پریس ریلیز : معروف جہادی قائد کمانڈر مولانا عبد الجبار – رحمۃ اللہ علیہ – کی پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں شہادت

شارك هذا الموضوع:

پریس ریلیز : معروف جہادی قائد کمانڈر مولانا عبد الجبار – رحمۃ اللہ علیہ – کی پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں شہادت

 

پریس ریلیز

تاریخ:29 ذو القعدۃ 1440 ھ بمطابق یکم اگست 2019ء

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ، أما بعد

قال اللہ تعالیٰ: مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا ؀ (سورۃ الاحزاب: ۲۳)

’’انہی ایمان والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی نذر کو پورا کر چکے، اور کچھ وہ ہیں جو ابھی انتظار میں ہیں۔ اور انہوں نے (اپنے ارادوں میں) ذرا سی بھی تبدیلی نہیں کی۔‘‘

ہم انتہائی دکھ کے ساتھ امتِ مسلمہ، پاکستان میں بسنے والے اہلِ ایمان سے عموماً اور مجاہدینِ اسلام سے خصوصاً، ’تحریکِ غلبۂ اسلام‘ کے امیر حضرت مولانا عبد الجبار رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت پر تعزیت کرتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ مولانا عبد الجبار پر رحم فرمائیں، ان کے درجات بلند فرمائیں، ان کی شہادت کو قبول فرمائیں اور  ان کے اہلِ خانہ  کو صبرِ جمیل عطا فرمائیں ، آمین۔

کمانڈر مولانا عبد الجبار رحمہ اللہ پاکستان کے ایک نامور جہادی قائد تھے۔ آپ نے ساری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کیا، ایک ایسا جہاد جو شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں فرض کیا گیا ہے اور وہ جہاد جس کی حکمتِ عملی کا ماخذ بھی خود شریعتِ مطہرہ ہے نہ کہ کسی ملک کی فارن پالیسی ، کور کمانڈروں کی سوچ و فکر یا آئی ایس آئی کے دماغوں کا نتیجہ۔ آپ رحمہ اللہ اسی نہج پر جہاد کرتے رہے اور اپنے آپ کو، اپنے ساتھیوں کو اور اپنے تنظیمی وسائل کو امریکہ کے خلاف جاری جہاد میں، امارتِ اسلامیہ افغانستان کے دفاع میں صرف کرتے رہے۔ اسی اثناء میں کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں جنگ بری طرح ہار چکے ہیں، امارتِ اسلامیہ افغانستان اور اسلام و اہلِ اسلام کے دشمن امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ نے مولانا عبد الجبار کو اغوا کر کے لاپتہ کیا اور اپنے خفیہ عقوبت خانوں میں محبوس رکھا۔

مولانا عبد الجبار رحمۃ اللہ علیہ سے یہی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ وہ اپنے منہجِ جہاد اور تنظیم کو کلیتاً آئی ایس آئی کے ماتحت کر دیں اور پاکستانی فوج کے تابع رہتے ہوئے، ’پیغامِ پاکستان‘ نامی ’بیانیے‘ کے مطابق ڈھل جائیں اور افغانستان میں جہاد کو ترک کر دیں۔ مولانا عبد الجبار صاحب نے امریکی اشاروں پر چلنے والی خفیہ ایجنسی کے شریعتِ مطہرہ سے ٹکراتے مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ بالآخر ایک لمبا عرصہ حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد مولانا عبد الجبار صاحب کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے شہید کر دیا اور ان کی نعش کو ہزاروں دیگر شہدائے اسلام کی طرح کسی سڑک پر پھینک دیا۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔

وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ؀ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلاَّ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ؀ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ؀ الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ؀ الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ؀ (سورۃ آلِ عمران: ۱۶۹ – ۱۷۳)

’’ اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرمانبرداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لیے زبردست اجر ہے۔ اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ’’ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو ‘‘، تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے۔ ‘‘

مولانا عبد الجبار صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت پاکستان کی خائن فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے چہرے کو مزید بے نقاب کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ یہ فوج اور خفیہ ایجنسیاں اسلام اور اہلِ اسلام کے دفاع کو جرم سمجھتی ہیں۔ دفاعِ اسلام کی غرض سے افغانستان میں جہاد فی سبیل اللہ کرنے کا ’جرم‘، ان ایجنسیوں کے نزدیکِ قابلِ معافی نہیں اور اس کی سزا اغوا، لاپتہ کرنا، عقوبت خانوں میں تعذیب دینا اور قتل کر کے سڑکوں پر پھینک دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ اہلِ اسلام کو سر بلندی عطا فرمائیں اور مولانا عبد الجبار صاحب سمیت ہزاروں دیگر شہداء اور لاکھوں قیدیوں اور لا پتہ افراد کا انتقام اپنے مجاہد بندوں کے ہاتھوں لیں، آمین یا ربّ العالمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد۔

 

التحميل