پریس ریلیز : حضراتِ ’مولانا صوفی محمد‘ اور ’مولانا نور الہدیٰ ‘ – رحمۃ اللہ علیہ – کا سانحۂ رحلت

شارك هذا الموضوع:

پریس ریلیز : حضراتِ ’مولانا صوفی محمد‘ اور ’مولانا نور الہدیٰ ‘ – رحمۃ اللہ علیہ – کا سانحۂ رحلت

 

تاریخ: یکم ذو الحجۃ 1440 ھ بمطابق 02 اگست 2019ء

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ، أما بعد

قال اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء …(سورۃ الفاطر: ۲۸)

’’ اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ ‘‘

حضرت مولانا صوفی محمد نوّر اللہ مرقدہٗ اور حضرت شیخ الحدیث مولانا نور الہدیٰ نوّر اللہ مرقدہٗ کی وفات پر ہم پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستان میں بسنے والے اہلِ ایمان اور آپ دونوں حضرات کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات پر رحم فرمائیں، ان کے درجات میں اضافہ فرمائیں، ان کی قبروں کو بقعۂ نور بنائیں اور ان کا معاملہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ فرمائیں، آمین یا ربّ العالمین۔

مولانا صوفی محمد صاحب رحمہ اللہ ایک نامور جہادی شخصیت تھے۔ مولانا صوفی محمد صاحب نے اپنی کہولت کے زمانے میں روسی جارحیت کا مقابلے کرنے کے لیے جہاد کے لیے افغانستان تشریف لے گئے۔ افغانستان میں جہادی ضربوں کے نتیجے میں روس کی پسپائی کے بعد مولانا صوفی محمد صاحب پاکستان دوبارہ تشریف لے آئے اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کی مبارک محنت میں سرگرمِ عمل ہو گئے،آپ نے اس محنت میں جمہوری طرز ِسیاست کی شرعی نکتۂ نگاہ سے مخالفت کی اور زور دیا کہ اس طرزِ جدوجہد سے نظامِ باطل کو تقویت تو مل رہی ہے ،لیکن اس طرز سے اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔بعد ازاں  امارتِ اسلامیہ  افغانستان پر  امریکی حملے  کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بار پھر  آپ  اپنی صلاحیتوں، وسائل اور جان کے ساتھ، امارتِ اسلامیہ کا دفاع کرنے کے لیے افغانستان پہنچے اور بر سرِ جہاد ہو گئے۔

 مولانا صوفی محمد رحمہ اللہ نے طویل زمانے تک نفاذِ شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش جاری رکھی اور اسی اثناء میں جب سوات کے مجاہدین نے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کیا تو آپ رحمہ اللہ نے اپنی کوششیں سوات کے مجاہدین کے ساتھ مجتمع فرما دیں۔ پیرانہ سالی کے باوجود آپ نفاذِ شریعت کی جد و جہد میں مگن رہے اور نفاذِ شریعت کے مطالبے اور جہاد فی سبیل اللہ ہی کے ’جرم‘ کی پاداش میں مولانا صوفی محمد کو پاکستان کے خفیہ اداروں اور فوج نے قید کر دیا۔

کئی سال جیل میں کاٹنے کے سبب آپ کی صحت بگڑتی گئی اور آپ کی جان کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے سو اس نقصان کے اندیشے کے سبب عوامی مزاحمت کے خوف سے حکومت و فوج نے آپ کو رہا کیا۔ لیکن جیل کی صعوبتوں کے سبب آپ کی صحت رُو بہ زوال رہی اور طویل علالت کے بعد آپ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔

شیخ الحدیث مولانا نور الہدیٰ صاحب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے، اسی کے احکام پر جھکنے والے، حق کو ہزار مشکلوں اور آزمائشوں کے باوجود ببانگِ دہل بیان کرنے والے عالمِ دین تھے۔ آپ رحمہ اللہ نے امتِ مسلمہ کے مابین نزاعی معاملات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں فرمائیں، جہاد اور نصرتِ جہاد کے لیے اپنے جان و مال، اپنے بیان اور اپنے قلم کو وقف فرمایا۔ مولانا نور الہدیٰ صاحب رحمہ اللہ نے ایسے زمانے میں جہاد و قتال کی تائید فرمائی اور ’استشہادی ؍ فدائی حملوں‘ کا حکمِ شرعی بیان فرمایا جب اس عزیم و عظیم جہادی کارروائی کرنے والوں کو سرکاری و درباری ’بیانیوں‘ کے ذریعے مطعون اور اس عمل کو امریکی اشاروں پر ’غیر قانونی ؍ حرام‘ قرار دیا جا رہا تھا۔

مولانا نور الہدیٰ رحمہ اللہ مجاہدین سے بے پناہ محبت رکھنے والے تھے اور آپ نے کئی بار امرائے جہاد کے سامنے اپنے آپ کو سمع و طاعت کے لیے پیش کیا اور صعوبتوں بھری ہجرت کے لیے مُصر رہے۔ کئی بار میادین ِ جہاد میں اپنی پیرانہ سالی کے باوجود کٹھن سفر طے کر کے تشریف لائے۔

مولانا نور الہدیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی اور وفات خود اس امر پر دلیل ہیں کہ موت و حیات کا مالک، تکلیف اور راحت دینے والا صرف ایک اللہ ربّ العالمین ہے۔ جعلی بیانیوں پر دستخط نہ کر کے آپ نے یہ ثابت کیا کہ اللہ ہی ہے کہ جس کی حاکمیت ہے اور موت کا وقت بھی معیّن ہے ۔مولانا نور الہدیٰ صاحب کا معاملہ حضرت خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ کے فرمان (کے مفہوم) کے مصداق رہا، ’’میں دنیا بھر کے بزدلوں سے کہتا ہوں کہ جنگ (جہاد) کا مطلب موت نہیں ہے۔ اگر جنگ (جہاد) کا مطلب موت ہوتا تو میں خالدؓ بستر پر جان نہ دے رہا ہوتا!‘‘ ۔ رحمہ اللہ رحمۃ و اسعۃ۔

ان دونوں حضرات کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اگر اعلائے کلمۃ اللہ کی جد و جہد اور جس ریاست میں اسلام نافذ نہ ہو وہاں شریعت کے نفاذ کی پکار پر لبیک کہنے سے موت آتی تو مولانا صوفی محمد صاحب مولانا نور الہدیٰ صاحب اپنی طبعی موت کے سبب انتقال نہ فرماتے۔

حضراتِ مولانا صوفی محمد صاحب اور مولانا نور الہدیٰ صاحب کی جہادی کوششوں اور نفاذِ شریعت کی محنتوں میں علمائے کرام کے لیے جرأتِ اظہار و بیان حق کا سبق ہے۔ ان دونوں پیرانہ سال مجاہد حضرات کی زندگی بوڑھوں کے لیے تحریض اور جوانوں کے لیے غیرت کا پیغام لیے ہوئے ہے۔ اللہ پاک ان حضرات سے راضی ہو جائے اور اہلِ ایمان کو شریعت کی بہاریں دکھلانے کے لیے علماء، داعیانِ دین اور مجاہدین کو خصوصاً اور مسلمان عوام کو عموماً اپنی صلاحیتیں کھپانے والا بنائے، آمین یا ربّ العالمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد۔

 

التحميل