين عليهم كلهم فلا بد لمسلمي باكستان وبنغلاديش والهند وجميع شبه القارة أن يسهموا في هذا المضمار بما فرض عليهم. ولا بد من النهوض بالحركة الجهادية ضد الهند في شبه القارة كلها. فلا يمكن للشعب الكشميري أن ينتصر إلا إذا نضجت الحركة الجهادية على مستوى شبه القارة ووقف المسلمون في شبه القارة كلها خلف الشعب الكشميري.

وللحركة الجهادية على مستوى شبه القارة ثلاث مهمات أساسية، المهمة الأولى هي نصرة ومساندة الشعب الكشميري. والمهمة الثانية هي وقاية الحركة الجهادية من مؤامرات واعتداءات الجيش الباكستاني وجميع الطواغيت. والمهمة الثالثة هي توسعة دائرة الجهاد ضد الجيش الهندوسي والحكومة الهندوسية لتشمل شبه القارة كلها… فدولة الهند الآن قد أحصنت نفسها بتعيين ست مائة ألف جندي في منطقة صغيرة ككشمير، ولذا فإن استهدفناها في كلكتا وبنغلور ودلهي وشبه القارة كلها فستدرك ما معنى الحرب. ومثال أمريكا أمامنا، فكما أصبح الحفاظ على مصالحها في الدنيا بأسرها صعبا بعد استهدافها، فكذلك لا بد أن نجعل عالم الجيش الهندي وحكام الهندوس الآمن ميدانا للحرب.

الأمر الخامس والأول من حيث الأهمية هو دعوة مسلمي شبه القارة إلى النقاط الآنفة. أي النهوض بهم على منهج الدعوة والجهاد النبوي. وقبل ذلك تزويدهم بالزاد الحقيقي كالتقوى والإنابة إلى الله وذكر الآخرة… هذا هو الطريق الذي بإذن الله سيكون سببا لرفع الظلم عن كشمير وشبه القارة كلها. والله أعلم بالصواب.

السحاب: كيف تؤدي القاعدة دورها في كشمير عمليا؟

الأستاذ أسامة محمود : أود أن أضع بعض الأمور أمام إخواننا الكشميريين ابتداء؛ كان ضمن قافلتنا هنا في خراسان عدد من المجاهدين والمهاجرين من كشمير المحتلة ولا زالوا موجودين ولله الحمد. وهم أصلا هاجروا إلى باكستان للجهاد. ولكن عندما غير الجيش الباكستاني سياسته وأجبرهم على ترك الجهاد والبحث عن وظائف في باكستان، فإن هؤلاء الأسود ولله الحمد رفضوا هذه المذلة واختاروا الانضمام إلى القاعدة في خراسان. وخاضوا المعارك ضد التحالف الأمريكي وما زالوا. ومنهم من استشهد في غارات أمريكية هنا، رحمهم الله… ولكن ظلوا يتشوقون إلى وادي كشمير، وبدأوا بإعدادهم ضد الهند.

وقائمة هؤلاء الإخوة طويلة، فمنهم عامة المجاهدين ومنهم القادة، ومنهم من ينتمي إلى كشمير المحتلة من قبل الهند ومنهم من ينتمي إلى كشمير تحت سيطرة باكستان. فالشيخ المهندس أحسن عزيز رحمه الله، كان أستاذنا ومربينا. وأنا بنفسي شاهد على أنه سعى حثيثا للنهوض بالعمل في كشمير من خراسان ونجح في إعداد عدد من المجاهدين. وكذلك الشيخ إلياس الكشميري رحمه الله… كان من مشاهير قادة جهاد كشمير، وظل يقاتل هناك. ولكن بتغير السياسة حاول الجيش الباكستاني منع الشيخ إلياس. وعندما رفض زجوه في زنازين التعذيب وعذبوه. وعندما أفرج عنه اتجه مباشره إلى خراسان وانضم إلى القاعدة. ومن ثم ركز اهتمامه على كلا الجبهتين تحت قيادة القاعدة. فقاتل ضد التحالف الأمريكي ووفقه الله لأداء مهام كثيرة. وقد جاء ذكره في رسائل الشيخ أسامة التي تسربت من أيبوت آباد. وبجانب ذلك استمر في الإعداد لجبهة جهاد كشمير من خراسان… ومن هنا أنجز عمليات ناجحة في الهند ولله الحمد.

المقصد أننا هنا في خراسان، ونحن في ميدان الجهاد بأنفسنا نعتقد أن الاشتراك في جهاد كشمير واجب علينا كذلك… فقلب كل مجاهد في هذه القافلة سواء كان ينتمي إلى كشمير أو باكستان أو بنغلاديش أو الهند يتوق لنصرة إخوانه الكشميريين. نسأل الله أن يفتح أمامنا الطريق لدخول كشمير. وبتوفيق الله نطمع أن نكون مع إخواننا الكشميريين في خنادقهم عاجلاً.

ثم نحاول استهداف مصالح دولة الهند وحكامها الهندوس في أنحاء العالم خارج كشمير كذلك. وندعو المجاهدين لذلك. نسأل الله أن يبارك في مساعينا وأن ينصرنا. وحيث جاء في الحديث جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ، فإننا لا نحسبه عارا أن نخاطب إخواننا في ميادين كمشير من ميداننا هنا بالنصح والخير، وندق  أبواب القلوب. ونساهم حتى المستطاع في نصرة إخواننا ضد الهندوس المشركين.

السحاب: ألا تعتقد أن دخول القاعدة إلى كشمير سيضر بقضية كشمير؟ بعض الجهات تقول أن ذلك سيبرر التدخل الأمريكي؟

الأستاذ أسامة محمود : أولا متى كانت أمريكا بريئة من دم مسلمي كشمير لكي يُنذر من تدخلها اليوم؟ فأمريكا بموقفها الظالم قد تدخلت في كشمير وظلت تضطهدها دائما. وأتساءل ما معنى أن أمريكا من جانب تنهض فورا عندما يطالب نصارى جنوب السودان وشرق تيمور للانفصال عن المسلمين، ولا يهدأ لها بال إلا وقد نالوا ما يريدون في مدة يسيرة. ولكن من جانب آخر لا يتحرك لها ساكن ومسلمو كشمير يحترقون هنا في النار طوال سبعين عاما الماضية، بل وعلى العكس من ذلك تدعم وتساند الهند التي تقتل المسلمين في كشمير؟ فالحقيقة أن تأييد ودعم أمريكا كان ولا زال وراء كل ظلم تعرض له مسلمو كشمير.

ثم ليس تأييد أمريكا ومساندتها للهند حديث اليوم أو الأمس لكي نربطه بجهاد جماعة ما في كشمير… فالاتفاقية النووية الهندية الأمريكية، واتفاقية استخدام القواعد العسكرية في الهند، والتعاون المتميز في المجال الفضائي، والحرب ضد الإسلام باسم التعاون ضد الإرهاب، والتعاون في شتى الميادين الأخرى، كل هذا كان يحدث قبل أن يأتي حتى ذكر القاعدة هنا… ثم ميل إسرائيل للهند، والتعاون العسكري والاقتصادي بينهما ببلايين الدولارات، وحتى إنشاء مصانع عسكرية إسرائيلية في الهند، لم يكن هذا التعاون كذلك بسبب تنظيم خاص أو ضد جماعة خاصة. بل هو ضد الأمة المسلمة! ثم الجماعات الجهادية الكشميرية التي حظر عليها الجيش الباكستاني لم تكن تبت بأي صلة للقاعدة!… وقبل فترة أفشى صحافي اسمه “المايده” خبرا عن اجتماع للحكام باكستان المدنيين مع جنرالات الجيش جاء فيه أنهم ناقشوا موضوع قتل زعماء كشميريين يسكنون في باكستان لإرضاء أمريكا، زعماء كشمير هؤلاء لا ينتمون إلى القاعدة! المقصد أن أمريكا والهند كانتا في صف واحد فيما مضى وستظلان كذلك ضد الإسلام. فالكفر ملة واحدة. ومهما تغيرت الأدوار في أي جبهة تتشكل ضد الإسلام والمسلمين إلا أن هدفهم جميعا يكون العداء للإسلام حقيقة.

وأقول كذلك أن جميع ظلمة وكفرة الدنيا بأسرها متحدون ضد المسلمين، فلماذا تبقى الأمة الإسلامية مجرد مشاهد لاضطهاد مسلمي كشمير ولا يهب أبنائها المجاهدون لنجدة إخوانهم الذين يستغيثون بهم؟ الحقيقة أن مسلمي ا لعالم بأسره أمة واحدة. على الرغم من أن الكفار وعملائهم المحليين يحاولون حصر المسلمين في الخطوط التي رسموها هم. ويريدونهم أن يخضعوا لأصنام الوطن والقوم دون عبادة الله لكي تدوم غلبة الظلم والكفر. ولكن الحمد لله فمن فضل الله ونعمته ثم ببركة الحركة الجهادية أن المسلمين اليوم وقفوا أمام الكفر وحطموا أصنام الأوطان والدول بانصهارهم في أمة واحدة.

السحاب: تغيّرُ وجهة تيار الجهاد في كشمير مؤخرا، هل تعتقد أنه يمكن أن يكون سببا لانزعاج أمريكا وعملائها؟

الأستاذ أسامة محمود : لا بد أن أمريكا وعملائها منزعجون ويجب أن ينزعجوا. وسبب انزعاجهم تقدم شعب كشمير إلى جهاد متحرر عن استخبارات باكستان يهدف إلى تطبيق الشريعة. لا أمريكا تفضل جهادا كهذا ولا باكستان ولا الهند. يعني حتى الهند عندما لا تسطيع أن تقضي على الجهاد نهائيا لا يبقى أمامها حل إلا الجهاد المبرمج. لكي تسطيع أمريكا أن تسيره حسبما تريد وعندما تريد بواسطة باكستان.

الحقيقة أن الجهاد لنصرة المظلومين وتطبيق الشريعة سواء كان باسم القاعدة أو بأي اسم آخر، بما أنه يكون سببا لحرية وكرامة المسلمين ودفاعا عنهم فإن هؤلاء الشياطين كلهم يتحدون لعرقلته… ولكن بحمد الله فإن مسلمي كشمير اليوم  قد عرفوا العدو من الصديق. وقد عرفوا طريق الحرية. وبحول الله لن يتوقفوا على أي منحنى دون الوصول إلى هدف “إما الشريعة وإما الشهادة”.

وهنا أسأل الذين يخوفون من أمريكا؛ ما الذي استطاعت أمريكا أن تفعله إلى الآن؟ أي جهاد استطاعت أمريكا أن تقضى عليه في أي موضع من الدنيا لكي تستطيع أن تكتم صوت مسلمي كشمير؟ بل على العكس كلما حلت أمريكا في مكان تعقبها المجاهدون. ثم بحمد لله يصمد المجاهدون وتهرب أمريكا. والأمة اليوم ومجاهدوها بفضل الله ينتصرون في حين أن أمريكا وعبيدها قد ملكهم اليأس والحزن.

السحاب: هل لكم من رسالة خاصة إلى مجاهدي كشمير؟

الأستاذ أسامة محمود : أيا إخواني المجاهدين في كشمير، كل مجاهد منكم أخ لنا وحبيب وعزيز علينا. فرابطة الإيمان والإسلام أقوى وأهم من رابطة الجماعات والمنظمات. وبسبب هذه الرابطة نخاطبكم اليوم.

خطابنا هذا لكل قائد وفرد عادي من كشمير، لكل مجاهد وشيخ، اعتبروا هذا الخطاب طلبا ونداء من إخوانكم المجاهدين في خراسان. وأمانة من جانب شهداء كشمير الذين دفنوا هنا وهم يحملون بين صدورهم أمنية تحرير كشمير.

وأول ما نذكركم به أن الجهاد ضد الهندوس المشركين عبادة عظيمة. فبارك الله لكم حيث تؤدون هذه العبادة العظيمة وهنيئا لكم هذا الشرف الجليل. ونطلب منكم أن تستمروا في هذا الجهاد المبارك مستمسكين بالشرع المتين. ليكن مقصدنا، وطريقنا، وبدايتنا ونهايتنا كلها وفق الشريعة. الشرع طريق الله، فلنمض على طريق الله ولا نتجه بأي خطوة إلا  لتحكيم الشريعة. هذا هو الجهاد في سبيل الله. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ … وبه سينتهي كل ظلم. الظلم لن ينتهي بالظلم، بل سينتهي بالعدل. والعدل هو الشريعة. وكل عدل يعارض الشريعة فهو ظلم! فالمقصد أن تقاتلوا من أجل الشريعة. وضعوا نصب أعينكم هدف إحياء الخلافة المبارك في مواجهة نظام الظلم هذا. وبهذا سينصرنا الله. ولله الحمد كان هذا هو طريق أخينا برهان واني رحمه الله. وهذه هي دعوة حركة الجهاد العالمية وهذا هو منهجه.

الأمر الآخر أنه من نعمة الله أن حركة تحرير كشمير اليوم قد نهضت على قدميها بنفسها ولله الحمد. فليست اليوم إن شاء الله في يد استخبارات أو جيش بلد مجاور. وذلك لأنه قد مسكم القرح من خيانة الجيش والاستخبارات. ونحن نؤمن بفراسة إيمانكم. فبحول الله لن تجعلوا جهادكم المبارك محتاجا لهؤلاء الخونة. قال رسول الله صلى الله عليه و سلم:لاَ يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ.

هؤلاء الجيوش والاستخبارات تريد أن ترى جهادنا المبارك في كشمير تابعا لهم. ولكن أنتم لا تتقيدوا ولا تجعلوا جهادكم تابعا إلا لله، وفقط لله. جهادكم، وحركتكم العظيمة القائمة على أساس الإخلاص، وتاريخكم الطويل من التضحيات هم يعتبرونه لعبة وسياسة وتجارة رذيلة! هم كلهم عبيد لمصالحهم، هم طُماع، وأسرى لأهوائهم وأغراضهم. والله، هؤلاء يمكن أن يضحوا بتضحياتكم من أجل مصالحهم وأطماعهم، ويمكنهم أن يبيعوا تضحياتكم لأسيادهم الأوباش. ولكن أن يقفوا للدفاع عنكم إزاء هؤلاء الظلمة؟ هذا مستحيل.

لذا نلتمس إليكم أن لا تعتبروا أحدا معينا وناصرا لكم بعد الله إلا عباده المؤمنين. اجعلوهم بطانتكم. عباد الله المؤمنين الذين لا يقاتلون لأجل مرتب أو قطعة أرض أو ترقية أو أي غرض دنيوي. بل على العكس هم يحبون لله ويبغضون لله، ويوالون لله ويعادون لله، ويعتقدون أن نصرة أمهاتهم وأخواتهم وإخوانهم المظلومين في كشمير من مسئولياتهم خوفا من المحاسبة أمام الله.قال الله تعالى: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ، أصدقاء، وبطانة، وأنصار بعض. وفي مقابلهم وعلى العكس من ذلك قال الله سبحانه و تعالى:إِنَّ الظَّالِمِينَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِينَ. أولياؤكم هم المؤمنون، سواء كانوا في كشمير أو في باكستان والهند أو أفغانستان. هم الذين يدركون آلامكم. أما الظالم، سواء كان في باكستان أو في الهند أو أفغانستان، فهو ظالم، لا يمكنه أن يدرك آلامكم… هو جشع، ويمكنه في أي وقت وفي أي لحظة أن يرجع ويتركك وأنت تصرخ وتبكي وتتأوه. ويمكنه أن يطعنك من خلفك. ويمكنه غدا في أي مناسبة أن يسلم جميع أسرارك إلى عدوك لأجل الدنيا… بل يمكنه في وقت ما أن يصبح عدوك علنا.

انظروا، هناك الكثير من عباد الله المؤمنين في خراسان وباكستان وبنغلاديش والهند والمنطقة بأسرها، وهم أنصاركم. وهم بإذن الله من سيأخذ على يد الهند الغاشمة. و نحن إخوانكم في قاعدة شبه القارة نعتقد أنه من مسئوليتنا ربطهم بكم، واستنهاضهم لنصرتكم. وفقنا الله لذلك. وجعلنا الله أولياء وأنصار بعض من أجل الحق.

ثم انظروا  يا أخواني المجاهدين، النهوض بحركة الجهاد طبعاً صعب، ولكن ليس بمستحيل أبدا. ثم الحقيقة أنه إن لم نختر لحركة الجهاد هذا الطريق، ولم نحفظها من الظلمة وأعداء الدين، كالجيش الباكستاني، فإن هذا الليل الحالك لن ينتهي، وسنظل ندور في متاهات مغلقة، وسنظل غارقين في المصائب، وسيظل الدم ينزف. أما الهدف والنصر… فلن نحصل عليهما أبدا. لذا لا بد من التوكل على الله.

قال الله تعالى:وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا …

وقال سبحانه و تعالى:وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

وقال:  وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا

لذا يجب علينا أن نتوكل على الله، ونسعى لتحرير الحركة الجهادية، واعتمادها على نفسها، واتباعها طريق الشرع. والله سينصرنا لا محالة.

السحاب: جزاكم الله خيرا. اليوم كلنا نرى موقف الشعب الكشميري الجريء في حركة تحرير. ما رأيك عنه؟

الأستاذ أسامة محمود : موقف شعب كشمير نموذج يستحق أن تحذوه الأمة بأسرها. اليوم هم يشاركون في الجهاد المبارك بكل ما يملكون. أقول لهم مظاهراتكم نصرة للمجاهدين، وتحملكم لعصي وطلقات العدو، ورميكم الحجارة على الجيش، ثم دفاعكم عن المجاهدين بجعل أجسادكم دروعاً لهم، وكذلك تقديمكم المؤنة لهم، وتهيئة الملجأ لهم، والدعاء لهم، كله نصرة للجهاد وعبادة عظيمة. فاثبتوا على هذا الطريق. اليوم كل ما تتحملونه من مشاق، كل ما تضحون به، ستجدون أجره عند ربكم.

وهنا أود أن أذكر المجاهدين كذلك بأن الدفاع عن هذا الشعب العظيم الرفق بهم واجب علينا. لذا يجب عليكم أن تتأكدوا من الحفاظ على سلامتهم، وعليكم بكل عمل مباح للحصول على دعمهم. ويجب علينا أن نجتنب كل عمل يتسبب في الاضرار بالعوام حتى المقدور. فتأييد الشعب المسلم نعمة عظيمة لا يمكن لأي حركة جهادية أن تقوم بدونها. ولذا حيث تشكرون الله سبحانه وتعالى على هذه النعمة فكذلك لا بد أن تشكروا الشعب. أبقى الله على صلة المحبة والثقة بينكم وبين شعبكم المجاهد.

السحاب: هل من رسالة خاصة إلى الإخوة المجاهدين الذين أعلوا شعار “إما الشريعة وإما الشهادة”؟

الأستاذ أسامة محمود : الأبطال الذين خلفوا القائد العظيم الشهيد أفضل قورو رحمه الله والقائد الحبيب الشهيد برهان واني رحمه الله هم والله هم دقات قلوبنا ومحور آمالنا. أعانهم الله ونور قلوبهم بنوره ورزقهم الصبر والثبات. آمين.

أقول لإخواني الأعزة، لا أظن أني أهل لتقديم النصح لكم أبدا. ولكن بما أن التناصح واجب علينا، لذا أضع أمامكم بعض الأمور تذكيرا لا نصحا. س

إخواني الأعزة، أنظار المجاهدين والمسلمين المضطهدين في جميع شبه القارة بل الأمة كلها عليكم. وعلى جهادكم وشعاركم “إما الشريعة وإما الشهادة”. وحيث أن إعلاء هذا الشعار سعادة عظيمة فهي مسئولية كبيرة كذلك. لأن هذا الطريق يبدأ باتباع الشريعة ويسير باتباع الشريعة وينتهي بتطبيق الشريعة أو في الحالة الأخرى بالشهادة. وفقنا الله لأداء حق هذا الشعار. فيا إخواني الأعزة، أن نصبح في كشمير مصداقا لصفة المؤمنين أشداء على الكفار رحماء بينهم. فكما يجب علينا أن نكون أشداء لأبعد الحدود مع الجيش الهندي وأن نقاتل ضدهم، فكذلك يجب علينا على العكس من ذلك أن نعامل المسلمين بالرفق واليسر… اليوم أمامكم جبهتان؛ جبهة قتال وحرب ضد الهندوس المشركين، وجبهة دعوة المجاهدين وجميع مسلمي كشمير إلى منهج “إما الشريعة وإما الشهادة” العظيم واستنهاضهم له. فجبهة التعامل مع المسلمين هي جبهة الدعوة، وهي تتطلب رفقا ومحبة ونصحا وصبرا شديدا. نأمل منكم أنكم ستراعون المستلزمات المختلفة لجبهتي القتال والدعوة المختلفتين كلاهما. وأنكم ستحترمون كل مجاهد، وكل عالم، وكل قائد في كشمير كان له حظ في حركة تحرير كشمير المباركة. مسلمو كشمير كلهم إخوة لنا. سواء كانوا ينتمون إلى جماعتكم أو إلى أي جماعة دينية أخرى، وسواء كان رأيهم يوافق رأيكم أو لا يوافق، فهم في كل حال إخوان لنا. لذا لا يجب علينا أن ننفرهم عنا بسبب استعجال أو زلة أو خطأ. اليوم سيتآمر كل عدو قريب لكم وبعيد لكي يبعدكم عن الشعب المسلم والإخوة المجاهدين غيركم. كي يقضى على صوتكم المبارك ومنهجكم النقي تحت الأصوات الأخرى وهو في البداية. ولكن نأمل منكم أنكم ستفشلون كل مؤامرة مثل هذه. أنتم تعلمون أننا لا يمكن أن ننجح في الجهاد ضد الهندوس وحركة تطبيق الشريعة إلا إذا تعاملنا مع جميع مجاهدي كشمير وجميع المسلمين بالإخوة والمحبة الإيمانية بغض النظر عن جماعاتنا وتنظيماتنا. قال الله عز وجل: وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ.

فإن استطعنا أن نتقيد بجميع هذه الأمور فسيرضى الله عنا، وسينصرنا الله وسيمكن وضع البلسم على آلام وأحزان شعبنا المظلوم. هدانا الله وإياكم، ورزقكم نصره وعونه. آمين يا رب العالمين.أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم.جزاكم الله خيرا

السحاب: آمين ثم آمين. نأتي لنهاية هذه الحلقة. إن شاء الله ستكون الحلقة القادمة عن الجهاد في باكستان. حيث نحاول فيها الحديث عن حقانية الجهاد في باكستان وأهم الحقائق عنه. إلى هناك نستأذنكم.

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

بسم الله الرحمن الرحيم

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها وحقانيتها!

الحلقة الثالثة:

الجهاد في باكستان: الخلفية، الحقانية والواقع

السحاب: أستاذنا المحترم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الأستاذ أسامة محمود :وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

السحاب: اليوم هي الحلقة الثالثة من اللقاء معكم وستتناول موضوع الجهاد في باكستان. حركة الجهاد في باكستان كما تعلمون تمر بمرحلة حرجة هذه الأيام، حيث يزعم الجيش الباكستاني أن هذه المرحلة هي بداية نهاية الحركة الجهادية. فهل تتفقون معهم في ادعائهم؟

الأستاذ أسامة محمود : بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله رب العالمين، رب اشرح لي صدري ويسر لي أمري.

هوِّن عليك! لا تقلق بشأن الجهاد في باكستان. فهذه القافلة بحول الله ستمضي قُدُمَا ملقية بمؤامرات الأعداء ومعوقاتهم في مهب الرياح. هذه قافلة غزوة الهند. ونرجو من الله أن لا يكون مجاهدو باكستان أملا لمضطهدي باكستان فحسب بل أملا لمضطهدي شبه القارة كلها من كشمير إلى بورما. وأن يكونوا لهم من موجبات الرحمة والنعمة.

ومهما ضغط عبيد دنيا الكفر على أهل الدين والمجاهدين، ومهما حاولوا أن يصبح ظلمهم ومكرهم وخداعهم معوقا في طريق الحق، ثم استنصروا بأربابهم الملحدين (الصینیون) بجانب الأمريكان، فإن نصر المؤمنين والمجاهدين وعد رباني.  جعلنا الله، مجاهدي باكستان، أهل إيمان بمعنى الكلمة. لذا فإن هذه القافلة ليس لها أن تحط رحلها في منتصف الطريق. هي قافلة تحمل أمانة الشهداء والمضحين من أجلها، ومنزلها هو القضاء على الظلم وتطبيق الشريعة. وهي ماضية إلى منزلها بحول الله.

أما ذهاب الأراضي، واستشهاد الرجال، والأسر والسجن فلم تكن أبدا معايير للفوز والخسارة بالنسبة للحركات الجهادية. فأي حركة رفعت لواء الجهاد عبر التاريخ ثم لم تر إلا الانتصارات تلو الانتصارات بدون أن تتحمل أي هزيمة مؤقتة أو بدون أن تتعرض للابتلاءات. تفكير مثل هذا لا يعدو إلا أن يكون سذاجة. فالله سبحانه وتعالى يجعل الحركات الجهادية تخوض الابتلاءات، ويزيد من قوتها ويقينها بالقتل، والأسر والسجن، وسلب الأراضي. ومن أكبر غايات هذه الابتلاءات إعدادها للنصر. لأن الحركات بهذه الطريقة تقوم بمحاسبة نفسها، وتتراجع بضعة أقدام لإصلاح أخطائها وتجاوز ضعفها، ثم تنطلق مرة أخرى قاطعة صفوف العدو. هذا هو جهاد باكستان. وهذا هو مستقبل غزوة الهند بإذن الله. وليس علينا نحن، أي جميع المجاهدين وجميع الفئات في جهاد باكستان، إلا أن نعيد صفوفنا، وننظمها، ونصلح أخطاءنا، وكلما تسارعنا واجتهدنا في هذا العمل كلما تقدمت هذه القافلة منتصرة فائزة بإذن الله.

السحاب: قبل أن نمضي إلى الأمام في حديثنا من المناسب أن تخبرونا كيف بدأ الجهاد ونشأت الحركة الجهادية في باكستان؟

الأستاذ أسامة محمود : نحن تكلمنا في الحلقة الماضية بأننا، أي المجاهدين في باكستان وشبه القارة، ما نحن إلا امتداد لحركة السيد أحمد عرفان الشهيد ورافعي لوائها. وفقنا الله لأداء حق هذه الحركة. وكذلك قلنا أن حركة تطبيق الشريعة في شبه القارة، حركة المجاهدين هذه، ظلت مستمرة بشكل أو بآخر. وقلنا أن هذه الحركة انتفضت مرة أخرى من جديد عندما هجمت أمريكا على أفغانستان عام 2001م. فعندما أتت أمريكا وتحمّل جنرالات باكستان هذه الحرب على عواتقهم، وهم قد أقسموا  على محو اسم الجهاد والإسلام من أفغانستان إلى كشمير طاعة لأسيادهم الأمريكان، قضى هؤلاء الخونة على الإمارة الإسلامية بالتعاون مع أمريكا حينئذ. ثم ظلوا يسعون لكي لا تسنح للمجاهدين أي فرصة في أي مكان لتثبت فيه أقدامهم فينهضوا بحركة جهادية ضد أمريكا والكفر العالمي مرة أخرى. فتلك كانت الظروف حين اجتمع المجاهدون المهاجرون من العرب والعجم ومجاهدو القبائل في مناطق باكستان القبلية، ووقفت عامة القبائل مع المجاهدين لِمَا رأوا من سيرهم الصالحة ومواقفهم الطيبة. ففتحوا لهم قلوبهم قبل بیوتهم. وفتحوها بحيث لم يبقوا لأنفسهم شيئا إلا وضحوا به من أجلهم.. جزى الله هذا الشعب المجاهد وذرياتهم من بعدهم خير الجزاء في الدنيا والآخرة.

السحاب: ماذا كانت الأهداف الأساسية لهذا الاجتماع في القبائل؟

الأستاذ أسامة محمود : المقصد الأهم والأساسي كان الدفاع عن الإمارة الإسلامية وطرد أمريكا وهزمها، وكذلك تطبيق الشريعة؛ والدفاع عن المسلمين والحفاظ على الحركة الجهادية. تلك كانت أهم المقاصد من هذا التجمع. فبدأ الجيش الباكستاني للقضاء على هذه الحركة، هذه الحركة المباركة، في طاعة أسياده الأمريكان استخدام جميع قواته وسلط الحرب على المجاهدين…

وهنا أريد أن أبين أنه لم يكن هدف المجاهدين الأساسي لفترة طويلة إلا ضرب أمريكا في أفغانستان. فهم لم يكونوا يريدون أبدا أن يفتحوا أي جبهة ضد الجيش الباكستاني في تلك المرحلة. ولكن الجيش الباكستاني أجبرهم على ذلك فاضطروا لاختيار طريق من بين اثنين. إما أن لا يردوا على الجيش ولا يخوضوا في القتال معه والذي كان سينتهي بالقضاء على الحركة الجهادية وسيطرة أمريكا على المنطقة سيطرة كاملة وبكل سهولة. والخيار الآخر كان القتال ضد الجيش لكي يستطيعوا الدفاع عن الحركة الجهادية-  بل لم يكن من الممكن الدفاع عن الحركة الجهادية إلا بهذه الطريقة- ولكي يستطيعوا الدفاع عن حركة تطبيق الشريعة ورفع لواء كلمة الإسلام. لذا اختاروا الطريق الثاني. فنزل المجاهدون إلى الميادين دفاعا عن حركتهم الجهادية. وأظهر الله الكرامات. ورأت عامة القبائل نصر الله وكرامات المجاهدين. وهكذا بدأت تزداد قوة المجاهدين. وبحمد الله تلقى الجيش ضربات موجعة إلى أن اضطر إلى التراجع أخيرا. وأتت تضحيات المجاهدين والقبائل المسلمة بثمارها. فبحمد الله وجد الجهاد مأوى آمنا له. ولاذ المجاهدون إلى هذا المأوى بين عامي 2005 و2006. ومنذ ذلك التاريخ انتعشت حركة الجهاد في أفغانستان وبدأت الحركة ضد الأمريكان في نمو وازدهار. بينما كانت قبل تلك المرحلة ضعيفة جدا! أي إن أول فوز حققه جهاد باكستان كان تنظيم الجهاد ضد الأمريكان داخل أفغانستان، وطبعا كان جله نتيجة وجود ذلك المأوى. ولذلك نرى أن ذلك المأوى ظل هدفا لعمليات الجيش الباكستاني وقصف الدرون الأمريكي لمدة عشر سنوات تالية!

السحاب: هذا الكلام كان عن جهاد باكستان في منطقة القبائل، فمتى كان إعلان الجهاد داخل باكستان وما هي الأسباب التي دعت إليه؟

الأستاذ أسامة محمود : نعم، في نفس الوقت، أي في الوقت الذي كان الجيش الباكستاني يقاتل ضد المجاهدين في القبائل، جر الجنرالات نوعين من الحرب إلى داخل باكستان. حرب في شكل حملات القبض على المجاهدين وأهل الدين وقتلهم. فحولوا باكستان كلها ميدانا للحرب. حيث كان ضباط الاستخبارات الفيدرالية الأمريكية  إيف بي آي يشرفون من أعلى، وموظفو الاستخبارات الباكستانية آي إيس آي وجنودها ينفذون أوامرهم كالعبيد. وكانوا كلهم يتقابضون الأموال على أسر كل مجاهد أو قتله! فهذه كانت نوعا من الحرب. والحرب الأخرى كانت ضد الإسلام نفسه. فقد ضيقوا الأرض على المساجد والمدارس والعلماء وأهل الدين. وكانوا يضغطون عليهم لترويج تفاسير جديدة للدين وتغيير المناهج التعليمية. هدف هذه الحرب كان القضاء على روح الإسلام! فهم كانوا يريدون أن ينتشر إسلام أمريكي لا يوجد فيه أمر بمعروف أو نهي عن منكر أو جهاد في سبيل الله. أي إسلامٌ يدافع عن عالم الكفر بمن فيه من شياطين أمريكا، وهندوسي الهند، وملحدي الصين، وصهيوني إسرائيل. إسلامٌ يجعل المسلمين عبيدا أوفياء للكفار! وانظروا إلى وسائل الإعلام اليوم سواء كانت برامج الفضائيات أو أعمدة كتابات- مقالات  الصحف.. تجد تلك الحرب لنشر الإسلام الأمريكي!

فقام بحمد الله العلماء الكرام وقاوموا بكل قوة هذه الحملة الشيطانية… وتلك كانت الفترة التي اغتالت فيها الاستخبارات الباكستانية الشيخ نظام الدين شامزَي والمفتي جميل الرحمن والشيخ يوسف اللُدهيانوي وأمثالهم من أكابر العلماء رحمهم الله لأنهم صدعوا بالحق. وعلى الرغم من ذلك لم يتراجع العلماء الكرام بل أفتى عدد منهم وبينوا جرائم الجيش الباكستاني والأمريكان علنا وفرقوا الحق من الباطل أمام عامة الناس!

وفي تلك الأثناء وقعت حادثة المسجد الأحمر (رزق الله الشيخ عبد الرشيد غازي ورفاقه الشهداء السعداء جنات الفردوس وجعل تضحياتهم تلك نبراسا لنصرة الحق دائما). وهنا ليكن في الأذهان أن حادثة المسجد الأحمر لم تكن السبب في بدء الجهاد داخل باكستان، بل كانت هذه الحادثة العظيمة مبينة لأسباب الجهاد في باكستان. فلقد ميزت بين الحق والباطل والعدل والظلم تمييزا واضحا. لم يصعب بعدها إفهام عامة أهل باكستان بأن هذا الجيش جيش يعادي الإسلام والشعب، وجيشٌ يدافع عن الكفر العالمي. وإن لم نقم بالجهاد ضده فإنه لا يمكن الجهاد ضد الأمريكان أصلا. وإن لم نجاهد ضده فلن يبقى الإسلام لنا كدين، ولن تقوم الإمارة الإسلامية مرة أخرى، ولن يمكن القتال حتى ضد الهندوس المشركين بمعنى “الجهاد”!

وهكذا أعلن الشيخ أسامة بن لادن رحمه الله حينئذ الجهاد كذلك. أعني أن جهاد الدفع كان مستمرا من قبل والشيخ هذه المرة إنما طلب من عامة الناس أن يشاركوا فيه، لأن الصورة كانت قد اتضحت أمام الناس حينها. فالدماء التي سالت في المسجد الأحمر وجامعة حفصة قد ميزت أمامهم بين الصديق والعدو. ولم تبق إلا الإشارة، وبحمد الله فإن الشيخ رحمه الله بالإضافة إلى غيره أعطى تلك الإشارة.

السحاب: بعض الأحبة يستنتجون من هذا أن الشيخ رحمه الله بدَّل بذلك منهج ضرب رأس الكفر العالمي أمريكا. هل هذا صحيح؟

الأستاذ أسامة محمود : لا، ليس بصحيح. فمنهج الشيخ أسامة بضرب رأس الكفر أمريكا كان منهج القاعدة ومازال إلى يومنا، لم يقع فيه أي تغيير ولله الحمد! ولكن لِمَ أعلن الشيخ أسامة رحمه الله الجهاد ضد الجيش الباكستاني بالإضافة إلى أمريكا؟ لأنه كان يقود الجهاد وهو يعيش في میدانها  العملية. فكان مطابقا للمنهج تماما أن يجاهد الناس ضد الجيش الذي يدافع عن أمريكا! الأولوية يجب أن تكون لرأس الكفر أمريكا كما لا يخفى… لكن التعامل مع الأيادي التي تحمي هذا الرأس بما ينبغي، من الطبيعي أن يكون جزءً من الحرب نفسها.

مثلاً لو كان أمامي عدو يقاتلني وجها لوجه، فإن هدفي الأول سيكون ضرب رأسه. ولكن إن كانت هناك يدان تخنقان رقبتي، ويطالب أحدهم عندها أن لا تُمَسَّ تلك اليدين بأذى! بل لا تعتقد أصلاً أنها يدا العدو! فبهذه الطريقة لا يمكن أن يقاتل أحد إلا في أوهامه وتخيلاته، ففي ميدان العمل لا يمكن القيام بالجهاد والدفاع عن الإسلام والمسلمين بهذه الطريقة أبدًا.

ثم أود أن أقول هنا أنه شتَّان بين الجهاد في زمن السوفييت، أيام الشيخ عبد الله عزام رحمه الله، والجهاد اليوم ضد أمريكا. ففي الجهاد ضد السوفييت كانت جميع هذه الجيوش وجميع الحكومات بقيادة أمريكا تفتح الطريق أمام المجاهدين لقتالهم. واليوم جميع هذه الجيوش تمهد الطريق حتى للروس كي يقاتلوا المجاهدين. كلهم عبيد لدنيا الكفر في مقابل المسلمين. أي أن هذا قياس مع الفارق.

الحاصل أن قرار الجهاد في باكستان كان قرارا صائبا. فببركته احتد الجهاد في أفغانستان وأصبح الدفاع عن أفغانستان ممكنا. وبسببه لم تصبح باكستان مستعمرة لأمريكا كما أراد الجيش الباكستاني أن تكون. لو لم يكن هذا الجهاد لكان مطار بغرام الآن في إسلام آباد … ولتغيرت خارطة أفغانستان وباكستان تماما…

وهنا أود أن أشير إلى توكل الشيخ أسامة رحمه الله، حيث كان حينها في باكستان. وكان من الممكن أن يتعرض لسوءٍ في حال اشتداد وطأة الحرب هناك. ولكن على الرغم من ذلك ولمصلحة الإسلام والمسلمين أيد الشيخ الجهاد ضد الجنرالات الغاشمين؛ وحرض مسلمي باكستان على ذلك. وبقيادته ساهمت جماعته في هذا الجهاد بكل ما تستطيع. وبيَّن رحمه الله أن الجهاد قد أصبح فرض عين. فلا يوجد أمامنا إزاء الجيش المدافع عن الكفر إلا خيارين: خيار القتال… وإن لم يكن بمقدورنا فإفناء النفس في الإعداد لذلك. وأما الطريق الثالث، بأن نعتبر أن الجيش جيشنا، وأنه راعي الإسلام والمسلمين، فلم يبق لهذا الباطل أي مكان!

السحاب: إن كان هذا الأمر صحيحا، أن الجهاد ضد الجيش الباكستاني جزء من الجهاد ضد أمريكا وعالم الكفر، أفلم يكن من الضروري قبل الدعوة العامة إلى هذا الجهاد والإعلان عنه أن يكون الشارع العام قد تهيأ لقبول هذه الدعوة؟

الأستاذ أسامة محمود : بحمد الله، سواء كان جانب الأدلة الشرعية أو جانب تقبل الشعب فإن دعوة الجهاد في باكستان كانت هي المسيطرة على جميع الجوانب..

فلو تتبعنا الجانب الشرعي لرأينا أن عددا من كبار العلماء أمثال نظام الدين شامزي والمفتي جميل الرحمن حرضوا الناس على الجهاد فور أن أتت أمريكا، وحرضوا على الجهاد لقطع الطريق أمام خيانة الجيش الباكستاني. ثم في أوائل الأمر… أي عام 2004م أفتى ثلاثمائة عالم من كبار العلماء ضد الجيش الباكستاني تأييدا لحركة الجهاد في القبائل. وهذه الفتوى نشرت من العاصمة إسلام آباد. ولم يخالفها في ذلك الوقت أي عالم من كبار علماء باكستان. أي أنها كانت فتوى مجمعا عليها.

وبعد حادثة المسجد الأحمر احتدت الحركة الجهادية، فانضم عدد كبير من العلماء إليها، وأيدها عدد آخر منهم. وفي بعض المناطق كانت المساجد والمدارس هي منطلق الحركة الجهادية. وأمثلة سوات وباجور أمامكم حيث نهض العلماء بالحركة الجهادية، وهي إلى اليوم في أيديهم. وكذلك في محسود إلى سوات، ثم جميع المناطق القبلية ثم المناطق الحكومية القريبة منها، كان العلماء هم الذين جعلوا حركة المجاهدين حركة شعبية. وبسبب جهودهم ومساعيهم انضمت إليها جماعات وأقوام على نطاق واسع.

ثم تنبهوا، فإن كان تأييد الحركة الجهادية علنا يعتبر من أشد مراتب العزم، فإن التأييد والدعم الخفي لا يقل أهمية عن ذلك! وبفضل الله كانت هناك أعداد كبيرة من العلماء دعموا وأيدوا حركة الجهاد سرَّا.ً سواء كان في صورة فتاوى أو توجيهات أو حتى بشكل عملي كذلك!

وأود أن أقول هنا أنه في الوقت الذي كانت سلسلة اغتيال العلماء في أوجها- الذي اغتالت فيه الاستخبارات علماء الحق كالمفتي عتيق الرحمن- أتى عدد من أكابر العلماء إلى القبائل من وزيرستان إلى سوات على الرغم من كل الاضطهادات. والتقوا بكثير من قادة الجهاد آنذاك بمن فيهم الشيخ أبي يحيى الليبي، والشيخ عطية الله، والشيخ مصطفى أبو اليزيد، والأمير بيت الله محسود والشيخ أحمد فاروق رحمهم الله. وقدموا مقترحاتهم ونصائحهم ورجعوا إلى أوطانهم دعاة وسفراء من طرف المجاهدين بحمد الله.

وعندما بدأ العلماء بتأييد الجهاد علنا وعلى نطاق واسع في المناطق تحت السيطرة الحكومية بدأت الاستخبارات بحملة اعتقالات كبيرة وزجت بعدد كبير منهم في السجون، وقتلت عددا منهم في زنازين التعذيب. حتى وصل عددهم اليوم إلى المئات، ولكن على الرغم من ذلك لم يتراجع العلماء عن تأييد الجهاد بفضل الله ومنته.

السحاب: سنرجع إلى موضوع العلماء مرة أخرى إن شاء الله، ولكن أخبرونا إن كان هذا شأن انتصار دعوة الجهاد شرعا، فهل لقيت الدعوة قبولا وتشجيعا على المستوى الشعبي؟

الأستاذ أسامة محمود : هذه الحركة استولت على قلوب وأذهان العديد من المسلمين من القبائل إلى كراتشي ولاهور. الحقيقة أنها كانت دعوة حق. دعوة لم يكن لدى مخالفيها أي دليل عقلي أو شرعي. لم يكن هناك دليل يمنع الناس من تلبية ندائها. ولا يمكن لأحد أن ينكر الحقيقة بأن حركة تطبيق الشريعة هذه في باكستان، حركة الجهاد، هي حركة جهادية شعبية ظلت حركة تاريخية على مستوى الشعب في طول البلد وعرضه.

فلاحظ، أنه انضم اليها أناس من كل فئة وخلفية وفرقة؛ الطلاب، على نوعيهما، طلاب المدارس والجامعات الدينية وطلاب المدارس والجامعات العصرية، والعلماء (ولله الحمد ساندوها على اختلاف مذاهبهم، وهذا من إنجازات حركة الجهاد فقط أنها سدت الشقة التي طالما هولتها الاستخبارات الباكستانية) ثم الأساتذة الجامعيون، والأطباء، والمعلمون، والعمال، والتجار… الحضريون والقرويون، المتعلمون والأميون، الناس من كل خلفية… انضموا لهذه الحركة المباركة. حتى عدد يعتد به من الجنود والضباط داخل الجيش ظلوا مؤيدين، وعدد منهم تركوا الجيش وآخر نصر الجهاد وهو بداخل الجيش. وبعض الضباط ظهروا في الإعلام ليؤيدوا موقف المجاهدين علنا…

ثم عدد كبير من المنتمين للجماعات الدينية انضموا إلى الجهاد ونصروه. بل إن بعضا من قادتها الجريئين وصفوا الجيش بأنه عميل لأمريكا وأيدوا موقف المجاهدين. ونحن نشكر هؤلاء القادة ونحييهم، ونسأل الله أن يوفقهم لمزيد من الصمود وأن ينصرهم ويعزهم في الدنيا والآخرة على صدعهم بالحق.

القصد أن عددا كبيرا شارك في هذا الجهاد بشكل أو بآخر على مستوى شعب باكستان بقدر جرأة وهمة وعاطفة كل منهم.

الآن إن جاء أحد ليقول إنها لم تكن حركة على المستوى الشعبي فأود أن أقول له إنه إن لم تكن حركة على المستوى الشعبي فلماذا اضطر العدو لوضع (خطة العمل الوطنية)…  والتي بحول الله قد فشلت. ثم أقول ضعوا المجاهدين في ميادين الجهاد إلى جانب، فقط أظهروا قائمة الشهداء والمأسورين لتتبين لكم الحقيقة بأنها أول مرة تقوم في تاريخ باكستان حركة جهادية على المستوى الشعبي في طول باكستان وعرضها ضد الظلم والاضطهاد ونظام الكفر.

وهنا أشير إلى نقطة أخرى كذلك أن الناس قد يتبعون أي شخص من أجل المال والمصالح. فانظروا إلى باكستان، كم من الناس اتبعوا سياسيوها اللصوص والمرتزقة. ولكن هل يخرج أحد من هؤلاء من أجل التضحية بالغالي والنفيس، وتقطيع أوصاله، وتحويل بيته إلى خراب، وتعريض أمواله وثرواته للهلاك، والاستعداد للأسر والتعذيب هكذا بدون تفكير؟ لا، لا يكون كذلك أبدا. إن لم يكن هناك إيمان وإخلاص وصداقة لما فكر ولا استعد أحد لهذه التضحيات… لذا فهذا ليس ما ندعيه فحسب بل الحقيقة أن حركة جهاد باكستان وتطبيق الشريعة ليست فقط حركة شعبية عمت البلاد، بل هي حركة انضم إليها الناس بنوايا صادقة وإخلاص وتفان يقدمون أروع التضحيات!

ثم نتساءل، أي حركة سياسية أو غير سياسية في تاريخ باكستان سطرت مثل هذا التاريخ العظيم من التضحيات؟ من الذي حول دياره وقراه إلى خرب وآثار من أجل هدف ومقصد خاص؟ أي جماعة سياسية أسر أعضائها بهذه الأعداد الضخمة، ثم تعرضوا لظلم تقشعر منه الجلود؟ أي حزب قتل أعضاؤه بهذه الأعداد؟ ثم أي حركة لم يتنازل أتباعها عن أفكارهم على الرغم من كل هذه الاضطهادات، وعلى الرغم من منتهى القسوة والفظاظة سطروا تاريخا عظيما من الصمود والثبات؟ هذا هو إنجاز الحركة الجهادية داخل باكستان. وهو تاريخ يكتب لشبه القارة الهندية كلها. ومن العدل أن نقول أن لجميع أهل الإيمان في هذا البلد سهم فيها. لذا يجب أن تكون حركة جهاد باكستان محل افتخار لكل متدين في هذا البلد. حيث قدمت تضحيات عظمى فيه من أجل الدين لم يستطع أي علماني أو من يدعي حب الوطن أن يقدم معشاره على مر التاريخ.

السحاب: نرجع إلى تأييد ومعارضة العلماء. فنجد اليوم أن بعض العلماء يخالفون الجهاد علنا، كيف ترون هذه الظاهرة؟

الأستاذ أسامة محمود : تأمل معي، لقد رأينا أنه حتى عام 2013م لم يعارض الحركة الجهادية أي عالم من علماء الحق قط. وأخبرك بأن دائرة علماء الحق لدينا ليست ضيقة بحيث لا نعتبر إلا من وقف معنا حاملا السلاح عالم حق فحسب؛ ليس كذلك. ومن فضل الله ففي باكستان عدد ليس بقليل من العلماء الذين لا يريدون بيع دينهم بدنياهم، بل يطمعون في أجر الآخرة، والذين يخدمون الدين بإخلاص متجنبين عروض الحكام وإغراءاتهم ليس بقليل. ونرى أن هؤلاء هم علماء الحق. فمن هؤلاء العلماء لا نجد أحدا قد عارض الجهاد حتى عام 2013 ولله الحمد. بل الحقيقة أن مثل هؤلاء العلماء من شتى المذاهب العلمية قد أيد الجهاد بشكل أو بآخر وبدرجة أو بأخرى. بعضهم علنا وبعضهم سرا. أما المعارضة فلم نجدها من علماء الحق أبدا ولله الحمد.

أما بعد 2013م، وما نراه اليوم من مخالفة من جانب بعض الأفراد فلا نجد له سببا إلا أن تكون مخالفة لتلك العناصر المنتسبة للجهاد ولأعمالها؛ فهذه الفئة هي التي أساءت للجهاد والتي لا تقل معارضتها بين المجاهدين أنفسهم ولله الحمد! فانظر مثلا، ذهب وزير الشئون الداخلية عام 2009 إلى عالم مشهور نحترمه جدا وهو من الذين ينتقدون الآن، وطلب منه فتوى ضد الجهاد داخل باكستان. فصفعه الشيخ المفتي برد أفحمه حيث قال له: هل طلبت الفتوى قبل الانضمام إلى التحالف الأمريكي لكي تأتى إلي تطلبها الآن؟ فجزى الله تعالى الشيخ المفتي والعلماء من أمثاله خير الجزاء وثبتهم على الحق.

السحاب: لقد نشرت في الآونة الأخير ورقة موقعة من قبل واحد وثلاثين عالما شرطوا فيه الجهاد بموافقة حكومة باكستان، ما هو رأيكم بهذا الصدد؟

الأستاذ أسامة محمود : أود أن أضع أمامكم هنا بعض الأمور الأساسية قبل الإجابة على السؤال. أولا العلماء هم تيجان رؤوسنا. فنحن ننجز كل أمورنا الجهادية برعاية أهل العلم، فهم قادتنا وهم أمراؤنا. ثم من أهم أهداف جهادنا إنزال العلماء الكرام في مكانتهم الحقيقية، أيْ قيادة المجتمع وتسلّم زمامه. من مقاصد جهادنا أن نهيئ لهم الأجواء التي يستطيعون فيها توجيه الناس وفق تقواهم وعلمهم وضميرهم بكل حرية وبدون أي ضغط واضطهاد من قبل الحكام.

والأمر الثاني أنه بما أن ظلم الباطل ودجله وخداعه على أشده في هذه الأيام لذا نرى أنهم يضغطون على بعض الشخصيات التي نأمل فيهم خيرا للتكلم ضد الجهاد جنبا إلى جنب المنتسبين للعلم الذين يتلقون رواتبهم من الحكومة. لذا فإننا نفوض أمر من نحسن الظن بهم منهم في هذه الظروف إلى الله. وننصح مجاهدينا كذلك بعدم إطلاق ألسنتهم بسوء تجاه تلك الشخصيات. ونطلب منهم بالإضافة إلى ذلك أن يتقيدوا في الرد على مثل تلك الشائعات- إن كان ضروريا- بأجوبة علماء الجهاد المنشورة فحسب. فسيكون هذا خيرا إن شاء الله.

أما ما يتعلق بصحة تلك الفتاوى فليس بأمر جديد. حيث يوجد ردها في كتب الفقه… ثم ولله الحمد لا يقل العلماء في الأمة اليوم- داخل ميادين الجهاد وخارجها- الذين يعتبرون العلم أمانة من عند الله ويعتقدون أن تفنيد مثل هذه المنشورات من قبل الحكومة واجب عليهم. فهم ورثة الأنبياء الذين قتلت منهم أعدادًا وخرجت أشلاء آخرين منهم من زنازين التعذيب ولكنهم رفضوا أن يلبسوا الحق بالباطل. وجددوا بسيرتهم سنة الإمامين أبي حنفية وأحمد بن حنبل رحمهما الله. وحركة الجهاد في الدنيا بأسرها اليوم تسير بتوجيه علماء الحق كأمثالهم.

ومن المؤسف أن الفتوى التي ذكرتها قد اشترطت الجهاد بإذن الدولة الإسلامية. الأمر الأول أن الجهاد في زماننا في الدنيا بأسرها هو جهاد الدفع الذي هو من فروض الأعيان. والأمر الثاني أنت تعلم أن حكام العالم الإسلامي كله يزعمون أن دولهم دول إسلامية. ففي العام الماضي جعل أشرف غني بعض علماء أفغانستان يصدرون فتوى كهذه، وذكروا فيها أن الجهاد مشروط بإذن الحكومة الأفغانية. فبمثل هذه الفتاوى سيصبح الجهاد ليس في باكستان فحسب بل في أفغانستان وكشمير إلى فلسطين أمرا محرما يخالف الشريعة. لأن حكام تلك البلاد المسلمة لم يعلنوا الجهاد إلى الآن، بل على العكس هم يمنعون من الجهاد في جميع البلاد، بل هم من يضع العراقيل في طريق الجهاد في كل مكان. ثم مثل هذا القول يخطئ كل جهاد ضد الكفار إلى يومنا والعياذ بالله. وبهذه الفتوى ستصبح طاعة الكفار والظلمة أمرا شرعيا. فما لنا إلا التأسف على مثل هذا. وقد كانت مثل هذه الفتاوى تنشر في زمن الاستعمار الإنكليزي كذلك حيث كانت تشترط الجهاد بإذن تاج مملكة بريطانيا.

ولكن نحمد الله أن عددا من كبار علماء باكستان قالوا بأن هذه الفتوى غير شرعية، وبينوا أنها تفيد مصالح أمريكا والغرب. فنشكر هؤلاء العلماء وندعو لهم بأن يثبتهم الله تعالى على الحق.

السحاب: ولكن لا يمكننا أن ننكر أنه قد وقعت أحداث كثيرة هنا باسم الجهاد جعلت الأسئلة تثار عن المجاهدين، وأساءت إلى سمعة الجهاد، فماذا تقولون عن ذلك؟

الأستاذ أسامة محمود : وقعت باسم الجهاد حوادث كهذه. لا ننكر هذا. وأكبر متضرر من هذه العمليات هي الحركة الجهادية نفسها. ثم ليس كل هذه العمليات ولكن منها ما أنجزها أشخاص منتسبين إلى الجهاد، ولا ننكر هذا الأمر كذلك. بل القضية تهمنا. وسنتكلم عنها إن شاء الله. ولكن قبل هذا يجب علينا أن نعرف الخلفية التاريخية كي يسهل علينا التعرف على المسببات. فالحقيقة أن حركة الجهاد المباركة في باكستان كانت حركة جهادية شعبية. والحركات الشعبية لا يكون فيها زمام الأمور والترتيبات في الميدان كله في يد جماعة أو حركة أو شخصية واحدة. وإن كنا لا ننكر أثر الشخصيات. فالناس اجتمعوا حول الأشخاص في صورة مجموعات وفئات. ولكن هل كانت القيادة والسلطة في جميع الميدان في يد شخص أو قوة واحدة؟ ذلك لم يحدث أبدا.

الناس رأوا انقضاض الكفر، وظهر أمامهم ظلم الجيش الباكستاني فنهضوا يلبون نداء الجهاد بأنفسهم في شكل فصائل وقبائل ومناطق. كان هدف الكل واحد، وهو غلبة الإسلام، ونصرة المسلمين، والحفاظ على الإسلام والمسلمين من شر أمريكا والجيش الباكستاني المدافع عن الكفر… فقام الناس بشكل شعبي. ثم بدأت القوى الجهادية المتناثرة من منطقة القبائل إلى سوات تنتظم إلى حد ما رويدا رويدا، ساهم في توحيد الجهود كثير من أهل الخير والصلاح، جزاهم الله خيرا ونصرهم. ولكن حتى بعد ذلك لم ينتظم أمر جميع هذه القبائل والمجموعات في تنظيم أو جماعة بشكل محكم، بحيث يمكن الاحتساب على الأقوال والأفعال على الوجه المطلوب. فلم يكن الوضع هنا بأنه كان يوجد  تنظيم واحد بإمرة أمير واحد، بل على العكس كل مجموعة، وقبيلة، ومنطقة كانت حرة بشكل كامل في تنظيمها الداخلي…

ثم انتبه لم يكن السير بهذه الطريقة المتناثرة شيئا يخالف الشرع أو يعاب أبدا في مرحلة الجهاد الخاصة تلك. لأن في مثل هذه المرحلة تكون الحالة كذلك في كل زمان ومكان. ففي زمن صلاح الدين الأيوبي بدأت المعارك ضد الصليبيين بهذه الطريقة. إلى أن جمع صلاح الدين تلك القوى المتناثرة في مرحلة متقدمة… في كل مكان قامت فيها حركات جهادية شعبية فإنها سارت إلى مدة بهذه الطريقة، ثم في زمن لاحق مع تغير المراحل بدأت تتقيد بضوابط معينة وتتبدل هيئتها الحركية تبعا لذلك.

الشاهد من ذكر هذه النقطة أنه لما كانت هذه القوى الجهادية شعبية لهذه الدرجة، فإنه لا يمكن أن يعتبر فساد شخص أو عدة أشخاص بأي وجه فساد جميع المجاهدين والمجموعات الموجودة في باكستان! ليس هذا من العدل، ليس من الإنصاف أن تتهم الغالبية العظمى من الصالحين الذين يضحون بأرواحهم من أجل الإسلام والمسلمين بسبب فعل بعض الأفراد.

السحاب: فهل يعني هذا أنه تسلل للحركة الجهادية في باكستان أفراد مفسدون كذلك؟

الأستاذ أسامة محمود : كما أسلفت بما أن القوات الجهادية كانت غير منظمة ومتناثرة ولم تكن هناك قوة واحدة تملك السلطة عليها، ولا ضير فهكذا بداية الحركات الشعبية، ولكن بعض المفسدين اغتنموا هذه الفرصة، وإن كانوا قلة، وشوهوا الحركة الجهادية بأفعالهم…

كما أود أن أنوه إلى أن وجود بعض القوات الفاسدة ليس بأمر غريب على مر التاريخ، تقل وتزداد، وقد تنشر الفتن خفية أو علانية. ولكن لم تخل حركة جهادية من هذا الصنف قط. وفي هذا ابتلاء لنا… قال تعالى: وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ. فالمجاهدون يبتلون، هل يؤدون واجب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر أم يتساهلون بشأنه؟ وهل يصمدون على الجهاد أم يتركون هذا الواجب العيني بحجة فساد بعض المفسدين ويبوؤون بسخط الله؟ طبعا الجهاد في سبيل الله وحمل السلاح لقمع الظلم والكفر فريضة أوجبها علينا كتاب الله سبحانه وتعالى. وسيسأل عنها كل مسلم يوم القيامة، فلا يمكن ترك هذا الواجب بحجة فساد بعض الأفراد. وهذا هو الابتلاء. يبتلى به المجاهدون ويبتلى به عامة الناس كذلك.

ثم أخبرني، أي مجال من مجالات الحياة أو شعبة من شعب الدين لا يوجد فيها إلا الصالحون؟ بالطبع لا يوجد ميدان كهذا! فكل مجال يوجد فيه الصالحون ويوجد المفسدون! والمطلوب عند ذلك من الناس التعاون مع الصالحين لصد الأشرار عن شرهم. وهذا هو الابتلاء.

وأود أن أطرح هنا سؤالا: لماذا تكال الأمور بمكيالين؟ فلا يترك أي مجال من مجالات الحياة لمجرد وجود بعض المفسدين فيه، ولا يقال أنه مجال سيء، فلماذا لو سقط بعض الأفراد من المجاهدين في أحضان الأعداء أصبحت الحركة الجهادية كلها موضع اتهام؟ أي عدل هذا؟ انظروا إلى المجال الديموقراطي، الذي يغلب عليه الشر، ولكن لا ينتقد النظام الديموقراطي كنظام على الرغم من وجود أكابر المجرمين من اللصوص والقتلة فيه! بل يعتبرون وجود المفسدين من محاسن الديموقراطية! ولكن لميدان الجهاد مكيال آخر تماما. حيث الغالبية العظمى من الصالحين المخلصين. فإن ارتكب بعض الأفراد من بين هذه الغالبية مخالفات شرعية جاز الطعن في الحركة الجهادية كلها؟ هذا ليس من العدل، ولا يقتضيه العلم، ولا هي بأسوة الرسول صلى الله عليه وسلم.

السحاب: فهل كانت هناك محاولات لمنع مثل هذه الأفعال المخالفة للشرع في الحركة الجهادية أم ساد الصمت تجاهها؟

الأستاذ أسامة محمود : سأذكر موقف جماعتنا أولا. كنا وجماعتنا من أول الناقدين للمخالفات الشرعية من اليوم الأول ولله الحمد… ولكن ليس فقط نحن وجماعتنا من كان ينتقد… العدل والحقيقة أن الغالبية العظمى في الحركة الجهادية من المخلصين والصالحين من قبائل محسود إلى سوات وباجور ما كانت تحابي العناصر المخالفة للشرع… أود هنا أن أعطيك تفصيلا ما عن هذه الغالبية. انظروا، لقد قدّمت الغالبية العظمى في محسود إلى سوات وباجور تضحيات تاريخية، فكم منهم تحولت ديارهم ومساكنهم ومناطقهم إلى خِرَبٍ وآثار حبا للشرع ونصرة للأمة.. واليوم هم متشردون في البلاد بسبب نصرتهم للمظلومين، ولقد اغتصبت أموالهم وأراضيهم وتجاراتهم ومدخراتهم كلها. هناك قصص عظيمة عن شهداء وابتلاءات وتضحيات كل قبيلة ومنطقة وعائلة منهم. ثم كل هذه التضحيات كانت بدون مقابل دنيوي. فهم ما كانوا يرجون إلا الأجر من الله. عندما يموت الجندي من جيش باكستان فإن ورثته يحصلون على الأموال وقطع الأراضي؛ في حين أن كل شيء ضُحي به هنا كان خالصا لوجه الله ولدينه وأمته بدون أي مقابل.

لهذا فإن هذه الغالبية الصالحة كانت هي أساس الحركة الجهادية في باكستان. والحقيقة أنه كلما حدث ما يسيء إلى سمعة الجهاد أو كلما تسللت أفعال وأفكار تخالف الشريعة داخل الحركة الجهادية فإن المصلحين رفعوا أصواتهم ضدها، ورأينا الغالبية الصالحة من عامة المجاهدين تنفر من تلك الأفعال وممن يقف وراءها ولله الحمد.

ثم ليكن أمامنا أن شيوخ القاعدة وقياداتها… إلى جانب غيرهم من المصلحين في جهاد باكستان من محسود إلى سوات وباجور بذلوا قصارى جهدهم لإبقاء الحركة الجهادية على مقاصدها الشرعية كهداية المسلمين والدفاع عنهم والنصح لهم. وستظهر نتائج جهودهم ولا بد إن شاء الله.

السحاب: هلا بينتم شيئًا من مساعي مصلحي الجهاد؟

الأستاذ أسامة محمود : عندما تضرر عامة المسلمين ببعض الانفجارات في باكستان انزعج جميع القادة، بدءًا من الشيخ أسامة رحمه الله، والشيخ أيمن الظواهري حفظه الله والشيخ عطية الله إلى الشيخ أحمد فاروق رحمهما الله وانتهاءً بأميرنا المحترم الشيخ عاصم عمر حفظه الله. ونزل الجميع إلى ميدان إصلاح الجهاد. وكذلك المفتي ولي الرحمن وأعظم طارق رحمهما الله إلى غيرهم من المصلحين في سوات وباجور، نصرهم الله. فالمشايخ بالتعاون مع الجميع حاولوا سد الطرق أمام هذه العناصر المفسدة حتى بالطرق السياسية… وتكلموا بهذا الشأن وأفتوا عنه، وراسلوا قادة المجاهدين والعسكريين، وعقدوا لقاءات لذلك، وحاولوا بعملهم أنفسهم أن يصلحوا الجهاد. وتُظهر الوثائق التي حصل عليها الأمريكان من بيت الشيخ أسامة رحمه الله والتي قد نشرت الآن، الحرص الشديد من طرف القادة على تجنيب الجهاد ذلك. وهي تشهد على نقاء سريرتهم ومطابقة ظواهرهم لبواطنهم. وكل هذا يظهر استشعار مشايخ الجهاد بالمسئولية أمام الله، ومحبتهم للأمة، ونصحهم وإرادتهم الخير لعامة المسلمين بكل جلاء.

ففي رسالة من تلك الوثائق نجد الشيخ أسامة رحمه الله ينتقد عملية وقعت في مدينة راولبندي. مع أنها استهدفت عددا كبيرا من ضباط الجيش وجرح فيها مجرم كبير وهو الجنرال يوسف الذي كان يتقلد منصب نائب رئيس قوات الجيش في فترة سابقة،  إلا إن الشيخ رحمه الله قال عن هذه العملية عالية المستوى أنها كانت خطأ لأنها وقعت في مسجد. ونصح الشيخ بأن المساجد بيوت الله يأتي إليها الناس للعبادة، لذا لا تستهدفوا فيها أحدا حتى ولو كان من أكبر المجرمين. ومنع الشيخ في تلك الرسالة استهداف حتى أكابر المجرمين في أماكن التجمعات حيث يتواجد عامة المسلمين مثل الأسواق والمحاكم وغيرها حفاظا على أرواحهم.

وهنا أود أن أضع أمامكم قصة حقيقية لمدى حرقة وتألم الشيخ عطية الله رحمه الله. كان هذا عام 2010 على تقديري حيث حدث انفجار في ملعب وتبعه آخر في جنازة، وكان الهدف فيهما المجرمين طبعا، ولكن قتل فيهما عدد كبير من عامة المسلمين كذلك؛ وكان ذلك في الوقت الذي اشتدت فيه حدة الهجمات على المشايخ في وزيرستان. فبعد كل بضعة أيام كان يقتل مسئول من القاعدة في قصف الطائرات بدون طيار. وكان الشيخ مصطفى أبو اليزيد قد استشهد والشيخ عطية الله على رأس قائمة الأمريكان. وأدلى الشيخ في ذلك الوقت ببيان عن حرمة دم المسلم تردد على المسامع كثيرا، وما زال ذلك البيان يحتل أهمية كبيرة لمصلحي الجهاد على المستوى العالمي. يعلم الجميع ما جاء فيه، ولكن لا يعلم إلا القليل في أي الظروف سُجل وبأي شجى وإخلاص. فقد كان الشيخ قد أتى إلى منطقة في وزيرستان الشمالية حيث كانت أربع طائرات من الدرون تحلق فوق بيته؛ وكان من الواضح أنها كانت تتعقبه. فجأة قال الشيخ لمرافقيه أنه يريد الذهاب إلى منزل قريب لغرض ضروري وركب السيارة. عندما اقتربت السيارة إلى مكان يخفيها من أعين الطائرات خفف السائق سرعة السيارة لكي ينزل الشيخ منها بدون أن تتنبه الطائرات لنزوله. فنزل الشيخ، ولم تبتعد السيارة أكثر من خمسة عشر مترا إلا وقصفتها الدرون بصاروخين فتدمرت السيارة واستشهد الأخ السائق رحمه الله. وعلى صوت الانفجار خرج أحد الإخوة على دراجة نارية من المنزل الذي خرج منه الشيخ ليتفقد الأحوال، وحين اقتربت الدراجة من المنزل الآخر قصفته الطائرة أيضا فتناثرت أشلاء ذلك الأخ رحمه الله. قصف عن يمين وعن شمال! فكروا قليلاً ماذا عسى أن تكون حال الشيخ؟ ولكن حتى في تلك الحالة بحسب ما رواه لنا المضيف، فور أن التقط الشيخ أنفاسه قال: افتحوا الكاميرا أريد أن أسجل بيانا. ففتحت الكاميرا وسجل الشيخ كلماته التاريخية:[1] “فلتزل الدنيا ولنفنى ولتفنى تنظيماتنا وجماعاتنا ولا يراق على أيدينا دم مسلم بغير حق، إنها مسألة حاسمة في غاية الوضوح”.

هؤلاء هم عباد الله المجاهدون الذين يقاتلون بأنفسهم ضد أمريكا وجنرالات باكستان في جانب، ويحرضون على استهدافهم، ولكن في الجانب الآخر يحرصون على حفظ أرواح مسلمي بيشاور ولاهور وكراتشي إلى هذه الدرجة. جزاهم الله خيرا. فلم تخل الحركة الجهادية في باكستان وحركة غزوة الهند من مصلحين كهؤلاء يدعمونها ويصلحونها من محسود إلى سوات وباجور، بل على مستوى باكستان… نسأل الله أن تصبح هذه القافلة سبب رحمة ونعمة لعامة المسلمين بسعي هؤلاء المخلصين والمصلحين وتضحياتهم ودعائهم إن شاء الله.

السحاب:جزاكم الله خيرا.أيها المشاهدون الكرام ما زال موضوع جهاد باكستان مستمرا ولكن تأتي هذه الحلقة إلى نهايتها. إن شاء الله سنتناول نفس هذا الموضوع في اللقاء القادم. إلى ذلك الحين نستأذنكم. والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

بسم الله الرحمن الرحيم

حركة جهاد شبه القارة الهندية، حقيقتها وحقانيتها!

(الحوار الخاص مع الأستاذ أسامة محمود حفظه الله)

الحلقة الرابعة والأخيرة (تتمة لسابقتها):

الجهاد في باكستان…. التوحد الفكري، الاستعداد والانطلاق

السحاب: لقد تحدثنا في الحلقة السابقة عن الجهاد في باكستان بإسهاب، واتضح من كلامكم فيها أن المصلحين في صفوف المجاهدين يعبرون مرحلة متوترة. فما هي آثار هذا التوتر على الحركة الجهادية نفسها؟

الأستاذ أسامة محمود : لقد تكلمنا في الحلقة الماضية عن عدم خلو أي زمان من الأزمنة من العناصر الفاسدة؛ وأن هذا من الابتلاء. فكذلك احتوى جهاد باكستان على عناصر فاسدة، وإن كانوا قلة. ولكن بسببهم تشوهت صورة غالبية المجاهدين الصالحة.

وكذلك قلنا بأن المصلحين في الحركة الجهادية من محسود إلى سوات وباجور وكذلك مشايخ وقادة القاعدة ظلوا يدفعون شر هذه الأقلية عن الحركة الجهادية منذ أول يوم، وإلى يومنا هذا لم تتوقف هذه الجهود الطيبة..

وهنا أود أن أقول أن الله عز وجل يمتحن عباده، فإن تفانوا في تأييد الحق ونصرته في كل حال فإن الله لابد أن ينصرهم… إن لم يفقد الصالحون المصلحون عزمهم، وظلوا يؤدون ما عليهم، فإن نصر الله وعونه سيأتي لا محالة. وإن كان الجهاد والقتال قد فُرض لمواجهة الظلم والكفر، فإن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر قد فرض لأجل تقويم الصفوف الداخلية. كلاهما فرض. فإن ثبت المجاهدون على كليهما ولم يتهاونوا بأحدهما فإن الله سينصرهم… والنصر يأتي بأشكال مختلفة، ومن أهمها التمايز!

فبعد 2013 بدأت عملية التمايز من قبل الله وما زالت مستمرة. أصلح الله حالنا ووفقنا لأن نكون صالحين مصلحين.

ويجدر هنا ذكر نوعين من التمايز. حصل التمايز الأول بواسطة فتنة جماعة الدولة (الدواعش) الذين ظلوا يشوهون الجهاد. وفتنة داعش كانت بمثابه المغناطيس للمفسدين. فعند أول بروز لهذه الفتنة في الشام والعراق بدأ المفسدون من شتى بقاع الدنيا يبايعونها حيثما وجدوا، سواء كانوا في باكستان أم خراسان أم بوكو حرام في نيجيريا. وكلما أتت بيعة، رأينا- نسأل الله العافية- أنها من شخص كان قد تسبب في تشويه الجهاد. شخص لم يراع حرمة دم المسلم ولم ينصف في تعامله مع غيره من أهل الإيمان. فأكثر الذين اتجهوا إلى الدولة من خراسان وباكستان ما كانوا إلا هؤلاء المشوِّهين لسمعة الجهاد، ولله الحمد فإن صفوف الجهاد نقت لدرجة كبيرة.

والتمايز الآخر ما زال مستمرا بواسطة ابتلاء آخر، نسأل الله الثبات للجميع. وفي هذا الابتلاء خرج عدد لا يستهان به من المسيئين للجهاد من صفوف المجاهدين وسلموا أنفسهم للجيش الباكستاني! انتبهوا، إنه لمحل عبرة واتعاظ. فلم يستسلم للجيش إلا من كان يظلم الناس في ميدان الجهاد وتسبب في تشويه الجهاد. أي أن هؤلاء الناس لم يعملوا إلا لصالح العدو حتى عندما كانوا في ميدان الجهاد. والحقيقة أن الشخص الذي لا يلين للمسلمين ولا يؤدي لهم حقوقهم لا يمكن أن يكون شديدا على الكفار، ولا بد أن يتبين أصله في وقت مناسب. أصلحنا الله وإياكم.

النقطة الثالثة والأهم أنه ولله الحمد بدأت جهود الإصلاح تتكثف في ميدان الجهاد كله. وبدأ عدد المصلحين الذين شمروا عن سواعدهم لإصلاح الصفوف من الداخل يزداد. والحمد لله فإن الجهاد في باكستان ما كان ينقصه الصالحون والمصلحون فيما قبل أيضا. ولكن الشكوك التي كانت تعيق الأذهان عن إدراك أهم المفاهيم والمسائل قد أزالتها هذه الابتلاءات. والحمد لله فمن بركات أداء واجب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر أن الحركة الجهادية بدأت تمر بعملية إصلاح شاملة.

ومن الخير الذي نراه يظهر اليوم جرَّاء ذلك أن المجاهدين بدأوا يتوحدون فكريا وعمليا. فالحركة الجهادية لم يكن ينقصها الإخلاص والتضحية والعزيمة من قبل، ولكن هذه المرة انضم إلى ذلك التجاربُ والدروس ولله الحمد. وكنتيجة فإن قافلة الجهاد هذه ستصبح بحول الله نعمة عظيمة وخيرا كثيرا لا لباكستان فقط بل لشبه القارة الهندية كلها. ونرى أن الله قد أراد لهذه القافلة أن تقضي على الظلم والكفر بدءً من مناطق القبائل في باكستان إلى سرينغر (كشمير) ودهلي، وبما أنها مسئولية عظيمة جدا، لذا كان لا بد من تنقية القافلة وتمريرها عبر عملية تربوية، ولذا ابتليت بهذه الابتلاءات وما زالت. نسأل الله أن تتقدم حركة الجهاد هذه عمليا إلى ميادين غزوة الهند المباركة في أقرب وقت بإذن الله.

السحاب: ينشر العدو اليوم شائعات للإطاحة بالمجاهدين بأن بعض فئاتهم لها ارتباطات بالاستخبارات. فما هو موقف جماعتكم من نفس الارتباط بالاستخبارات؟

الأستاذ أسامة محمود : قبل كل شيء أذكر أصلا مبدئيا فيما يتعلق بالاستخبارات. وهو أن من أهم ما ندعو إليه- أي جماعة القاعدة- هو تحرير الجهاد من هيمنة الطواغيت تمامًا. ونرى أن الجهاد لا يمكن أن يحصل على أهدافه المشروعة ما دام يتبع ويعمل لأيٍ من أجهزة الاستخبارات.

بعض الناس يتعللون بقعودهم عن نصرة الجهاد باتهام إمارة أفغانستان الإسلامية بأنها كانت تعمل تحت إدارة الاستخبارات أيضا، وهذا بهتان عظيم. فلو كانت الإمارة الإسلامية عميلة لاستخبارات ما لما اضطرت أمريكا وحلف الناتو أن يأتوا بعدتهم وعتادهم ويُرْدُوا بجنودهم إلى الهلاك هنا. والاستخبارات التي يتحدثون عنها انهار جنرالاتها بقنابلهم النووية على اتصال هاتفي واحد من رئيس أمريكا. ويكفي كتاب برويز مشرف (على خط إطلاق النار) (In The Line Of Fire) كدليل… حيث يقول فيه بنفسه أنَّ الطالبان ما كانوا يعبئون بأحد منا حتى ولا بالمدير العام لجهاز استخباراتنا (آي إيس آي). فعندما ذهب الجنرال محمود مع وفد من العلماء للقاء (أمير المؤمنين) الملا عمر (رحمه الله)، استضاف أمير المؤمنين العلماء في غرفته في حين رفض أن يلتقي بالجنرال محمود الذي اضطر أن ينتظر في الخارج.

القصد أن هذا هو موقف ودعوة وطريقة تعامل جماعتنا مع الاستخبارات، أن الجهاد لا يمكن أن ينجح أبدا بالعمالة للاستخبارات. وقافلة الشيخ أسامة رحمه الله ماضية في ميدان الجهاد ضد أمريكا وعالم الكفر منذ ثلاثين سنة، واستخبارات العالم كلها وحكوماته تقاتل ضد هذه القافلة بتعاون واتحاد تام. وفي هذه الفترة قبض على بعض أعلى قادة التنظيم، وتم الحصول على وثائق كثيرة للقاعدة من بيت الشيخ أسامة رحمه الله في أبوت آباد. ولكن بفضل الله ما استطاع أي عدو أو أية استخبارات إلى اليوم أن تتهم الجماعة لارتباطها بأي استخبارات في العالم ولله الحمد، ثبتنا الله على هذا المنهج.

ثم إننا نؤمن أن “آي إيس آي” و “رَاوْ” [الاستخبارات الهندية] أعداء للشريعة والجهاد على حد سواء. فلابد من بغضهما كلتيهما واعتبارهما أعداء. ولكنهما – للأسف – ليستا متساويتان أبدا في أعين عامة مسلمي الهند وباكستان. فأما آي إيس آي فتحتاج إلى بيان مكرها، وتاريخها الكريه، ومعاركها ضد الإسلام والمسلمين دفاعا عن الكفر، وتفنيد ما تدعيه من المفاخر. في حين أن بغض (راو) راسخ في قلوب وأذهان الناس خواصهم وعوامهم. ولله الحمد فإن عداوة “راو” تجري في عروق ودماء المجاهدين كذلك.

وقد كان أميرنا المحترم الشيخ عاصم عمر حفظه الله يشرح ذات مرة صراعات الاستخبارات فيما بينها لعدد من الإخوة وكيف أن قوى الباطل تحارب وتعادي بعضها البعض كذلك. وطرح سؤالا فقال: الكل يعلم أن آي إيس آي والجيش يحاربون الآن ضد المجاهدين، ففرضا لو حاولت استخبارات “راو”  أن تستفيد من ضعفنا هذا وعرضت علينا سلاحا نحن في أشد الحاجة إليه مثل الصواريخ المضادة للطائرات فهل نقبل ذلك أم لا؟ وأجاب بنفسه قائلا: “لا، فلا يهمنا حتى وإن قتلنا جميعا، فهذه ليست خسارة، بل بحول الله سيفيد الحركة الجهادية، ولكن لو فقط ارتبطنا براو من أجل تعاون كهذا فهذا سيعني اقتلاع الحركة الجهادية من جذورها”.

السحاب: لقد اتهم أناس من الذين استسلموا للجيش الباكستاني بعض الجماعات التي تجاهد في باكستان وبعض المنتمين إليها، فهل لديك ما تقوله بهذا الشأن؟

الأستاذ أسامة محمود : الأمر الأول أنه لا مصداقية لأي قول لمثل هؤلاء الناس. لأنهم إما أسارى، فإن كانوا كذلك فهم مكرهون. أو أنهم ذهبوا وسلموا أنفسهم طواعية، وبذلك قد انسلخوا من أشياء كثيرة بمجرد نزولهم. ولا يمكن والحال هذه أن نأخذ بأقوالهم بأي صورة لا شرعا ولا عقلا. ثم ماذا يعني أن يتهم شخص آخر بأن له روابط مع استخبارات تعادي الإسلام وهو بنفسه يجلس في أحضان استخبارات – آي إيس آي- التي تعادي الإسلام كذلك؟ من كان يريد أن يتعرف على الجماعات الجهادية ويفهمها فلا ينبغي له أن يسمع لمن لا يملك أمره بيده. بل تكفيه أقوال وأفعال تلك الجماعات بنفسها.

الأمر الآخر… أنه قبل هؤلاء المستسلمين قُبض على كل من مسلم خان من سوات والمولوي عمر والمولوي فقير محمد من باجور، ثبتهم الله، وفك أسرهم، وحفظهم من شر الأعداء. وكذلك أسر كثير من مجاهدي المحسوديين أتباع المفتي ولي الرحمن وأعظم طارق تقبلهما الله في عداد الشهداء. وهناك أعداد كبيرة من عناصر جماعات مختلفة تنتمي إلى الحركة الجهادية في السجون. كلهم ذاقوا الويلات، وبعضهم قتلوا في زنازين التعذيب ولم تخرج إلا أشلائهم. ولكن لم يبح أحد منهم عن هذه “الأسرار” التي يتكلم بها هؤلاء المستسلمون. فيتبين من ذلك أن الاتهامات لا تتعلق بالحركة الجهادية – وإن سلمنا بصحة بعض ما قالوه- بل تتعلق بأشخاصهم وبعض من أمثالهم… لا بعموم الحركة الجهادية أبدا.

الأمر الثالث، لنفرض أن هؤلاء المستسلمين مخلصون وأنهم رأوا بعض من يسيء إلى الجهاد في الميادين، فيبرز السؤال: لماذا غاب عن أنظارهم ذلك الجم الغفير من الصالحين في مقابل المفسدين؟ ولماذا خفيت عنهم تلك التضحيات العظيمة للغالبية الصالحة من محسود إلى سوات وباجور بل باكستان كلها؟ هناك أعداد لا تحصى من المجاهدين والمجموعات الذين صمدوا في الميدان أمام إغراءات جميع وكالات الاستخبارات، لماذا لم يروهم؟ ولماذا لم يدعموا المصلحين في مقابل قلة مفسدة وشرذمة صغيرة وأفرادا معدودين؟ ثم نسأل من الذي اعتبروه صالحا في مقابل المفسدين؟؟ أأولئك الذين طلبوا منهم العفو واستسلموا لهم؟ أهذا الجيش الباكستاني واستخباراته، أهؤلاء القتلة الظلمة عباد الدرهم والدينار؟

أحكي لكم، ذهبت قبل سنتين إلى بيت السيد أعظم طارق محسود رحمه الله، ولا يمكن أن تقول عنه أنه بيت، كان عبارة عن عدد من الخيام الصغيرة. وكان البرد قارسا. فلم نستطع أن نمضي في خيمة منها إلا ليلة واحدة فقط؛ في حين أن أعظم طارق رحمه الله كان يعيش فيها مع أهله منذ ثمانية شهور حتى عندما كان الثلج ينزل. وقد قتلته طائرات الدرون بالقرب من تلك الخيام هو وابنه الشاب. السؤال هو: هل يعيش عملاء مخابرات راو هكذا؟ هل تكون حياتهم هكذا؟ هل يضحي عملاء راو وآي إيس آي بديارهم وأطفالهم ونسائهم؟ أتباع راو وآي إيس آي إنما يدمرون ديار غيرهم من أجل المال والراحة والعافية، ولا يضحون أبدا بديارهم وأبنائهم.

وللأسف فإن هؤلاء المفترين عندما كانوا في ميدان الجهاد كانوا يشوهون صورة الجهاد بأفعالهم، ولم يتهاونوا للحظة في مسخ دعوة الجهاد، وتنفير الناس من المجاهدين.

السحاب: ما رأيكم عن الانفجارات التي تستهدف الشعب، من ورائها ولماذا؟

الأستاذ أسامة محمود : لقد بينا مرارا، ونعيد عرض موقفنا المبدئي أمامكم مرة أخرى، سواء كان الجيش الهندي أو الباكستاني، فإن جميع هذه الجيوش تقتل المسلمين، وتعادي الشريعة، وتظلم الناس. فيجب علينا إلى جانب معاداتهم أن نحافظ على أرواح عامة المسلمين وأن نريد الخير لهم، فكلاهما واجب علينا. وهذا هو مقياس الجهاد. الذي ينضبط بهذا المقياس هو المجاهد. والذي لا ينضبط فهو الظالم قاتل المسلمين، ولا يمكن أن يكون مجاهدا.

ثم أقول، إن قتل عامة المسلمين فعل قبيح جدا. لا تسوء به سمعة المجاهدين وأهل الخير في باكستان فحسب بل في أفغانستان والهند والمنطقة كلها. وتشويه اسم المجاهدين المخلصين في المنطقة ليس هدف لجيش واحد أو استخبارات على حدة، بل هو هدف مشترك لجميع شياطين راو، وسي آي إيه وآي إيس آي كلهم. لذا فلا تفيد هذه العمليات إلا هؤلاء الشياطين، بينما لا يلحق الضرر إلا بالجهاد والمجاهدين وعامة المسلمين.

السحاب: في خضم اتهام المجاهدين بأنهم عملاء للاستخبارات، كيف يمكننا معرفة الصالح من الطالح؟

سم: قبل أن أجيب على سؤالك أعتقد أنه من الضروري أن أضع بعض النقاط بين يديك. النقطة الأولى أن الافتراء حربة قديمة للباطل. وهي قديمة قدم الحرب بين الحق والباطل. فلقد مرت في هذه المنطقة حركة جهادية لشخصية عظيمة مثل السيد أحمد الشهيد عرفان رحمه الله، ولكن حتى هو لم يسلم من فرية الاتهام بالعمالة للإنكليز. فهذا الأمر أصبح وكأنه لا بد منه في هذا الطريق، وهو امتحان. امتحان للمجاهدين ولعامة المسلمين كذلك.

النقطة الثانية أن الكذب والدجل والخداع يسود اليوم أكثر من ذي قبل. فيلبس الحق بالباطل والباطل بالحق بأساليب وطرق مبتكرة. ولقد وُصف هذا الزمن في الأحاديث “بالسنوات الخدَّاعات”. التي “يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ”. وهي صفة زماننا. ولكن مع ذلك فقد كلفنا الله أن نتبين الحق من الباطل على الرغم من المكر والخداع ثم ننصره في مقابل الباطل، وسنُسأل عن ذلك أمام الله.

النقطة الثالثة أنه مهما مكرت الاستخبارات وتآمرت، فإن جميع مكائدهم ومؤامراتهم ستفشل وستحبط. نحن متأكدون من ذلك. إن لم يحدث هذا اليوم فغدًا بإذن الله. الحقيقة أنه مهما هوَّلت الاستخبارات من شأنها عن طريق مكرهم وخداعهم وكذبهم ووسائل إعلامهم، فلا يوجد سفيه وأحمق أكبر منهم وذلك لأنهم يحاربون الله ودينه. وهم علاوة على ذلك أسوأ وأحط خلق الله لأنهم يعرفون الحق أكثر من عامة الناس وهم يخوضون معركة الحق والباطل هذه. فهم يتعاملون مع أهل الجهاد أكثر من غيرهم. وهم يرون مواقف المجاهدين المشرفة في السجون وزنازين التعذيب، وبذلك يكون الله قد أتم حجته عليهم. فهم عندما يقاتلون أولياء الله فقط من أجل رواتبهم والحال كهذه فإن الله يسلب عقولهم وأفهامهم، ويرد كيدهم في نحورهم. ويذلهم في الدنيا فتظهر خساستهم للقريب والبعيد. وأما الآخرة فمردنا إليها جميعا. لذا فإن كل واحد منا قد قرر من يريد أن يبعث معه منذ اليوم؟ من سيبعث مع الظلمة كبوش وأوباما وترامب، ومن سيبعث مع أولياء الله المهاجرين والمجاهدين. ولتكن هذه الحقيقة دائما أمام عامة أمتنا المسلمة أن الاستخبارات أعداء الشريعة والجهاد هم أضعف وأحمق خلق الله. وأي فوز يحققه هذا العدو الأحمق إنما هو إمهال من الله له واستدراج. هذه حكمة الله وبها يهلكهم. ولا دخل لكفاءاتهم وقدراتهم أبدا بهذا الشأن.

الآن أرجع إلى سؤالكم، انظروا، أس المسائل في ميدان الجهاد هو عدم اتباع الشريعة. نعم وكالات الاستخبارات قضية ولكنها ليست القضية الأساسية. القضية الأساسية هي التحرر من الشريعة. كل جماعة متحررة من الشريعة، كل جماعة لا يهمها ما يجوز وما لا يجوز، من يحل دمه ومن يحرم؛ سواء كانت تابعة لوكالة استخبارات أم لا… فإنها لن تنشر إلا الفساد وستلحق الضرر بالجهاد والأمة لأن منهجها بنفسها فاسد وطريقها خاطئ. ثم لا يكون أمام جماعة كهذه عائق يمنعها من العمالة للاستخبارات لأنها تفتح لنفسها كل الطرق الجائزة وغير الجائزة.

ومن الحقيقة كذلك أن الجماعة التي تعمل لأي استخبارات لا يمكنها أن تتبع الشريعة. فالاستخبارات إما أن تجعلها تساوم على هدف من أهداف الجهاد، وتدفعها من حرب لتطبيق الشريعة وتحكيمها إلى حرب تقوم على قومية أو عصبية أو غيرها. وإن لم يكن ذلك من الممكن أو لم يكن من المناسب فإنها تشوه صورة الجهاد بجعلها تزهق الأرواح المحرمة أو ترتكب غيرها من الأعمال المخالفة للشرع.

الآن، ما هو السبب الرئيسي وراء كل هذا؟ الأصل هو عدم اتباع الشريعة. وأما العمالة للاستخبارات فإنها نتيجة وليست سببا. السبب هو التحرر من الشريعة. لذا فإن كان هدفنا اتباع الشريعة والعمل بها فإنه لا يمكن أن يبرز سؤال العمالة للاستخبارات. فاتباع الشريعة هو المحك لاختبار جميع المجموعات والفئات. فلا نحتاج إلى التطفل لمعرفة ما يجري وراء الأستار، ولا للتجسس وكشف الأسرار. بل يكفينا أن نرى أقوال كل مجموعة وأعمالها الظاهرة، وكيف تُعرِّف كل فئة نفسها، وأي أنواع العمليات تتحمل مسئوليتها. إن كان كل ذلك يوافق الشريعة فمهما اتُّهمت بأنها تعمل للاستخبارات فلن يكون ذلك إلا افتراءات وتهما، وكذبا. وغالبا ما تكون مثل هذه الافتراءات من مكر الاستخبارات نفسها. لذا فإن كان ظاهر جماعة ما يوافق الشريعة فإنَّه يجب تأييدها. بل بالإضافة إلى ذلك- سواء كنت تنتمي لتلك الجماعة أم لا- يلزم عليك أن ترد الافتراءات الكاذبة ضدها.

وعلى العكس من ذلك لو كانت هناك فئة تصدر منها أفعال تخالف الشرع فإنَّه يجب على المجاهدين كلهم بحسب استطاعة كل منهم، بشكل فردي وجماعي أن يتداركوا الأمر. فالنهي عن المنكر واجب والتهاون بهذا الواجب إثم عظيم يُسلبَ بسببه نصر الله، بل قد يعم به غضب الله على الجميع؛ عافاهم الله من ذلك. لذا فإن ارتكبت فئة أو بعض الأفراد ما يخالف الشرع باسم الجهاد فإنه يجب إعلان البراءة من تلك المخالفة أمام الناس ورب الناس… فلقد تبرأ الرسول صلى الله عليه وسلم من خطأ شخص مثل خالد بن الوليد رضي الله عنه، عندما قَتل خطأ في سرية بَنِي جَذِيمَةَ؛ وقال: “اللهُمَّ إنِّي أَبْرَأُ إلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ” .

ثم هذه البراءة يجب أن تكون في أول الأمر من الأفعال دون الأشخاص والفئات… يؤمل من ذلك أن ينتبه الأفراد لخطئهم ويحذروا في المستقبل… ولكن إن لم نتبرأ، أي إن التزم جميع المجاهدين السكوت فإنَّ عامة المسلمين سيعتبرون ذلك الفعل المخالف للشرع هو الجهاد بعينه. أو أنهم سينسبون ذلك الظلم لأهل الجهاد. وبهذا سينفر الناس من هذا الجهاد المبارك. وحيث يتسبب هذا الأمر في الإضرار بالجهاد كله فإنه قد يكون سببا للمؤاخذة أمام الله أيضًا. لذا لا بد من التبرؤ من تلك الأفعال.

نعم إن لم يصلح الأمر على الرغم من التنبيه المتكرر فإنَّ العلماء قد بينوا وجوب الابتعاد عن تلك الفئة الفاسدة ووجوب إبعاد الناس كذلك عنها بقدر المستطاع مع الاستمرار في الجهاد مع أي فئة صالحة. ولقد بين العلماء أهمية ووجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وآدابه وشرائطه في كتبهم. فيجب الرجوع إليها.

السحاب: أتباع الدولة يزعمون كذلك أنهم يتبعون الشريعة، والذين يقتلونهم لا يقتلونهم وهم يعتبرونهم مسلمين، ففي مثل هذه الحالة كيف يمكن أن يقال بأنَّ اتِّباع الشريعة هو المحك؟

الأستاذ أسامة محمود : هنا أود أن أبين بعض الأمور. الأمر الأول أنه لا يجب أن نخصص الغلو وارتكاب المخالفات الشرعية بأتباع جماعة الدولة، بل يجب النفور من تلك الأفكار والأفعال والأخلاق التي بسببها أصبحت هذه الجماعة فتنة للأمة. فإن تسمّينا بالقاعدة أو أي اسم آخر بدل الدولة، ولكن كانت أفكارنا وأعمالنا وأخلاقنا على ما كانت عليها جماعة الداعش فإننا بذلك سنكون سببا في استئصال الجهاد وهلاك الأمة؛ باستعمال مسمى القاعدة أو أي مسمىً آخر. انظر، التعصب للجماعة، واعتبار الحق منحصرا فيها، والتمادي في التكفير بدون دليل، وإباحة دم المسلم بشتى الحيل، وما يشابه ذلك هي من الأمور التي أضرت بها هذه الجماعة الجهاد والأمة.

وأرى أن فتنة جماعة الدولة ستصبح تاريخا إن شاء الله. ولكننا كمجاهدين لا يجب أن ننسى أبدا صفات جماعة الدولة لكي نستطيع إصلاح أنفسنا ونتجنب تلك الصفات. ويجب أن ندرج في نظام تربيتنا وتربية إخواننا رد هذه الأفكار الفاسدة والأخلاق السيئة التي بسببها أثارت جماعة الدولة الفتنة والفساد وأصبح ذلك سببا لتشويه الجهاد. قال الشيخ ابن تيمية رحمه الله: أنه يجب للعمل على الخير معرفة الشر، فبدون ذلك قد يرتكب الشر باسم الخير”.

الأمر الآخر أن ما قلته صحيح بأن الغالون مثل هؤلاء عندما يقتلون المسلم فإنهم يقتلونه على أنه باغ وفي أغلب الأحوال أنه كافر. وصحيح أنهم يرددون ضرورة الحفاظ على أرواح المسلمين والدفاع عنهم أكثر من غيرهم. ولكن السؤال هل أخذوا أصول وقواعد التكفير وإباحة الدم من علماء الحق من سلف الأمة وخلفها أم اخترعوها من عند أنفسهم؟ إن كانوا لا يأخذون أصول الحرب والقتال، والتكفير والتفسيق من أهل السنة والجماعة ولا يتبعون علماء الحق، ولا يرجعون إلى علماء الجهاد قربوا منهم أو بعدوا، بل يستخدمون شروحاتهم وأصولهم التي ابتكروها من عند أنفسهم فإن هذا هو ما بينه العلماء بأنه سبب ضلالهم.

السحاب: جميع أهل الغلو يدَّعون أنهم من أهل السنة والجماعة، وكلهم يدَّعون أنهم يتبعون العلماء، فماذا تقولون في مثل هذا؟

الأستاذ أسامة محمود : أيها الإخوة الكرام، أصول أهل السنة والجماعة ليست بمبهمة ومائعة كي يأخذ كل واحد منها مبتغاه. فلله الحمد ظل في الأزمنة السابقة وفي زمننا الحاضر علماء وفقهاء رتبوا مسائل الجهاد مراعين هذه الأصول.

ثم نحن لسنا أول من جاهد ضد المرتدين ونظام الكفر. لقد وقع جهاد كهذا من قبل. ولسنا نحن فقط من واجه النوازل والمسائل الجديدة التي نراها اليوم. بل قد ظهرت هذه المسائل في جميع مناطق العالم حيث بدأ الجهاد في الماضي القريب. ولقد مرت الحركات الجهادية وعلماؤها بتجارب مضنية في الجزائر والشام والشيشان ومصر وأفغانستان. وقد رأينا نتائج مفجعة بسبب أخطاء صغيرة. كل هذه التجارب ولله الحمد محفوظة حتى اليوم. وفي ضوئها أفتى علماء تلك الأزمنة ومن جاء بعدهم. وضبطوا أصولا تلقتها الحركات الجهادية بالقبول في الدنيا بأسرها ولله الحمد.

والحقيقة أن تاريخ الحركة الجهادية يعطينا درسا، وهو أن هناك أمران يقيان من الضلال؛ الأمر الأول اتباع علماء الجهاد الخلف منهم والسلف. والأمر الآخر الاستفادة من تجارب الحركات الجهادية. لو اهتممنا نحن المجاهدين بهذين الأمرين فإن ذلك سينفع الجهاد والأمة بحول الله؛ وسننجو نحن من الضلال كذلك.

فمثلًا أمامكم نموذج إمارة أفغانستان الإسلامية. الإمارة حكمت أفغانستان، وهي تقاتل اليوم في أفغانستان كلها، وتركز على العدو المسلح، وتتجنب المعارك الجانبية، وتحافظ على أرواح عامة المسلمين. أسلوبها هذا خدم الدين ودعم الجهاد ولله الحمد. وهذا هو السبب بأن الشعب هنا يرى أن الإمارة ستنقذه. واليوم نجد حركات جهادية أخرى في مناطق بعيدة كالصومال واليمن والجزائر ومالي. وعلى الرغم أن تلك المناطق مختلفة عن مناطقنا بمجتمعاتها ولغاتها وحتى بمذاهبها الفقهية أحياناً ولكن ستلمسون هناك منهج الإمارة أيضا ولله الحمد. والمجاهدون هناك يجنون ثماره…

أي أن هذا الأمر دليل على أن مجاهدي تلك المناطق على الرغم من تباين الألسنة والأمكنة والمذاهب تعلموا كثيرا من الإمارة الإسلامية وغيرها من الحركات الجهادية وقيدوا أنفسهم كذلك بعلماء الجهاد. في حين أنه في الجانب الآخر ظلت مشكلة جميع الغالين بمن فيهم جماعة الدولة أن أبصارهم لا تتجاوز دوائرهم الداخلية المحدودة. وأنهم بتروا فتاوى علماء الجهاد وتجارب الحركات الجهادية خارج تنظيماتهم عن أنفسهم. وهكذا وضعوا أصولا من عند أنفسهم حسب ضرورياتهم وأهوائهم وتسببوا في الإضرار بالجهاد وبالأمة.

السحاب: ضيفنا الكريم… نأتي إلى نهاية الحلقة، ونطلب منكم في الختام أن توجهوا رسالتكم إلى مسلمي ومجاهدي باكستان.

الأستاذ أسامة محمود : أود أن أقول لإخواني مسلمي باكستان الأعزة، أننا نواجه اليوم معركة بين الحق والباطل في المنطقة. وهي معركة بين العدل والظلم. ونحن كمسلمين لا نستطيع أن نبقى على حياد من معركة الإسلام والكفر أو أن نجلس كمشاهدين. بل هو واجب على كل مسلم أن يساهم بحصته في هذا الجهاد.

ثم إن الأعداء قد وضعوا عراقيل كثيرة كي يخفوا عن أعينكم هذه الفريضة ويجعلوا تمييز الحق من الباطل صعبا أمامكم. لذا أصبحت معرفة العدو من الصديق وتمييز الخير من الشر أصعب من ذي قبل. وهذا هو الابتلاء والامتحان. وفي مثل هذه الحالة تصبح معرفة الحق ونصرته واجبا دينيا. ولقد أصحبت نصرة الجهاد والمجاهدين الآن ضرورة متحتمة أكثر من أي زمن مضى. وأؤكد لكم أن هذه الحرب هي حرب للدفاع عنكم ولحريتكم ولمجدكم. ستكون نصرة الحق فيها بحول الله سببا لعزتكم في الدنيا والآخرة إن شاء الله. سهل الله لكم نصرة الحق ودعمه.

وأقول لجميع أهل الخير من المجاهدين في شبه القارة وخاصة في باكستان أنه على الرغم من جميع افتراءات الكذبة الماكرين، وظلمهم واضطهادهم، إن عملنا بهذين الشرطين فإن ذلك كله لن يضرنا شيئا. قال الله سبحانه وتعالى {وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا}.

الصبر والتقوى في اتباع الشريعة. هما سلاحا هذه المعركة. فلو تسلحنا بهما فإن كيدهم سيرجع عليهم إن شاء الله… ستعود عليهم كل هذه القوة والشوكة بالهلاك والدمار، إن شاء الله. لقد اختاركم الله للجهاد المبارك لغزوة الهند. وعلى أياديكم بإذن الله سيهيئ الله أمر رشد ليس لمسلمي باكستان فحسب بل لجميع شبه القارة في دنياهم وأُخراهم. وبحول الله بواسطتكم سيُخضِع الله الظلمة والجبابرة لدينه. وسينصر الله المظلومين بجهادكم، هذه العبادة المباركة، بإذن الله. فتقدموا، وتراصوا في صفوف الجهاد المبارك. وليكن منا حراسٌ على كل منفذ يمكن أن يتسلل منه اللصوص لسرقة ثمرات هذا الجهاد المبارك. وليذق بأسكم كل من حمى الكفر. وليلمس منكم الرحمة والشفقة كل مسلم. والله الهادي والناصر. نصرنا الله وهدانا. وجزاكم الله خيرا. وحماكم الله ونصركم.

السحاب: أيها المشاهدون الكرام بهذا نأتي إلى خاتمة حلقات هذا اللقاء. نتقدم بالشكر الجزيل لجناب الأستاذ أسامة محمود من قبل مؤسسة السحاب، شبه القارة، لإعطائه الوقت لهذا اللقاء المسهب.

الأستاذ أسامة محمود : وأنا كذلك أشكركم جميعا لإتاحتكم الفرصة لي. وأدعو الله أن يتقبل منكم جميع مساعيكم لنشر الدعوة. وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 

[1] وهنا نقدم إليكم بعض مقتبسات من هذا البيان السامي:

” وقطعًا للطريقِ, وإنارةً للسبيلِ, وإعذارًا إلى اللهِ, ومزيدًا مِن المساهمةِ في ضبطِ حركتِنا الجهاديةِ الطيبةِ؛ فإنّنا نؤكِّدُ على تبرُّئنا الكاملِ مِن أيِّ عملياتٍ تستهدفُ المسلمينَ سواءٌ في مساجدِهم أو أسواقِهم وطرقاتِهم أو تجمّعاتِهم, وأنّ تنظيمَ قاعدةِ الجهادِ مُمثّلًا في قيادتِه وعبرَ بياناتِه وعبرَ متحدثيه قد أكّدَ هذا الأمرَ مِرارًا, وبيّنّا هذا الأمرَ من منهجنا وطريقِنا ودعوتِنا, وأوضحنا أننا ننظرُ إلى شعوبِنا الإسلاميةِ على أنها شعوبٌ مغلوبةٌ على أمرِها, ولا نُعفيها ولا أنفسَنا مِنَ التقصـيرِ؛ وإنما يُنسبُ الشَّـيءُ إلى أظهرِ أوصافِه التي عليها المدارُ في المسألةِ المخصوصة, وأنّ شعوبَ أمّتنا المحكومةَ مِن قِبلِ الطُّغاةِ المرتدينَ والأنظمةِ العلمانيةِ الخائنةِ العميلةِ للأعداءِ المواليةِ للغربِ هي شعوبٌ مسلمةٌ يجبُ علينا كما يجبُ على كل فردٍ قادرٍ مِن أفرادِ هذه الشعوبِ أن يسعى في إنقاذِها وتخليصِها وهدايتِها والرقيِّ بها في مدارجِ الصلاحِ والعزةِ والكرامةِ, لا إعمال التقتيلِ فيها والنهبِ لأملاكها وزيادةِ معاناتها وبؤسها ومآسـيها.”

” وأوضحنا أنّنا متقيدونَ بشـريعة ربنا b الذي حرّمَ قتلَ النفسِ إلا بالحقِّ مهما طغى العدوُّ وتجبّرَ, ومهما بلغتِ الأحقادُ وتراكمتِ الثاراتُ في الحروبِ, إنّ دينَ اللهِ b أغلى وأعلى, وإنّ الفوزَ برضوانِ اللهِ وكرامتِه أعزُّ وأسمى مِن كلِّ غايةٍ.

فنحنُ بريئونَ مِن أيِّ عملٍ مِن هذا النوعِ، تقومُ بهِ أيةُ جهةٍ كانت، وفي أيِّ مكانٍ كان, سواءٌ كانت عصاباتٍ مجرمةً تنتسبُ إلى العدوِّ, أو شـركاتٍ أمنيةً كافرةً مرتزقةً أخزاها اللهُ, أو كانت تنتسبُ إلى المسلمينَ وإلى المجاهدينَ وَتَهَاوَنَتْ وَفرّطَتْ. إنّنا بكلِّ وضوحٍ نعدُّ تلكَ الأعمالَ مِنَ الفسادِ في الأرضِ الذي نُهينا عنه ﮋﮌ ﮍ ﮎ ﮏﮐﮊ [البقرة], ﮋﰕ ﰖ ﰗ ﰘ ﰙﮊ [المائدة] “

“إنّ جهادَنا المشـروعَ المباركَ غاياتُه ساميةٌ وأهدافُه نبيلةٌ, كلُّها عدلٌ ورحمةٌ وإحسانٌ وشـرفٌ وعزةٌ وكرامةٌ وصلاحٌ وفوزٌ وفلاحٌ, يجمعُها رضا اللهِ c والكونُ معه وفي صفه وأنصارًا له b, نُعلي كلمةَ اللهِ وننصـر دينَه ونحميه, ونحقُّ الحقَّ, وندفعُ الظلمَ والعدوانَ, ونحررُ الإنسانَ والأوطانَ, ونرحمُ الخلقَ وننفعهم.

ونذكِّر إخواننا المجاهدينَ في كلِّ مكانٍ -وفّقهم الله- إلى ضـرورةِ بثِّ ونشـر العِلمِ بِعِظَمِ حُرمةِ دمِ المسلمِ, ووجوبِ الاحتياطِ فيه, وصـيانته والمحافظةِ عليه, والخوفِ عليه مِن أن يُراقَ بغير حقٍّ, ووجوبِ سدِّ أيِّ طريقٍ مفضٍ إلى الاستهانةِ بدماءِ أهلِ الإسلامِ وأموالِهم وأعراضِهم, وأن لا تطغى الحربُ وأجواؤها وأحوالها وثاراتُها وأحقادها على تمسكنا بشـريعة ربنا b في هذا الأمرِ وفي كلِّ أمر, ولا على عبوديتنا الكاملةِ له c؛ فنحنُ عبيدٌ لله b وجنودٌ له, نسـيرُ على طريقِ محمدٍ C بالتزامٍ كاملٍ وصبرٍ ويقينٍ.”

التحميل