ہدایت یافتہ تحریکوں اور ہدایت سے محروم تحریکوں کے مابین – استاد اسامہ محمود

شارك هذا الموضوع:

ہدایت یافتہ تحریکوں اور ہدایت سے محروم تحریکوں کے مابین

اہم ترین فرق

ایک تربیتی دورے سے ماخوذ نشست

استاد اسامہ محمود – حفظه الله

 

التحميل

 

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على رسوله الكريم

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

میرےعزیز بھائیو!

 یہ چند بنیادی باتیں ہیں جن کو سمجھنا ،ان پر غور کرنا اور ان کو اپنے دل و ذہن میں یاد رکھنا ضروری ہے ۔ہدایت کی تحریکوں اور جو ہدایت سے ہٹی ہوئی تحریکیں ہیں ان میں ایک بہت بڑا فرق ہےاور اس فرق کو ہمارے سامنے ہر وقت ہونا چاہیے ۔

وہ تحریکیں جو ہدایت کے رستے پر چل رہی ہوں ، جو انبیاء علیہم السلام کے رستے پر، جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے رستے پر گامزن ہوں اور وہ تحریکیں جو اس رستے سے ہٹی ہوئی ہوں ان تحریکوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ اور وہ فرق یہ ہےکہ جب بھی یہ تحریکیں ناکامی کا سامنا کرتی ہیں… تو اگر وہ ہدایت کی تحریک ہو، اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی میں اگر اس کی تربیت ہوئی ہو اور اس نے اپنے آپ کو اس سانچے میں ڈھالا ہو تو ایسی تحریک کے افراد اس ناکامی کے اسباب اپنے قلوب کے اندر، اپنے کردار کے اندر، اپنے اعمال کے اندر اور اپنی دعوت کے اندر ڈھونڈتے ہیں۔

جبکہ جو گمراہی کی تحریکیں ہوتی ہیں یا وہ تحریکیں جو ہدایت کے رستے سے ہٹی ہوئی ہوتی ہیں وہ جب ناکامی کا سامنا کرتی ہیں تو وہ اپنا محاسبہ نہیں کرتی ہیں ۔ وہ اپنے ایمان کو نہیں دیکھتی ہیں، اس کے افراد اپنی دعوت کا جائزہ نہیں لیتے ہیں ، وہ اپنا محاسبہ نہیں کرتے ہیں، اپنے قول و عمل پر نظر ثانی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ان کی ساری توجہ مادی وسائل ومسائل کی طرف ہوتی ہے ۔وہ باطل کو ، دشمن کو ناکامی کا سبب بتاتی ہے کہ باطل قوی ہے، باطل کی سٹریٹیجی (strategy) بہت زیادہ قوی تھی، باطل کے پاس مادی وسائل بہت زیادہ تھے، ہمارے پاس مادی وسائل انتہائی کم تھے اس وجہ سے ہمیں ناکامی کا سامنا ہوا۔ جبکہ جو تحریکیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق چلنے کی کوشش کرتی ہیں ان کو جب بھی ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ فوراً اپنی طرف رجوع کرتی ہیں ۔ جب ان سے زمینیں چھن جاتی ہیں ، جب ان کی دعوت بدنام ہوجاتی ہے، جب ان کی دعوت کو سننے والے کوئی نہیں ہوتے ہیں ، جب لوگوں کے دلوں میں ان کی دعوت کی عظمت اور محبت بڑھنے کی بجائے کم ہونا شروع ہوتی ہے ، جب افراد ان کی طرف آنے کی جگہ ان سے بھاگنا شروع کرتے ہیں، تو جو ہدایت کی تحریک ہوتی ہے وہ فوراً رک جاتی ہے ، فوراً اپناجائزہ لیناشروع کرتی ہے، وہ اپنے آپ کا ،اپنےافرادکا محاسبہ شروع کرتی ہے……

اسی نہج پر اللہ کے نبی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو پاکیزہ تحریک تھی … جو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تحریک تھی ، اس کی تربیت اللہ رب العزت نے ایسی ہی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اللہ رب العزت نے صحابہ کی تربیت ایسی ہی کی ہے۔آپ یہ دیکھیے کہ جب غزوۂ احد میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو زخم لگے ہیں اور ان کو تکلیف پہنچی ہے ۔وہ لہولہان ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود زخمی ہیں، اسی وقت جب صحابہ پوچھتے ہیں کہ کہاں سے یہ مصیبت آگئی؟ تو وہاں اللہ رب العزت کیا فرماتے ہیں؟ وہاں ان کی توجہ مادی وسائل کی طرف نہیں کی جاتی ہے کہ آپ کے پاس ہتھیار نہیں تھے ، آپ کے پاس تلواریں کم تھیں، آپ کے پاس نیزے کم تھے، آپ کے پاس گھوڑے کم تھے، اور آج کے دور کے حساب سے اگر ہم کہیں تو یہ کہ آپ کے پاس کلاشن کوفیں کم تھیں ، آپ کے پاس بارود نہیں تھا، آپ کے افراد کم تھے ، آپ کی سٹریٹیجی اور منصوبہ بندی جو تھی وہ صحیح نہیں تھی … اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُدھر موجود ہیں صحابہ جیسے پاکیزہ نفوس موجود ہیں۔ اسی وقت اللہ رب العزت کیا فرماتے ہیں ؟اس وقت جب سب زخم زخم ہیں ،لہو لہان ہیں، اس وقت آیت نازل ہوتی ہے [1]:

أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ جب تمہیں مصیبت پہنچی قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا… قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا …کہاں سے یہ مصیبت آگئی؟ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ کہو یہ تمہاری اپنی وجہ سے ہے!… تم اپنی طرف متوجہ ہوجاؤ، کہ تمہارے اعمال میں کیا کمی ہے !اور آگے فرماتے ہیں إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌاللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

اللہ تعالی ہر نصرت پر قادر ہے ، جس طرح چاہے تمہاری نصرت کرسکتا ہے لیکن آپ کے اعمال میں آپ سے کوئی کوتاہیاں ہوئی ہیں ، اس حق رستے پر آپ نے (رسول اللہ ﷺ کی )اطاعت کے اندر …شریعت پر عمل میں آپ سے تقصیر ہوئی ہے ، اسی وجہ سے یہ مصیبت آگئی ۔ لہٰذا آج اگر کوئی جہادی تحریک مصیبت کا سامنا کرتی ہے… ہماری جہادی تحریک کو دیکھیے، ہمارے ساتھی شہید اگر ہورہے ہیں ، ان کو پھانسیاں دی جارہی ہیں ، زمین ہم سے چھینی جارہی ہے، ہماری دعوت و کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں ، تو اس وقت یہ آیت ہمارے سامنے ہونی چاہیے ہے، ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ یہ ہدایت کی تحریکوں کی بڑی صفت ہے۔

آپ دیکھیے کہ اللہ رب العزت صحابہ کو اور پھر اس پوری امت کو مخاطب ہیں… اللہ رب العزت ہمیں مخاطب ہیں… فرماتے ہیں[2]:

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ…پریشان مت ہو ،غمزدہ مت ہو، تم ہی غالب ہوں گے اگر تم مومن ہوں۔ اور یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا معاملہ نہیں ہے۔ اللہ رب العزت تو پچھلی امتوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ ان کا حال یہ تھا کہ[3]:

وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ…کہتے ہیں کہ کتنے نبی ایسے تھے جن کی معیت میں اللہ والے لڑے ، وہ وہن کا شکار نہیں ہوئے اُن مصائب کی وجہ سے جو ان کو اللہ کے رستے میں ملتے تھے ، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔ اور پھر آگے فرماتے ہیں[4]:

وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ …جب ان کو تکلیف پہنچتی تھی ، جب مصائب کا سامنا کرتے تھے ، تب وہ کیا کہتے تھے؟ وہ دشمن کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے تھے کہ دشمن بہت قوی ہے، باطل بہت زیادہ طاقت ور ہے، نہیں وہ فوراً اپنی طرف متوجہ ہوجاتے تھےاور کہتے تھے: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا …وہ اپنی طرف متوجہ ہوتے تھے اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے تھے۔

تو میرے بھائیو!

 یہ ہدایت کی تحریک کی نشانی ہے۔جبکہ ہدایت سے جو ہٹی ہوئی تحریکیں ہوتی ہیں وہ یہ محاسبہ نہیں کرتی ہیں کہ ہم شریعت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں کرتے ہیں ؟ اس کے افراد کو یہ فکر نہیں ہوتی، یہ غم نہیں ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے رستے پر جارہے ہیں یا اس رستے سے ہٹے ہوئے ہیں ؟ بلکہ انہیں ہر وقت بس یہ فکر ہوتی ہے کہ لوگوں نے ہماری مدد نہیں کی… اگر لوگ ہمیں ووٹ دیں تو فوراً ہم کامیاب ہوجائیں گے ، فوراً اس ملک میں …اس پوری دنیا میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی اور یہاں پر خوشحالی آجائے گی۔ خوش حالی کا جو اشتہار یہ تحریکیں لگاتی ہیں ، وہ یہ ہے کہ بس ہمارا ساتھ دو! وہ یہ نہیں دیکھتی ہیں کہ امت کو اس برے حال سے نکالنے کے لیے ہم اٹھے ہیں ، اب ہم ناکامی کا سامنا کررہے ہیں ، لوگ ہماری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے ہیں، لوگ ہم سے دور جارہے ہیں ، تو ہمارے اعمال میں کوئی مسئلہ ہے، ہم شریعت سے شاید دور جارہے ہیں…نہیں! ان کے سامنے ایک ہی ایجنڈا ہوتا ہے کہ لوگ ہماری تائید کیوں نہیں کرتے ہیں …وہ صبح و شام لوگوں سے مطالبات کرتے ہیں… صبح و شام ان کی نظریں بس لوگوں پر ہوتی ہیں کہ یہ کسی طرح ان کے حامی بن جائیں اور ان کی بات مانیں ۔ لوگ ان کی بات مانیں ان کی دعوت قبول کریں، اس کے لیے وہ اپنی دعوت اور اپنے کردار کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ہیں ۔وہ ہر وقت باطل کو اور اس کی قوت کو دیکھتی ہیں کہ باطل بڑا قوی ہے اس میں بڑا مسئلہ ہے اور اسی کے توڑ کی طرف کوششیں کرتے ہیں لیکن اپنے اندر کو قوی کرنے کے لیے یہ تحریکیں بالکل وقت نہیں دیتی ہیں ۔

آپ دیکھیے کہ رسول اللہ ﷺ سے تربیت جنہوں نے لی ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم… ان کا کردار ہمارے سامنے ہے ۔ اللہ کی کتاب جو تربیت کرتی ہے وہ طریقہ ہمارے سامنے ہے ۔ دوسری طرف وہ گمراہ لوگ، گمراہ گروہ، گمراہ تحریکیں… جن میں سب سے بڑی مثال یہود و نصاریٰ کی ہے ۔ یہود و نصاریٰ پر جتنی بھی آزمائشیں آتی تھیں، دشمن کے مقابل جتنابھی وہ نقصان اٹھاتے تھے تو وہ کیا کہتے تھے؟ وہ کہتے تھے یہ ہماری وجہ سے ، ہمارے اعمال کی وجہ سے نہیں ہیں ، یہ اس باطل کی وجہ سے ہیں ، وہ خارجی وجوہات کو مورد الزام ٹھہراتے تھے ۔ کہتے تھے:

 وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ؀

یہود و نصاری کہتے ہیں کہ : ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (سورۃ المائدہ: ۱۸)

وہ کہتے تھے ،ہم اللہ کے محبوبین ہیں ۔ ایمان ،اللہ کے ساتھ تعلق، شریعت پر عمل ہے یا نہیں ہے؟ دعوت وکردار میں مسائل ہیں یا نہیں ہیں؟ یہ ان کے موضوعات نہیں ہوتے تھے ،بلکہ وہ کہتے تھے کہ بھئی ہم تو اللہ کے محبوبین ہیں …ہم خود بالکل ٹھیک ہیں ، مسئلہ ہی نہیں ہے ۔جیسے کہ خدانخواستہ ہم کہیں ، جب جہادی تحریک کے اندر کمزوری آجاتی ہے تو( اللہ نہ کرے کہ ) ہم کہیں ، یہ دعوی کریں کہ بھئی ہم تو مجاہدین ہیں ، ہم تو اللہ کے محبوبین ہیں ۔ہم بس اپنے (مجاہد ہونے کے )فضائل کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوں اور یہ سوچتے ہوں کہ اگر غلطی ہے ،کوتاہی ہے تو وہ بس اس امت میں ہے۔ امت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا … اوراگر مسئلہ ہے تو باطل میں ہے ۔باطل قوی ہے اور وہ قوی اسی لیے ہے کہ امت نے ہمارا ساتھ نہیں دیاجبکہ خود ہم مجاہدین …تو نہیں جی نہیں ،ہماری دعوت ، ہمارا کردار سب بالکل ٹھیک ہے ۔ کوئی مسئلہ ہی یہاں نہیں ہے ۔

یہ بہت ہی بڑی بد نصیبی ہو گی کہ جہادی تحریک کو جس طرف اول اور سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے اس طرف وہ بالکل توجہ ہی نہ دے اور جس طرف بعد میں توجہ دینی چاہیے،بس اسی پر ان کی اول و آخر توجہ ہو۔ پہلی توجہ کہاں ؟ اپنے قلوب ، اپنے کردار ، اپنے اعمال اور اپنی دعوت ا ور اپنے منہج کی طرف توجہ ہو …کہاں ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں ؟کہاں ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں؟ وہ کون سے کام تھے جو نہیں کرنے چاہیے تھے اور ہم نے کیے اور وہ کون سے کام تھے جو کرنے چاہیے تھے اور ہم نے ان میں کوتاہی کی ؟ اس کسوٹی پر اپنی تحریک کو اگر ہم نہیں جانچیں گے تو جتنا بھی ہم اس امت سے مطالبہ کریں کہ آئیں ہمارا ساتھ دیں… آئیں بس اس باطل کو برا بھلا کہیں… ہم آئے دن کے ساتھ کمزور ہوتے جائیں گے اور ہمارا وجود آئے دن کے ساتھ خود اس امت پر بوجھ بنتا جائے گا ۔لہذا لازم ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی اصلاح کریں۔

دیکھیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ لشکر کے امیر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھتے ہیں اور اس میں فرماتے ہیں کہ ’’فإني آمرك ومن معك بتقوى الله على كل حال، میں تمہیں اور تمہارے ساتھ جو مجاہدین ہیں ،سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت و وصیت کرتا ہوں ،فإن تقوى الله أفضل العدة على العدو وأقوى المكيدة في الحرب، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرنا سب سے بہترین زاد راہ اور بہترین سامان جنگ ہے اور دشمن کے مقابل سب سے بہترین چال ہے ۔ پھر آگے فرماتے ہیں وآمرك ومن معك أن تكونوا أشد احتراسًا من المعاصي منكم من عدوكم،میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو حکم دیتا ہوں کہ دشمن سے تم جتنا زیادہ چوکنا رہتے ہو اور ان سے احتیاط کرتے ہو اس سے کہیں زیادہ احتیاط تم گناہوں سے کرو۔ آگے فرماتے ہیں فإن ذنوب الجيش أخوف عليھم من عدوهم، لشکر کے جو گناہ ہیں وہ زیادہ خطرناک ہیں اس لشکر کے دشمنوں سے …دشمن کتنا قوی ہے؟قوی ہونے دیں ! جتنا اس کے پاس وسائل ہیں ، جتنے ڈرون ،جتنے جیٹ اور جتنے بی باون[5] ہیں، جتنا کچھ ہے اس کے پاس ہونے دیں …مسئلہ نہیں ہے ! بس گناہ نہیں ہونے چاہیے !…اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کمزوری نہیں آنی چاہیے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کمزوری ہو اور شریعت پر عمل نہ ہو تو یاد رکھیے کہ آپ کے پاس جتنی بھی وسائل کی فروانی ہو ، وہ وسائل کسی کام کے نہیں ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں خراسان (افغانستان )کی تاریخ میں ہمیں دکھا دیا۔ ہمارے سامنے ہیں ہمارے طالبان بھائی… ان بھائیوں کے پاس کیا ہے؟ ان کے پاس پیکا ہوتی ہے اور پیکا کا جو چانٹا ہوتا ہے وہ آدھا ہوتا ہے ، مائینیں ہوتی ہیں مگر وہ کیسی ہوتی ہیں؟ سبحان اللہ ،میں نے ایسے بھائی دیکھے ہیں ، فتوحات در فتوحات میں وہ شریک ہیں مگر موٹر سائیکل میں پٹرول ڈالنے کے پیسے ان کے پاس نہیں ہیں۔ ایک بھائی کے بارے میں دوسرے ساتھی نے مجھے بتا یا کہ یہ اب دوسرے گاؤں جائے گا وہاں کوئی اور اس کو پٹرول بھروا کر دے گا ۔پٹرول کے پیسے بھی نہیں ہیں… یہ وسائل ہیں…! لیکن وسائل کی اس حد تک کمی کے باوجود الحمد للہ ثم الحمد للہ پوری دنیا کو انہوں نے شکست دی کہ نہیں دی؟لہٰذا اصل دشمن جو ہیں وہ گناہ ہیں ان سے ڈرنا چاہیے۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ پھر آگے فرماتے ہیں ؛ وإنما يُنصر المسلمون بمعصية عدوهم لله… مسلمانوں کی نصرت دشمن کی معصیت کے سبب ہوتی ہے۔ دشمن کے گناہ اگر زیادہ ہوں تو مسلمانوں کی نصرت ہوتی ہے۔ ولولا ذلك لم تكن لنا بھم قوة؛اگر یہ نہ ہو تو پھر ہمارے پاس ان کے مقابل قوت نہیں ہے۔ لأن عددنا ليس كعددهم، ولا عدتنا كعدتهم؛ اس لیے کہ ہماری تعداد ان کی تعداد کے برابر نہیں ہے اور ہمارے وسائل ان کے وسائل جتنے نہیں ہیں ۔فإن استوينا في المعصية كان لھم الفضل علينا في القوة، اگر ہم گناہوں میں ان کے برابر ہوگئے تو قوت میں تو وہ پھر ہم سے زیادہ ہیں… دیکھیے! پاکستانی فوج ہے! ہم گناہوں میں اگر ان سے زیادہ ہوگئے… ہمارے ہاتھوں سے اگر مسلمانوں کا خون بہے … ہماری زبانوں سے اگر مسلمانوں کی عزتیں محفوظ نہ ہوں، ہمیں مسلمانوں کے محافظین ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے ہی ہاتھوں اگر ان کی جانوں اور اموال کا نقصان ہو…ہم اور یہ فوج اگر گناہوں میں برابر ہوگئے تو پھر تو ان کے پاس قوت زیادہ ہے ، ان کے ساتھ امریکہ بھی ہے ، ان کے پاس پھر بہت کچھ ہے، ان کے ساتھ نیٹو بھی ہے چین بھی ہے بہت کچھ ہے ۔ ہمارے ساتھ اگر اللہ نہ ہو تو کیسے پھر ہم کامیاب ہوسکتے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کون گناہوں میں کم ہے اور کون زیادہ ہے ۔آگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں؛ وإلا ننصر عليھم بفضلنا لم نغلبھم بقوتنا. اگر ان کے مقابل ہم نے اعمال صالحہ اور اور گناہوں سے بچنے میں فضیلت سے برتری حاصل نہیں کی تو وہ قوت کے ذریعے برتری حاصل کریں گے ۔پھر فرماتے ہیں؛ واعلموا أن عليكم في مسيركم حفظة من الله يعلمون ما تفعلون فاستحيوا منھم ؛ یاد رکھو کہ تمہارے دائیں بائیں کراماً کاتبین ہیں، وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو ،پس ان سے حیا کرو۔ ولا تعملوا بمعاصي الله وأنتم في سبيل الله،اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو جب کہ تم اسی کے راستے میں ہو؛ولا تقولوا …یہ بات اہم ہے! ولا تقولوا إن عدونا شر منا فلن يُسلط علينا وإن أسأنا؛ یہ نہ کہو کہ دشمن ہم سے بدتر ہے لہذا ہم برائی بھی کریں تووہ ہمارے اوپر غالب نہیں ہوگا… ہم شریعت پر عمل نہ بھی کریں تو یہ فوج ہم پر غالب نہیں ہوگی!… بے فکر رہیں، بھئی ہم مجاہدین ہیں!… ہم نے مجاہدین کا اسٹیکر جو لگایا ہے …ہم نے اپنے ساتھ سٹامپ (stamp) جو لکھوایا ہے!بس ہم مجاہدین ہیں ، ہمارے اوپر کوئی غالب نہیں ہوگا!…یہ نہیں ہو سکتا !… کہتے ہیں کہ کبھی یہ نہ سمجھو کہ یہ دشمن ہم پر غالب نہیں ہوسکتا اگرچہ ہم گناہ کریں …آگے فرماتے ہیں فرُبَّ قوم قد سُلِّط عليھم شر منھم كما سُلط على بني إسرائيل لما عملوا بمساخط الله كفرةُ المجوس، فجاسوا خلال الديار وكان وعدًا مفعولًا…‘‘[6] جس طرح بنی اسرائیل جب اللہ کی نافرمانی کرتے تھے ، تو ان پر اس دور میں اللہ تعالیٰ نے مجوسیوں کو یعنی ان سے بدتر کافروں کو مسلط کیا اور اس نے بنی اسرائیل کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے تو اس طرح اگر کوئی گروہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اللہ اس پر اس سے بدتر قوم کو مسلط کریں گے … یہ مت سمجھیں کہ ہم مجاہدین ہیں ، تو ہم پرصرف وہ لوگ مسلط ہوں گے جو ہم سے نیک ہوں گے …طریقہ یہ نہیں ہے۔ ہم اگر گناہوں سے نہیں بچتے ہیں… ہم اگر(جہاد کا جھنڈا اٹھاکر بھی ) شریعت کا خیال نہیں رکھتے اور ہم اگر علم و حکمت کے مطابق نہیں چلتے ہیں… اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں، ظلم کرتے ہیں تو پھر ہمارے اوپر ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ مسلط کریں گے جو ہم سے بدتر ہوں گے ۔

میرے بھائیو! ہم بطورِ جہادی تحریک دنیا کے جس خطے میں بھی آزمائش سے دوچار ہیں ۔ شام کے اندر ہم آزمائش سے دوچار ہیں، عراق کے اندر ہم آزمائش سے دوچار ہیں، پاکستان کے اندر ہم آزمائش سے دوچار ہیں، اس سے کئی سال پہلے الجزائر کے اندر ہم آزمائش سے دوچار ہوئے تو …یاد رکھیے ! کہ یہ جتنی بھی آزمائشیں ہیں ، یہ دعوت و جہاد کے منہج کے سبب نہیں ہیں۔بلکہ یہ مصائب دعوت و جہاد کا جو مطلوب منہج ہے ، اس پر عمل نہ ہونے کے باعث ہیں)، یہ جو آزمائشیں ہیں یہ ہمارے گناہوں کے سبب ہیں ، یہ ہماری دعوت و کردار میں ہم سے خطائیں ہوئی ہیں ، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دین کا جو یہ رستہ ہے، اس رستے (جہاد )کی بدنامی کا ہم سبب بن رہے ہیں ۔لہٰذا ہمیں اصلاح کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنی غلطیوں اور گناہوں کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔ دیکھیے اس امت کے اندر جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے کام لیا ہے اور جن سے اس امت کو عظمت ملی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کا نام روشن کیا ہے وہ اپنے اعمال میں بہت زیادہ احتیاط کیا کرتے تھے ۔

صلاح الدین ایوبیؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ رات کو اٹھتے تھے اور اپنے لشکر کا معائنہ کرتے تھے ۔ دیکھتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا مجاہد تو نہیں ہے کہ کل جنگ ہے اور آج وہ سویا ہوا ہے، عبادت نہیں کررہا ہے ۔ تو کہتے ہیں کہ وہ ایک خیمے کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہاں ایک مجاہد سورہا ہے تو فوراً انہوں نے سب کو بلایا اور فرمایا ’’الھزیمۃ من ھاھنا ‘‘شکست یہاں سے آئے گی! اس خیمے سے شکست آئے گی، کیوں؟اس لیے کہ وہ اللہ سے مانگ نہیں رہا، اس لیے کہ وہ سویا ہوا ہے ، اس لیے کہ وہ عبادت نہیں کررہا ہے ۔حالانکہ نفل عبادت ہے، مستحب ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے جو مقربین ہوتے ہیں ان سے اگر نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ، اپنے مستحب اعمال اور نوافل …تو وہ اس قدر فکرمند ہوتے ہیں جیسے کہ انہوں نے گناہ کیا ہو۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس دین کی نصرت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا اعلی مقام دیا ۔

 پھر میرے بھائیو!

یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہو ، یاد رکھیے کہ باطل میں جتنی بھی قوت ہو، باطل کے پاس جتنی بھی طاقت ہو ، جتنے بھی اس کے پاس وسائل ہوں تو اس کی مثال اندھیرے کی ہے … کیا ہے وہ؟ اندھیرا ہے۔ اندھیرے کی خود کوئی حقیقت نہیں ہے، جیسے ہی روشنی پھوٹتی ہے اندھیرا خود بخود بھاگتا ہے ۔ ایسا ہے کہ نہیں ہے؟ اندھیرا روشنی نہ ہونے کا نام ہے۔ جہاں روشنی نہیں ہوتی ہے لوگ کہتے ہیں وہاں اندھیرا ہےاور جیسے ہی روشنی آتی ہے اندھیرا خودبخود ختم ہوجاتاہے… یہی مثال حق اور باطل کی ہے۔ جب حق آتا ہے اور وہ صحیح معنوں میں حق ہو … دعوت و کردار اور اللہ کے ساتھ تعلق میں وہ قوی ہو(حق پرہونے کا حق ادا کرنے والا ہو )…تو یہ ہونہیں سکتا کہ باطل اس کے سامنے جم جائے ۔ آج پاکستان کے اندر اور جہاں کہیں باطل غالب ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ حق (مطلوب معنوں میں) نہیں ہے ۔ اگر حق آیا …ہم نے اپنے اعمال وقلوب ، ظاہر و باطن اور دعوت و کردار میں… اگر اللہ تعالیٰ کو جو مطلوب ہے اُس پر عمل کیا تو یاد رکھیں کہ یہ اندھیرے بہت جلد ختم ہوں گے ، ہو نہیں سکتا کہ باطل سامنے ڈٹ جائے، باطل ختم ہوجاتاہے [7]۔اسی لیے کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِين ؀

(مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔( سورۃ آلِ عمران: ۱۳۹)

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

[1]أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ؀

جب تمہیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ یہ مصیبت کہاں سے آگئی ؟ کہہ دو کہ : یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔( سورۃ آلِ عمرن: ۱۶۵)

[2] وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ؀

(مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔( سورۃ آلِ عمران: ۱۳۹)

[3] وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ؀

اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ ملکر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ! نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا، اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے۔( سورۃ آلِ عمران: ۱۴۶)

[4] وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ؀

ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے : ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرمادے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرمادے۔( سورۃ آلِ عمران: ۱۴۷)

[5] جنگی بمبار جہاز: B-52 Bomber

[6] فصل الخطاب في سیرۃ إبن الخطاب

[7] اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ’’ اور کہو کہ حق آگیا اور باطل ختم ہو گیا‘‘إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا’’بیشک باطل نے ختم ہونا ہو تا ہے‘‘ تفسیر سعدی میں ہے کہ’’ باطل کے پاس سطوت و غلبہ بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کی یہ بقا اس وقت تک ہے جب تک کہ حق کے ساتھ اس کا سامنا نہیں ہوا ہو اور حق کا سامنا کرتے ہی وہ کمزور ہو کر ختم ہو جاتا ہے‘‘ ۔

التحميل